تو ہی نہ چاہے تو بہانے ہزار ہیں !!!!

 تو ہی نہ چاہے تو بہانے ہزار ہیں !!!!


رومن اردو لکھنے والوں سے جب بھی اردو میں لکھنے کی بات کی تو انہوں نے عام طور سے ایک بات ضرور کہی کہ ہمیں اردو لکھتے ہوئے ٹائم بہت لگتا ہے، میری سمجھ میں آج تک یہ نہیں آسکا کہ ٹائم کیسے لگتا ہے جبکہ اردو کیبورڈ جو موبائل میں دیا گیا ہے وہ فونیٹک ہے، فونیٹک کا مطلب یہ کہ اردو الفاظ انگلش الفاظ کے حساب سے رکھے گئے ہیں جیسے A سے جو اردو لفظ آنا چاہئے وہ الف ہونا چاہئے، آپ اپنے کیبورڈ کو دیکھ لیجئے الف ہی ہے۔ S سے جو لفظ آنا چاہئے وہ سین ہونا چاہئے آپ اپنے کیبورڈ میں دیکھ لیجئے سین ہی ہے۔ D سے جو لفظ آنا چاہئے وہ دال ہونا چاہئے آپ اپنے کیبورڈ میں دیکھ لیجئے دال ہی ہے۔  Q سے جو لفظ آنا چاہئے وہ قاف ہونا چاہئے آپ اپنے کیبورڈ میں دیکھ لیجئے قاف ہی ہے کوہ قاف کی پری نہیں ہے۔



اور p سے پ 

اور L سے ل

اور F سے ف

اور B سے ب

اور N سے ن

اور M سے م





ہلم جرا ۔ کہاں تک گنائے جائیں۔ سارے ہی الفاظ تو 'مطابق قیاس'رکھے گئے ہیں (ما سوائےپانچ الفاظ کے،کہ وہ خلاف قیاس واقع ہوئے ہیں ۔  ان کا اسکرین شاٹ  بھی حاضر خدمت ہے   ۔ ۔ ۔


۔۔۔۔ پھر بھی رومن اردو سے اصل اردو لکھنے میں اتنا ٹائم کیوں لگ رہا ہے؟؟؟؟؟  

 ہاں اگر کیبورڈ آفتاب کیبورڈ کی شکل میں دیا جاتا تو آپکی یہ بات درست ہوتی لیکن یہ تو فونیٹک کی شکل میں دیا گیا ہے، پھر اکثر ہمارے دوست فضلائے دار العلوم ہیں ان کیلئے تو اردو کوفتہ ہوتی ہے، املاء کی پریشانی بھی ان کے سامنے نہ ہونی چاہئے

اصل چیز ہمت ہوتی ہے، بس ذرا ہمت سے کام لیں پھر دیکھئے کیسے اردو ٹائپنگ آپ کیلئے پانی بن جاتی ہے۔ ہمت سے ایک صاحب یاد آگئے، وہ ایک عربی گروپ میں ایڈ تھے ہمارے ساتھ، عربی میں دھڑادھڑ میسیجز ٹائپ کرکرکے ارسال کیا کرتے تھے، مگر انکو جب بھی موبائل کے کسی مسئلہ میں ہم سے پرسنل پہ گفتگو کرنی ہوئی انہوں نے ہمیشہ رومن اردو میں میسیجز کئے۔ ہم نے بارہا پوچھاکہ جب آپ ما شاء اللہ عربی میں میسیجز لکھ رہے تو ہم سے اردو میں بات کرتے ہوئے یہ انگلش رسم الخط کیوں؟ پہلے تو طرح دے گئے مگر جب ہم نے انکے مسئلہ کے حل کو اپنے سوال کے جواب پہ معلق کردیا تو فرمانے لگے کہ مجھے اردو لکھنے میں ٹائم لگتا ہے۔  😕😕

