شتر گربہ کسے کہتے ہیں؟

عیب نمبر 1: (  شُتر گُربہ  )
سوال:
شتر گربہ کسے کہتے ہیں؟
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جواب:
"شتر" کے معنی اونٹ اور "گربہ" کے معنی بلی کے ہیں۔
یہ ایک عمومی اصطلاح ہے جو کہ دو غیر متناسب چیزوں کو یکجا کرنے یا متضاد صفات کو جمع کرنے یا قول و فعل میں مخالفت ہونے کے یا پھر ایسے ہی کسی موقع پر بولی جاتی ہے۔
ادب کے حوالے سے بھی اسے عیوبِ سخن میں میں شمار کیا جاتا ہے ، ادب اور بالخصوص شعر میں اس کا مطلب یہ یوتا ہے کہ ایک ہی کلمے کے لیے کسی خاص مقصد کے بغیر دو مختلف ضمیروں کو یا تحقیر و تعظیم کے الفاظ کو استعمال کیا جائے۔ مثلا شعر میں کسی کو مخاطب کرکے "تو" کا صیغہ لایا جائے پھر اسی شعر میں اسی مخاطب کے لیے "تم" یا "آپ" کا ذکر کیا جائے۔ یا کسی غائب کے لیے پہلے "اس" کا لفظ لاکر اسی شعر میں اسی غائب کے لیے "ان" یا "انھی" لایا جائے۔
مثال:
کبھی میری تربت پہ آجانا تم بھی
ترے ہجر میں جاں سے جانے لگا ہوں
اس شعر میں مخاطب کے لیے پہلے مصرع میں "تم" کی ضمیر استعمال کی گئی ہے ، جبکہ دوسرے مصرع میں اسی مخاطب کے لیے "ترے" ہے ، اس شترگربگی کو ختم کرنے کے لیے یا تو پہلے مصرع میں "تو" لانا ہوگا یا دوسرے مصرع میں "تمھارے"۔
ایک اور مثال دیکھیے۔
غالب کا شعر ہے:
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ "تو کیا ہے"
تمھی کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے
اس شعر کے پہلے مصرع میں "تم" بھی ہے اور "تو" بھی ، مگر یہ شترگربہ نہیں ہے ، اس لیے کہ "تم" غالب کی طرف سے اس کے مخاطب کے لیے ہے ، جبکہ "تو" غالب نے اپنے مخاطب کی طرف سے اپنے لیے کہا ہے ، یعنی تم ہر بات میں مجھ سے کہتے ہو کہ تو کیا ہے؟ گویا غالب تو اپنے مخاطب کے لیے کلمۂ خطاب "تم" لائے ہیں جس سے خاص تعلق ظاہر ہوتا ہے جبکہ غالب کا مخاطب غالب کو بقول غالب "تو" کہہ کر مخاطب کرتا ہے جوکہ انسانوں کے حق میں کلمۂ تحقیر ہے۔
"شترگربہ" کے بارے میں محترم جناب مزمل شیخ بسمل صاحب فرماتے ہیں:
"
شتر گربہ بیسویں صدی سے پہلے کے یعنی متاخرین کے زمانے میں بہت پایا جاتا تھا، پھر حسرت موہانی کے دور اور بعد کے ادوار میں اس کو مکمل طور پر متروک جانا گیا۔ مصحفی، جرات وغیرہ کے کلام میں اس قسم کی مثالیں عام پائی جاتی ہیں۔ پھر بعد کے اساتذہ مثلاً داغ دہلوی اور اس زمانے کے دیگر شعراء نے اسے بالکل ختم کر دیا۔ تو اب مکروہ تحریمی ہی جانا جاتا ہے۔"

بشکریہ : محترم فیاض صاحب  - مالیگاؤں - ہند

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ (بلاگ اسپاٹ کی دنیا میں) نئے ہیں اور درج بالا تحریر پر آپ کا قیمتی تبصرہ کرنے کا ارادہ ہے تو ۔ ۔ ۔ Comment as میں جا کر“ANONYMOUS" پر کلک کر کے اپنا تبصرہ لکھ دیں – ہاں آخر میں اپنا نام لکھنا نہ بھولیں -

تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.