September 2014
ممبراکی سڑکوں پر سیاسی جلوس کی اجازت نہیں !!!
Thursday, 25 September 2014 noor آس پاس - مقامی, سیاست 0
کاش میرا والد مجهے مارتا اور سزا دیتا ۔ ۔ ۔
Saturday, 20 September 2014 noor فیس بک, قابل غور 0
ریاض شہر کے ایک سیکنڈری سکول کا ہیڈ ماسٹر کہتا ہے:
ایک دن جب میں سکول پہنچا تو کیا دیکهتا ہوں کہ کسی نے سکول کی ساری بیرونی دیواروں کو انتہائی بے دردی سے سپرے پینٹ کے ساتھ خرافات لکھ کر اور گندے نقش و نگار بنا کر خراب کر ڈالا ہے.
میرے سکول کیلئے یہ پہلا اور افسوسناک واقعہ تها. میں نے سکول جا کچھ سٹاف کے ذمہ لگایا کہ اس حرکت کرنے والے بچے کا پتہ چلائیں. حاضر و غائب کا ریکارڈ دیکهنے اور چند بچوں سے پوچھ گچھ کے بعد ہمیں ایک لڑکے کے بارے میں پتہ چل گیا جس نے یہ حرکت کی تهی.
اسی دن میں نے اس لڑکے کے والد کو فون کر کے کہا میں آپ سے ملنا چاہونگا، کل آپ سکول تشریف لائیں.
دوسرے دن جب لڑکے کا باپ آیا تو میں نے اس سے سارا قصہ کہہ ڈالا. باپ نے اپنا بیٹا بلوانے کیلئے کہا. بیٹے کے آنے کے بعد اس نے بڑے دهیمے سے لہجے میں اس سے تصدیق کی. لڑکے نے اعتراق کیا تو باپ نے وہیں بیٹهے بیٹهے ایک رنگساز کو فون کر کے بلایا، دیواروں کو پہلے جیسا رنگ کرنے کی بات کی. مجھ سے اپنے بیٹے کے رویے کی معافی مانگی، اجازت لیکر اٹها اور اپنے بیٹے کے سر پر شفقت سے پیار کیا اور دهیمی سی آواز میں اسے کہا: بیٹے اگر میرا سر اونچا نہیں کر سکتے تو کوئی ایسا کام تو نا کرو جس سے میرا سر نیچا ہو اور یہ کہتے ہوئے چلا گیا.
میں نے دیکها کہ لڑکے نے اپنا منہ اپنے دونوں ہاتهوں میں چهپا لیا تها، واضح دکهائی دے رہا تها کہ وہ رو رہا ہے.
مجهے بہت حیرت ہو رہی تهی کہ لڑکے کے باپ نے کیا خوب نفسیاتی طریقہ اپنایا تها. اس کی چهوٹی سی بات نے جو کام کر دکهایا تها ویسا نتیجہ تو مار پیٹ سے بهی نا حاصل ہو پاتا.
میں نے دیکها کہ لڑکے نے اپنا منہ اپنے دونوں ہاتهوں میں چهپا لیا تها، واضح دکهائی دے رہا تها کہ وہ رو رہا ہے.
مجهے بہت حیرت ہو رہی تهی کہ لڑکے کے باپ نے کیا خوب نفسیاتی طریقہ اپنایا تها. اس کی چهوٹی سی بات نے جو کام کر دکهایا تها ویسا نتیجہ تو مار پیٹ سے بهی نا حاصل ہو پاتا.
میں نے لڑکے کے تاثرات دیکهنے کیلئے اس سے پوچها: بچے، تیرا باپ بہت شفیق اور محترم انسان ہے، اور اس نے تجهے کوئی خاص سرزنش بهی نہیں کی، پهر تجهے کس بات پر رونا آرہا ہے؟
لڑکے نے کہا: سر، اسی بات پہ تو رونا آ رہا ہے کہ کاش میرا والد مجهے مارتا اور سزا دیتا مگر ایسی بات نا کہتا.
لڑکے نے مجھ سے معذرت کی اور اجازت لیکر چلا گیا.
پهر میں نے دیکها کہ اس بچے نے میرے سکول میں اعلیٰ کارکردگی دکهائی.
لڑکے نے کہا: سر، اسی بات پہ تو رونا آ رہا ہے کہ کاش میرا والد مجهے مارتا اور سزا دیتا مگر ایسی بات نا کہتا.
لڑکے نے مجھ سے معذرت کی اور اجازت لیکر چلا گیا.
پهر میں نے دیکها کہ اس بچے نے میرے سکول میں اعلیٰ کارکردگی دکهائی.
