بلاگر پر نیا بلاگ بنانا

بلاگر پر نیا بلاگ بنانا

کئی دوست و احباب بار بار اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ بھائی  ۔ ۔ ہم کو بھی بتا دو کہ بلاگ کیسے بنایا  جاتا ہے ؟ ؟ ؟  
پہلے سوچا کہ اس بارے میں ایک تحریر لکھ دو مگر بعد میں سستی غالب آ گئی اور  اپنا شاطر دماغ کہنے لگا کہ ۔ ۔ ۔  کاہے کو اتنی مغز ماری کرنے کا۔ ۔ ۔   اس پر پرانی تحریر یں پہلے سے ہی موجود ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہی ڈھونڈو ۔ ۔ ۔ 

بس ۔ ۔ ۔ وہی پرانی تحریرجس نے ہم کو راہ دکھائی تھی  ۔ ۔ ۔ ۔ وہی ڈھونڈ نکالی  ۔ ۔ ۔ ۔اور اپنے بلاگ پر چڑھا دیا  ۔ ۔ 

نو ٹ : اپنے بلاگ پر اس لئے چڑھا دیا کہ  آڑے وقت کام آ سکے  اور ڈھونڈنے کی کی نوبت نہ آئے ۔ 


بلاگ اردوٹوٹر کا میں اس تحریر کے لئے دل سے مشکور و ممنون ہوں !!!-
- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - 


جب آپ بلاگر کی سائٹ پر اپنا  Gmail  کا اکاونٹ لگا کر سائن اِن ہوتے ہیں تو نئی کھُلنے والی ونڈو 
 میں   "Create Your Blog Now " کا میسج لکھا ہوا نظر آتا ہے ۔
 آپ بلاگ شروع کرنے کے لیے  اسی ونڈو میں رہتے ہوئے ، اس  میسج سے تھوڑا سا آگے"New Blog " پر کلِک کریں۔
اس کاروائی کے لیے نیچے دی گئی تصویر ملاحظہ فرمائیں۔


Make your own Blog

اب ایک نئی ونڈو کھُل آئے گی جس میں آپ نے اپنے بلاگ کا نام بنانا ہے 
نام بنانے کے بعد نیچے والی لائن میں آپ نے اپنے بلاگ کا ایڈریس (یو۔آر۔ایل) بناناہے۔ 

Creation of Blog Title 




آپ نے اپنے  بلاگ کا نام یا ٹائٹل اور ایڈریس  کامیابی سے بنا لیا ہے اب "Create Blog " پر کِلک کریں ۔لیجیئے آپ کے بلاگ کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ۔  ۔  ایک نئی ونڈو کُھل آئے گی جس میں آپ کو بتایا جائے گا کہ آپ کا بلاگ بن گیا ہے۔!!!!



Completion of Blog Window




Buttons Image




قارئین ِ کرام آپ کو اس ونڈو میں کچھ نئے بٹن نظر آ رہے ہوں گے ان کے مختلف فنکشن ہیں اگرچہ یہ بہت آسان ہیں اور ان پر کِلک کرنے سے ان کے فنکشن کا علم ہو جاتا ہے لیکن پھر بھی ہم آپ کی آسانی کے لیے ان کے فنکشن آپ کو بتا دیتے ہیں۔

بٹنز یا آئیکنز کی تفصیل
بلاگر نے مختلف فنکشنز کے لیے مختلف قسم کے بٹنز یا آئیکنز بنا دیے ہیں جن کی مدد سے ہم آسانی سے بلاگ میں مختلف کام سر انجام دیتے ہیں۔ اُوپر دی گئی تصویر میں جو بٹنز نمبر وائز دکھائے گئے ہیں ہم ان کے فنکشنز یہاں بیان کرتے ہیں۔

نمبر 1 ۔ پنسل  نما یہ بٹن بلاگ میں نئی پوسٹ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔جب آپ اس پر کلک کرتے ہیں تو نیو پوسٹ کے لیے آپ کے سامنے ایک نئی ونڈو کھُلتی ہے جس میں آپ نئی پوسٹ کا ٹائٹل وغیرہ دے کر اس کا مواد لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔

نمبر 2۔یہ بٹن بلاگ میں موجود  تمام پوسٹوں کی فہرست ظاہر کرتا ہے ۔ اور اس فہرست میں بلاگ کی پوسٹ کے ساتھ ساتھ اس پوسٹ کو ملاحظہ کرنے، اس میں کسی قسم کی تبدیلی کرنے  اور اسے "گوگل پلَس پر شئیراور اس پوسٹ کو ڈیلیٹ یعنی کہ ہمیشہ کے لیے ختم  کرنے کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔

نمبر3۔ یہ بٹن بلاگ کو ملاحظہ کرنے کا کام سر انجام دیتا ہے۔ جب آپ اس پر کلِک کرتے ہیں تو ایک نئی ونڈو میں آپ کا بلاگ کھُل کر آپ کے سامنے آ جاتا ہے۔

نمبر 4۔ یہ بٹن  جیسا کہ نام سے ظاہر ہے " New Blog " یہ نیا بلاگ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

نمبر 5۔ یہ بٹن موجودہ بلاگ میں پہلی پوسٹ بنانے کا  فریضہ سر انجام دیتا ہے۔

نمبر6۔ جب آپ یہاں کلِک کرتے ہیں تو یہ بٹن اوجھل ہو جاتا ہے ، جس کا مطلب ہے کہ آپ ابھی بلاگ میں کچھ نہیں کرنا چاہتے، یہ بار بار آپ کو نظر نہیں آتا صرف نیا بلاگ بنانے پر نظر آتا ہے۔ 

نمبر7 ۔ More Options نام کے اس  مینیو میں مختلف فنکشنزکے بٹن اور سب مینیوز ہیں۔ اس سے بلاگ کی تمام سیٹنگ کی جاتی ہے اس کی تفصیل ہم اگلی پوسٹ میں کریں گے۔

=========================================================



بلاگر ٹِپ



جب کسی بلاگ میں نئی پوسٹ شائع ہوتی ہے تو پُرانی پوسٹ ظاہر نہیں ہوتی۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اب آپ کو پُرانی والی پوسٹ کبھی نظر نہیں آئے گی، نہیں بلکہ ایک وقت میں چونکہ ایک ہی پوسٹ ظاہر ہو سکتی ہے اس لیے اگر آپ نئی یا پُرانی پوسٹ ملاحظہ کرنا چاہتے ہوں تو بلاگ کے آخر میں (Footer Area)  میں جا کر" Older Posts" یا "Newer Posts " پر کلک کر کے اپنی مطلوبہ پوسٹ کو ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ (تصویر ملاحظہ فرمائیں)


Navigation Between Older and Newer Posts

جب آپ اس بلاگ پر کوئی نئی پوسٹ بنائیں گے تو بلاگ کا ٹائٹل اور ایڈریس یہی رہے گالیکن نئی پوسٹ کا ٹائٹل آپ کو دوبارہ بنانا پڑے گا جو کہ اس پوسٹ کے مواد کے مطابق ہو گا لیکن بلاگ  کے” Main Subject " یا موضوع  کے مطابق ہو گا۔ مثال کے طور پر ہم نے اپنے  بلاگ کا نام"Gents Fashion  " رکھا ہے تو ہم  اس میں پوسٹ کا نام"Fashion 2014 " رکھ لیں گے۔

ابھی چونکہ ہم نے اپنے بلاگ کا صرف ایک ڈھانچہ بنایا ہے اور اس کو ایک مرکزی موضوع دیا ہے اور اس موضوع کو اب ہم Categorize  کریں گے۔"جینٹس فیشن" مرکزی کیٹگری ہے جبکہ " فیشن 2014 " اس کی "سب کیٹگری " ہے اور  اسی طرح ہم ہر نئی پوسٹ میں اس کی "سب کیٹگریز " میں سے کسی کیٹگری پر مشتمل مواد شائع کرتے رہیں گے۔اس سے ہمارے بلاگ کا توازن برقرار رہے گا اور پڑھنے والے کو ایک اچھا تاثر ملے گا۔

اگر ہم نے اپنے مرکزی موضوع، اپنی مرکزی کیٹگری "جینٹس فیشن" کےعلاوہ کسی اور موضوع پر مواد شائع کیا تو اس سے ہمارے بلاگ کا توازن بگڑ جائے گااور اس سے نہ صرف ایک قاری کو  ہمارا بلاگ پسند نہیں آئے گا بلکہ سرچ انجنز بھی ہمارے بلاگ کو اہمیت نہیں دیں  گے۔اور ہمارا بلاگ مقبولیت حاصل نہیں کر سکے گا۔

