نبی ؑ کا لباس ۔ ۔ ۔


 حال کی بقر عید گاؤں میں گذری – ایک لمبے عرصے کے بعد   دوست اور عزیز و اقارب سے ملاقاتیں ہوئیں – ایک عجب سا احساس ہوتا ہے جب  بڑی مدت کے بعد اپنے عزیز واقارب  اور دوست و احباب کا ملاپ ہوتا ہے ' جو ناقابل بیاں ہے- ان ہی دنوں میں ایک دوست کے ہمراہ چہل قدمی کے دوران  ہم دونوں ایک دوسرے سے اپنے خیالات شیئر کر رہے تھے کہ  اچانک میرے دوست نے  ایک  اعتراض کے بارے میں بحث کی  جو کہ اس سے ایک جان پہچان والے شخص نے ( جن کا نام لینا مناسب نہ ہوگا ) کیا تھا  "   کہ ہمارے نبی  صل اللہ علیہ و سلم    کی ولادت  اگر یورپ  میں  ہوتی تو کیا وہ ( یورپی تہذیب  کے مطابق) پینٹ شرٹ اور سوٹ بوٹ کو نہ استعمال کرتے اور آیا یہ کہ  کیا وہی لباس  سنت نہ کہلاتا ؟؟؟ "

اب مجھ سا جاہل شخص تو اس کا جواب کیا دیتا ۔ بس علماء اکرام سے سنی سنائی  کچھ باتیں ' جو اس عنوان کے تحت مجھے یاد تھیں وہی اس کے سامنے بیان کی – اب تھوڑا سا وقت فرصت کا ہے اس لئے خیا ل آیا کہ تھوڑا س بارے میں کچھ لکھ ہی دہ  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میرے بات ۔

ہائے ! میرے عزیز  - بات یہ ہے کہ جس کو جس سے جتنا تعلق ہوتا ہے  ' اس کو اس کی اداؤں سے اتنی ہی محبت ہوتی ہے ۔  دنیا کی ہی بات لیجئے ۔ کو جس کا فین ہوتا ہے بس اس کا حال چال' اس کی چال چلن' اس کا اسٹائل  ویسا  بن جاتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے ۔  کوئی  شاہ رخ کو عزیز رکھتا ہے تو وہ اس کی ا داؤں کا دیوانہ ہو جاتا ہے ' کوئی سلمان  کو پسند کرتا ہے تو اس کی اسٹائیل کو اپنا  نصب العین  بنا لیتا ہے – وہ خود کو  اپنے محبوب کے اسٹائیل میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے ۔  کالج میں میرا ایک دوست جو اب  بھی نئی ممبئی میں مقیم ہے' اسے  شاہ رخ  خان سے لگاؤ تھا۔ بس  ۔۔۔۔ اب جس  طرح کی ہیر اسٹائیل شاہ رخ کی ' اسی طرز  پر بال وہ بھی سنوارے' جس طرح کے کپڑے شاہ رخ پسند کرے ، اس کے کپڑے بھی اسی سے ملتے جلتے' جس طرح  کا چشمہ شاہ رخ کا' اسی طرح کا وہ بھی خریدے' غرض یہ کہ ہر وہ چیز جو شاہ رخ  کرے ' یہ بندہ  اس کی ہر ادا کی نقل کرے ۔ اب بتاؤ کہ ایک بے وقوف کی نقل کرنے والے کی تو ہم واہ واہی کریں اور اس  بنی ؑ  کی نقل کرنے  اور اس کی سنتوں پر عمل کرنے ' اور اس کی زندگی کو اپنانے  ہم  تنقیدوں اور اعراضات کی بوچھار کریں  ؟ ؟ ؟  جس کو رب کائنات نے سارے عالم کے لئے نمونہ یا ہیرو  بنا کر بھیجا ہے  '

میرے دوست ! اصل بات یہ کہ ۔ ۔ ۔
  •   ہم نے اس نبیؑ  سے محبت ہی نہ کی۔
  • ہم نے اس کو اپنا ہی  نہ سمجھا۔
  •  ہم نے اس کو دل میں جگہ ہی نہ دی۔
  • ہم نے اس کو دل میں ہی نہ بسایا۔
  •  ہم نے اس کو پہچانا  ہی نہیں۔  ۔ ۔

لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ ہمارے اس سے  محبت کے دعوے تو صرف زبانی ہیں' مگر مجھے تو یہ ڈر ہے کہ ہمارے یہ دعوے زبانی بھی ہیں یا نہیں ۔

آخر میں یہ کہوں گا کہ ہاں  ۔ ۔ ۔   میرا نبیؑ جس لباس کو پسند کرتا وہی ہماری پسند ہوتی  ۔ پھر چاہے وہ کرتا  پاجامہ  ہو یا سوٹ اور کوٹ ۔  

علامہ اقبال رح نے بھی کیا خوب فرمایا تھا  ۔ ۔ ۔

بھجی عشق کی آگ' اندھیر ہے 
مسلمان نہیں' خاک کا ڈھیر ہے

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

نبی ؑ کا لباس ۔ ۔ ۔ پہ 21 تبصرے ہو چکے ہیں

  1. ميرا خيال تو يہ ہے کہ جس نے نبی صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم سے محبت نہ کی اُس نے اللہ کی اطاعت سے انکار کيا اور اپنے ساتھ ظُلم کيا
    ليکن بات کرتے ہيں دنيا کی ۔ منطلُون جسے ہم پہلے پتلون پھر پينٹ اور پھر ٹراؤزر کہنے لگے رسول اللہ سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم کی حيات طيّبہ کے دوران کہيں بھی موجود نہ تھی ۔ يورپ کے لوگ ايک چادر ناف سے گھٹنوں يا ٹخنوں تک لپيٹتے تھے اور ايک جسم کے اُوپر والے حصے پر
    منطلُون عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت ميں عربوں نے تيار کی تاکہ جنگ کے دوران گھوڑ سواری ميں آسانی ہو ۔ جب اسلام کی کی روشنی يورپ ميں پہنچی تو عربوں کی ثقافت بھی وہاں پہنچی ۔ جس ميں مزيدار کھانوں کے ساتھ منطلون بھی شامل تھی
    پتلون يا کوئی اور لباس پہننا اسلام کے خلاف نہيں ہے ۔ خلافِ اسلام جسم کے خد وخال ظاہر ہونا ہے
    اللہ ہميں قرآن شريف کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفيق عطا فرمائے

    کتابت کی غلطياں درست کر ليجئے
    عنوان ميں "بنی" لکھا ہے اسے "نبی" کر ليجئے
    نيچے شعر ميں " بھجی" لکھا ہے اسے "بُجھی" کر ليجئے

    ReplyDelete
  2. بہت بہت شکریہ افتخار صاحب غلطیوں کی تصحیح کر دی ہے ۔
    معلومات میں اضافہ کے لئے بہت مشکور ہوں ۔
    محترم ۔ آپ بالکل بجا فرما رہے ہیں کہ” منطلُون” لباس ' اسلام کے خلاف نہیں ہے اور ہر شخص اپنا علاقائی لباس اختیار کر سکتا ہے ( شرعی رعایت کی پابندی کے ساتھ) مگر نبی صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم کے لباس و سنت کی تو تکفیر نہ کرے !!!

    جزاک اللہ

    ReplyDelete
  3. آپ کی پوسٹ پڑھ کے جو خیال دل میں آیا اس کا اظہار اولا نثر میں کیا۔ پھر سوچا کہ چونکہ آجکل محترم وارث صاحب سے تقطیع کرنا سیکھ رہا ہوں تو اسی خیال کو شعر میں باندھا جائے۔ مشق کی مشق اور اظہار کا اظہار۔

    جب محبت ہی اٹھ گئی راہی
    کیوں نبی کی ڈگر چلے کوئی؟

    ذرا دیکھئے گا کہ کہیں کوئی گڑ بڑ تو نہیں کی میں نے کہ آپ بھی ماشاء اللہ وہاں پائے گئے ہیں
    سعید

    ReplyDelete
  4. سبحان اللہ ۔ ۔ ۔ آپ نے تو میرے مضمون کو ایک شعر میں قید کر دیا ۔ ۔ ۔
    جزاک اللہ