ایک اسکول ٹیچر کا محبت نامہ : حنیف سمانا
Saturday, 6 September 2014 noor خطوط, ذرا مسکرائیے, طنز و مزاح, متفرقات 0
ایک اسکول ٹیچر کا محبت
نامہ : حنیف سمانا
مائی ڈئیر تاج الدین،
سلامِ محٌبت،
سلامِ محٌبت،
تمھارا اِملے کی غلطیوں
سے بھرپور مراسلہ مِلا، جسے تم بدقسمتی سے "محٌبت نامہ" کہتے ہو ۔ کوئی مسٌرت نہیں ہوئی ۔
یہ
خط بھی تمھارا پچھلے خطوط کی طرحبےترتیب اور بےڈھنگا تھا۔ اگر خود صحیح نہیں لکھ سکتے تو کسی سے لِکھوا لیا کرو۔
خط
سے آدھی ملاقات ہوتی ہے اور تم سے یہ آدھی ملاقات بھی اِس قدر دردناک ہوتی ہے کہ
بس!
اور ہاں.... یہ جو تم نے میری شان میں قصیدہ
لِکھا ہے ، یہ دراصل قصیدہ نہیں بلکہ ایک
فلمی گانا ہے اور تمھارے شاید عِلم میں نہیں کہ فِلم میں یہ گانا ھیرو اپنی ماں کے
لئے گاتا ہے ۔
اور سُنو! پان کم کھایا
کرو۔
خط میں جگہ جگہ پان کے دھبے صاف نظر
آتے ھیں۔ اگر پان نہیں چھوڑ سکتے تو کم از کم خط لکھتے وقت توہاتھ دھوکے بیٹھا
کرو۔
اور یہ جو تم نے ملاقات
کی خواھِش کا اظِہار انتہائی اِحمقانہ انداز میں کیا ھے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے کوئی
یتیم بچہ اپنی ظالِم سوتیلی ماں سے ٹوفی کی فرمائش کر رھا ھو، اس یقین کہ ساتھ کہ
وہ اِسے نہیں دےگی۔
ایک بات تم سے اور کہنی
تھی کہ کم از کم اپنا نام تو صحیح لکھا کرو۔ یہ "تاجو" کیا ھوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے کسی قصائی یا دودھ والے
کا نام ھو۔ مخفٌف لِکھنا ہی ہے تو صِرف "تاج" لِکھدو۔
آئندہ خط احتیاط سے
لِکھنا۔ اُس میں کوئی غلطی نہیں ھونی چاہیے۔ آخر میں تم نے جو شعر لِکھا ہے.. وہ
تو اب رکشہ والو نے لکھنا بھی چھوڑ دیا ہے۔
Oh my God!
مجھے ڈر ہے کہ تم سے
عشق کا یہ سلسلہ میری اردو خراب نہ کر دے۔
بس یہی کہنا تھا۔
بس یہی کہنا تھا۔
فقط
تمھاری رضیہ
تمھاری رضیہ
اہل پاکستان کو مبارک ہو !!!
Friday, 5 September 2014 noor پاکستان, حالات حاضرہ 0
وہ دور گیا جب دوسرے
ممالک کی کرکٹ ٹیمیں پاک کا دورہ منسوخ کرتی تھیں ۔ ۔
اب تو پاک نے ترقی کی ہے ۔ ۔ ۔
اب تو . . .
دوسرے ممالک کے صدور اپنے دورے منسوخ کرتے ہیں ۔ ۔
مبارک ہو ۔ ۔ ۔ !!!
اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
Powered by Blogger.
Featured post
ابنِ ثابتؓ کی زباں مجھ کو میسر کر دے : طرحی نعت پاک
مرے مولا، مری قسمت کو تو، خوشتر کردے "مجھ کو سرکار کا دیدارمیسرّ کردے" مدتیں بیت گئیں آس لگائے بیٹھے شہرِ بطحا کا سفر اب تو ...
الیوم . . .