اس مثال سے یہاں ایک اور بات  واضع ہو جاتی ہے ،جس کو ذہن نشین کر لینا چاہیے  کہ ہمیں بلاگ کا "مرکزی موضوع" انتہائی سوچ سمجھ سے چُننا چاہیے تا کہ ہم آگے چل کر کسی موقع پر مواد کی کمی کی وجہ سے بلاک نہ ہو جائیں۔  اگر ہم اپنے بلاگ کا مرکزی موضوع "جینٹس فیشن "  کو صرف جینٹس کے فیشن تک محدود نہ کر لیتے اور کوئی ایسا موضوع  چُن لیتے جس میں  لیڈیز فیشن پر بھی مواد شائع ہو سکتا تو اس سے ہمیں آنے والی پوسٹوں کے لیے لا محدود مواد  مل سکتا تھا۔ 

موضوع کے چُناؤ کا انحصار  بلاگ کا ٹائٹل یا نام رکھتے وقت بلاگنگ پلیٹ فارم کے نیٹ ورک پر ہمارے متعلقہ موضوع  اور ہمارے سوچے ہوئے نام یا ٹائٹل  کے مطابق بلاگ کے ایڈریس کی فراہمی پر بھی ہے  ۔ چُونکہ بلاگنگ ایک فرِی سروس ہے اس لیے تمام دُنیا سے لاکھوں لوگ بلاگز بنا رہے ہوتے ہیں اور اکثر آسان موضوعات پر بلاگ بن چُکے ہوتے ہیں ۔اس لیے بلاگ کا نام یا ٹائٹل بناتے وقت کافی محنت کرنا ہوتی ہے۔اور ہمیں اپنے سوچے ہوئے ٹائٹل یا نام کی نسبت سے بلاگ کے" ایڈریس" کے  نیٹ ورک پرAvailable  نہ ہونے کی وجہ سے بسا اوقات خاصی ترمیم کرنی پڑتی ہے اور یہی وقت انتہائی سوچ سمجھ سے کام لینے کا ہوتا ہے۔



اُردو کو ووٹ دیں۔۔۔ . . . ( پولنگ کا نتیجہ )

 اُردو کو ووٹ دیں۔۔۔
متحدہ عرب امارات اپنی سرکاری ویب سائٹس کے لئیے عربی ۔ انگریزی کے بعد کوئی ایک تیسری زبان بھی شامل کرنا چاہتاہے۔
اس کام کے لئیے انہوں نے کچھ زبانیں تجویز کی ہیں کہ کونسی سی زبان متحدہ عرب امارات کی ویب سائٹس پہ عربی انگریزی کے بعد تیسری زبان ہو؟

اردو سمجھنے، لکھنے، بولنے والوں سے گذارش ہے کہ مندرجہ ذیل ویب سائٹ پہ ‌" آن لائن پول ‌" کھولیں اور "اردو" کو ووٹ دیں از راہ کرم
Emirates Identity Authority - http://www.id.gov.ae/en/home.aspx