    ReplyDelete
  5. آپ نے تو وہی بات کی کہ سوال گندم جواب چنا۔ سوال یہ تھا کہ اگر نبی پاک یورپ میں پیدا ہوتے تو کیا ان کا لباس اس ثقافت جیسا نہ ہوتا۔ آپ نے سیدھا سا جواب دینے کی بجائے آپ نے اس بات پر سارا زور لگا دیا کہ نبی پاک کے لباس کو ہی اچھا سمجھنا چاہیے۔
    جناب ثقافت سے بچنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ موجودہ بڑے بڑے مشاہیر اور علمائے پاک و ہند کو لے لیجئے کیا وہ نبی پاک والا لباس پہنتے ہیں؟ نہیں۔
    اس دفعہ مسجد کے ڈنر میں ایک گورے مسلمان پروفیسر نے اسی بات پر لیکچر دیا اور کہا کہ جس ملک میں رہ رہے ہو اس کی ثقافت کو اپنانا برا نہیں ہے، برا یہ ہے کہ آپ عملی گناہوں سے پرہیز نہیں کرتے۔ آپ پینٹ شرٹ پہن کر بھی اپنے عمل سے دوسروں کو مسلمان بنا سکتے ہیں۔ مگر ہم لوگ دکھاوے کی باتوں پر تو عمل کی تلقین کرتے ہیں مگر عملی کاموں سے اجتناب کرتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے مسلمانوں کے زوال کی۔ ہم نے اسلام کو موجودہ دور کے مطابق ڈھالا ہی نہیں۔ وہی پرانی باتیں اور پرانے قصے۔ علما جمعہ کے خطبے میں پرانے قصے سنا سنا کر ہلکان ہوئے جاتے ہیں مگر کبھی وہ موجودہ مسائل پر بات نہیں کرتے۔ کبھی نہیں کہتے کہ آج سے قسم کھاو کہ جھوت نہیں بولو گے، کم نہیں تولو گے، دھوکہ نہیں دو گے، رشوت نہیں لو گے۔ ہمیں تو حسرت ہی رہی کہ امام کبھی خطبے کے دوران یہ پوچھے کہ وہ لوگ کھڑے ہو جائیں جنہوں نے زندگی میں کبھی رشوت نہ لی ہو، کاروبار میں بددیانتی نہ کی ہو اور غیبت نہ کہ ہو۔ اس کے جواب میں اگر اکڑیت بیٹھی نہ رہی تو جو چور کی سزا وہ ہماری۔

    ReplyDelete
  6. بہت بہت شکریہ محترم کے آپ نے اس ناچیز کے بلاگ پر تشریف لانے کی زحمت فرمائی ۔ ۔
    آپ نے جواب میں اتنی لمبی تحریر لکھ دی ہے تو اب میری سمجھ میں کچھ آ ہی نہیں رہا ہے کہ کیا لکھوں ۔ ۔ خیر۔۔ تھوڑی کوشش کر ہی لیتے ہیں ۔۔۔

    محترم ۔۔۔ میری پوری تحریر ہی “ عشق نبی ّ “ کے ارد گرد گھوم رہی ہے ۔ میں نے محترم جناب افتخار صاحب کے تبصرے کے جواب میں ہی لکھا ہے کہ علاقائی لباس میں کوئی قباحت نہیں ہے (کچھ شرعی پابندیوں کے ساتھ ) مگر نبی ّ کے لباس سے بھی تو محبت رکھیں ۔ ۔ آپ کا یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ باطن کا سدھار اصل ہے مگر میرا تو یہ ماننا ہے کہ باطن کے ساتھ ساتھ ظاہر بھی درست ہو ۔ ۔ ۔ اور ظاہر و باطن کی درستگی کے لئے نبیّ کی زندگی سے بہتر کوئی مشعل راہ ہمارے سامنے نہیں ہے ۔
    اور ہاں ایک بات عرض کردوں کہ ہمارے نبی ّ کی سنتوں میں بڑی بڑی حکمتیں چھپی ہوئی ہیں - وہ الگ بات ہے کہ وہ ہم جیسوں کی سمجھ میں جلد نہیں آتییں ۔۔