آن لائن
بلاگر حلقہ احباب
آمدو رفت
286008
موضوعات
- #چاہت_محمد_قریشی_قاسمی (1)
- blog (1)
- CartOOns - کارٹون (1)
- آس پاس - مقامی (2)
- آمنہ کا لال (1)
- آہ ۔ ۔ ۔ (32)
- اخلاق (4)
- اردو اور موبائیل (3)
- اسامہ' بن لادن (1)
- اسکول کالج (1)
- اسلامی مضامین (47)
- اصولِ شاعری (1)
- اعلانات (4)
- اقتباسات (3)
- اکابرین - سلف صالحین (1)
- الرحیق المختوم (1)
- الیکشن (2)
- امت مسلمہ (25)
- انتقال پرملال (2)
- اورنگ زیب عالمگیر (2)
- اولیاء اکرام (1)
- بابری مسجد (1)
- بکھرے موتی (3)
- بلاگ (2)
- پاکستان (8)
- پیر ذوالفقار احمد نقشبندی (1)
- تاریخ (1)
- تاریخی مقامات (2)
- تربیتِ اطفال (1)
- تصاویر (2)
- تعلیم و تربیت (1)
- تقاریر (1)
- تلاش (1)
- ٹوٹکے (1)
- حالات حاضرہ (39)
- حج و عمرہ (2)
- حسن و اخلاق (1)
- حقوق نسواں (1)
- حکایات (2)
- خالد سیف اللہ رحمانی (1)
- خبریں (13)
- خطوط (1)
- خیال سومیشوری (6)
- دارالعلوم دیوبند (9)
- دعا و اذکار (9)
- دعوت و تبلیغ (1)
- دفع سحر- جادو (1)
- دوٹوک (5)
- ذرا مسکرائیے (13)
- ذہنی آزمائش (2)
- راہی حجازی (2)
- رد غیر مقلدیت (3)
- رَدِ غَیر مُقلّدِیَت (1)
- رمضان (1)
- رومن اردو (1)
- زیارات (2)
- سائنس (1)
- سردار (1)
- سیاست (5)
- سیو اردو (2)
- شخصیات (4)
- شعر و شاعری (37)
- شیخ محمد ایوب برمیؒ (1)
- صحابہ اکرام (1)
- صوفیانہ کلام (1)
- ضربِ کلیم (1)
- طب و صحت (4)
- طنز و مزاح (5)
- علاج - دوا - مرض - شفا (1)
- علمائے دیوبند (5)
- غزل (7)
- فلسطین (7)
- فیس بک (7)
- قابل غور (8)
- قرآن مجید (4)
- قلم ِ نور (12)
- قوانین (1)
- کرکٹ (4)
- کمپوٹر ' سافٹ ویر (4)
- کھیل کھلاڑی (2)
- کوکن ریلوے (1)
- گجرات (1)
- گستاخی معاف (20)
- لبیک (1)
- متفرقات (49)
- مدارس ، (4)
- مدد - Help (2)
- مسائل - فتاوی (11)
- مسجد نبوی (1)
- مسلمانان عالم (4)
- مسلمانان ہند (8)
- معمار حرم (1)
- مفتی تقی عثمانی (9)
- مفتی سعید احمد پالنپوری (1)
- ممبرا (1)
- منظر بھوپالی (1)
- مولانا احمد سعید پالنپوری (2)
- مولانا حسین احمد مدنی (1)
- مولانا سعید احمد خان صاحب (1)
- مولانا طارق جمیل (3)
- مولانا عادل سعیدی (3)
- مولانا یونس پالنپوری (1)
- میڈیا (1)
- میرے قلم سے (11)
- میلاد النبی (1)
- نئی پوسٹ (1)
- ناقابل یقین (1)
- نسخے (1)
- نسیم ہدایت کے جھونکے (8)
- نعت پاک (1)
- نعت پاک، (8)
- نون میم (24)
- واٹس آپ !! (1)
- وطن ِ عزیز (7)
ایک نظر ۔ ۔ ۔ ۔
کون کہاں سے؟
Recent Comments : تبصرے
Get this Recent Comments Widget
دوست بلاگران
-
-
-
-
-
-
دیرپا خوشی کیسے حاصل کریں؟4 months ago
-
رتن ٹاٹا: ایک عظیم صنعتکار کا سفر5 months ago
-
-
-
-
طالبان سے امن معاہدہ5 years ago
-
-
ایران مشاہدات وتاثرات5 years ago
-
DOMAIN FOR SALE!5 years ago
-
چار 4 بت ؟ ؟ ؟ ؟۔5 years ago
-
مناجات - الٰہی دل کو کوہِ طور کردے7 years ago
-
چوسر(چار)7 years ago
-
Review: Yalghaar7 years ago
-
-
-
اُس راہ پر8 years ago
-
-
عابد کی سال گرہ کا احوال8 years ago
-
قدرت، معاشرہ اور صنفی امتیاز8 years ago
-
بھگوان انسان کے روپ میں9 years ago
-
باؤلا کتا9 years ago
-
یا بے شرمی تیرا ہی آسرا9 years ago
-
-
-
-
-
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو11 years ago
-
-
تعارف از مفتی سعید احمد پالنپوری12 years ago
-
-
BARALVIYOON KI GUSTAKHIYAN13 years ago
-
-
-
بلاگ کے مراسلات کی تعدادNo. of posts: 278:
بلاگ کے تبصروں کی تعداد :No. of comments: 470