ہماری تلاوت قرآن کریم، اور بچوں پر اسکے اثرات

!!! ہماری تلاوت قرآن کریم، اور بچوں پر اسکے اثرات !!!
تحریر: احمد سعید پالنپوری استاد جامعۃ الشیخ حسین احمد المدنی محلہ خانقاہ دیوبند

آپ بیتی میں حضرت مولانا زکریا صاحب رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ جب انکے ابا حضرت مولانا یحیی کاندھلوی صاحب رحمہ اللہ کا دودھ چھڑایا گیا تو وہ پاؤ پارہ کے حافظ تھے، دو ڈھائی سال کا بچہ پاؤ پارہ کا حافظ بڑی عجیب بات ہے، اسکی وجہ بھی شیخ الحدیث صاحب رحمہ اللہ نے لکھی ہے کہ حضرت مولانا یحیی صاحب رحمہ اللہ کی والدہ محترمہ حمل کے زمانہ میں قرآن کریم کی خوب تلاوت کیا کرتی تھی، اور پیدائش کے بعد بچے کو گود میں لیکر تلاوت قرآن کریم کرتی رہتی تھی، بچہ اسکو سنتا رہتا، اسکی وجہ سے اتنی چھوٹی عمر میں وہ پاؤ پارے کے حافظ ہوگئے تھے، اور سات برس کی عمر میں حضرت مولانا یحیی صاحب رحمہ اللہ نے قرآن شریف حفظ کر لیا تھا، اور حفظ قرآن کریم کے بعد ایک قرآن کریم روز پڑھ لیا کرتے تھے، خود حضرت مولانا یحیی صاحب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے میں صبح کی نماز پڑھ کر امی بی کے مکان کی چھت پر قرآن شریف شروع کرتا اور دوپہر تک قرآن کریم مکمل کرلیا کرتا تھا، حضرت مولانا عاشق الہی صاحب رحمہ اللہ تذکرة الخلیل میں حضرت مولانا یحیی کاندھلوی صاحب کے حالات میں لکھتے ہیں:

'' ایک مرتبہ میری درخواست پر رمضان میں قرآن شریف سنانے کے لیے میرٹھ تشریف لائے تو میں نے دیکھا کہ دن بھر میں چلتے پھرتے پورا قرآن مجید ختم فرما لیتے، اور افطار کا وقت ہوتا تو ان کی زبان پر قل اعوذ برب الناس ہوتی تھی. ریل سے اترے تو عشاء کا وقت ہوگیا تھا، ہمیشہ باوضو رہنے کی عادت تھی، اسی لیے مسجد میں قدم رکھتے ہی مصلے پر آگئے، اور تین گھنٹے میں دس پارے ایسے صاف اور رواں پڑھے کہ نہ کہیں لکنت تھی، نہ متشابہہ، گویا قرآن شریف سامنےکھلا رکھا ہے، اورباطمینان پڑھ رہے ہیں، تیسرے دن ختم فرماکر روانہ ہوگئے کہ نہ دور کی ضرورت تھی نہ سامع کی '') تذکرة الخلیل 204 (

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمدزکریا صاحب رحمہ اللہ اپنے والدمحترم کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں '': میرٹھ کے اسسفر کے متعلق والد صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ میرٹھ کےلوگوں سے معلوم ہوا کہ جب لوگوں میں یہ تذکرہ ہوا کہایک شخص سہارنپور سے تین دن میں قرآن شریف سنانے کےلیے آرہا ہے، تو تیس چالیس حافظ محض امتحان کے لیے میرے پیچھے تراویح پڑھنے کے لیے آتے تھے، والد صاحب کو رمضان المبارک میں میری طرح سے بخار نہیں آتا تھا، دوستوں کے اصرار پر ایک دو دن کے لیے ان کے یہاں جاکر دو شب یا زیادہ سے زیادہ تین شب میں تراویح میں ایک قرآن پڑھ کر واپس آجاتے تھے، مساجد میں عموما تین تین شب میں ہوتا تھا، غیر مساجد میں ایک یا دو شب میں بھی ہوجاتا تھا. 

ایک مرتبہ شاہ زاہد حسین صاحب مرحوم کے اصرار پر دو شب کے اندر قصبہ بہٹ میں ان کے مردانہ مکان میں قرآن پاک سنا کر آئے تھے، مسجد نواب والی قصاب پورہ دہلی میں ایک دفعہ قرآن سنانا مجھے یاد ہے، عزیز مولوی نصیرالدین سلمہ حکیم اسحاق صاحب مرحوم کی مسجد میں ایک مرتبہ قرآن پاک سنا رہے تھے، میرے والد صاحب نور اللہ مرقدہ کسی سفر سے واپس تشریف لارہے تھے، حکیم اسحاق صاحب کی بیٹھک میں استراحت فرما رہے تھے، نصیر الدین کا چودھواں پارہ تھا، سامع بار بار لقمہ دے رہا تھا، وہ باوضو تھے، مسجد میں تشریف لے گئے، اور نصیر الدین کے سلام پھیرنے کے بعد مصلے پر سے ہٹا کر سولہ رکعات میں سولہ پارے ختم کردئے، مصلیوں کو تو گراں ضرور ہوئی، مگر لوگوں کو جلد قرآنپاک ختم ہونے کی خوشی مشقت پر غالب ہوا کرتی ہے. بارہویں رات کو قرآن پاک ختم کرکے سب تھکان بھول گئے

