ایک نومسلم کا اعلیٰ ایمان ۔ ۔ ۔ ۔

ایک نومسلم کا اعلیٰ ایمان



خامہ فرسائی: چاہت محمد قاسمی
مدرسہ فیض العلوم یاسینیہ گنگوہ

آج اس وقت ایمانی کیفیت کا عجب نمونہ دیکھا، جس وقت ہمارے ایک نومسلم بھائی کو ختنہ کے بعد آپریشن تھیٹر سے باہر لایا گیا، محترم بھائی اسٹریچر پر سیدھے آسمان کی طرف رخ کر کے لیٹے ہوئے تھے،ان کا دایاں ہاتھ ناف پر براجمان تھا جس کی متحرک انگشت شہادت نے ہماری نگاہ کو مقناطیسی طرز پر یک جگہ محدود کرلیا تھا، یہ دائیں ہاتھ کی انگشت شہادت گھڑی کی سوئی کی طرح تقریبا 2 سیکنڈ کے وقفہ سے بار بار مسلسل حرکت کر رہی تھی، انگشت شہادت کی حرکت ایک مسلمان کے ذہن میں بجلی کی سرعت سے بھی تیز کلمہ شہادت پر دلالت کرتی ہے، لیکن جب ہم لمبے لمبے قدم اٹھاتے ہوئے ان کے اسٹریچر کے پاس پہونچے تو ہم نے ایمان کی معراج کا نمونہ دیکھا، ایک فرشتہ سے افضل انسان کی زیارت کی، ایک مضبوط ایمان کی کیفیت کا مشاہدہ کیا، ہم نے دیکھا محترم نومسلم کی آنکھیں بند ہیں ، اور وہ بے ہوشی کی حالت میں ہیں، لیکن بحالت بے ہوشی بھی ان کی زبان پر کلمہ شہادت سرگوشی کے انداز سے جاری ہے، جس کو توجہ کے بعد بخوبی سنا جا سکتا تھا اور اشہد پر ان کی انگشت شہادت باربار حرکت کرتی رہی،سبحان اللہ تعالی۔
 
ہمارا یہ بھائی ــــــ عمر 22 سال ــــــ انجینئرنگ کے لاسٹ ایئر میں تقریبا 7 مہینے قبل مسلمان ہوا تھا، لیکن ان ساتھ مہینوں میں ان کے ایمان کی کیفیت کا اندازہ دیکھئے کہ بحالت بے ہوشی بھی کلمہ کا ورد جاری ہے، سبحان اللہ تعالی۔
 
جونیر ڈاکٹر نے بتایا کہ جب ہم کسی کو بے ہوشی کا انجیکشن دیتے ہیں تو کوئی گالی گلوچ کرتا ہے، کوئی مغلظات بکتا ہے، کوئی چیختا چلاتا ہے، کوئی عجیب عجیب حرکات کا مرتکب ہوتا ہے، حالانکہ ان میں سے اکثر لوگ مسلمان ہی ہوتے ہیں ، لیکن ان نو مسلم بھائی کی حالت بڑی عجیب دیکھی کہ جب سے ان پر بے ہوشی طاری ہوئی اسی وقت سے ان کی زبان پر کلمہ شہادت بھی جاری ہے، حالانکہ ان پر بے ہوشی اس وقت غالب ہوئی جب کہ یہ ڈاکٹر کے ساتھ محو گفتگو تھے، لیکن پھر بھی ان کی ایمانی کیفیت کا اندازہ لگائے کہ بے ہوشی کی حالت میں بھی کلمہ شہادت ورد کرتے رہے، سبحان اللہ تعالی۔ 
22
سال کی عمر میں ختنہ کرانا کوئی آسان نہیں ہے، باقاعدہ ایک آپریشن کی شکل ہوتی ہے، اور انسانی فطرت کے مطابق ڈر اور دہشت ان پر بھی محسوس ہوتا تھا، جس کی وجہ سے ہم کسی چیخ کے منتظر تھے، اور اسی لئے میں نے ان سے کہا تھا بھائی اگر مشکل محسوس ہو تو بول دینا، بغیر ختنہ کے بھی انسان مسلمان صحیح طور پر بنا رہتا ہے، لیکن ان کا جواب تھا
 ۔ ۔ ۔ ۔  نہیں، مجھے ختنہ کرانی ہے کہ یہ ایک سنت ہے، اور میں کسی سنت کو چھوڑنا نہیں چاہتا ۔ ۔ ۔ ۔
 ( یہاں ہم نام نہاد پیدائشی مسلمان اپنے گریبانوں میں جھانکیں کہ ہم روز کتنی سنتوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ )


خیر ان کی یہ کیفیت ہم سب مسلمانوں کے ایمان کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی تھی، اور شاید یہی وجہ تھی کہ جونیئرڈاکٹر صاحب نے ہماری جمع شدہ رقم واپس کردی، جب ہم نے استفسار کیا تو گویا ہوئے - - - -     فی سبیل للہ  - - - -

سبحان اللہ تعالی

آپ سے گذارش ہے کہ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالی ہمارے نومسلم بھائی کو ثابت قدمی عطا فرمائیں

