تیرے بندے بتا کدھر جائیں - طرحی غزل

طرحی غزل 

میرے دل تو بتا کدھر جائیں
"اتنی ہمت نہیں کہ گھر جائیں"

ماسوا در کے تیرے اے مولا
تیرے بندے بتا کدھر جائیں

آتشِ عشق میں جلیں اور پھر
ان فضاؤں میں ہم بکھر جائیں

کیسی پرواز؟ کیسی اونچائی؟
جب یہ پر  ہی مرے، کتر جائیں

کم سے کم اک جھلک ہی دکھلا دے
تیری گلیوں سے جب گزر جائیں

نؔور بس اک یہی تمنا ہے
نام لے لے کے تیرا مر جائیں

نون میم : نوؔرمحمد ابن بشیر


دل آ گیا ہے تجھ پہ ترا ہی خمار ہے - طرحی غزل

طرحی غزل 
دل آ گیا ہے تجھ پہ ترا ہی خمار ہے
دل پہ اے یار میرا نہیں اختیار ہے

کس کا بتا اے دل مرے اب انتظار ہے
کس کے لئے یہ آنکھ مری  اشکبار ہے

کیچڑ نہ یوں اچھال تو کردار پر مرے
دامن ترا بھی یار مرے داغدار ہے

بدلا ہے اور نہ بدلے گا  اسلام کا اصول
بنیاد اس کی ٹھوس بہت پائدار ہے

نیت اگر ہو ٹھیک عمل نؔور ہر درست
ہر اک عمل کا اس پہ ہی دارومدار ہے

نون میم : نوؔرمحمد ابن بشیر

16 رجب المرجب 1438 ھ

ابنِ ثابتؓ کی زباں مجھ کو میسر کر دے : طرحی نعت پاک

مرے مولا، مری قسمت کو تو، خوشتر کردے
"مجھ کو سرکار کا دیدارمیسرّ کردے"

مدتیں بیت گئیں آس لگائے بیٹھے
شہرِ بطحا کا سفر اب تو مقدر کردے

سبز گنبد کو نہاروں میں قضا آنے تک
خاکِ طیبہ مری میت کو میسر کردے

کنکری جس نے شہادت کا پڑھا تھا کلمہ
میرے مولا مجھے وہ پاک سا کنکر کر دے

مدحِ آقا ﷺمیں ہر اک شعر لکھوں میں ہر دم
ابنِ ثابتؓ کی زباں مجھ کو میسر کر دے

کاوش:
*..... نُون میم : نوؔرمحمد ابن بشیر*
۳ محرم الحرام ۱۴۳۸ھ بمطابق ۵ اکتوبر ۲۰۱۶ء
۔......................................................


ابنِ ثابتؓ کی زباں مجھ کو میسر کر دے : طرحی نعت پاک

مرے مولا، مری قسمت کو تو، خوشتر کردے
"مجھ کو سرکار کا دیدارمیسرّ کردے"
مدتیں بیت گئیں آس لگائے بیٹھے
شہرِ بطحا کا سفر اب تو مقدر کردے
سبز گنبد کو نہاروں میں قضا آنے تک
خاکِ طیبہ مری میت کو میسر کردے
کنکری جس نے شہادت کا پڑھا تھا کلمہ
میرے مولا مجھے وہ پاک سا کنکر کر دے
مدحِ آقا ﷺمیں ہر اک شعر لکھوں میں ہر دم
ابنِ ثابتؓ کی زباں مجھ کو میسر کر دے
کاوش: 
*✍..... ​نُون میم : نوؔرمحمد ابن بشیر​*
۳ محرم الحرام ۱۴۳۸ھ بمطابق ۵ اکتوبر ۲۰۱۶ء
۔ .......................................................