کوئی ٹھکانہ ہے اس ظلم و عدوان کا، عجمی ہوتے ہوئے اجنبی زبان کو نہ صرف بول رہے ہیں بلکہ نسبتا مشکل کیبورڈ کے ساتھ روانی سے ٹائپ بھی کئے جارہے ہیں (جوکہ اچھی بات ہے) مگر جب اردو کی بات آئی تو بہانے تراش دئیے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ   ؎

تو ہی نہ چاہے تو بہانے ہزار ہیں

بلکہ اگر انہوں نے اردو کیبورڈ کی مشق کی ہوتی تو وہ اس سے عربی بھی لکھ سکتے تھے۔ مناطقہ کی زبان میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت۔ عربی کیلئے چاہ لیا تو عربی لکھنے لگے عربی رسم الخط میں اور وہ بھی مشکل کیبورڈ کے ساتھ جبکہ اردو کیلئے نہیں چاہا تو اردو کے ساتھ زنا بالجبر کرتے رہے اور مسلسل کررہے ہیں

الغرض بات چاہنے سے بنتی ہے اور بڑے بڑے امور جو دنیا میں انجام دئیے گئے ہیں ان کے پیچھے بھی چاہت کا ایک مخلصانہ اور پیہم جذبہ کار فرما رہا ہے۔ ایک بار اگر آپ نے سچے دل سے چاہ لیا اور چاہت کی راہ نوردی شروع فرما دی تو آپ ایک ہی دن میں اردو ٹائپ کرنے لگیں گے۔نئےلکھنے والوں کیلئے  چند ہدایات درج کی جاتی ہیں ۔ ۔ ۔ 

·         الف ‌: اردو لکھتے ہوئے اگر املاء کی پریشانی آڑے آئے تو کوئی بات نہیں۔ آپ غلط املاء کے ساتھ ہی شروع کریں اور جب کسی ساتھی کی طرف سے وہ لفظ صحیح املاء کے ساتھ ملے تو اسے اوٹو ٹیکس میں غلط املاء کے ساتھ ہی محفوظ کرلیں۔ جیسے لفظ بالکل آپکو پریشان کرتا ہے ، آپ بار بار بلکل لکھ رہے ہیں صحیح بالکل کی املاء یاد ہی نہیں آرہی تو آپ بلکل ہی لکھ کر ارسال کردیجئے، پھر کسی ساتھی کی طرف سے آپکو لفظ بالکل صحیح املاء کے ساتھ موصول ہو تو آپ اس بالکل کو اوٹو ٹیکس میں لیجائیں اور اسکو کورڈ بلکل کا دے دیں، اگلی بار جب آپ بلکل لکھیں گے تو کیبورڈ سجیشن کے بار میں  بالکل بھی دکھا ئے گا جسے آپ انگلی مارتے ہوئے سلیکٹ فرما لیں، بس اسی چلتے جائیں، ایک دن آئے گا کہ آپ بلکل کو بھول جائیں گے اور بالکل اچھے سے یاد ہوجائے گا۔ اس طرح کم از کم آپکی اردو املاء کی سطح بلند ہوگی جوکہ رومن اردو لکھنے کی صورت میں قیامت کی صبح تک ہونے سے رہی

·         ب ‌: جو جملے بکثرت لکھے جاتے ہیں  ان سب کو اوٹو ٹیکس میں جمع فرما لیں۔جمع کرنے کے بعد یہ بات خاص طور سے یادرکھیں کہ اوٹو ٹیکس ان انسٹال نہ ہونے پائے۔ ورنہ آپکو یہ جملے از سر نو لکھنے پڑیں گے الا یہ کہ آپ نے اپنے جملے محفوظ کررکھے ہوں اور جملے محفوظ کرنے کے کیبورڈ پیسے مانگتا ہے