    آپ جو ٹوتھ پیسٹ اور مسواک کے متعلق فرما رہے ہیں تو بتاتے چلوں کہ حال ہی میں ہند کے ایک مقامی اردو اخبار میں ایک تحریری دونوں کے موازنہ پر شائع ہوتی تھی ( میری بدقسمتی کہ میں اسے محفوظ نہ رکھ سکا ۔۔۔) جس میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے اس بات کا صاف اقرار کیا تھا کہ ٹوتھ پیسٹ اور برش سے مسواک کا استعمال بدرجہ افضل ہے ۔
    ۔۔ ۔ ۔ ۔ اسی طرح ہمارے نبی ّ کی ہر ادا ، ہر سننت میں ہمارے لئے خیر ہی خیر ہے ‘ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی پوری زندگی کو ( ظاہری و باظنی) بنیّ کے سانچے میں ڈھال دیں ۔ ۔ ۔ اتنا نہیں کر سکتے توکم از کم اعتراضات تو نہ کریں ۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( محترم : اگر کوئی بات غلط لکھ دیا ہوں تو معزرت کہ مجھے لکھنا بالکل نہیں آتا ۔ ۔ ۔ بس جو ذہن میں آیا ۔ ۔ ۔ لکھ دیا ہوں ۔ ۔ ۔امید ہے کہ اگر کوئی بات بری لگی ہو تو معاف کر دیں گیں - شکریہ )

    ReplyDelete
  7. لگتا ہے کہ افضل صاحب نے آپ کی پوسٹ کو پڑھتے ہی اپنے ذہن میں لباس کی دو قسمیں یہ کر ڈالیں ۔جائز لباس اورناجائز لباس۔ جائز لباس یعنی آپؐ کا لباس۔اور ناجائز یعنی آپؐ کے لباس کے علاوہ دنیا کا کوئی بھی لباس۔۔۔۔ جبکہ آپ کی پوسٹ اور وضاحت پڑھ کر ان کو لباس کی دو قسمیں یہ کرنی چاہئیے تھیں جائز لباس اور مستحب لباس۔ جائز لباس یعنی دنیا کا کوئی بھی لباس جو اسلام کی مذکورہ بالا شرطیں پوری کر رہا ہو۔ مستحب لباس جس کو حضورﷺ نے پہنا ہو یا پسند فرمایا ہو۔
    سعید

    ReplyDelete
  8. جناب والا
    آپکو عادت اور سنت کا فرق بھی ذہن میں رکھنا چاہیے۔ عادت اپنے زمانے اور وقت کے لحاظ سے تبدیل ہو سکتی ہے جبکہ سنت ایک اصولی چیز ہے۔ مثال کے طور پر لباس کے ضمن میں سنت یہ ہے کہ لباس میں اسراف نا ہو،لباس ساتر ہواور تشبہ بالکفار نا ہو۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وقت کے لحاظ سے سواری کے لیے اونٹ وغیرہ کا استعمال کیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ان سے محبت رکھنے والا امتی موٹر گاڑی کا استعمال نا کرسکے۔ آپ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا جو معیار دے رہے ہیں وہ بالکل نامانوس اور اجنبی ہے ۔

    ReplyDelete
  9. افتخار صاحب کا بہت شکریہ کہ پینٹ کی انتہائی دلچسپ تاریخ سے آگاہی ہوئی۔