بعض اعزہ کے اصرار پر کاندھلہ میں بھی امی بی رحمہا اللہ کے مکان پر اخیر زمانہ میں ایک مرتبہ قرآن سنانے کا حال تو مجھے بھی معلوم ہے، اور وہ اپنی جوانی کا وہ قصہ سنایا کرتے کہ ساری رات نوافل میں قرآن سنانے میں گذرتی تھی، اور چونکہ ہمارے یہاں نوافل میں چار سے زیادہ مقتدیوں کی اجازت نہیں ہوتی تھی، اس لیے مستورات تو بدلتی رہتی تھیں، اور میرے والد مسلسل پڑھتے رہتے تھے. میرے چچا جان حضرت مولانا محمد الیاس نور اللہ مرقدہ نے بھی کئی رمضان المبارک امی بی کی وجہ سے کاندھلہ گذارے، تراویح تقریبا  ساری رات میں پوری ہوتی تھی، مسجد میں فرض پڑھنے کےبعد مکان تشریف لے جاتے تھے، اور سحر تک تراویح میں چودہپندرہ پارے پڑھتے تھے. 

مولانا رؤف الحسن صاحب نور اللہمرقدہ میرے والد صاحب کے حقیقی ماموں اور میری سابقہ اہلیہ مرحومہ کے والد، جن کا مفصل قصہ تو عنقریب تقوی کے مضمون میں آرہا ہے، اس کا یہ جزو یہاں کے مناسب ہے کہ تیس رمضان المبارک کو الف لام میم سے لے کر قل اعوذ برب الفلق تک ایک رکعت میں اور دوسری رکعت میں قل اعوذ برب الناس پڑھ کر سحر کے وقت اپنی والدہ یعنی امی بی سے یہ کہا کہ '' دو رکعات میں نے پڑھا دیں، اٹھارہ آپ پڑھ لیں '' اور ان کی والدہ امی بی نے سارا قرآن کھڑے ہوکر سنا. بات پر بات نکلتی جاتی ہے، مگر یہ واقعات بھی اکابر کے مجاہدات میں داخل ہیں، اس لیے زیادہ بے محل نہیں.) آپ بیتی، جلد دوم، (104 ص

متعدد ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ماں کی خوشی، غم، غصہاور پریشانی جیسے حالات سے پیٹ میں پلنے والا بچہ متاثر ہوتا ہے، اگر ماں ایام حمل میں قرآن کریم پڑھے، یا کثرت سے قرآن کریم سنے، تویقینا یہ ماں کیلے بڑی سعادتندی کی بات ہے، اور بچے کیلے بھی مفید تر ہے، شیخ ڈاکٹر محمد راتبالنابلسی کے بقول "قرآن پڑھنے والی حاملہ ماں کا نومولودقرآن سے تعلق رکھنے والا ہوتا ہے". .

نیز ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ دودھ پیتا بچہ اپنے اطراف کی چیزوںکا اثر لیتا ہے، جبکہ اس کے حواس میں سماعت کی سب سےپہلے شروعات ہوتی ہے، بچہ ایام رضاعت میں مفرد الفاظ کوجمع کرنا شروع کردیتا ہے، اگرچہ وہ ایام رضاعت میں انالفاظ کو ادا نہیں کرسکتا، لیکن یہی مفردات کو وہ بعد میں ادا کرنے پر قادر ہوجاتا ہے، اگر دودھ پلانے والی ماں کو اس عرصے میں قرآن کریم کی سماعت یا بآواز بلندتلاوت کا موقعمیسر آجائے، تو کوئی شک نہیں کہ اس کا یہ عمل بچہ پر بہت زیادہ اثر انداز ہوگا، اور بچے کے لیے حفظ قرآن کریم کرنا آسان ہوگا، چھوٹے بچے اکثر اپنے بڑوں کی حرکات وسکنات نقل کرتے ہیں، اگر بچے کے سامنے ہم لوگ کثرتسے تلاوت قرآن کریم کریں، تو ہمارا یہ عمل بچے کے لیے یقینا محبوب بن جائے گا، اور بعدمیں ہمارا یہی عمل بچہ کے حفظ کرنے میں مددگار ثابتہوگا، مزید یہ کہ تلاوت قرآن کریم کی برکات پورے گھر اور پورے کنبےکے لیے باعث خیرہوگی، یقینا تلاوت کیفضیلتاوراسکےثواب کا ہم انداز ہ نہیں لگا سکتے.