·         ج ‌: کیبورڈ کا اوپشن ‌: نیکسٹ ورڈ لرننگ چالو رکھیں ۔



مزید اگر آپکو کہیں پریشانی ہو تو ہم سےدریافت فرمائیں، پر اتنا ضرور یاد رکھیں کہ چلنا آپ کو پڑے گا، ہم صرف انگلی پکڑ سکتے ہیں، صرف راہنمائی کرسکتے ہیں  - 





"آپ کی عدالت " میں مودی کا انٹرویو " فکسڈ!!!" خبر

  "آپ کی عدالت " میں مودی کا انٹرویو     " فکسڈ!!!"
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ 
سنیچر کو ہونے والا  رجت  شرما کا پروگرام تنازع کا شکار۔
احتجاجا" انڈیا ٹی وی کے  ایڈیٹوریل  ڈائریکٹر  قمر وحید نقوی  مستعفی.
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ 

نئی دہلی        انقلاب  -  فرزان قریشی

سنیچر کو انڈیا ٹی وی کے مقبول پروگرام  " آپ کی عدالت "  میں نریندرمودی  کی حاضری   تنازعات کا شکار ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ پروگرام پوری طرح فکسڈ تھا جس کے خلاف  احتجاج کرتے ہوئے  چینل کے  ایڈ یٹوریل  ڈائریکٹر  قمر وحید نقوی  نے استعفیٰ  دے دیا ہے ۔  اس سلسلے میں  قمر نقوی سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی مگر کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ۔   بتایا جا رہا  ہے کہ وہ    آئندہ چند دنوں میں اس سلسلے  میں  پریس کانفرنس سے خطاب کر سکتے ہیں۔


واضح رہے کہ مودی کو میڈیا میں جس  طرح بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے  اس کی وجہ سے  ابتداء سے ہی  سنجیدہ  طبقہ  اس تشویش میں مبتلا ہے کہ  میڈیا یوں ہی مودی کی ہمنوائی کر رہا ہے یا اس  کی کوئی " خاص وجہ "  ہے ۔ انڈیا ٹی وی  کے  پروگرام کے تعلق سے  ملنے والی اطلاعات نے   مذکورہ شبہ کو مزید تقویت بخشی ہے ۔ واضح رہے کہ  مودی عام طور پر میڈیا کو انٹرویو دینے  سے گریز کرتے ہیں ۔   ان کی حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ   انہیں کسی سوال کا جواب نہ دینا پڑے  بلکہ جو کچھ وہ کہتے ہیں ، بس وہی خبر  بنے ۔   اپنی مبینہ پی آر  ایجنسی کے تعاون سے   وہ اس سلسلہ میں بری حد تک کامیاب  بھی ہیں  مگر گذشتہ سنیچر کو  جب وہ انڈیا ٹی وی پر نشر ہونے والے  رجت شرما کے پروگرام "  آپ کی عدالت " میں حاضر ہوئے تو   کئی حلقوں نے اسے شبہ کی نگاہ سے دیکھا تھا۔  جبکہ خود چینل نے اسے بڑےہی  فخریہ انداز میں پیش کیا تھا۔  بتایا جا رہا ہے کہ  بی جے پی کے وزیر اعظم کے عہدے  کے امیدوار  مودی کا یہ انٹرویو  "  فکس  " تھا ۔  اس انٹرویو کے بعد  چینل کے  نیوز ڈائریکٹر  قمر وحید نقوی  نے اپنے عہدے  سے  استعفی دے دیا ہے ۔ بہر حال  نقوی نے خود اس خبر کی تصدیق نہیں کی ہے  کہ   انہوں نے مذکورہ انٹر ویو کے احتجاج  میں ہی استعفیٰ دیا ہے ۔  تاہم سوشل میڈیا پر یہ بات تیزی سے پھیل  گئی اور  رجت شرما اور ان کے   مذکورہ چینل کا اعتبار بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔  اسی کے بعد  یہ اطلاع بھی آئی کہ  چینل کے نیوز ڈائریکٹر  نیز بے باک  اور ایماندار صحافی  قمر وحید نقوی  نے اعلیٰ صحافتی  قدروں کا مظاہرہ کرتے ہوئے  احتجاجا" اپنے عہدے سے  استعفیٰ دے دی ہے ۔