دعا کا طالب
چاہت محمد قاسمی

غزل : اب جو روٹھا ہے میرا یار' مناؤں کیسے ؟ ؟ ؟ ؟

احقر نے ایک کوشش کی ہے  ۔  آپ احباب کی نذر کرتا ہوں ۔ ۔ ۔    امید ہےپسند آئے گی اور آپ اپنی  دعاؤں سے نوازیں گیں  ۔ ۔ ۔ شکریہ 

اب جو روٹھا ہے میرا یار' مناؤں کیسے ؟
دل جو ٹوٹا ہے اب اس بار ' جڑاؤں کیسے ؟

ہم نے مانا کہ ہوئی ہم سے خطا پر اے دوست
ہم بھی تڑپے ہیں بہت بار ' بتاؤں کیسے

بڑا نادان ہے' دیوانہ بھی ہے دل اے نور
ہو  حجازی   پہ فدا دل تو ' سنبھالوں کیسے

ہوں معافی کا طلب گار مری نسیاں پر
بن معافی کے ترے در سے میں جاؤں کیسے

یوں نہ روٹھا کرو تم ہم سے کبھی چاہو تو
لے لو اب جان میری' تم کو مناؤں ایسے!!

نون میم 27- مارچ - 2015


حالات کے اعتبار سے انسان کی قسمیں .....


حالات کے اعتبار سے انسان کی قسمیں .....


جب انسان پر حالات آتے ہیں تب یہ تین اقسام میں بٹ جاتا ہے

اول  ۔ ۔ ۔

  وہ جو مصائب کے آنے سے قبل بھی رب کے شکر گزار تھے اور مصائب کے آنے کے بعد بھی اللہ کی شکر گزار ثابت ہوتے ہیں بلکہ مزید اپنے رب سے قریب ہو جاتے ہیں اور خود کےمحاسبے میں لگ جاتے ہیں کہ کون سی خطا پر رب ناراض ہوا جو نامناسب حالات آ گئے

دوم  ۔ ۔ ۔

 وہ جو خوشحالیمیں تو اپنے رب کو بھلا دیتے ہیں مگر جب.نا مناسب حالات.کا سامنا ہوتا ہے تو فورا" اپنے مالک کی طرف رجوع ہو جاتے ہیں اور اپنی بے فکری اور حکم عدولی پر توبہ و استغفار کرتے ہیں 

سوم  ۔ ۔ ۔

 وہ جو آسودگی میں بھی رب کے نافرمان ہوتے ہیں اور مصائب و پریشانی کے آنے پر تو ایسے بدبخت ہوجاتے ہیں کہ بجائے توبہ و استغفار کے؛ رب کریم کی شکایت کرنے لگ جاتے ہیں۔ ان پہ الزام دھرنے لگتے ہیں

اب ہم خود اپنا محاسبہ کریں اور دیکھیں کہ ہمارا شمار کون سی فہرست میں ہو رہا ہے

دعا ہے کہ اللہ ہمیں اول ( یا کم از کم دوم ) فہرست والوں میں سے بنائے اور تیسری قسم سے ہمیں محفوظ رکھے..

نون میم

آمین ... یا رب العالمین !!!

اردو ترجمہ کے لئے گوگل کروم کا ایکس ٹنشن




ایک بہت ہی مفید    ایکس ٹنشن   شیئر کر رہا ہوں.

 اگر آپ گوگل کروم استعمال کرتے ہیں تو یہ ایکس ٹنشن انسٹال کریں


اس کا فائدہ یہ ہے کہ کسی بھی ویب سائٹ پر لکھے ہوئے کسی بھی انگریزی لفظ کا ترجمہ معلوم کرنا ہو تو صرف اس لفظ کو سلیکٹ کریں. خود بخود ترجمہ ہو جائے گا.





مثال کے لئے درج ذیل فوٹو دیکھیں  ۔ ۔ 




حلالہ کیوں ۔ ۔ ۔ ۔ (حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم عالیہ )

حلالہ  کیوں ۔ ۔ ۔ ۔ (حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب  دامت برکاتہم عالیہ )

یہ خیال غلط ہے کہ  : حلالہ " کوئی تدبیر ہے جس پر عورت کو مجبور کیا جا رہا ہے ۔

اصل یہ ہے کہ جس شخص نے اللہ کی مقرر کی ہوتی تمام حدود کو پامال کرکے تینوں طلاقیں دے دیں وہ اب اس لائق نہیں  کہ ایک شریف عورت اس کے پاس رہے ۔ لہذہ حکم یہ ہے کہ اب اس سے نکا ح نہ کرو ، کوئی اور شوہر تلاش کرو ۔ ہاں !  اگر اس شوہر سےبھی نبھاؤ نہ ہو  اور وہ از خود طلاق دیدے ، تو اس صورت میں امید ہےکہ پہلا شوہر کچھ سبق حاصل کر چکا ہوگا ۔ اس لئے اگر اب اسے سے نکاح کرنے پر بیوی رضامند ہو  تو اس کی اجازت دیدی گئی ہے ۔

اور یہ جو محض حیلہ کے طور پر حلالہ کیا جاتا ہے  وہ شریعت کے منشاء کے خلاف ہے ۔۔

( فتاوی عثمانیہ ۔ جلد نمبر 1 ۔ صفحہ نمبر 138)
ناقل : نون میم
بشکریہ : جناب زبیر صاحب

