موت ہو تو ایسی

موت ایک تلخ حقیقت ہے ہر وہ شخص جو ماں کے پیٹ سے آیا ہے اس کو زمین کے پیٹ میں ضرور جانا ہے اس کے باوجود بھی انسان موت سے ڈرتا اور اس سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرتاہے۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جواس دارِ فانی سے جب کوچ کرتے ہیں تو اپنے پیچھے والوں کے لیے ایک مثال بن جاتے ہیں اور بعض بد بخت ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے بعد والے لوگوں کے لیے عبرت بن جاتے ہیں ۔یہی فرق ہے” مثال“ اور ”عبرت “میں کہ برے لوگوں سے عبرت حاصل کی جاتی ہے جبکہ اچھے لوگوں کی مثالیں سامنے رکھ کر ان سے سبق حاصل کیا جاتا ہے۔ ایک ایسا ہی سبق آموز واقعہ آپ کے سامنے ہے کہ جو ہمیں اپنی زندگیاں تبدیل کرنے پر اکسا رہا ہے ۔یہ واقعہ آج سے کچھ عرصہ قبل سعودی عرب کے شہر ریاض میں پیش آیا ۔ واقعہ کیا تھا؟ کس کے ساتھ پیش آیا ؟کیسے پیش آیا ؟ان سب کو جاننے کے لیے ہم بھائی محمد سویدکے پاس چلتے ہیں اور انہی کی زبانی یہ واقعہ سنتے ہیں ۔

میرا نام محمد سوید ہے اور ”ریاض“ کے محلہ ”شارع فوزان“ میں رہائش پذیر ہوں۔ میری والدہ محترمہ بہت پارسا اور پاکباز خاتون تھیں میں نے ساری زندگی ان کی زبان سے غیبت یا گالی نہیں سنی۔ نماز کی بہت پابند تھیں اور رات کا اکثر حصہ مصلیٰ پر گزارتی تھیں ۔اپنے ملنے جلنے والوں کو بھی نماز کی تاکید کرتی رہتی تھیں۔

والدہ محترمہ کی عمر تقریباً 80برس تھی اور کچھ عرصہ سے کافی علیل تھیں بیماری کے باوجود ان کے دینی معمولات خصوصاً نماز میں کوئی خلل نہیں پڑا۔پہلے کی طرح تہجد کے لیے اٹھتیں اور سردی کے موسم میں بھی خوب اچھے طریقے سے وضو کرتیں اور نماز ادا کرنے کے لیے کھڑی ہوجاتیں ۔ والدہ محترمہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ نماز کے دوران سب سے زیادہ لطف سجدے میں آتا ہے، جب میں اپنی پیشانی اپنے مالک کے سامنے رکھ کر اسے پکارتی ہوں تو دل کی جو کیفیت ہوتی ہے اور جوسکون ملتا ہے میں اس کو بیان نہیں کرسکتی۔

ذو الحجہ کا مہینہ شروع ہوچکا تھا جمعہ کے دن کا سورج طلوع ہونے میں ابھی کافی سارا وقت باقی تھا والدہ محترمہ حسب سابق تہجد کے لیے اٹھیں ، وضو کیا نماز تہجد ادا فرمائی اور مصلیٰ پر بیٹھ کر دو جہاں کے مالک سے راز و نیاز کی باتیں کرنے لگیں۔ جب سے والدہ محترمہ کی طبیعت ناساز رہنے لگی تھی ، میرا معمول تھا کہ میں ان کے کمرے میں سو تا تھا تاکہ رات کو کسی بھی وقت انہیں کوئی ضرورت ہو تو فوراًان کی خدمت کرسکوں۔

اس رات بھی میں ان کے کمرے میں ہی محوِ خواب تھا کہ والدہ کے بلانے پر میری آنکھ کھل گئی ۔ کیا دیکھتا ہوں کہ والدہ مصلے پر سجدہ کی حالت میں ہیں اور کہہ رہی ہیں بیٹا میری زبان کے سوا میرا باقی تمام بدن بے حس و حرکت ہو چکا ہے ۔ میں نے بڑے آرام سے والدہ کو بازوؤں میں اٹھاکربستر پر پہنچادیا اور ان کو لٹانے کی کوشش کی مگر ان کا جسم تو گویاسجدہ کی حالت میں ہی منجمد ہو چکا تھا۔ میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ کو ہسپتال لے چلتا ہوں۔ والدہ فرمانے لگیں؛ نہیں بیٹا! ہسپتال لے جانے کے بجائے مجھے میری نماز کی جگہ پر واپس پہنچادو۔

مگر میں ضد کرکے ان کو ہسپتال لے گیا اللہ کی قدرت دیکھیے کہ والدہ صاحبہ کا بدن بدستور سجدہ ہی کی شکل میں تھا اور مسلسل ان کی زبان سے ذکرکی آواز آ رہی تھی۔ڈاکٹرز بھی ان کی اس کیفیت کی وجہ معلوم کرنے میں ناکام ہوچکے تھے ۔ ادھر والدہ صاحبہ بار بار مجھ سے فرما رہی تھیں کہ بیٹا !مجھے واپس گھرلے چلو اور مجھے میری نماز کی جگہ پر پہنچا دو۔