انٹرویو پر سوال اس لئے بھی اُٹھ رہے ہیں کہ  جس مودی نے آج تک  میڈیا کا سامنا نہ کیا ، وہ اچانک میڈیا کے  سامنے کیسے آ گے؟ ؟  اور وہ بھی  ایسے وقت  میں جب  ملک میں عام انتخابات ہو رہے  ہیں۔  قمر وحید نقوی کے استعفیٰ نے  خاص طور پر  الیکٹرانک میڈیا  کی شفافیت پر  سوالیہ نشان لگادیا ہے ۔

قمر وحید نقوی  کے استعفی کی تصدیق  عام آدمی پارٹی  کے لیڈر  آشوتوش نے بھی کی ہے۔ آشوتوش ، نقوی کے ساتھی رہ چکے ہیں ۔  انھوں نے بتایا کہ  " میری وحید نقوی سے بات ہوئی ہے  اور انھوں نے  بتایا کہ  میں نے  انٹرویو فکس ہونے  کے سبب   استعفیٰ دے دیا ہے ۔"  اس خبر کے بعد   نقوی کے چاہنے والوں نے  ان کے اس قدم کی ستائش کی ہے۔



سوشل میڈیا پر بھی نقوی کے اس  جذبے کو سلام کیا جا رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ  وحید نقوی نے  16 اکتوبر  2003  ء کو مذکورہ  چینل سے وابستگی  اختیار کی تھی۔  اس سے قبل وہ    " آج تک " نیوز چینل میں تھے ۔  انھوں نے  1980 ء میں صحافت  کی دنیا میں قدم رکھا  تھا اور کئی نامور اخبارات  اور نیوز چینل  میں اپنی خدمات انجام دی ہیں۔


بہر حال  اس سلسلے میں قومی میڈیا  پوری طرح سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے  جبکہ  کسی سیاسی  پارٹی  نے بھی معاملے کی شکایت  الیکشن کمیشن  سےکرنے کا اعلان نہیں کیا ہے ۔  اہم بات یہ ہے کہ  خود "انڈیا ٹی وی"  کی جانب سے  بھی سوشل میڈیا پر گشت  کرنے والی خبر کے تعلق سے  کوئی وضاحت نہیں کی  گئی حالانکہ  یہ خبر چینل کے اعتبار  اور غیر جانب داری کو بری طرح  متاثر کر رہی ہے ۔
--------------------

بشکریہ :  روزنامہ انقلاب ( http://www.inquilab.com )
روزنامہ تعمیر نیوز (http://www.taemeernews.com )

بہت احتیاط کیجۓ ۔ ۔ ۔ ۔ !!!!!

بہت احتیاط کیجۓ   ۔ ۔ ۔ ۔  !!!!!

آجکل لوگ آیات قرآنی کا ترجمہ یا احادیث نبویہ یا صحابۂ کرام ، اولیاۓ کرام ، مشائخ عظام کے اقوال بہت روانی سے بغیر کسی ثبوت اور حوالہ کے لکھتے اور شئیر کرتے جارہے  ھیں ، جوکہ بہت خطرناک معاملہ ہے  ، اسلۓ کہ اگر آپ نے ایک آیت کا ترجمہ اپنی سوچ کے مطابق لکھ دیا اور وہ غلط تھا تو سمجھ جائیے کہ آپ نے قرآن کے ترجمہ میں تحریف کی ہے  ، جوکہ ایک کبیرہ گناہ ہے  ،