بشکریہ : راہی حجازی 
= = = = = = = = = = = = = = = = = = = = = = = = = = = = 

آخر کار ۔ ۔ ۔ ۔محبان اردو کی محنت رنگ لائی  ۔ ۔ ۔

 پولنگ  کا نتیجہ آپ کی خدمت میں پیش ہے  ۔ ۔ ۔



ایک نومسلم کا اعلیٰ ایمان ۔ ۔ ۔ ۔

ایک نومسلم کا اعلیٰ ایمان



خامہ فرسائی: چاہت محمد قاسمی
مدرسہ فیض العلوم یاسینیہ گنگوہ

آج اس وقت ایمانی کیفیت کا عجب نمونہ دیکھا، جس وقت ہمارے ایک نومسلم بھائی کو ختنہ کے بعد آپریشن تھیٹر سے باہر لایا گیا، محترم بھائی اسٹریچر پر سیدھے آسمان کی طرف رخ کر کے لیٹے ہوئے تھے،ان کا دایاں ہاتھ ناف پر براجمان تھا جس کی متحرک انگشت شہادت نے ہماری نگاہ کو مقناطیسی طرز پر یک جگہ محدود کرلیا تھا، یہ دائیں ہاتھ کی انگشت شہادت گھڑی کی سوئی کی طرح تقریبا 2 سیکنڈ کے وقفہ سے بار بار مسلسل حرکت کر رہی تھی، انگشت شہادت کی حرکت ایک مسلمان کے ذہن میں بجلی کی سرعت سے بھی تیز کلمہ شہادت پر دلالت کرتی ہے، لیکن جب ہم لمبے لمبے قدم اٹھاتے ہوئے ان کے اسٹریچر کے پاس پہونچے تو ہم نے ایمان کی معراج کا نمونہ دیکھا، ایک فرشتہ سے افضل انسان کی زیارت کی، ایک مضبوط ایمان کی کیفیت کا مشاہدہ کیا، ہم نے دیکھا محترم نومسلم کی آنکھیں بند ہیں ، اور وہ بے ہوشی کی حالت میں ہیں، لیکن بحالت بے ہوشی بھی ان کی زبان پر کلمہ شہادت سرگوشی کے انداز سے جاری ہے، جس کو توجہ کے بعد بخوبی سنا جا سکتا تھا اور اشہد پر ان کی انگشت شہادت باربار حرکت کرتی رہی،سبحان اللہ تعالی۔
 
ہمارا یہ بھائی ــــــ عمر 22 سال ــــــ انجینئرنگ کے لاسٹ ایئر میں تقریبا 7 مہینے قبل مسلمان ہوا تھا، لیکن ان ساتھ مہینوں میں ان کے ایمان کی کیفیت کا اندازہ دیکھئے کہ بحالت بے ہوشی بھی کلمہ کا ورد جاری ہے، سبحان اللہ تعالی۔
 
جونیر ڈاکٹر نے بتایا کہ جب ہم کسی کو بے ہوشی کا انجیکشن دیتے ہیں تو کوئی گالی گلوچ کرتا ہے، کوئی مغلظات بکتا ہے، کوئی چیختا چلاتا ہے، کوئی عجیب عجیب حرکات کا مرتکب ہوتا ہے، حالانکہ ان میں سے اکثر لوگ مسلمان ہی ہوتے ہیں ، لیکن ان نو مسلم بھائی کی حالت بڑی عجیب دیکھی کہ جب سے ان پر بے ہوشی طاری ہوئی اسی وقت سے ان کی زبان پر کلمہ شہادت بھی جاری ہے، حالانکہ ان پر بے ہوشی اس وقت غالب ہوئی جب کہ یہ ڈاکٹر کے ساتھ محو گفتگو تھے، لیکن پھر بھی ان کی ایمانی کیفیت کا اندازہ لگائے کہ بے ہوشی کی حالت میں بھی کلمہ شہادت ورد کرتے رہے، سبحان اللہ تعالی۔ 
22
سال کی عمر میں ختنہ کرانا کوئی آسان نہیں ہے، باقاعدہ ایک آپریشن کی شکل ہوتی ہے، اور انسانی فطرت کے مطابق ڈر اور دہشت ان پر بھی محسوس ہوتا تھا، جس کی وجہ سے ہم کسی چیخ کے منتظر تھے، اور اسی لئے میں نے ان سے کہا تھا بھائی اگر مشکل محسوس ہو تو بول دینا، بغیر ختنہ کے بھی انسان مسلمان صحیح طور پر بنا رہتا ہے، لیکن ان کا جواب تھا
 ۔ ۔ ۔ ۔  نہیں، مجھے ختنہ کرانی ہے کہ یہ ایک سنت ہے، اور میں کسی سنت کو چھوڑنا نہیں چاہتا ۔ ۔ ۔ ۔
 ( یہاں ہم نام نہاد پیدائشی مسلمان اپنے گریبانوں میں جھانکیں کہ ہم روز کتنی سنتوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ )


خیر ان کی یہ کیفیت ہم سب مسلمانوں کے ایمان کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی تھی، اور شاید یہی وجہ تھی کہ جونیئرڈاکٹر صاحب نے ہماری جمع شدہ رقم واپس کردی، جب ہم نے استفسار کیا تو گویا ہوئے - - - -     فی سبیل للہ  - - - -