مجھے حضرت مولانا یحیی صاحب رحمہ اللہ کے واقعہ کو بیان کرکے یہ بتلانا ہے کہ ہم لوگ رمضان المبارک میں تلاوت قرآن کریم کرتے ہیں، اگر تلاوت قرآن کریم کرتے ہوئے، ہم لوگ اپنے گہر کے چھوٹے بچوں کو اپنے پاس لٹالیں، اور جو تھوڑے بڑے بچے ہیں، انکو اپنے پاس بٹھالیں، اور ان کے سامنے تجوید کی رعایت کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کریں، تو چھوٹے بچوں پر اس کے عمدہ اثرات مرتب ہونگے، اور بڑے بچے ہماری تلاوت قرآن کریم سن کر پڑھنے کا لہجہ سیکھیں گے، جو بعد میں قرآن کریم کے حفظ میں انکے لیے بھت فائدہ کا باعث ہوگا، اللہ سبحانہ وتعالي ہمیں اپنی اولاد کو قرآن کریم حفظ کروانے کی توفیق عطا فرمائے

آمین ثم آمین یارب العالمین

!!!! رمضان المبارک کیسے گزاریں!!!!

!!!! رمضان المبارک کیسے گزاریں!!!! 


محرر: حضرت مولانا  احمد سعید پالنپوری مدظلہ
استاذ جامعۃ الشیخ حسین احمد المدنی، محلہ خانقاہ دیوبند 
احباب!
 رمضان المبارک کی آمد ہوا چاھتی ہے، گیارہ مہینے مخلوق خدا کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں ہم، ایک مہینہ خالق کیلے خاص کرنا چاہیئے، ہوسکتا ہے کہ آنے والا رمضان ہماری زندگی کا آخری رمضان ہو، یا ہمیں یہ سوچنا چاہیئے کہ یہ رمضان ہمارا آخری رمضان ہے، اس رمضان میں ہی ہمیں نامۂ اعمال میں خوب نیکیاں داخل کرنی ہیں ، اور تمام گناہوں کو نامۂ اعمال سے ختم کرنا ہے، توبہ و استغفار، انابت و رجوع الی اللہ میں اپنا وقت زیادہ سے زیادہ مشغول رکھنا چاہیئے،
 رمضان المبارک میں اپنا نظام الاوقات ترتیب دینا چاہیئے، اس لئے کہ شیطان تو بیڑیوں میں جگڑ دیا جاتا ہے، مگر نفس تو ہمہ وقت ساتھ لگا ہوا ہے، وہ ہماری راہ مارے گا۔
اکابر کے طریقوں کو اگر دیکھیں، تو وہ رمضان المبارک کے مہینہ میں قرآن کریم کی خوب تلاوت کیا کرتے تھے، ہمیں بھی انکے نقش قدم پر چلتے ہوئے تلاوت قرآن کریم کو اپنا مشغلہ بنانا چاہیئے، سب سے پہلے تو یہ سوچیں کہ ہم رمضان المبارک میں کتنا وقت تلاوت قرآن کریم میں صرف کرسکتے ہیں، پھر ان اوقات کو تقسیم کریں کہ ہم ان اوقات میں کتنا قرآن کریم پڑھ سکتے ہیں، روزانہ کا ایک پارہ پکڑ لیں، تمام اوقات میں اسی ایک پارہ کو بیس پچیس مرتبہ پڑھ لیں، اس طرح روزانہ کرتے رھیں، ان شاء اللہ رمضان المبارک کے اختتام پر آپ کے بیس پچیس قرآن کریم ختم ہوجائیں گے۔۔۔۔۔
 ساتھ ساتھ میں چلتے پھرتے ذکر و اذکار میں مشغول رہیں، دکان پر بیٹھے ہوئے یاد خداوندی کو مشغلہ بنائیں، گھر سے مسجد جاتے ہوئے کلمۂ طیبہ کا ورد کریں، مسجد سے گھر آتے ہوئے درود شریف پڑھیں، واٹس ایپ اور فیس بک کے استعمال کو یا تو ختم کردیں، یا محدود کردیں،

ہمارے اکابر رمضان المبارک میں تصنیف و تالیف بند کردیا کرتے تھے، اور ہمہ وقت تلاوت قرآن کریم میں مشغول رہا کرتے تھے،ہمیں بھی انہیں حضرات کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، اپنے وقت کو زیادہ سے زیادہ کار آمد بنانا چاہیئے، اور اکابر کے نقش قدم پر چلنا چاہیئے