    ReplyDelete
  10. ڈاکٹر صاحب
    آپ سے تو استفادہ کرتا ہی رہتا ہوں۔ آپنے لکھا:
    "مثال کے طور پر لباس کے ضمن میں سنت یہ ہے کہ لباس میں اسراف نا ہو،لباس ساتر ہواور تشبہ بالکفار نا ہو"
    اللہ جزائے خیر دے کہ آپنے سنت لباس کی ڈیفینیشن کی۔ اس ڈیفینیشن کو سامنے رکھتے ہوئے میں سوچ رہا ہوں کہ اس بار کا جمعہ اس ساڑی میں پڑھوں جو عام طور سے ہندو عورتیں پہنتی ہیں۔ آپ نے لتا منگیشکر کی ساڑی میں تصویر بھی دیکھی ہوگی کہ وہ اپنا پورا بدن کور کر کے رکھتی ہیں۔ میں سوچ رہا ہوں میں بھی اپنا بدن کور کر ساڑی پہنو اور سر پہ جناح کیپ لگاؤں اور ساڑی آدھی پنڈلی پر باندھوں ایسے میں میرا یہ لباس ساتر بھی ہوگااور ہندو عورتوں کے مشابہ بھی نہیں ہوگا کہ ساڑی کے ساتھ ٹوپی نہیں لیتیں اور ساڑی کو پیڈلیوں پر نہیں ٹخنوں سے بھی نیچے باندھتی ہیں۔ رہی بات اسراف کی تو یا توکپڑا کم کر لوں گایااتنا اسراف تو چل جانا چاہئے کہ عرب ائمہ بھی عبا اپنے بدن پر لیتے ہیں
    اقتباس:
    اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وقت کے لحاظ سے سواری کے لیے اونٹ وغیرہ کا استعمال کیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ان سے محبت رکھنے والا امتی موٹر گاڑی کا استعمال نا کرسکے
    یہی استدلال میں نے پورےاردو بلاگستان میں دیکھا۔اور اس استدلال سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ استدلال کرنے والا تشبہ کی تعریف جانتا ہی نہیں۔اگر وہ جانتا ہوتا تو یہ استدلال کبھی نہ کرتا۔ میں سوچ رہا ہوں کہ کچھ ٹاءم نکال کر تشبہ پر لکھوں۔ بلاگ تو ہے نہیں فیس بک پر لکھتا ہوں
    سعید

    ReplyDelete
  11. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  12. جناب پالن پوری صاحب،
    آپکے مضموں کا انتظار رہے گا۔ مسنون لباس کے ضمن میں ایک بات تو لکھنا بھول گیا۔ چونکہ بات سنت کی تھی لہذا بے ادبی کا خیال مانع رہا۔ لیکن اب آپ نے توجہ دلائی ہے تو کہنا پڑے گا کہ لباس ایسا بھی نا ہو کہ جسے دیکھ کر عوام آپکی دماغی صحت پر شبہ کرنے لگ جائیں۔
    چونکہ مضحکہ خیزی کو نبوت سے کوئی تعلق نہیںہے لہذا اسکا ذکرکرنا مناسب نہیں سمجھا۔
    تشبہ بالکفار کے ضمن میں مجھے یقین ہے کہ آپکے مضمون سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔

    ReplyDelete
  13. السلام علیکم۔ نور محمد ابن بشیر صاحب۔ آپ کے بلاگ پر پہلی بار آیا ہوں۔ کچھ تحریروں کو پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ بلکہ زیادہ خوشی تو اس بات سے ہوئی کہ آخرکار انڈیا سے اب لوگ اردو یونیکوڈ میں بلاگنگ کرنے کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔

    ReplyDelete
  14. mazeed .. . . iss link per visit karen...

    http://bunyadparast.blogspot.com/2011/12/blog-post.html?showComment=1323159107109#c2261350514823751690