سبحان اللہ تعالی

آپ سے گذارش ہے کہ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالی ہمارے نومسلم بھائی کو ثابت قدمی عطا فرمائیں

دعا کا طالب
چاہت محمد قاسمی

غزل : اب جو روٹھا ہے میرا یار' مناؤں کیسے ؟ ؟ ؟ ؟

احقر نے ایک کوشش کی ہے  ۔  آپ احباب کی نذر کرتا ہوں ۔ ۔ ۔    امید ہےپسند آئے گی اور آپ اپنی  دعاؤں سے نوازیں گیں  ۔ ۔ ۔ شکریہ 

اب جو روٹھا ہے میرا یار' مناؤں کیسے ؟
دل جو ٹوٹا ہے اب اس بار ' جڑاؤں کیسے ؟

ہم نے مانا کہ ہوئی ہم سے خطا پر اے دوست
ہم بھی تڑپے ہیں بہت بار ' بتاؤں کیسے

بڑا نادان ہے' دیوانہ بھی ہے دل اے نور
ہو  حجازی   پہ فدا دل تو ' سنبھالوں کیسے

ہوں معافی کا طلب گار مری نسیاں پر
بن معافی کے ترے در سے میں جاؤں کیسے

یوں نہ روٹھا کرو تم ہم سے کبھی چاہو تو
لے لو اب جان میری' تم کو مناؤں ایسے!!

نون میم 27- مارچ - 2015


حالات کے اعتبار سے انسان کی قسمیں .....


حالات کے اعتبار سے انسان کی قسمیں .....


جب انسان پر حالات آتے ہیں تب یہ تین اقسام میں بٹ جاتا ہے

اول  ۔ ۔ ۔

  وہ جو مصائب کے آنے سے قبل بھی رب کے شکر گزار تھے اور مصائب کے آنے کے بعد بھی اللہ کی شکر گزار ثابت ہوتے ہیں بلکہ مزید اپنے رب سے قریب ہو جاتے ہیں اور خود کےمحاسبے میں لگ جاتے ہیں کہ کون سی خطا پر رب ناراض ہوا جو نامناسب حالات آ گئے

دوم  ۔ ۔ ۔

 وہ جو خوشحالیمیں تو اپنے رب کو بھلا دیتے ہیں مگر جب.نا مناسب حالات.کا سامنا ہوتا ہے تو فورا" اپنے مالک کی طرف رجوع ہو جاتے ہیں اور اپنی بے فکری اور حکم عدولی پر توبہ و استغفار کرتے ہیں 

سوم  ۔ ۔ ۔

 وہ جو آسودگی میں بھی رب کے نافرمان ہوتے ہیں اور مصائب و پریشانی کے آنے پر تو ایسے بدبخت ہوجاتے ہیں کہ بجائے توبہ و استغفار کے؛ رب کریم کی شکایت کرنے لگ جاتے ہیں۔ ان پہ الزام دھرنے لگتے ہیں

اب ہم خود اپنا محاسبہ کریں اور دیکھیں کہ ہمارا شمار کون سی فہرست میں ہو رہا ہے

دعا ہے کہ اللہ ہمیں اول ( یا کم از کم دوم ) فہرست والوں میں سے بنائے اور تیسری قسم سے ہمیں محفوظ رکھے..

نون میم

آمین ... یا رب العالمین !!!

اردو ترجمہ کے لئے گوگل کروم کا ایکس ٹنشن




ایک بہت ہی مفید    ایکس ٹنشن   شیئر کر رہا ہوں.

 اگر آپ گوگل کروم استعمال کرتے ہیں تو یہ ایکس ٹنشن انسٹال کریں


اس کا فائدہ یہ ہے کہ کسی بھی ویب سائٹ پر لکھے ہوئے کسی بھی انگریزی لفظ کا ترجمہ معلوم کرنا ہو تو صرف اس لفظ کو سلیکٹ کریں. خود بخود ترجمہ ہو جائے گا.