مشہور اردو تفسیر معارف القرآن کے مؤلف ، مفتئ اعظم پاکستان ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں آیات کا ترجمہ خود نہیں کیا بلکہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا تفسیر بیان القرآن میں کیا ہو ا ترجمہ بعینہ نقل کردیا ، اب سمجھ لیں کہ مفتئ اعظم پاکستان تو اتنا احتیاط کریں اور ھم کیسے بے دھڑک ترجمہ کرتے ہیں جاتے ؟ اگر کسی جگہ کسی آیت کو لکھ کر اس کا ترجمہ کرنا ضروری ہو  تو مفتئ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرح کسی مستند تفسیر سے دیکھ کر ترجمہ نقل کردیں اور اس تفسیر کانام اور اس کا صفحہ نمبر آخر میں ضرور لکھ دیں ، اپنی طرف سے کوئ وضاحت لکھنی ہو  تو برائیکٹ ( ) کے اندر لکھیں ، تاکہ واضح طور پر سمجھ آجاۓ کہ برائیکٹ والی بات آپ نے خود کی ہے  . اور حدیث کو بغیر ثبوت اور حوالہ کے نقل کر دینے اور بلا تحقیق شئیر کرنے کا " رواج " اور " شوق " تو اتنا پھیل گیا کہ اللہ پناہ میں رکہے  بس ! .. 

اور یہی حال صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے  اقوال ، اولیاۓ کرام اور مشائخ عظام رح کے اقوال بیان کرنے کا ہے  ، لوگ بے دھڑک اور بلاجھجک لکھتے اور شئیر کرتے جاتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ ۔

 " رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا "...           یا          " حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے  کہ " ...

اور نہ لکھنے والے کو کتاب کا نام اور صفحہ نمبر لکھنے کی ضرورت محسوس ہو تی ہے  ، نہ ہی شئیر کرنے والا تحقیق کی ضرورت محسوس کرتا ہے  اور رہے  کمنٹ دینے والے حضرات ، تو وہ خیر سے بیشک " اور " سبحان اللہ " لکھ لکھ کر ان کی خوب حوصلہ افزائ کرتے جاتے ہیں . اس بات کی طرف توجہ کسی کی بھی نہیں جاتی کہ جتنا ثبوت کے ساتھ حدیث کو لکھ کر شئیر کرنا ثواب ہے  ، اس سے کہیں زیادہ گناہ بلاتحقیق و ثبوت کے کوئ بات حدیث بتا کر پیش کرنا اور لکھ کر شئیر کرنا ہے  ، اور ساتھ ساتھ اگر واقعی وہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یا حضرت علی رضی اللہ عنہ یا دیگر حضرات صحابہ یا مشائخ و اولیاء کا فرمان نہیں ہے  تو یہ لکھنے والے نے ان پر بہتان لگایا اور اس کو شئیر کرنے والا اور اس پر حوصلہ افزائ والے کمنٹ دینے والا بھی بہتان لگانے میں برابر کا شریک گناہ ، اور مجرم ہے  .

میرے استاد محترم ، شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم فرمایا کرتے ہیں کہ ان کو ان کے والد ماجد مفتئ اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے نصیحت فرمائ تھی کہ :

" اپنے قلم یا اپنی زبان سے وہ بات کرو جس کو اگر کبھی دنیا کی عدالت یا اللہ کی عدالت میں سچ ثابت کرنا پڑجاۓ تو واقعی سچ ثابت کرسکو ، ایسا کام کبھی نہ کرو جس کو سچ ثابت نہ کرسکو اور دنیا یا آخرت میں رسوا ہو جاؤ ! .. "


غور فرمائیے ! ...

آپ فیس بک پر جتنی تحریریں لکھ چکے ،

یا

کسی کی لکھی ہو ئ تحریروں کو شیئر کر چکے ،

یا

جن چیزوں کو آپ لائیک کرکے یا اچہے  کمنٹ دے کر ان کی تائید کر چک چکے ہیں ،

کیا آپ کو ان کو دنیا یا آخرت کی عدالت میں سچ ثابت کرسکیں گے ...؟

اگر آپ کا جواب ہے  " ہاں " میں تو مبارک ہو  ، ورنہ  ۔ ۔ ۔


خدارا ... احتیاط کیجۓ ! ...