    jazakallah

    ReplyDelete
  15. آپ نے توجہ دلائی ہے تو کہنا پڑے گا کہ لباس ایسا بھی نا ہو کہ جسے دیکھ کر عوام آپکی دماغی صحت پر شبہ کرنے لگ جائیں۔
    چونکہ مضحکہ خیزی کو نبوت سے کوئی تعلق نہیں ہے لہذا اسکا ذکرکرنا مناسب نہیں سمجھا۔
    اللہ آپ کو جزائے خیر دے کہ آپ نے مجھ کم علم کیلئے مزید وضاحت فرمائی۔ واقعی آپکی مذکورہ بات( مضحکہ خیزی کو نبوت سے کوئی تعلق نہیں ہے) عقل کو لگتی ہے اور میرا فرض کردہ لباس مضحکہ خیز ہی لگتا ہے۔اور میری دماغی صحت پہ شبہ پیدا کرتا ہے۔
    لیکن ایک دوسرا رخ بھی میں آپ کو دکھانا چاہتا ہوں کہ اگر میں مغربی لباس میں "اسلامی مطلوبہ جزوی" تبدیلی کر وں اور پھر لوگوں کو بتاؤں کہ میرا یہ لباس اسلامی سنتی لباس ہے تو سب مسلمانوں کے ایک معتد بہ طبقہ کے نزدیک میری یہ حرکت مضحکہ خیزی میں آئے گی اور ان کو میری دماغی صحت پہ شبہ نہیں یقین ہوگا اور وہ میرا آگرہ کا ٹکٹ کٹوادیں گے
    دوسری بات یہ کہ میرا فرض کردہ یہ لباس اس وجہ سے بھی مضحکہ خیزلگ رہا ہے کہ اس کو سعید نے پہنا ہے جس کو اس کے محلہ والے بھی نہیں جانتے لیکن فرض کیجئے کہ اگر اس "مضحکہ خیز اسلامی لباس کو" وہ شخصیات پہن لیں جو فیشن اور ٹرینڈ سیٹ کرتی ہیں اور اس لباس کو "ان فیشن" کردیں ۔ ایسے میں اس لباس کو مضحکہ خیز کہنے والوں کی دماغی صحت پہ شبہ ہوجائے گا۔
    غرض یہ طالب علم پریشان ہے کہ مضحکہ خیزی کی جامع مانع تعریف ہو تو کیا ہو؟
    قطع نظر ان دونوں باتوں کے۔ چونکہ آپ نے ایک اور قید کا اضافہ کر کے تعریف کو مزید واضح کیا ہے ۔تواس قید کو سامنے رکھتے ہوئے میں اس بار کے جمعہ کے لباس میں تبدیلی کر رہا ہوں
    آپ نے لال بہادر شاستری کی دھوتی ،کرتے اور ٹوپی میں تصویر تو دیکھی ہوگی۔۔ آہا!!! کیا مطابقِ ڈفینیشن اور اسلامی روح سے میل کھاتالباس ہے۔ کرتا گھٹنوں تک۔ دھوتی ٹخنوں سے اوپر۔ اور سر پہ ٹوپی۔اور کیا چاہئے ایک اسلامی سنتی لباس میں؟؟
    سوچ رہا ہوں اس بار کے جمعہ میں یہی پہنوں اور چونکہ کفار سے مشابہت ختم کرنا بھی ضروری ہوتا ہے اس لئے شاستری کی گاندھی کیپ کو جناح کیپ سے بدل لوں گا
    شاستری کایہ" اسلامی سنتی لباس" کیسا رہے گا میرے اوپر۔آپکی وقیع رائے کا منتظر
    سعید

    ReplyDelete
  16. جناب سعید پالن پوری صاحب،
    ایک تو آپکے نام کے ساتھ ایسا لاحقہ لگا ہوا ہے کہ آپ سے بات کرنے کے لیے بھی بڑی ہمت جٹانی پڑتی ہے۔
    پھر بھی میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس سارے معاملے میں بحث کی گنجائش کہاں نکلتی ہے۔
    جب تک مسنون لباس کی بات ہوگی ہم سیرت اور سنت سے اسکا تعین کریں گے جب بات فیشن کی ہوگی تو فیشن کے ٹرینڈ سیٹ کرنے والوں کی طرف دیکھا جائے گا اور جہاں تک مجھے معلوم ہے سنت کی پابندی دنیا کے کسی بھی فیشن میں ان نہیں ہے اور ہو بھی نہیں سکتی۔
    اگر آپ کے نزدیک سنت کی تعریف وہی ہے جو آپ کے تبصروں سے ظاہر ہو رہی ہے تو معافی چاہتا ہوں اسکے پابند تو غالبا اکابرین دیوبند بھی نہیں رہے۔ کم از کم پاکستانی علماء کے بارے میں تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ اس معاملے میں سنت کے تابع نہیں ہیں۔
    آپ اپنے بارے میں ارشاد فرمائیے گا کہ کیا آپ جدید وسائل نقل کو ترک کرکے "مسنون" ذرائع نقل و حمل اختیار کرسکیں گے۔ اور کافرانہ نوکیا موبائل اور انٹر نیٹ کو چھوڑ کر "مسنون" ذرائع ابلاغ کو اختیار کرنے کی ہمت باندھ سکیں گے؟
    نیاز مند
    جواد خان