میں چونکہ والدہ محترمہ کے شوقِ سجدہ سے اچھی طرح واقف تھا ان کی اس کیفیت اور ڈاکٹروں کی بے بسی نے میرے دل میں بڑی عجیب سی کیفیت پیدا کر رکھی تھی۔ میں نے والدہ صاحبہ کو اٹھایا اور گھر آکر انہیں ان کی جائے نماز پراسی حالت میں لٹا دیا جس حالت میں وہ پہلے تھیں یعنی سجدہ ہی کی حالت میں ۔

والدہ کی زبان سے زور زور سے اللہ اللہ کی صدائیں سنی جارہی تھیں اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعدقرآن کریم کے الفاظ بھی زبان سے ادا ہورہے تھے ۔ عزیز رشتہ دار وں کی بڑی تعداد جمع ہو چکی تھی اور سب کے سب اشکبار تھے ۔ والدہ ہماری طرف متوجہ ہوئیں اور فرمانے لگیں اٹھو!اٹھو! سب لوگ وضو کرکے نمازادا کرو۔ طلوع فجر میں چند منٹ باقی تھے کہ والدہ محترمہ نے تلاوت قرآن کرتے ہوئے آخری سانس لی اور سجدے کی حالت میں ہی اپنے پروردگار کی بارگاہ میں جا پہنچیں ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

والدہ کی وفات کے بعد ہم نے ان کے جسم کو سیدھا کرنے کی بہت کوشش کی مگر ان کا مبارک بدن اسی حالت میں رہا جس کے بارے میں وہ کہا کرتی تھیں کہ بیٹا سجدے میں بہت لطف آتاہے۔ ان کو کروٹ کے بل لٹایا گیا تب بھی ان کے بازو اور ٹانگیں اسی حالت میں رہیں جس طرح سجدہ کی حالت میں ہوتی ہیں۔ والدہ محترمہ کے بدن کو اسی حالت میں غسل دیا گیا اور اسی حالت میں ان کو قبرمیں دفن کیا گیا ۔ دلوں کی دنیا کو بدل دینے والے اس واقعہ نے بہت سی بے نماز خواتین کو پکا نمازی بنا دیا اور کئی مرد حضرات نے جب یہ واقعہ سنا تو رورو کر انہوں نے توبہ کی کہ ہم آئندہ اللہ کی نافرمانی نہیں کریں گے ۔

اتنی پیاری اور باکمال ماں کی ممتا جب مجھ سے بچھڑی تو مت پوچھیے کہ مجھے کس قدر صدمہ پہنچا۔ اس بات کو صرف وہی لوگ محسوس کرسکتے ہیں جواپنے والدین کو قبر کی دہلیز تک چھوڑ کر آئے ہوں ۔اس کے باوجود مجھے ایک گونہ حوصلہ بھی ملتا ہے جب میں ان کی مبارک موت کو دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالی اپنے پیاروں سے کتنا عجیب معاملہ کرتے ہیں۔سچ ہے کہ جو اللہ کا ہوجاتا ہے تو پھر اللہ بھی اس کا ہوجاتا ہے موت نے تو ہر حال آنا ہے لیکن میں اکثر کہہ اٹھتاہوں کہ ....” موت ہوتو ایسی ہو“



بشکریہ :www.islahunnisa.com

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

موت ہو تو ایسی پہ 6 تبصرے ہو چکے ہیں

  1. جزاک اللہ نور بھائی
    بہت سبق آموز واقعہ بیان کیا ہے

    ReplyDelete
  2. سبحان اللہ۔۔۔ ایسی ہی موت کی خواہش کرنی چاہیے اور اپنا ایمان اور اعمال کو اس قابل بنانا چاہیے کہ جب موت آئے تو ایمانِ کامل پر آےئے۔۔۔

    ReplyDelete
  3. افتخار صاحب : آپ کی آمد کے لئے شکریہ :

    شازل بھائی : بڑے عرصے بعد ہمیں یاد کیا ہے . . . . بڑی مسرت ہوئی . .

    عمران صاحب : بے شک . . . اللہ ہم سب کو ایمان کی محنت کرنے کی توفیق نصیب کرے اور خاتمہ باالخیر فرمائے . . ... . آمین . . . . آپ کی چوتھی قسط ( لببک )کا انتظار ہے . . .

    جزاک اللہ خیرا جزا

    ReplyDelete
  4. سبحان اللہ اللہ ہمیں بھی ایسی موت سے نوازے

    ReplyDelete

اگر آپ (بلاگ اسپاٹ کی دنیا میں) نئے ہیں اور درج بالا تحریر پر آپ کا قیمتی تبصرہ کرنے کا ارادہ ہے تو ۔ ۔ ۔ Comment as میں جا کر“ANONYMOUS" پر کلک کر کے اپنا تبصرہ لکھ دیں – ہاں آخر میں اپنا نام لکھنا نہ بھولیں -

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.