فقط والسلام :
مفتی ابولائبہ عفان غفرلہ ،

اس گلشن ہستی میں لوگو ! !!!!

اس  گلشن ہستی  میں  لوگو !   تم  پھول  بنوں  یا  خار  بنوں
پر   یاد  رہے تم  جو بھی  بنو ،     یہ  لازم  ہے  باکردار  بنو ں

اس جہاں میں دو ہی رستے ہیں، اک کفر کا اک، اسلام کا ہے
یا  کفر لگا  لو سینوں سے،  یا دیں کے پہرےدار بنوں

کیوں کھڑے ہو دو ـ دو  راہوں  پر ؟  اک راہ پہ تم کو چلنا ہے
اسلام کا یا تو نام نہ لو ،  یا جرات کے معیار بنوں

ذلت سے جہاں میں جی لو تم، یا جام شہادت پی لو تم
یا  بزدل  ہو کر چھپ جاؤ،   یا  ہمت  کی تلوار  بنوں

اک سمت گروہ فرعون کا ہے،  اک سمت خدا کے عاشق ہیں
تم حق  والوں  سے  مل جاؤ،  یا  باطل  کے  دلدار  بنوں

اک سمت روش ابوجہل کی ہے ، اک سمت نبی کا اسوہ ہے
یا   جھیلو  آگ  جہنم  کی،   یا  جنت  کے   حقدار  بنوں

یہ وقت نہیں ہے چھپنے کا،  اب اصلی روپ میں آجاؤ
تم دین کے پہرےدار بنوں،  یا فرعونوں کے یار بنوں

یہ  ذوق تمہارا  کتنا  ہے،  یہ فیصلہ اب تو ہو جائے

یا  ساغر  آب کوثر  کے،  یا  مغرب  کے میخوار بنوں

جھوٹے مہدی ومسیح کے خلاف دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ۔ مولانا شاہ عالم گورکھپوری

جھوٹے مہدی ومسیح کے خلاف دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ۔ مولانا شاہ عالم گورکھپوری 
مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنی مساجد سے ایسے لوگوں کو دور رکھیں ۔

دیوبند ۲۸ مارچ ( عارف عثمانی ) دارالعلوم دیو بند کے شعبہ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب ناظم مولانا شاہ عالم گو رکھپوری نے پریس کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ الیکشن کی گہما گہمی اور مسلمانوں پر چھوٹے مقدمات والزامات کے درمیان دہلی کے مسلمان ایک اور نئے جھوٹے مہدی کی پریشانی سے جھو جھنے لگے ہیں ۔ مصدقہ خبروں کے مطابق در بھنگہ بہار سے تعلق رکھنے والے شکیل بن حنیف نامی ایک شخص نے مہدی اور مسیح ہو نے کا دعویٰ کر کے جامعہ ملیہ کی دیگر یو نیورسٹیوں کے ایسے طلبا کو اپنے دام فر یب میں لینا شروع کر دیا ہے جو دین کی بنیادی تعلیم سے بھی نا واقف ہیں ۔ دارالعلوم دیوبند نے فتویٰ جاری کر کے مسلمانوں کو ایسے غلط لوگوں سے خود کو اور اپنے ایمان کو بچانے کی ہدایت جاری کر دی ہے ۔

مولانا شاہ عالم نے بتا یا کہ سیاسی اور معا شرتی میدان میں مسلمان جہاں آزمائش سے گذررہے ہیں وہیں ان کے مذہب کو بھی آزمائش میں ڈالا جارہا ہے ۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنی مساجد سے ایسے لوگوں کو دور رکھیں ۔ مولانا مو صوف نے اس بات کی تصدیق کی کہ گذشتہ دنوں جامعہ کے علاقے میں بڑے پیمانے پر تین دن کا