بازارِ حسن : مولانا طارق جمیل

میانچنوں سے عبدالحکیم جاتے ہوئے راستے میں تلمبہ کا تاریخی شہر نظر آتا ہے - مؤرخین کے مطابق تلمبہ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی حضرت انسان کی...اسے قبل مسیح میں توحید کے متوالے بادشاہ پرھلاد کا پایہ تخت ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے اور ھندو مذہب کے ہیرو رام چندرجی ، رام لچھمن جی اور ان کی بیوی سیتا کی میزبانی کا بھی-
بس تمبہ کے قریب سے گزرتی ہے تو ایک نہایت پرشکوہ عمارت نظر آتی ہے.... یہ ہے مولانا طارق جمیل صاحب کا مدرسہ حصنات.....اور یہ عین اسی جگہ واقع ہے جہاں دس بارہ سال پہلے پاکستان کا سب سے بڑا اور قدیم بازار حسن تھا-
اس خطے میں جسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کہتے ہیں...انگریز دور سے ہی تین بڑے بازار حسن قائم تھے.....لاہور....ملتان ....اور تلمبہ......کراچی کی لی مارکیٹ اور نیپئر روڈ بہت بعد کی پیداوار ہیں-

تلمبہ کا بازار حسن 1818 میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے قائم کیا ، اور وسط پنجاب میں ہونے کی وجہ سے یہ مقبول خاص وعام تھا - سینما تھیٹر اور ٹی وی کے دور سے پہلے یہاں کی رقاصائیں ملک کے کونے کونے میں اپنے فن کا جادو جگا کر تقریبات کا حسن دوبالا کرتی تھیں.....پھر وقت بدلا اور رقص و موسیقی نے باقاعدہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا روپ اختیار کیا تو بازار بھی اس سے متاثر ہوئے- ان بازاروں کی اعلی کوالٹی ترقی کرتے کرتے پہلے فنکار....پھر آرٹسٹ اور بعد میں سیلیبریٹیز بن گئ... اور بچا کھچا سامان طوائف کا لیبل لگا کر جسم فروشی کے دھندے سے وابستہ ہو گیا - تلمبہ کے بازارحسن کی شہرت ضرب المثل کا درجہ رکھتی تھی..... پنجاب میں دیہاتی عورتوں کی کوئ بھی لڑائ ، ایک دوسرے کو "تلمبہ دی کنجری" کہے بغیر آج بھی پھیکی سمجھی جاتی ہے......

جولوگ اپنے گھر کا کچرا باہر گلی میں پھینک کر نصف ایمان کے درجے پہ فائز ہو جاتے ہیں....ان کےلیے یہ بازار قطعاً اس قابل نہ تھا کہ وہ اس کے بارے میں سوچ کر اپنا قیمتی وقت برباد کرتے- پھر ہمارے ہاں تو گندی نالیوں کی صفائ کےلیے بھی عموماً کرسچین رکھے جاتے ہیں .....نیک لوگ ایسی متعفن جگہوں سے منہ ڈھانک کر اور پائنچے چڑھا کر گزرتے ہیں...اور بد خصلت صرف رات کے اندھیرے میں ادھر جھانکتے ہیں......طارق جمیل غالباً وہ پہلا شخص تھا جس نے دن کے اجالے میں اس تاریک نگر کا رخ کیا -

شروع شروع میں مولانا کی یہ "حرکت" ان کے معتقدین کو بھی ناگوار گزری - بازار کے کرتا دھرتاؤں کو بھی اس پر اعتراض ہوا.....لیکن مولانا کا استدلال یہ تھا کہ دین سیکھنا ہر اس شخص کا حق ہے جس نے کلمہ پڑھ رکھا ہے..... بازار حسن سے تعلق رکھنے والے چونکہ مسلمان ہیں...اس لیے انہیں اس نعمت سے محروم نہیں کیا جاسکتا....

مولانا ایک مدت تک چارسو گھروں پر مشتمل اس کنجر محلہ میں جاتے اور ایک کونے میں بیٹھ کر درس قران دیتے رہے - آہستہ آہستہ پیشہ ور خواتین کی ایک معقول تعداد ان کے لیکچرز اٹینڈ کرنے لگی.....طارق جمیل صاحب انہیں میری بہنوں کہ کر مخاطب کرتے اور نماز کا درس دیتے...امہات المؤمنین کے ایمان افروز واقعات بتاتے......صحابیات کے قصے سناتے....اور کربلاء کی عفت ماب بیبیوں کا تزکرہ فرماتے.......آخر ایک روز ایک عورت نے کہا مولانا تم روز ہمیں درس تو دینے آجاتے ہو....لیکن ہمیں اس کا فائدہ کیا ہے....اگر ہم اس گندے کام سے توبہ بھی کر لیں تو کیا یہ معاشرہ ہمیں قبول کر لے گا.....لوگ تو ہمیں دیکھ کر تھوکنا بھی گوارا نہیں کرتے....ہمیں اپنائے گا کون !!!!