مثال کے لئے درج ذیل فوٹو دیکھیں  ۔ ۔ 




حلالہ کیوں ۔ ۔ ۔ ۔ (حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم عالیہ )

حلالہ  کیوں ۔ ۔ ۔ ۔ (حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب  دامت برکاتہم عالیہ )

یہ خیال غلط ہے کہ  : حلالہ " کوئی تدبیر ہے جس پر عورت کو مجبور کیا جا رہا ہے ۔

اصل یہ ہے کہ جس شخص نے اللہ کی مقرر کی ہوتی تمام حدود کو پامال کرکے تینوں طلاقیں دے دیں وہ اب اس لائق نہیں  کہ ایک شریف عورت اس کے پاس رہے ۔ لہذہ حکم یہ ہے کہ اب اس سے نکا ح نہ کرو ، کوئی اور شوہر تلاش کرو ۔ ہاں !  اگر اس شوہر سےبھی نبھاؤ نہ ہو  اور وہ از خود طلاق دیدے ، تو اس صورت میں امید ہےکہ پہلا شوہر کچھ سبق حاصل کر چکا ہوگا ۔ اس لئے اگر اب اسے سے نکاح کرنے پر بیوی رضامند ہو  تو اس کی اجازت دیدی گئی ہے ۔

اور یہ جو محض حیلہ کے طور پر حلالہ کیا جاتا ہے  وہ شریعت کے منشاء کے خلاف ہے ۔۔

( فتاوی عثمانیہ ۔ جلد نمبر 1 ۔ صفحہ نمبر 138)
ناقل : نون میم
بشکریہ : جناب زبیر صاحب

بازارِ حسن : مولانا طارق جمیل

میانچنوں سے عبدالحکیم جاتے ہوئے راستے میں تلمبہ کا تاریخی شہر نظر آتا ہے - مؤرخین کے مطابق تلمبہ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی حضرت انسان کی...اسے قبل مسیح میں توحید کے متوالے بادشاہ پرھلاد کا پایہ تخت ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے اور ھندو مذہب کے ہیرو رام چندرجی ، رام لچھمن جی اور ان کی بیوی سیتا کی میزبانی کا بھی-
بس تمبہ کے قریب سے گزرتی ہے تو ایک نہایت پرشکوہ عمارت نظر آتی ہے.... یہ ہے مولانا طارق جمیل صاحب کا مدرسہ حصنات.....اور یہ عین اسی جگہ واقع ہے جہاں دس بارہ سال پہلے پاکستان کا سب سے بڑا اور قدیم بازار حسن تھا-
اس خطے میں جسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کہتے ہیں...انگریز دور سے ہی تین بڑے بازار حسن قائم تھے.....لاہور....ملتان ....اور تلمبہ......کراچی کی لی مارکیٹ اور نیپئر روڈ بہت بعد کی پیداوار ہیں-

تلمبہ کا بازار حسن 1818 میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے قائم کیا ، اور وسط پنجاب میں ہونے کی وجہ سے یہ مقبول خاص وعام تھا - سینما تھیٹر اور ٹی وی کے دور سے پہلے یہاں کی رقاصائیں ملک کے کونے کونے میں اپنے فن کا جادو جگا کر تقریبات کا حسن دوبالا کرتی تھیں.....پھر وقت بدلا اور رقص و موسیقی نے باقاعدہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا روپ اختیار کیا تو بازار بھی اس سے متاثر ہوئے- ان بازاروں کی اعلی کوالٹی ترقی کرتے کرتے پہلے فنکار....پھر آرٹسٹ اور بعد میں سیلیبریٹیز بن گئ... اور بچا کھچا سامان طوائف کا لیبل لگا کر جسم فروشی کے دھندے سے وابستہ ہو گیا - تلمبہ کے بازارحسن کی شہرت ضرب المثل کا درجہ رکھتی تھی..... پنجاب میں دیہاتی عورتوں کی کوئ بھی لڑائ ، ایک دوسرے کو "تلمبہ دی کنجری" کہے بغیر آج بھی پھیکی سمجھی جاتی ہے......