تربیتی کیمپ مجلس تحفظ ختم نبوت ساؤتھ دہلی کی جانب سے لگایا جس میں علاقہ کے ائمہ اور علماء نے شرکت کی اور تازہ فتنہ سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کا طور طریقہ سیکھا ۔انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ دنوں دارالعلوم دیوبند کے مفتیان کرام سے ایک صاحب نے با الترتیب تین سوالات پو چھے (۱)جو مسلمان شکیل بن حنیف در بھنگوئی کو احادیث صحیحہ کے مطابق عبد اللہ مہدی کا مصداق مانتے ہیں ایسے لوگوں کو مسلمانوں میں شمار کیا جائے یا نہیں ؟ اگر مسلمانوں میں وہ شمار نہیں ہیں تو ان کے ساتھ مسلمانوں جیسا میل جول رکھنا، ان کے ساتھ شادی وغمی میں شرکت یا خود ان کو اپنے گھر میں دعوت وغیرہ میں بلانا ازروئے شریعت کیا ہے ؟(۲) جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ شکیل بن حنیف کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں ان کے اس عمل کو بیعت سے تا بیر کرنا درست ہے یا نہیں ؟ نیر ایسے لوگوں کو مسلمانوں کی مساجد میں دخول اور عبادت گزاری کی اجازت ہے یا نہیں ؟ (۳) شکیل بن حنیف کے ماننے والے بھی اپنی عبادت کو نماز ، روزہ ، تلاوت وغیرہ کہتے ہیں اُن کا اس طرح کہنا صحیح ہے ؟ اگر نہیں تو مسلمان ان کی عبادت کو کیا نام دیں اور کیا کہیں ؟ دلائل کی روشنی واضح فر مایا جائے تا کہ مسلمانوں کو شرعی رہنمائی مل سکے ۔اس کے جواب میں دارالعلوم کے مفتیان میں اپنے جواب میں کہا کہ (۱) مہدی اور مسیح سے متعلق جو احادیث صحیحہ متواترہ ہیں ان احادیث کو شکیل بن حنیف پر چسپاں کر کے جو لوگ اس (شکیل ) کو مہدی مانتے ہیں وہ از خود دائرہ اسلام سے باہر ہیں ایسے لوگوں کے ساتھ میل جول اسلامی روا داری اُ ن کی شادی غمی میں شرکت اُن کی تقریبات میں جانا جائز نہیں ہے ۔ اسی طرح ایسے شخص کے ہاتھ بیعت کر نے کے عمل کو بیعت ہونا نہیں بلکہ مرتد ہونا کہا جائے گا جو حرام اور گناہ ہے اور جب شکیل بن حنیف اور اس کے پیرو کار اسلام میں داخل ہی نہیں ہے تو ان کی اپنی مساجد میں عبادت گزاری کی وغیرہ کی اجازت دینا شرعاً درست نہیں ، متولیان مساجد اور تمام مسلمانوں پر لا زم ہے کہ اُکو اپنے مساجد سے دور اور پاک رکھیں ۔ نیز اسلام کے لئے مخصوص اصطلاحات کا استعمال جیسے قادیانویوں اور دیگر کافروں کے لئے جائز نہیں ایسے ہی شکیل بن حنیف کے پیرو کاروں کیلئے بھی جائز نہیں ۔ مسلمانوں کو ان لوگوں کی عبادت کو بجائے نماز کے پو جا سے اور روزہ کو بَرت واُپواس سے اور تلاوت کو پڑھنے سے تعبیر کرنا چاہئے تا کہ اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے دوسرے مسلمانوں کو مغالطہ نہ ہو اور غلط فہمی میں کو اُن کو مسلمان نہ سمجھ بیٹھے ۔
 بشکریہ اردو صحافت دہلی

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.