مولانا نے کہا کہ رب پر توکل کرو ....وہ فرماتا ہے...."تم میری طرف چل کر آؤ....میں دوڑ کر آؤں گا." ......تم ایک بار چل کر تو دیکھو....باقی رب پر چھوڑ دو.......تاکہ قیامت والے دن کوئ عذر تو ہو تمھارے پاس -

پھر مولانا نے یہ بات مختلف حلقوں میں چلائ.....اس کارخیر کےلیے ملک کے دور دراز علاقوں میں خفیہ و اعلانیہ مہم چلائ.....بہت سے نیک اور صالح نوجوان ان خواتین سے شادی کےلیے تیار ہوگئے .......اور آہستہ آہستہ...پاکستان کے اس تیسرے بڑے بازار حسن کی آبادی گھٹنے لگی.....کئ سال لگے...آخر ایک دن وہ بازار ویران ہوگیا.....اور طارق جمیل صاحب نے وہ جگہ خرید کر مدرسے کےلیے وقف کردی.
اس سب مساعی کے باوجود طارق جمیل میرا آئیڈیل نہیں ہے- وہ ایک انسان محض ہے- اس میں بے شمار عیوب بھی ہیں....میری آئیڈیل شخصیت وہی ہے جنہیں تاج نبوّت نوازنے سے کئ سال پہلے خالق کائنات نے شق صدر کر کے ، ان تمام کمزوریوں سے پاک فرمادیا تھا جو عام انسانوں میں ہوتی ہیں ....
لیکن مجھے فخر ضرور ہے کہ میرے آقا (ص) کا پندھرویں صدی کا امتی طارق جمیل جیسا ہے
نعرے بازی...احتجاج....کافر کافر....تبرا بازی......تو سب کرتے ہیں....کاش کوئ مصلح بھی ہو ...جو اسی حکمت و بصیرت سے معاشرے کا گند صاف کرے جس طرح چودہ سوسال پہلے میرے آقا نے اس بدو کا گند صاف کیا تھا جس نے مسجد میں پیشاب کردیا تھا- !

بشکریہ : جناب تابش قاسمی / میاں مون چودھری صاحب

قصور کس کا ہے ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یا ۔ ۔ ۔


پاکستانی عوام نے پاک ٹیم  کی جیت کے لئے دل سے دعائیں کی  ۔ ۔ ۔ ۔

پاکستانی ٹیم  ہار گئی ۔ ۔


پھر ۔ ۔ ۔ ۔

پاکستانی ٹیم کی ہار   کے بعد ۔ ۔ ۔ ۔ دل رکھنے لئے انڈیا کے خلاف افریقہ  کی جیت کے لئے دعائیں کی   ۔ ۔ ۔ ۔

نتیجتا" ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  افریقہ کی ٹیم ہی ہار گئی ۔


اب سوچو ۔ ۔ ۔

قصور کس کا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

پاک کرکٹ ٹیم کا  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یا  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستانی عوام کی دعاؤں کا !!!!

اے جنید ۔ ۔ ۔ ۔ آج خاندان نبوت کی لاج رکھ لے !!!



کسی زمانے میں بغداد میں جنید نامی ایک پہلوان رہا کرتا تھا۔ پورے بغداد میں اس پہلوان کے مقابلے کا کوئی نہ تھا۔ بڑے سے بڑا پہلوان بھی اس کے سامنے زیر تھا۔ کیا مجال کہ کوئی اس کے سامنے نظر ملا سکے۔ یہی وجہ تھی کہ شاہی دربار میں اس کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور بادشاہ کی نظر میں اس کا خاص مقام تھا۔


ایک دن جنید پہلوان بادشاہ کے دربار میں اراکین سلطنت کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا کہ شاہی محل کے صدر دروازے پر کسی نے دستک دی۔ خادم نے آکر بادشاہ کو بتایا کہ ایک کمزور و ناتواں شخص دروازے پر کھڑا ہے جس کا بوسیدہ لباس ہے۔ کمزوری کا یہ عالم ہے کہ زمین پر کھڑا ہونا مشکل ہو رہا ہے۔ اس نے یہ پیغام بھیجا ہے کہ جنید کو میرا پیغام پہنچا دو کہ وہ کشتی میں میرا چیلنج قبول کرے۔ بادشاہ نے حکم جاری کیا کہ اسے دربار میں پیش کرو۔ اجنبی ڈگمگاتے پیروں سے دربار میں حاضر ہوا۔ وزیر نے اجنبی سے پوچھا تم کیا چاہتے ہو۔ اجنبی نے جواب دیا میں جنید پہلوان سے کشتی لڑنا چاہتا ہوں۔ وزیر نے کہا چھوٹا منہ بڑی بات نہ کرو۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ جنید کا نام سن کر بڑے بڑے پہلوانوں کو پسینہ آ جاتا ہے۔ پورے شہر میں اس کے مقابلے کا کوئی نہیں اور تم جیسے کمزور شخص کا جنید سے کشتی لڑنا تمہاری ہلاکت کا سبب بھی ہو سکتا ہے۔ اجنبی نے کہا کہ جنید پہلوان کی شہرت ہی مجھے کھینچ کر لائی ہے اور میں آپ پر یہ ثابت کرکے دکھاؤں گا کہ جنید کو شکست دینا ممکن ہے۔ میں اپنا انجام جانتا ہوں آپ اس بحث میں نہ پڑیں بلکہ میرے چیلنج کو قبول کیا جائے۔ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کہ شکست کس کا مقدر ہوتی ہے۔