دوسری بات………

آنے والے رمضان المبارک کی خیر و برکتیں صرف ہمیں ہی نہیں حاصل کرنی ہے، ہمارے گھر کی مستورات کو بھی اسکا موقع ملنا چاہیئے ، سب سے پہلے تو اپنے گھر کی مستورات کو جمع کرکے شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب رحمہ اللہ کی مشہور و معروف کتاب فضائل رمضان کی تعلیم کرنی چاہیئے، تاکہ ہم میں بھی اور گھر والوں میں بھی شوق و ذوق پیدا ہو۔  پھر گھر کی مستورات کا نظام الاوقات ترتیب دینا چاہیئے، کہ کونسا کام کس وقت انکو کرنا ہے، اور انکو انہیں اوقات میں وہ کام کرنے کا پابند کرنا چاہیئے، خالی اوقات میں انکو تلاوت قرآن کریم میں مشغول کرنا چاہیئے۔
مدارس اور تبلیغ کی برکت سے ہمارا قرآن کریم پڑھنا تو اچھا ہوگیا ہے، مگر ہمارے گھر کی مستورات عموماً قرآن کریم صحیح نہیں پڑھا کرتی، تجوید کے قواعد سے ناواقفیت کی بناء پر، لہذا  ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم انکا قرآن کریم صحیح کریں، تجوید کے ہلکے پہلکے قواعد بتاکر انکی تلاوت کو صحیح کرنے کی کوشش کریں، ہم لوگ رمضان المبارک میں گھر کی مستورات پر کام کی بہتات کردیتے ہیں، ایک ایک دن میں کئی کئی قسم کے پکوان بنواتے ہیں، یہ بھی مناسب نہیں ہے، گرمی کا موسم ہے، چولہے کی گرمی بھی ہے، اور وہ روزے سے بھی ہیں، خدارا ان پر رحم کریں، طرح طرح کے پکون نہ بنوائیں، سادا کھانا پکوائیں، پیٹ کیلے تلی ہوئی چیزیں نقصاندہ بھی ہوتی ہیں،سادہ پکوائیں گے، اور سادہ کھائیں گے تو انکو بھی آرام کا وقت ملےگا، اور نظام ہضم بھی صحیح رہے گا، کبھی کبھی خود بھی گھریلو کاموں میں حصہ لیں، تاکہ انکا کام جلدی ختم ہوجائے، تلاوت کرتے ہوئے اگر ہم آلو پیاز چھیل دیں، تو اس سے ہم جورو کے غلام نہیں بن جائیں گے، بلکہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والے کہلائیں گے، گھر کی مستورات کو اس کا بھی پابند کریں کہ وہ گھریلو کام کرتے ہوئے ذکر و ازکار میں مشغول رہیں،، اور کام کرتی رہیں، سبزی کاٹتے ہوئے استغفار پڑھیں، آٹا گوندھتے ہوئے، اور روٹی بناتے ہوئے جو سورتیں زبانی یاد ہیں انکی تلاوت کرتی رہیں، سالن بناتے ہوئے اللہ اللہ کھتی رہیں۔

 ان شاء اللہ اگر ہم لوگ اس طریقے سے رمضان المبارک گزارنے کی ترتیب بنالیں، تو یہ ہمارے، اور ہمارے گھر والوں کیلے بہت بہتر رہے گا۔
 اللہ سبحانہ وتعاليٰ ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے   ۔ آمین ثم آمین یارب العالمین

!!! انجکشن!!!


!!!    انجکشن            !!! 

بچہ شرارت کر رہا ہو.... کھانا کھانے میں آنا کانی کر رہا ہو...... چاکلیٹ ' آئسکریم و دیگر باہری دوکان کی چیزیں ذیادہ کھا رہا ہو...... تو اس کو ڈرانے کے لئے اکثر لوگ یہ فارمولا استعمال کرتے ہیں کہ..... شرارت نہ کرو.... کھانا کھاؤ.... چاکلیٹ کم کھاؤ.... ورنہ ڈاکٹر انجکشن مارے گا...

یہ.بہترین فارمولا ہے کہ ذیادہ تر بچے انجکشن سے خوف محسوس کرتے ہیں اور فوراً بات مان لیتے ہیں.. وقتی طور پر ہی کیوں نا سہی!!! 



خیر... یہ تو بچوں کی اور ہم سب کے بچپن کی بات ہوئی... مگر انجکشن کا خوف تو بڑے ہونے پر بھی پیچھا نہیں.چھوڑتا ....پرائمری اسکول .. جماعت پنجم و ششم میں تو عمر کا. گیارہواں - بارھواں سال ہوتا ہے.. اس وقت بھی انجکشن کا خوف اپنے پورے شباب پر ہوتا ہے.....


مجھے یاد ہے.... اور اچھی طرح یاد ہے کہ جماعت ششم میں اسکول میں سرکار کی جانب سے ایک انجکشن لگوایا جاتا تھا ( کس لئے تھا / کیا فائدہ تھا اس کا..... ذرّا برابر بھی علم نہیں...... استاد و ہیڈ ماسٹر صاحب کا حکم تھا.. تو لینا لازمی تھا ) ہم تو ہمت جٹا کے جیسے تیسے لے لیتے تھے... مگر کچھ ہم جماعت طلباء ایسے تھے کہ جب اسکول میں یہ انجکشن والے اپنے سازوسامان اور ہتھیارات کے ساتھ آتے.. .. تو ....کچھ تو اس دن ڈانڈی مار دیتے اور ..... کچھ تو آدھے دن کے بعد غائب..

گیارہ بارہ. سال.... یعنی کہ.... آپ ... ابھی تک بچہ ہی کہیں گی. آپ.... کہیئے جناب.... بالکل کہیئے....کس نے روکا ہے آپ کو....

لیکن میں نے ایسے احباب بھی دیکھیں ہیں جو خوب موٹے تازے.. بچے نہیں...... جوان ہیں جوان... اور ان کے دو دو بچے ہیں.... مگر انجکشن کے نام سے اب بھی پسینے چھوٹ جاتے ہیں انہیں...

جانے دو بھائی....... کاہے کو دوسروں کے پول کھولنے کا.... اپنے ہی گریبان میں جھانکتے ہیں........خود کی ہی بات کرتے ہیں...
علامہ صاحب نے کہا ہے نا..