نزول نعمتوں کا بے حساب ہوتا گیا۔ طرحی غزل نون میم

*طرحی غزل۔.....  دبستانِ سُخن*

‌‌" وہ شخص میری نگاہوں کا خواب ہوتا گیا‌‌"
جہاں کا میری وہ آخر نصاب ہوتا گیا

وہ جس کو ناز بہت تھا جواب پر اپنے
مرے سوال پہ وہ لاجواب ہوتا گیا

خفا ہے جان مری مجھ سے جب سے روٹھی ہے
ہر ایک پل یہاں جینا عذاب ہوتا گیا

الہی فضل ترا ہے کہ تیرے بندوں پر
نزول نعمتوں کا بے حساب ہوتا گیا

ہلاک ہوگا تو اے نوؔر گر سرِ محشر
گناہوں کا جو ترے احتساب  ہوتا گیا
۔................................................
کاوش
*​✍🏼..... ​نُون میم : نوؔرمحمد ابن بشیر​​*
کوسہ،  ممبرا،  تھانہ،  ہند 
۱۴ ذی الحجہ ۱۴۳۷ھ ، ۱۷ ستمبر۲۰۱۶

‌‌" تصور میں خیالوں میں ہو تم ہی میری یادوں میں‌‌" طرحی۔۔۔۔ دبستانِ سُخن

*طرحی غزل۔ ......... دبستانِ سُخن*

‌‌" تصور میں خیالوں میں ہو تم ہی میری یادوں میں‌‌"
‌‌ہو تم میری خزاؤں میں ہو تم میری بہاروں میں‌‌

تجھے چاہا، تری ہی آرزو، تیری تمنا کی
تجھے مانگا ہے رب سے میں نے میری سب دعاؤں میں

ترا ماتم ترا نوحہ،  دکھاوا ہے!! دکھاوا ہے !!
نہیں تاثیر باقی ہے، تری آہوں میں، نالوں میں

زباں خاموش تھی اپنے لبوں کو سی لیا تھا پر
ہوئی الفت کی سب باتیں اشاروں ہی اشاروں میں

تجھے جو مانگنا ہے، مانگ لے اے نوؔر، سب رب سے
کمی ہوگی، نہ ہوتی ہے، ترے رب کے خزانوں میں
..................................۔
*نُون میم : نوؔرمحمد ابن بشیر*
کوسہ،  ممبرا،  تھانہ،  ہند 
۶ ذی الحجہ ۱۴۳۷ھ ۹ ستمبر ۲۰۱۶
۔..............................

جہاں والے نبی ﷺ کا شہر گر، اک بار دیکھیں گے - طرحی نعت پاک . نون میم

طرحی  نعت  پاک

جہاں والے نبی کا شہر گر، اک بار دیکھیں گے 
زمانہ بھول جائیں گے، یہ جب، گلزار دیکھیں گے


تمھیں گر دیکھنا ہو دیکھ لو دنیا کے شہروں کو 
نگر آقا ﷺ کا ہم اک بار کیا سو بار دیکھیں گے


ہے مجبوری، مدینے جا نہیں سکتے ہیں ہم لیکن 
خیالوں میں ہرا گنبد ہزاروں بار دیکھیں گے


نہیں ممکن سزا پائیں گناہوں کی بروزِ حشر
شفاعت کی نظر سے گر ہمیں سرکار ﷺ دیکھیں گے


جہاں والے چلیں گے جب مرے آقا کی سنت پر 
سکوں کا، شانتی کا، امن کا، سنسار دیکھیں گے


زمانہ میر و غالب کےلِکَھے اشعار دیکھے، ہم 
نبی کی مدح میں لکّھے گئے اشعار دیکھیں گے


کبھی جو آنچ بھی آئے نبی کی ذات پر تو پھر
​ہمارے ہاتھوں میں دشمن! کھلی تلوار دیکھیں گے​


درودِ پاک میں جن کی زباں مصروف رہتی ہے 
سرِ محشر وہ اپنی روح کو بیدار دیکھیں گے


مخالف بھی یقیناً تیرے شیدائی بنیں گے نوؔر
محمد ﷺ سا، حسیں تیرا، اگر کردار دیکھیں گے



کاوش  : نون میم     - نوؔرمحمد ابن بشیر
کوسہ، ممبرا، تھانہ، ہند  - ۶ ذی القعدہ ۱۴۳۷ھ ۔ ۱۰ اگست ۲۰۱۶ء 


اگلا صفحہ >>>

تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.