فرانس کی معروف گلوکارہ میلنئی جارجیادیس المعروف دیام کا قبول اسلام :

فرانس کی معروف گلوکارہ میلنئی جارجیادیس المعروف دیام  کا قبول اسلام :





فرانس کی معروف گلوکارہ میلنئی جارجیادیس المعروف دیام سن 2009ء کے بعد سے پردۂ سکرین سے غائب رہی ہیں۔ ان کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں۔ وہ اس دوران گاہے گاہے حجاب اوڑھ کر منظرعام پربھی آتی رہی ہیں لیکن ان کے اتا پتا کے بارے میں کم ہی اطلاعات سامنے آتی رہی تھیں کہ وہ کہاں روپوش ہوگئی تھیں۔حال ہی میں وہ اپنی نئی شناخت کے ساتھ فرانس کے ٹیلی ویژن چینل ٹی ایف ون کے ذریعے منظرعام پر آئی ہیں۔اس ٹی وی چینل کے ساتھ ایک خصوصی انٹَرویو میں انھوں نے اپنے ماضی کے بارے میں تفصیل بیان کی ہے۔

وہ ماضی میں اپنا غم غلط کرنے کے لیے منشیات اورنشہ آورادویہ استعمال کرتی رہی ہیں۔اس دوران ان کی اپنی ایک مسلمان دوست سے ملاقات ہوئی اور پھر انھوں نے اسلام قبول کرلیا۔ دیام نے بتایا کہ انھوں نے ایک سال قبل شادی کرلی تھی۔ اب وہ ایک بچے کی ماں ہیں اور وہ اپنے منشیات زدہ ماضی سے بہت آگے نکل چکی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے قرآن مجید کو پڑھ کر اور سمجھ کراسلام قبول کیا تھا۔ جب ان سے فرانس جیسے ملک میں حجاب اوڑھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ''میرا خیال ہے۔ میں ایک روادار معاشرے میں رہتی ہوں۔میں تنقید کا برا نہیں مانتی لیکن روایتی قسم کی تضحیک اور برجستہ فیصلوں کا ضرور بُرا مانتی ہوں''۔

اس کے بعد ٹی وی میزبان نے ان سے یہ سوال کیا کہ وہ حجاب کیوں اوڑھ رہی ہیں جبکہ بہت سی مسلم خواتین ایسا نہیں کرتی ہیں اور بعض اس کو مذہبی فریضہ بھی نہیں سمجھتی ہیں تو ان کا جواب تھا:''میں پردے کو ایک شرعی حکم سمجھتی ہوں۔اس سے میرا دل باغ باغ ہوجاتا ہے اور میرے لیے یہی کافی ہے''۔دیام کا کہنا تھا کہ وہ مسلمان ہونے کے بعد سے خوش ہیں۔انھوں نے اپنی مسجد سے نکلنے کی ایک تصویر شائع کرنے پر میڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا۔تصویر میں وہ حجاب اوڑھےاپنے موبائل کی طرف دیکھ رہی ہیں اور ان کے پیچھے ایک مرد آرہا ہے۔اس مرد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ان کا خاوند ہے۔

دیام نے بتایا کہ ''میں اسلام قبول کرنے سے قبل نشہ آور ادویہ استعمال کیا کرتی تھی اور اپنی نفسیاتی صحت کی بحالی کے لیے ذہنی امراض کے ایک مرکز میں بھی داخل رہی تھی لیکن اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوا تھا۔اس دوران میری مسلم دوستوں میں سے ایک سے ملاقات ہوئی اور اس نے بتایا کہ میں نماز کے لیےجارہی ہوں تو میں نے کہا کہ میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گی''۔ اس لمحہ اور خوشگوار تجربہ کو یاد کرتے ہوئے دیام نے بتایا کہ ''یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے اپنا ماتھا فرش پر رکھا تھا۔میں نے اس وقت جو کچھ محسوس کیا،اس سے قبل مجھے کبھی ایسا تجربہ نہیں ہوا تھا۔اب میرا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کے آگے نہیں جھکنا چاہیے''۔

دیام نے مزید بتایا کہ اس کے بعد وہ موریشس چلی گئی تھیں جہاں انھوں نے قرآن مجید کا مطالعہ کیا اور اسلام کو بہتر طور پر سمجھا۔اس دوران ہی انھیں پتا چلاکہ اسلام سب سے زیادہ روادار دین ہے۔جب ان سے میزبان نے ان کے اسلام سے متعلق نقطہ نظر اور اسلام کے نام پر ہونے والی قتل وغارت گری کے بارے میں پوچھا توانھوں نے اس کا مدلل جواب دیتے ہوئے کہا:''میرے خیال میں ہمیں جاہل اور باعلم میں فرق کرنا چاہیے۔جاہل اگر کسی کے بارے میں کچھ جانتا نہیں تو اس کو ہرگز بھی اس سے متعلق کوئی بات نہیں کرنی چاہیے۔اسلام بے گناہ لوگوں کو ہرگز بھی اس طرح قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتاجیسا کہ ہم آج کل مشاہدہ کررہے ہیں۔اس کی اسلام قطعاً اجازت نہیں دیتا''۔
-------------------------------------------
سبحان الله ، الله جسے چاہے ہدایت دے

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

ابھی تک ایک تبصرہ ہوا ہے فرانس کی معروف گلوکارہ میلنئی جارجیادیس المعروف دیام کا قبول اسلام : ”

  1. واقعی ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
    الله جسے چاہے ہدایت دے

    ReplyDelete

اگر آپ (بلاگ اسپاٹ کی دنیا میں) نئے ہیں اور درج بالا تحریر پر آپ کا قیمتی تبصرہ کرنے کا ارادہ ہے تو ۔ ۔ ۔ Comment as میں جا کر“ANONYMOUS" پر کلک کر کے اپنا تبصرہ لکھ دیں – ہاں آخر میں اپنا نام لکھنا نہ بھولیں -

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.