دُھن رے دُھن  ۔ ۔ ۔ ۔یہ اپنی دُھن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


آپ بالکل غلط سمجھ رہے ہیں...... ہاں میں اپنی ہی بات کرنے جا رہا ہوں... مگر یہ واضح کر دو کہ انجکشن سے میں نہیں ڈرتا... ( ہاں چند ایسے طبیبوں سے واسطہ ضرور پڑا ہے جو انجکشن ایسی بے دردی سے مارتے ہیں...... مانو کسی بات کا بدلہ لے رہے ہوں ( اس کے برعکس بہت سے طبیب اتنے باکمال ہوتے ہیں کہ کب انجکشن کی سوئی گھسیڑ کے باہر نکالی...... بالکل احساس ہی نہیں ہوتا

خیر... میں اصل مدعا پر آنے کی کوشش کرتا ہوں...ہاں تو بات یہ چل رہی تھی کہ انجکشن سے بڑے لوگ بھی خوف محسوس کرتے ہیں... اور اس میں شرمندگی کی کوئی بات نہیں... یہ تو ایک فطری امر ہے .... اب سوال یہ ہے کہ اس سے کیسے بچا جائے اور اس خوف پر قابو پانے کا کیا طریقہ ہو سکتا ہے....

ہاں ہاں .....اس کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہوں گیں... مگر جو طریقہ میں اپناتا ہوں .... بس مجھے وہی بیان کرنا ہے.... اور وہ یہ ہے کہ.. جب بھی انجکشن لینے کا موقع یا ایسا کوئی اور موقع ( آپریشن وغیرہ) سے میرا واسطہ پڑتا ہے تو..... اس وقت میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے جنگی معرکوں کو یاد کرتا ہوں کہ اللہ کے دین کے لئے انہوں نے اپنی جان کی کیسی قربانی پیش کی...... اور جب ان واقعات کا تصور کرتا ہوں.... تو.. انجکشن ہو یا آپریشن...... سب کا سب خوف خود بخود ختم ہو جاتا ہے اور سب سہل معلوم لگنے لگتا ہے...

ہو سکتا ہے کسی کو میرے طریقہ سے تھوڑا بہت فائدہ پہنچے...( اور امید ہے کہ ضرور پہنچے گا  )  نہیں تو...... دیوانے کی بڑ سمجھ کے چھوڑ دیجئے گا ..... (اور وقت کی بربادی کے لئے معذرت چاہوں گا... )

طالب دعا....
نون میم - نور محمد ابن بشیر
8
مئی 2015


مدح رسول ﷺ _ مرا رہنما کوئی اور ہے . . . .

مدح رسول

مجھے اب نہ روکو مسافرو' مرا راستہ کوئی اور ہے 

نہ بھٹک سکوں نہ بہک سکوں' مرا رہنما کوئی اور ہے

مجھے تیرے جام کی کیا خبر' نہیں مے کدے کا ہے کچھ پتہ
مری تشنگی نہ یوں بجھ سکے' مرا ساقیا کوئی اور ہے 

مجھے دید ہو تری مصطفی' مجھے بھی نصیب یہ عید ہو
مری جاں مدینہ میں قبض ہو' نہیں التجا کوئی اور ہے

مجھے زلزلوں سے ہو خوف کیوں' مجھے کیا ڈرائیں یہ آندھیا ں 
ہوئیں دور دل سے یہ وحشتیں' کہ یہ ماجرا کوئی اور ہے 

تجھے نوؔر  کیوں نہ غرور ہو' کرے ناز کیوں نہ تو آپ پہ
ترا       قلب       تو       ہے      محمدی '    نہیں     ماسوا      کوئی       اور       ہے


کاوش    : نوؔرمحمد ابن بشیر (نون میم )


رومن اردو کے نقصانات

رومن اردو کے نقصانات
)
ایک عزیز دوست کے سوال کا جواب(

محترم دوستو! مضمون ذرا تفصیلی ہے؛ لیکن گزارش ہے کہ ضرور پڑھیں:
سوال:
اکرام بھائی! آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ جس زبان میں ٹائپ کرنا چاہتے ہو کیجئے، دوسروں پر کیوں روتے ہو؟ اس طرح توڑنے والی باتیں کرکے فائدہ کیا ہے؟
ایک اردو کو لیکر اس طرح ہوا کھڑا کیا جارہا جیسے بروز قیامت یہی سوال سب سے پہلے ہوگا، اگر رومن استعمال کرنا شرعی نقطہ نظر سے غلط ہو تو بتائیے؟
)یہ سوال بھی رومن میں تھا جس کو اردو رسم الخط میں کنورٹ کیا گیا ہے۔  (