جنید پہلوان بڑی حیرت سے آنے والے اجنبی کی باتیں سن رہا تھا۔ بادشاہ نے کہا اگر سمجھانے کے باوجود یہ بضد ہے تو اپنے انجام کا یہ خود ذمہ دار ہے۔ لٰہذا اس کا چیلنج قبول کر لیا جائے۔ بادشاہ کا حکم ہوا اور کچھ ہی دیر کے بعد تاریخ اور جگہ کا اعلان کر دیا گیا اور پورے بغداد میں اس چیلنج کا تہلکہ مچ گیا۔ ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ اس مقابلے کو دیکھے۔ تاریخ جوں جوں قریب آتی گئی لوگوں کا اشتیاق بڑھتا گیا۔ ان کا اشتیاق اس وجہ سے تھا کہ آج تک انہوں نے تنکے اور پہاڑ کا مقابلہ نہیں دیکھا تھا۔ دور دراز ملکوں سے بھی سیاح یہ مقابلے دیکھنے کے لئے آنے لگے۔ جنید کے لئے یہ مقابلہ بہت پراسرار تھا اور اس پر ایک انجانی سی ہیبت طاری ہونے لگی۔ انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر شہر بغداد میں امنڈ آیا تھا۔

جنید پہلوان کی ملک گیر شہرت کسی تعارف کی محتاج نہ تھی۔ اپنے وقت کا مانا ہوا پہلوان آج ایک کمزور اور ناتواں انسان سے مقابلے کے لئے میدان میں اتر رہا تھا۔ اکھاڑے کے اطراف لاکھوں انسانوں کا ہجوم اس مقابلے کو دیکھنے آیا ہوا تھا۔ بادشاہ وقت اپنے سلطنت کے اراکین کے ہمراہ اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے تھے۔ جنید پہلوان بھی بادشاہ کے ہمراہ آ گیا تھا۔ سب لوگوں کی نگاہیں اس پراسرار شخص پر لگی ہوئی تھیں۔ جس نے جنید جیسے نامور پہلوان کو چیلنج دے کر پوری سلطنت میں تہلکہ مچا دیا تھا۔
مجمع کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ اجنبی مقابلے کے لئے آئے گا پھر بھی لوگ شدت سے اس کا انتظار کرنے لگے۔ جنید پہلوان میدان میں اتر چکا تھا۔ اس کے حامی لمحہ بہ لمحہ نعرے لگا کر حوصلہ بلند کر رہے تھے۔ کہ اچانک وہ اجنبی لوگوں کی صفوں کو چیرتا ہوا اکھاڑے میں پہنچ گیا۔ ہر شخص اس کمزور اور ناتواں شخص کو دیکھ کر محو حیرت میں پڑ گیا کہ جو شخص جنید کی ایک پھونک سے اڑ جائے اس سے مقابلہ کرنا دانشمندی نہیں۔ لیکن اس کے باوجود سارا مجمع دھڑکتے دل کے ساتھ اس کشتی کو دیکھنے لگا۔ کشتی کا آغاز ہوا دونوں آمنے سامنے ہوئے۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے گئے۔ پنجہ آزمائی شروع ہوئی اس سے پہلے کہ جنید کوئی داؤ لگا کر اجنبی کو زیر کرتے اجنبی نے آہستہ سے جنید سے کہا اے جنید ! ذرا اپنے کان میرے قریب لاؤ۔ میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ اجنبی کی باتیں سن کر جنید قریب ہوا اور کہا کیا کہنا چاہتے ہو۔

اجنبی بولا اے جنید ! میں کوئی پہلوان نہیں ہوں۔ زمانے کا ستایا ہوا ہوں۔ میں آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ سید گھرانے سے میرا تعلق ہے میرا ایک چھوٹا سا کنبہ کئی ہفتوں سے فاقوں میں مبتلا جنگل میں پڑا ہوا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچے شدت بھوک سے بے جان ہو چکے ہیں۔ خاندانی غیرت کسی سے دست سوال نہیں کرنے دیتی۔ سید زادیوں کے جسم پر کپڑے پھٹے ہوئے ہیں۔ بڑی مشکل سے یہاں تک پہنچا ہوں۔ میں نے اس امید پر تمہیں کشتی کا چیلنج دیا ہے کہ تمہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے سے عقیدت ہے۔ آج خاندان نبوت کی لاج رکھ لیجئے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آج اگر تم نے میری لاج رکھی تو کل میدان محشر میں اپنے نانا جان سے عرض کرکے فتح و کامرانی کا تاج تمہارے سر پر رکھواؤں گا۔ تمہاری ملک گیر شہرت اور اعزاز کی ایک قربانی خاندان نبوت کے سوکھے ہوئے چہروں کی شادابی کے لئے کافی ہوگی۔ تمہاری یہ قربانی کبھی بھی ضائع نہیں ہونے دی جائے گی۔