جولوگ اپنے گھر کا کچرا باہر گلی میں پھینک کر نصف ایمان کے درجے پہ فائز ہو جاتے ہیں....ان کےلیے یہ بازار قطعاً اس قابل نہ تھا کہ وہ اس کے بارے میں سوچ کر اپنا قیمتی وقت برباد کرتے- پھر ہمارے ہاں تو گندی نالیوں کی صفائ کےلیے بھی عموماً کرسچین رکھے جاتے ہیں .....نیک لوگ ایسی متعفن جگہوں سے منہ ڈھانک کر اور پائنچے چڑھا کر گزرتے ہیں...اور بد خصلت صرف رات کے اندھیرے میں ادھر جھانکتے ہیں......طارق جمیل غالباً وہ پہلا شخص تھا جس نے دن کے اجالے میں اس تاریک نگر کا رخ کیا -

شروع شروع میں مولانا کی یہ "حرکت" ان کے معتقدین کو بھی ناگوار گزری - بازار کے کرتا دھرتاؤں کو بھی اس پر اعتراض ہوا.....لیکن مولانا کا استدلال یہ تھا کہ دین سیکھنا ہر اس شخص کا حق ہے جس نے کلمہ پڑھ رکھا ہے..... بازار حسن سے تعلق رکھنے والے چونکہ مسلمان ہیں...اس لیے انہیں اس نعمت سے محروم نہیں کیا جاسکتا....

مولانا ایک مدت تک چارسو گھروں پر مشتمل اس کنجر محلہ میں جاتے اور ایک کونے میں بیٹھ کر درس قران دیتے رہے - آہستہ آہستہ پیشہ ور خواتین کی ایک معقول تعداد ان کے لیکچرز اٹینڈ کرنے لگی.....طارق جمیل صاحب انہیں میری بہنوں کہ کر مخاطب کرتے اور نماز کا درس دیتے...امہات المؤمنین کے ایمان افروز واقعات بتاتے......صحابیات کے قصے سناتے....اور کربلاء کی عفت ماب بیبیوں کا تزکرہ فرماتے.......آخر ایک روز ایک عورت نے کہا مولانا تم روز ہمیں درس تو دینے آجاتے ہو....لیکن ہمیں اس کا فائدہ کیا ہے....اگر ہم اس گندے کام سے توبہ بھی کر لیں تو کیا یہ معاشرہ ہمیں قبول کر لے گا.....لوگ تو ہمیں دیکھ کر تھوکنا بھی گوارا نہیں کرتے....ہمیں اپنائے گا کون !!!!

مولانا نے کہا کہ رب پر توکل کرو ....وہ فرماتا ہے...."تم میری طرف چل کر آؤ....میں دوڑ کر آؤں گا." ......تم ایک بار چل کر تو دیکھو....باقی رب پر چھوڑ دو.......تاکہ قیامت والے دن کوئ عذر تو ہو تمھارے پاس -

پھر مولانا نے یہ بات مختلف حلقوں میں چلائ.....اس کارخیر کےلیے ملک کے دور دراز علاقوں میں خفیہ و اعلانیہ مہم چلائ.....بہت سے نیک اور صالح نوجوان ان خواتین سے شادی کےلیے تیار ہوگئے .......اور آہستہ آہستہ...پاکستان کے اس تیسرے بڑے بازار حسن کی آبادی گھٹنے لگی.....کئ سال لگے...آخر ایک دن وہ بازار ویران ہوگیا.....اور طارق جمیل صاحب نے وہ جگہ خرید کر مدرسے کےلیے وقف کردی.
اس سب مساعی کے باوجود طارق جمیل میرا آئیڈیل نہیں ہے- وہ ایک انسان محض ہے- اس میں بے شمار عیوب بھی ہیں....میری آئیڈیل شخصیت وہی ہے جنہیں تاج نبوّت نوازنے سے کئ سال پہلے خالق کائنات نے شق صدر کر کے ، ان تمام کمزوریوں سے پاک فرمادیا تھا جو عام انسانوں میں ہوتی ہیں ....
لیکن مجھے فخر ضرور ہے کہ میرے آقا (ص) کا پندھرویں صدی کا امتی طارق جمیل جیسا ہے
نعرے بازی...احتجاج....کافر کافر....تبرا بازی......تو سب کرتے ہیں....کاش کوئ مصلح بھی ہو ...جو اسی حکمت و بصیرت سے معاشرے کا گند صاف کرے جس طرح چودہ سوسال پہلے میرے آقا نے اس بدو کا گند صاف کیا تھا جس نے مسجد میں پیشاب کردیا تھا- !

بشکریہ : جناب تابش قاسمی / میاں مون چودھری صاحب

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.