جواب:
بھائی صاحب! آپ بھی نا کمال کے آدمی ہو، اردو رسم الخط میں لکھنے اور رومن اردو میں نہ لکھنے کی باتیں آپ کو دل توڑنے والی لگتی ہیں، اور آپ اس موضوع کو قبر، حشر کا مسئلہ بنانے پہ تُلے ہو،بات کو کہاں سے کہاں لے جارہے ہو جناب؟ کچھ باتوں پہ مثبت پہلوں سے بجی غور کیا کیجیے، ہم نے کب کہا کہ رومن استعمال کرنا شرعی نقطہٴ نظر سے جائز نہیں ہے، ہر چیز کا تعلق شرعی اصولوں اور اسلامی قوانین سے نہیں ہوتا، کچھ باتیں ہماری اپنی تہذیب و ثقافت اور اپنے کلچر سے جڑی ہوتی ہیں، اردو ہماری تہذیب کی آئینہ دار ہے، اس زبان کی اور اس کے رسم الخط کی حفاظت بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے،
مشہور نقاد اور مبصر ڈاکٹر تقی عابدی کا کہنا ہے کہ "رسم الخط اور زبان کا معاملہ عوام، خواص، لسانیات کے ماہرین اور علما و فضلا سے بھی ہے، یہ کہا جا تا ہے کہ رسم الخط لباس کے مانند ہے جسے بدلنے میں کو ئی قباحت نہیں مگر یہ لباس نہیں؛ یہ تو جلد اور جسم کی چمڑی ہے جسے اتار دیا جائے تو زندگی کی ولادت ختم ہوجائے گی"
اس اردو رسم الخط کو چھوڑ کر رومن کو رواج دینے اور استعمال کرنے کا صاف مطلب یہ ہے کہ اردو زبان بالخصوص اکابرین و اسلاف کے اس انتہائی اہم، قیمتی اور تاریخی ورثے سے اگلی نسلوں کو محروم کردیا جائے جو کتابی اور مطبوعاتی شکل میں اب تک محفوظ رہا ہے، اردو کا اپنا ایک مخصوص لب و لہجہ اور صوتیاتی تلفظ ہے، اگر یہ زبان اردو رسم الخط کے بجائے رومن میں استعمال ہونی شروع ہوجائے تو آہستہ آہستہ تلفظ بھی بدلنے لگے گا پھر تو اردو کی شناخت ہی ختم ہوجائے گی،
ذرا سوچیے کہ غبن کو "گبن" خیر کو "کھیر" پھر کو "فر" خودی کو "کھدی" بعد کو "بیڈ" کہتے ہوئے کیا آپ کو لگے گا آپ اردو بول رہے ہو؟ اسی لیے کہا جاتا ہے: اردو کا اپنا ہی مزه ہے، رومن میں اردو لکھنا ایسا ہی ہے کہ جیسے جینز کی پتلون پہن کر شٹل کاک برقعہ( وہ جالی دار برقعہ جو پاکستان کے سرحدی علاقوں اور ہمارے ہاں یوپی وغیرہ کے بعض دیہاتوں میں سن رسیدہ عورتیں استعمال کرتی ہیں )اوڑھنے کی چالاکی کی جائے،
اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں
ہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے
قضا سمجھ کے راتوں کو جاگ لیتا ہوں
تیرا ذکر جب دن میں چھوٹ جاتا ہے
پہلے شعر کے دونوں مصرعوں میں قدم کو "کدم" دوسرے شعر کے پہلے مصرع میں قضاء کو "کضا"، لیتا کو "لیٹا" اور دوسرے مصرع میں چھوٹ کو کیسے لکھا اور پڑھا جاسکتا ہے ہم سب بہتر سمجھ سکتے ہیں،
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اور ہم جیسے مسلمان جو تھوڑا بہت قرآن مجید کو عربی لہجے میں پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں نا میری نظر میں وہ بھی اردو زبان کی دین ہے کہ اردو میں عربی زبان کے الفاظ بہ کثرت استعمال ہوتے ہیں،
یوں بچپن ہی سے ہمارے کان ان الفاظ سے مانوس ہوجاتے ہیں، اب اگر رومن کی عادت بنا لی جائے تو ہم قرآن مجید بھی رومن ہی میں پڑھنے لگیں گے( صد افسوس کہ بعض کتب خانوں نے رومن میں قرآن پاک کی اشاعت بھی کردی ہے) پھر پہلے ہی سورہ میں عالمین آلمین، نعبد نابد، اور غیر گیر ہوجائے گا،
آج آپ کے سوال نے ان باتوں کو کاغذ پہ انڈیلنے پر مجبور کردیا جو رومن اردو کی قباحت کے سلسلے میں کئی دنوں سے ذہن میں تھیں، بہت بہت شکریہ۔
اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سرِ عام رکھ دیا۔
اکرام الحسن مبشر

رومن اردو کی قباحت اور اردو زبان کو اس سے لاحق خطرات و نقصانات کی مزید تفصیل جاننے کے لیے وقت ملے تو درج ذیل لنکس پر وزٹ کریں ۔

 

بلاگر پر نیا بلاگ بنانا

بلاگر پر نیا بلاگ بنانا

کئی دوست و احباب بار بار اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ بھائی  ۔ ۔ ہم کو بھی بتا دو کہ بلاگ کیسے بنایا  جاتا ہے ؟ ؟ ؟  
پہلے سوچا کہ اس بارے میں ایک تحریر لکھ دو مگر بعد میں سستی غالب آ گئی اور  اپنا شاطر دماغ کہنے لگا کہ ۔ ۔ ۔  کاہے کو اتنی مغز ماری کرنے کا۔ ۔ ۔   اس پر پرانی تحریر یں پہلے سے ہی موجود ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہی ڈھونڈو ۔ ۔ ۔ 