اجنبی شخص کے یہ چند جملے جنید پہلوان کے جگر میں اتر گئے۔ اس کا دل گھائل اور آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔ سیدزادے کی اس پیش کش کو فوراً قبول کرلیا اور اپنی عالمگیر شہرت، عزت و عظمت آل سول صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کرنے میں ایک لمحے کی تاخیر نہ کی۔ فوراً فیصلہ کر لیا کہ اس سے بڑھ کر میری عزت و ناموس کا اور کونسا موقع ہو سکتا ہے کہ دنیا کی اس محدود عزت کو خاندان نبوت کی اڑتی ہوئی خاک پر قربان کردوں۔ اگر سید گھرانے کی مرجھائی ہوئی کلیوں کی شادابی کے لئے میرے جسم کا خون کام آ سکتا ہے تو جسم کا ایک ایک قطرہ تمہاری خوشحالی کے لئے دینے کے لئے تیار ہوں۔ جنید فیصلہ دے چکا۔ اس کے جسم کی توانائی اب سلب ہو چکی تھی۔ اجنبی شخص سے پنجہ آزمائی کا ظاہری مظاہرہ شروع کر دیا۔

کشتی لڑنے کا انداز جاری تھا۔ پینترے بدلے جا رہے تھے۔ کہ اچانک جنید نے ایک داؤ لگایا۔ پورا مجمع جنید کے حق میں نعرے لگاتا رہا جوش و خروش بڑھتا گیا جنید داؤ کے جوہر دکھاتا تو مجمع نعروں سے گونج اٹھا۔ دونوں باہم گتھم گتھا ہو گئے یکایک لوگوں کی پلکیں جھپکیں، دھڑکتے دل کے ساتھ آنکھیں کھلیں تو ایک ناقابل یقین منظر آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ جنید چاروں شانے چت پڑا تھا اور خاندان نبوت کا شہزادہ سینے پر بیٹھے فتح کا پرچم بلند کر رہا تھا۔
پورے مجمع پر سکتہ طاری ہو چکا تھا۔ حیرت کا طلسم ٹوٹا اور پورے مجمعے نے سیدزادے کو گود میں اٹھا لیا۔ میدان کا فاتح لوگوں کے سروں پر سے گزر رہا تھا۔ ہر طرف انعام و اکرام کی بارش ہونے لگی۔ خاندان نبوت کا یہ شہزادہ بیش بہا قیمتی انعامات لے کر اپنی پناہ گاہ کی طرف چل دیا۔

اس شکست سے جنید کا وقار لوگوں کے دلوں سے ختم ہو چکا تھا۔ ہر شخص انہیں حقارت سے دیکھتا گزر رہا تھا۔ زندگی بھر لوگوں کے دلوں پر سکہ جمانے والا آج انہی لوگوں کے طعنوں کو سن رہا تھا۔ رات ہو چکی تھی۔ لوگ اپنے اپنے گھروں کو جا چکے تھے۔ عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر جنید اپنے بستر پر لیٹا اس کے کانوں میں سیدزادے کے وہ الفاظ بار بار گونجتے رہے۔ “آج میں وعدہ کرتا ہوں اگر تم نے میری لاج رکھی تو کل میدان محشر میں اپنے نانا جان سے عرض کرکے فتح و کامرانی کا تاج تمہارے سر پر رکھواؤں گا"

جنید سوچتا کیا واقعی ایسا ہوگا کیا مجھے یہ شرف حاصل ہوگا کہ حضور سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے یہ تاج میں پہنوں ؟ نہیں نہیں میں اس قابل نہیں، لیکن خاندان نبوت کے شہزادے نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔ آل رسول کا وعدہ غلط نہیں ہو سکتا یہ سوچتے سوچتے جنید نیند کی آغوش میں پہنچ چکا تھا نیند میں پہنچتے ہی دنیا کے حجابات نگاہوں کے سامنے سے اٹھ چکے تھے ایک حسین خواب نگاہوں کے سامنے تھا اور گنبد خضراء کا سبز گنبد نگاہوں کے سامنے جلوہ گر ہوا، جس سے ہر سمت روشنی بکھرنے لگی، ایک نورانی ہستی جلوہ فرما ہوئی، جن کے حسن و جمال سے جنید کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں، دل کیف سرور میں ڈوب گیا در و دیوار سے آوازیں آنے لگیں الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ۔ جنید سمجھ گئے یہ تو میرے آقا ہیں جن کا میں کلمہ پڑھتا ہوں۔ فوراً قدموں سے لپٹ گئے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے جنید اٹھو قیامت سے پہلے اپنی قسمت کی سرفرازی کا نظارہ کرو۔ نبی ذادوں کے ناموس کے لئے شکست کی ذلتوں کا انعام قیامت تک قرض رکھا نہیں جائے گا۔ سر اٹھاؤ تمہارے لئے فتح و کرامت کی دستار لے کر آیا ہوں۔ آج سے تمہیں عرفان و تقرب کے سب سے اونچے مقام پر فائز کیا جاتا ہے۔ تمہیں اولیاء کرام کی سروری کا اعزاز مبارک ہو۔

