تاج محل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب گھر بیٹھے اس کا دیدار ممکن !!!!

٭٭٭٭٭٭٭ تاج محل ٭٭٭٭٭٭٭  


"تاج محل " اس  نام  سے تو 'شاید ہی کوئی ناواقف ہوگا۔۔۔– سلطنت مغلیہ کے بادشاہ " شاہ جہاں" نے اپنی محبوب ملکہ "ممتاز محل "کی یاد میں اس کی تعمیر کی تھی ۔ 

تاج محل مغل طرز تعمیر کا عمدہ نمونہ ہے. اس کی تعمیراتی طرز فارسی، ترک، بھارتی اور اسلامی طرز تعمیر کے اجزاء کا انوکھا ملاپ ہے. 1983ء میں، تاج محل کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور کلچر نے عالمی ثقافتی ورثے میں شمار کیا. اس کے ساتھ ہی اسے عالمی ثقافتی ورثہ کی جامع تعریف حاصل کرنے والی، بہترین تعمیرات میں سے ایک بتایا گیا. تاج محل کو  ہند کی اسلامی فن کا عملی اور نایاب نمونہ بھی کہا گیا ہے. یہ 1648ء میں تقریبا مکمل تعمیر کیا گیا. استاد احمد لاهوری کو عام طور پر اس کا معمار خیال کیا جاتا ہے 
.
تعمیر
مغل بادشاہ شاہجہان کی بیوی ممتاز محل کا مقبرہ جو بھارت کے شہر آگرہ میں واقع ہے۔کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ شیرازی نامی ایک ایرانی انجینئیر نے اسکا نقشہ تیار کیا تھا لیکن بادشاہ نامے میں لکھا ہے کہ خود شاہ جہاں نے اس کا خاکہ تیار کیا۔ یہ عمارت 1632ء سے 1650ء تک کل25 سال میں مکمل ہوئی۔ اس کی تعمیر میں ساڑھے چار کروڑ روپے صرف ہوئے اور بیس ہزار معماروں اور مزدوروں نے اس کی تکمیل میں حصہ لیا۔ تمام عمارت سنگ مرمر کی ہے۔ اس کی لمبائی اور چوڑائی 130 فٹ اور بلندی 200 فٹ ہے۔ عمارت کی مرمری دیواروں پر رنگ برنگے پتھروں سے نہایت خوبصورت پچی کاری کی ہوئی ہے۔ مقبرے کے اندر اور باہر پچی کاری کی صورت میں قرآن شریف کی آیات نقش ہیں۔ عمارت کے چاروں کونوں پر ایک ایک مینار ہے۔ عمارت کا چبوترہ، جو سطح زمین سے کئی فٹ اونچا ہے ، سنگ سرخ کا ہے۔ اس کی پشت پر دریائے جمنا بہتا ہے اور سامنے کی طرف ، کرسی کے نیچے ایک حوض ہے۔ جس میں فوارے لگے ہوئے ہیں اور مغلیہ طرز کا خوبصورت باغ بھی ہے اس مقبرے کے اندر ملکہ ممتاز محل اور شاہجہان کی قبریں ہیں۔


سیاحت
ہر سال اس تاریخی یادگار کو 30 لاکھ افراد دیکھنے آتے ہیں یہ تعداد بھارت کے کسی بھی سیاحتی مقام پر آنے والے افراد کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے ۔تاج محل مغلیہ دور کے فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار ہے اور ایک ایسی بے مثال عمارت ہے جو تعمیر کے بعد ہی سے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنی۔ محبت کی یہ لازوال نشانی شاعروں، ادیبوں، مصوروں اور فنکاروں کے لیے اگرچہ وجدان کا محرک رہی ہے لیکن حقیقت میں ایک مقبرہ ہے۔سن 1874 میں برطانوی سیاح ایڈورڈ لئیر نے کہا تھا کہ…………..
دنیا کے باشندوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ایک وہ جنہوں نے تاج محل کا دیدار کیا اور دوسرے جو اس سے محروم رہے ۔

خیر جنہوں نے تاج محل کا دیدار کیا ۔ ۔ ۔ ۔  وہ تو خوش قسمت ٹھہرے مگر جو اس کے دیدار سے محروم رہے ، وہ درج ذیل لنک پر جا کر گھر بیٹھے ہی اس خوبصورت محل کو دیدار کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔


اب چاہے تم یوں کہوں  جو کہ مجروح سلطانپوری صاحب نے کہا ہے  :
اک شہنشاہ نے بنوا کے حسین تاج محل 
دنیا والوں کو محبت کی نشانی دی ہے ۔

یا پھر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔

یہ جو کہ ساحر لدھیانوی صاحب کہہ گئے  :
اک شہنشاہ نے بنوا کے حسین تاج محل
ہم غریبوں کی محبت کا اُڑایا ہے مذاق


بشکریہ : ویکیپیڈیا ۔

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

تاج محل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب گھر بیٹھے اس کا دیدار ممکن !!!! پہ 4 تبصرے ہو چکے ہیں

  1. بہت بہت شکریہ بھائی جان ۔۔۔کمال کی چیز آپ نے بتائی ہے۔۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. شکریہ بھائی جان ۔ ۔ ۔ واقعی میں اس دیکھ کر مزہ آ گیا۔

      Delete

اگر آپ (بلاگ اسپاٹ کی دنیا میں) نئے ہیں اور درج بالا تحریر پر آپ کا قیمتی تبصرہ کرنے کا ارادہ ہے تو ۔ ۔ ۔ Comment as میں جا کر“ANONYMOUS" پر کلک کر کے اپنا تبصرہ لکھ دیں – ہاں آخر میں اپنا نام لکھنا نہ بھولیں -

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.