بس ۔ ۔ ۔ وہی پرانی تحریرجس نے ہم کو راہ دکھائی تھی  ۔ ۔ ۔ ۔ وہی ڈھونڈ نکالی  ۔ ۔ ۔ ۔اور اپنے بلاگ پر چڑھا دیا  ۔ ۔ 

نو ٹ : اپنے بلاگ پر اس لئے چڑھا دیا کہ  آڑے وقت کام آ سکے  اور ڈھونڈنے کی کی نوبت نہ آئے ۔ 


بلاگ اردوٹوٹر کا میں اس تحریر کے لئے دل سے مشکور و ممنون ہوں !!!-
- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - 


جب آپ بلاگر کی سائٹ پر اپنا  Gmail  کا اکاونٹ لگا کر سائن اِن ہوتے ہیں تو نئی کھُلنے والی ونڈو 
 میں   "Create Your Blog Now " کا میسج لکھا ہوا نظر آتا ہے ۔
 آپ بلاگ شروع کرنے کے لیے  اسی ونڈو میں رہتے ہوئے ، اس  میسج سے تھوڑا سا آگے"New Blog " پر کلِک کریں۔
اس کاروائی کے لیے نیچے دی گئی تصویر ملاحظہ فرمائیں۔


Make your own Blog

اب ایک نئی ونڈو کھُل آئے گی جس میں آپ نے اپنے بلاگ کا نام بنانا ہے 
نام بنانے کے بعد نیچے والی لائن میں آپ نے اپنے بلاگ کا ایڈریس (یو۔آر۔ایل) بناناہے۔ 

Creation of Blog Title 




آپ نے اپنے  بلاگ کا نام یا ٹائٹل اور ایڈریس  کامیابی سے بنا لیا ہے اب "Create Blog " پر کِلک کریں ۔لیجیئے آپ کے بلاگ کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ۔  ۔  ایک نئی ونڈو کُھل آئے گی جس میں آپ کو بتایا جائے گا کہ آپ کا بلاگ بن گیا ہے۔!!!!



Completion of Blog Window




Buttons Image




قارئین ِ کرام آپ کو اس ونڈو میں کچھ نئے بٹن نظر آ رہے ہوں گے ان کے مختلف فنکشن ہیں اگرچہ یہ بہت آسان ہیں اور ان پر کِلک کرنے سے ان کے فنکشن کا علم ہو جاتا ہے لیکن پھر بھی ہم آپ کی آسانی کے لیے ان کے فنکشن آپ کو بتا دیتے ہیں۔

بٹنز یا آئیکنز کی تفصیل
بلاگر نے مختلف فنکشنز کے لیے مختلف قسم کے بٹنز یا آئیکنز بنا دیے ہیں جن کی مدد سے ہم آسانی سے بلاگ میں مختلف کام سر انجام دیتے ہیں۔ اُوپر دی گئی تصویر میں جو بٹنز نمبر وائز دکھائے گئے ہیں ہم ان کے فنکشنز یہاں بیان کرتے ہیں۔

نمبر 1 ۔ پنسل  نما یہ بٹن بلاگ میں نئی پوسٹ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔جب آپ اس پر کلک کرتے ہیں تو نیو پوسٹ کے لیے آپ کے سامنے ایک نئی ونڈو کھُلتی ہے جس میں آپ نئی پوسٹ کا ٹائٹل وغیرہ دے کر اس کا مواد لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔

نمبر 2۔یہ بٹن بلاگ میں موجود  تمام پوسٹوں کی فہرست ظاہر کرتا ہے ۔ اور اس فہرست میں بلاگ کی پوسٹ کے ساتھ ساتھ اس پوسٹ کو ملاحظہ کرنے، اس میں کسی قسم کی تبدیلی کرنے  اور اسے "گوگل پلَس پر شئیراور اس پوسٹ کو ڈیلیٹ یعنی کہ ہمیشہ کے لیے ختم  کرنے کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔

نمبر3۔ یہ بٹن بلاگ کو ملاحظہ کرنے کا کام سر انجام دیتا ہے۔ جب آپ اس پر کلِک کرتے ہیں تو ایک نئی ونڈو میں آپ کا بلاگ کھُل کر آپ کے سامنے آ جاتا ہے۔

نمبر 4۔ یہ بٹن  جیسا کہ نام سے ظاہر ہے " New Blog " یہ نیا بلاگ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

نمبر 5۔ یہ بٹن موجودہ بلاگ میں پہلی پوسٹ بنانے کا  فریضہ سر انجام دیتا ہے۔

نمبر6۔ جب آپ یہاں کلِک کرتے ہیں تو یہ بٹن اوجھل ہو جاتا ہے ، جس کا مطلب ہے کہ آپ ابھی بلاگ میں کچھ نہیں کرنا چاہتے، یہ بار بار آپ کو نظر نہیں آتا صرف نیا بلاگ بنانے پر نظر آتا ہے۔ 