ان کلمات کے بعد حضور سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جنید پہلوان کو سینے سے لگایا اور اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت خواب میں جنید کو کیا کچھ عطا کیا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اتنا اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے کہ جب جنید نیند سے بیدار ہوئے تو ساری کائنات چمکتے ہوئے آئینے کی طرح ان کی نگاہوں میں آ گئی تھی ہر ایک کے دل جنید کے قدموں پر نثار ہو چکے تھے۔ بادشاہ وقت نے اپنا قیمتی تاج سر سے اتار کر ان کے قدموں میں رکھ دیا تھا۔ بغداد کا یہ پہلوان آج سید الطائفہ سیدنا حضرت جنید بغدادی کے نام سے سارے عالم میں مشہور ہو چکا تھا۔ ساری کائنات کے دل ان کے لئے جھک گئے تھے۔

امرت نگر مارکیٹ کا مستقل حل ؟ ؟ ؟


قابل احترام جناب  جیتند آوہاڈ صاحب

آداب و تسلیمات !!!

ممبر ا کوسہ -  امرت نگر کی سڑک پر ٹرافک ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور خصوصا" امرت نگر  - گلاب پارک کے بازار کے سامنے تو شام کے وقت روڈ پر تو ہمیشہ ٹرافک جام رہتا ہے  اور اس کا سارا الزام روڈ سے لگے فٹ پاتھ پر موجود بازار کو لگایا جاتا ہے ۔
بے شک  ۔ ۔۔فٹ پاتھ سے متصل  بازار ہی اس مسئلے کی وجہ ہے   اور اسی کی وجہ سے اس علاقہ میں اکثر سڑک جام ہو جایا کرتی ہے اور شاید اس کی شکایت بارہا میونسپل آفیسرس کو کی جاتی ہے' نتیجتا" ایک عرصہ بعد میونسپلٹی کے اراکین حرکت میں آتے ہیں اور فٹ پاتھ سے لگے بازار کو توڑ دیا جاتا ہے ۔  جیسا کہ کل  / پرسوں توڑا گیا  ۔ ۔  ۔ ۔ مگر کچھ عرصہ بعد دوبارہ  وہیں بازار بس جاتا ہے  اور پھر وہی  سرکل  ۔ ۔  وہی بازار ۔ ۔   وہی ٹرافک جام ۔ ۔ اور وہی توڑ پھوڑ ۔ ۔ ۔  خیر یہ سلسلہ چلتے رہتا ہے ۔



اسی سلسلے میں آپ نے شملہ پارک علاقے میں ایک نیا بازار بسانے کا جو قدم اٹھایا ہے  بے شک وہ لائق تحسین ہے مگر  ۔ ۔ ۔  شاید ہی کوسہ کی عوام آپ کے اس بازار سے خوش ہے !!
وجہ یہ ہے کہ ۔ ۔ ۔آپ بخوبی واقف ہونگیں کہ ممبرا کوسہ   غریب اور متوسط   آبادی والا علاقہ ہے ۔  آپ کے بنائے ہوئے بازار میں جانے اور آنے کے لئے کم از کم ایک فرد کو 50 روپئے خرچ کرنا ہونگیں  - ( امرت نگر تا شملہ پارک   - ریٹرن – 20 روپئے  اور شملہ پارک سے اندر بازار تک کم ازکم رکشا کا کرایہ 15 -15روپئے ہے )  اب  آپ ہی اندازہ لگالیں کہ کیا کوسہ کی غریب عوام میں اتنی  استعداد  ہے کہ روزانہ 50 روپئے خرچ کرسکے ؟ ؟ ؟   اس کے علاوہ کوسہ قبرستا ن سےلے کر شملہ پارک تک کی سڑک  پر ہمیشہ ٹریفک جام کا مسئلہ ہوتا ہے اس پر اگر امرت نگر اور اطراف کی عوام کا رخ بھی اس جانب موڑا  جائے تو نجانے اس روڈ کی کیا حالت ہوگی ۔ ۔ ۔
اب سوال  یہ ہے کہ کیا اس مسئلہ  کا کوئی مستقل حل ہے بھی یا نہیں ۔ ۔ ۔ ۔
میری ذاتی رائے ہے کہ اگر انتظامیہ سنجیدگی سے اس معاملے کو لے تو یہ بازار کا مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے  اسی تعلق سے   چند تجاویز جو میرے ذہن میں تھیں ۔۔۔ آپ کی نذر کر رہا ہوں ۔ ۔
·         سب سے پہلے تو  اس سے قبل جو حصہ میونسپلٹی نے  بازار کے لئے مختصص کیا تھا  اسے اسی طرح رہنے دیا جائے  ( یعنی کہ روڈ  اور بازار کے درمیان میں جو  لوہے کی جالی  / باڑ لگائی گئی تھی ۔ بازار اسی کےاندر لگانے کی اجازت دے دی جائے )
·         اور اس کے باہر جو بھی ٹھیلہ لگانے کی کوشش کرے ۔  میونسپلٹی کا عملہ اس پر سخت سے سخت کاروائی کرے ۔  چاہے وہ کوئی بھی ہو ۔
·         دوسرے یہ کہ  بازار سے متصل سڑک پر  گاڑیوں کی پارکنگ ممنوع کر دی جائے ۔ کئی بار دیکھنے میں آتا ہےکہ ایک ایک نہیں دو دو لائین میں گاڑیا ں پارک کی جاتی ہے اور ٹریفک پولس اس جانب بالکل توجہ نہیں دیتی  -  کم از کم شام کے اوقات میں تو وہاں پارکنگ کی بالکل اجازت نہ دی جائے ۔   
( ٹریفک  پولیس سے یہ بات یاد آئی کہ ممبر ا کوسہ میں ٹریفک پولیس  کا شاید ہی کوئی کام ہوتا ہوگا ۔ ۔ جہاں جہاں ضرورت ہوتی ہے وہا ں تو ان صاحبان کے دیدار نہیں ہوتے ۔  البتہ صبح کے اوقات میں رکشا والوں پر  زائد چوتھی سیٹ بٹھانے کے جرم میں فائن لینے کے لئے یہ حضرات بڑے مصروف دکھائی دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ خیر )