    ReplyDelete
  17. ڈاکٹر صاحب یہ لاحقہ میں نے اسی لئے حذف کردیا ہے کہ یہ میری عمر اور علم سے متعلق غلط فہمی پیدا کر رہا تھا ۔ دونوں ہی چیزیں زیادہ دکھا رہا تھا۔اب جبکہ میں یہ لاحقہ ہٹا ہی چکا ہوں تو آپ بھی ہٹا دیں اور ہمت جٹائے بغیر ایک ایسےشخص سے گفتگو فرمائیں جس نے ابھی زندگی کی صرف تیس بہاریں دیکھیں ہیں
    "پھر بھی میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس سارے معاملے میں بحث کی گنجائش کہاں نکلتی ہے۔"
    بحث نہیں ڈاکٹر صاحب!آپ نے سنت لباس کی تعریف کر کے مجھ کم علم کے علم میں اضافہ کیا ہے ۔چونکہ آپ اہل علم ہیں اس لئے تعریف پر اٹھنے والے اپنے کچھ ذہنی خلجان آپ کے سامنے پیش کرکے انکا دفعیہ چاہ رہا ہوں اور بس۔تاکہ حتمی اور یقینی علم مجھے حاصل ہوسکے۔
    اور میرے تبصروں سے کیا تعریف ظاہر ہورہی ہے اس سے قطع نظر فرمائیں کہ میں استفادہ کی پوزیشن میں ہوں نہ کہ افادہ کی
    "آپ اپنے بارے میں ارشاد فرمائیے گا کہ کیا آپ جدید وسائل نقل کو ترک کرکے "مسنون" ذرائع نقل و حمل اختیار کرسکیں گے۔ اور کافرانہ نوکیا موبائل اور انٹر نیٹ کو چھوڑ کر "مسنون" ذرائع ابلاغ کو اختیار کرنے کی ہمت باندھ سکیں گے؟"
    ہاہاہا۔۔ بہت خوب ڈاکٹر صاحب!معلوم نہیں کیوں مجھے آپ کا یہ سوال پڑھ کے "محبوب ِایوری ون" بارہ سنگھا یاد آگیا کہ یہ" دفاع وِد باؤنسر "کی تکنیک انہی کی ایجاد ہے۔آپ کا یہ باؤنسر اونچائی کافی لئے ہوئے ہےکہ اس پر مجھے ڈک کرنے کی بھی ضرورت پیش نہیں آئی۔ اس سوال کی وجہ سےمجھ پر قرض چلے آرہےمضمون کی اہمیت وضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ میں جلد سے جلد وقت نکالنے کی کوشش کرتا ہوں۔ شاید ویک اینڈ پر کچھ وقت مل جائے۔جب بھی لکھوں گا آپ کو گوگل پلس پہ ٹیگ کرنا نہیں بھولوں گا
    سعید

    ReplyDelete
  18. کمال ہے حضرت دل لگی فرما رہے ہیں۔ بہت خوب

    ReplyDelete
  19. شکریہ ۔۔ سعید احمد صاحب ۔ ۔۔ کیا آپ فیس بک کا لنک فراہم کر سکتے ہیں ؟؟؟؟ مہربانی ہوگی

    ReplyDelete
  20. And cheap sunglasses this PRI recaptured this governorships on the expresses associated with Jalisco and Chiapas, both that the item misplaced greater than a decades ago, the item obviously misplaced cheap designer sunglasses, Lopez Obrador's property condition, in order to Democratic Trend. This leftist get together furthermore picked up this governor's battle around Morelos, simply just southern associated with designer sunglasses sale City.

    ReplyDelete

  21. راھی حجازی صاحب لکھتے ہیں ۔ ۔ ۔

    جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا لباس عمرانیات سے تعلق رکھتا ہے مذہبیات سے نہیں، آپ عرب میں مبعوث ہوئے تو آپنے یہ لباس اختیار کرلیا، اگر یورپ یا امریکہ میں مبعوث ہوتے تو آپ کا لباس تھری پیس سوٹ، بوٹ ہونا تھا۔ ان کیلئے صرف ڈھائی صفحے، پلیز مطالعہ فرمائیں

    https://www.facebook.com/photo.php?fbid=730152467047091&set=pcb.730152603713744&type=1&permPage=1

    ReplyDelete

اگر آپ (بلاگ اسپاٹ کی دنیا میں) نئے ہیں اور درج بالا تحریر پر آپ کا قیمتی تبصرہ کرنے کا ارادہ ہے تو ۔ ۔ ۔ Comment as میں جا کر“ANONYMOUS" پر کلک کر کے اپنا تبصرہ لکھ دیں – ہاں آخر میں اپنا نام لکھنا نہ بھولیں -

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.