نمبر7 ۔ More Options نام کے اس  مینیو میں مختلف فنکشنزکے بٹن اور سب مینیوز ہیں۔ اس سے بلاگ کی تمام سیٹنگ کی جاتی ہے اس کی تفصیل ہم اگلی پوسٹ میں کریں گے۔

=========================================================



بلاگر ٹِپ



جب کسی بلاگ میں نئی پوسٹ شائع ہوتی ہے تو پُرانی پوسٹ ظاہر نہیں ہوتی۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اب آپ کو پُرانی والی پوسٹ کبھی نظر نہیں آئے گی، نہیں بلکہ ایک وقت میں چونکہ ایک ہی پوسٹ ظاہر ہو سکتی ہے اس لیے اگر آپ نئی یا پُرانی پوسٹ ملاحظہ کرنا چاہتے ہوں تو بلاگ کے آخر میں (Footer Area)  میں جا کر" Older Posts" یا "Newer Posts " پر کلک کر کے اپنی مطلوبہ پوسٹ کو ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ (تصویر ملاحظہ فرمائیں)


Navigation Between Older and Newer Posts

جب آپ اس بلاگ پر کوئی نئی پوسٹ بنائیں گے تو بلاگ کا ٹائٹل اور ایڈریس یہی رہے گالیکن نئی پوسٹ کا ٹائٹل آپ کو دوبارہ بنانا پڑے گا جو کہ اس پوسٹ کے مواد کے مطابق ہو گا لیکن بلاگ  کے” Main Subject " یا موضوع  کے مطابق ہو گا۔ مثال کے طور پر ہم نے اپنے  بلاگ کا نام"Gents Fashion  " رکھا ہے تو ہم  اس میں پوسٹ کا نام"Fashion 2014 " رکھ لیں گے۔

ابھی چونکہ ہم نے اپنے بلاگ کا صرف ایک ڈھانچہ بنایا ہے اور اس کو ایک مرکزی موضوع دیا ہے اور اس موضوع کو اب ہم Categorize  کریں گے۔"جینٹس فیشن" مرکزی کیٹگری ہے جبکہ " فیشن 2014 " اس کی "سب کیٹگری " ہے اور  اسی طرح ہم ہر نئی پوسٹ میں اس کی "سب کیٹگریز " میں سے کسی کیٹگری پر مشتمل مواد شائع کرتے رہیں گے۔اس سے ہمارے بلاگ کا توازن برقرار رہے گا اور پڑھنے والے کو ایک اچھا تاثر ملے گا۔

اگر ہم نے اپنے مرکزی موضوع، اپنی مرکزی کیٹگری "جینٹس فیشن" کےعلاوہ کسی اور موضوع پر مواد شائع کیا تو اس سے ہمارے بلاگ کا توازن بگڑ جائے گااور اس سے نہ صرف ایک قاری کو  ہمارا بلاگ پسند نہیں آئے گا بلکہ سرچ انجنز بھی ہمارے بلاگ کو اہمیت نہیں دیں  گے۔اور ہمارا بلاگ مقبولیت حاصل نہیں کر سکے گا۔

اس مثال سے یہاں ایک اور بات  واضع ہو جاتی ہے ،جس کو ذہن نشین کر لینا چاہیے  کہ ہمیں بلاگ کا "مرکزی موضوع" انتہائی سوچ سمجھ سے چُننا چاہیے تا کہ ہم آگے چل کر کسی موقع پر مواد کی کمی کی وجہ سے بلاک نہ ہو جائیں۔  اگر ہم اپنے بلاگ کا مرکزی موضوع "جینٹس فیشن "  کو صرف جینٹس کے فیشن تک محدود نہ کر لیتے اور کوئی ایسا موضوع  چُن لیتے جس میں  لیڈیز فیشن پر بھی مواد شائع ہو سکتا تو اس سے ہمیں آنے والی پوسٹوں کے لیے لا محدود مواد  مل سکتا تھا۔ 

موضوع کے چُناؤ کا انحصار  بلاگ کا ٹائٹل یا نام رکھتے وقت بلاگنگ پلیٹ فارم کے نیٹ ورک پر ہمارے متعلقہ موضوع  اور ہمارے سوچے ہوئے نام یا ٹائٹل  کے مطابق بلاگ کے ایڈریس کی فراہمی پر بھی ہے  ۔ چُونکہ بلاگنگ ایک فرِی سروس ہے اس لیے تمام دُنیا سے لاکھوں لوگ بلاگز بنا رہے ہوتے ہیں اور اکثر آسان موضوعات پر بلاگ بن چُکے ہوتے ہیں ۔اس لیے بلاگ کا نام یا ٹائٹل بناتے وقت کافی محنت کرنا ہوتی ہے۔اور ہمیں اپنے سوچے ہوئے ٹائٹل یا نام کی نسبت سے بلاگ کے" ایڈریس" کے  نیٹ ورک پرAvailable  نہ ہونے کی وجہ سے بسا اوقات خاصی ترمیم کرنی پڑتی ہے اور یہی وقت انتہائی سوچ سمجھ سے کام لینے کا ہوتا ہے۔



<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.