درج بالا چند گزارشات پر  انتظامیہ اگر سنجیدگی سے غور کرے تو  امید ہے کہ امرت نگر کے بازار اور سڑک کی ٹریفک  دونوں مسائل بڑی آسانی سے حل کئے جا سکتے ہیں ۔۔۔ ہو سکتا ہے کہ میونسپلٹی کے اعلی حکام کے پاس اس سے بہتر حل ہو  ۔ ۔ ۔ مگر درخواست یہی ہے کہ اس بازار کو رہنے دیا جائے    ۔ 

امید ہے کہ اپ اس معاملے کو احسن طریقے سے جلد از جلد حل کر دیں گیں 

فقط  :  نون میم 

" آپ " کی جیت : ایک نظر ۔ ۔ ۔

سب سے  پہلے تو " آپ " کو اس ناقابل یقین جیت  کے لئےمبارک باد پیش کرتا ہوں کہ  دہلی الیکشن کا رزلٹ واقعی میں عام آدمی کی جیت ہے ۔ ۔ ۔



یوں تو مجھے اور میرے جیسے کئی لوگ ہونگیں جنھیں  سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی  اور ہم اس بلا   سے دور ہی رہتے ہیں ( رہنے کی کوشش کرتے ہیں )   ۔ ۔ ۔ مگر پھر بھی کہیں نہ کہیں، کبھی نہ کبھی ، کچھ حد تک اس موضوع پر گفتگو ہوتے رہتی ہے ۔

میرے خیال سے  " آپ" کی اس دبنگ جیت کے پیچھے ہندوستان کی بی جے پی حکومت کا ہاتھ ہے۔ بی جے پی نے  الیکشن سے قبل  بلنگ بانگ دعوے کئے تھے -   پہلے ہی عوام کانگریسوں کی وراثتی  حکومت  کے وہی پرانے گھسے  پٹے وعدوں  اور ان کے دعدہ خلافیوں سے بیزار ہوگئی تھی اور بھاری اکثریت نے  کانگریس کو گدی  سے ہٹانے کے فیصلہ کیا  جس کے نتیجے میں حکومت بی جے پی کے ہاتھ لگی اور گذشتہ الیکشن میں کانگریس نے منہ کی کھائی اور راج گدی پر بی جے پی قابض ہوگئی  ۔ ۔ ۔

مگر  بی جے پی نے بھی وہی روش اپنائی اور حکومت بننے کےتقریبا" 4 ماہ کے بیت جانے کے باوجود شاید ہی کوئی ایسا وعدہ ہوگا جو انہوں نے پورا کیا ہو  (  بلکہ کسی بھی اپنے انتخابی وعدے کو پورا کرنے میں سنجیدہ ہی نظر نہیں آرہی ہے ۔ یاد رہے کہ بیرون سے کالے دھن کی واپسی' بھگوا پارٹی کا سب سے اہم وعدہ تھا ) علاوہ ازیں فرقہ پرستوں کے روز بروز بڑھتے ہوئے اقدام پر بھی حکومت سرد رویہ اپنائے ہوئے ہے ۔

ان سبھی باتوں نے دہلی کے عوام کو سوچنے پر مجبور کیا اور غالب گمان یہی ہے کہ ان ہی عوامل کے رد عمل میں دہلی کے غیور عوام نے بی جے پی کو نظر انداز کرتے ہوئے "آپ "کو  اپنے قیمتی ووٹوں سے منتخب کیا ۔ 

میں دوبارہ  " آپ " کو  تہہ دل سے مبارک باد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ"  آپ " عوام کی امید پر کھڑے اترے گی اور پرانی پارٹیوں کی روش سے ہٹ کے دہلی کے عوام  اور ملک   کی فلاح و بہبودی کے کام  کو اپنا نصب العین بنائے گی ۔

 ساتھ ہی الیکشن میں ہارنے والی پارٹیوں، خصوصا" بی جے پی  اور کانگریس کو میرا یہ مشورہ ہے کہ وہ  اس ہار سے سبق لیں اور عوام کو بے وقوف بنانے والے دھندے بند کردیں۔ اب عوام ہر بار ان کے جھانسے میں آنے والی نہیں !!!!



تحریر  : نون میم 

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.