قرآن مجید

ہماری تلاوت قرآن کریم، اور بچوں پر اسکے اثرات

!!! ہماری تلاوت قرآن کریم، اور بچوں پر اسکے اثرات !!!
تحریر: احمد سعید پالنپوری استاد جامعۃ الشیخ حسین احمد المدنی محلہ خانقاہ دیوبند

آپ بیتی میں حضرت مولانا زکریا صاحب رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ جب انکے ابا حضرت مولانا یحیی کاندھلوی صاحب رحمہ اللہ کا دودھ چھڑایا گیا تو وہ پاؤ پارہ کے حافظ تھے، دو ڈھائی سال کا بچہ پاؤ پارہ کا حافظ بڑی عجیب بات ہے، اسکی وجہ بھی شیخ الحدیث صاحب رحمہ اللہ نے لکھی ہے کہ حضرت مولانا یحیی صاحب رحمہ اللہ کی والدہ محترمہ حمل کے زمانہ میں قرآن کریم کی خوب تلاوت کیا کرتی تھی، اور پیدائش کے بعد بچے کو گود میں لیکر تلاوت قرآن کریم کرتی رہتی تھی، بچہ اسکو سنتا رہتا، اسکی وجہ سے اتنی چھوٹی عمر میں وہ پاؤ پارے کے حافظ ہوگئے تھے، اور سات برس کی عمر میں حضرت مولانا یحیی صاحب رحمہ اللہ نے قرآن شریف حفظ کر لیا تھا، اور حفظ قرآن کریم کے بعد ایک قرآن کریم روز پڑھ لیا کرتے تھے، خود حضرت مولانا یحیی صاحب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے میں صبح کی نماز پڑھ کر امی بی کے مکان کی چھت پر قرآن شریف شروع کرتا اور دوپہر تک قرآن کریم مکمل کرلیا کرتا تھا، حضرت مولانا عاشق الہی صاحب رحمہ اللہ تذکرة الخلیل میں حضرت مولانا یحیی کاندھلوی صاحب کے حالات میں لکھتے ہیں:

'' ایک مرتبہ میری درخواست پر رمضان میں قرآن شریف سنانے کے لیے میرٹھ تشریف لائے تو میں نے دیکھا کہ دن بھر میں چلتے پھرتے پورا قرآن مجید ختم فرما لیتے، اور افطار کا وقت ہوتا تو ان کی زبان پر قل اعوذ برب الناس ہوتی تھی. ریل سے اترے تو عشاء کا وقت ہوگیا تھا، ہمیشہ باوضو رہنے کی عادت تھی، اسی لیے مسجد میں قدم رکھتے ہی مصلے پر آگئے، اور تین گھنٹے میں دس پارے ایسے صاف اور رواں پڑھے کہ نہ کہیں لکنت تھی، نہ متشابہہ، گویا قرآن شریف سامنےکھلا رکھا ہے، اورباطمینان پڑھ رہے ہیں، تیسرے دن ختم فرماکر روانہ ہوگئے کہ نہ دور کی ضرورت تھی نہ سامع کی '') تذکرة الخلیل 204 (

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمدزکریا صاحب رحمہ اللہ اپنے والدمحترم کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں '': میرٹھ کے اسسفر کے متعلق والد صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ میرٹھ کےلوگوں سے معلوم ہوا کہ جب لوگوں میں یہ تذکرہ ہوا کہایک شخص سہارنپور سے تین دن میں قرآن شریف سنانے کےلیے آرہا ہے، تو تیس چالیس حافظ محض امتحان کے لیے میرے پیچھے تراویح پڑھنے کے لیے آتے تھے، والد صاحب کو رمضان المبارک میں میری طرح سے بخار نہیں آتا تھا، دوستوں کے اصرار پر ایک دو دن کے لیے ان کے یہاں جاکر دو شب یا زیادہ سے زیادہ تین شب میں تراویح میں ایک قرآن پڑھ کر واپس آجاتے تھے، مساجد میں عموما تین تین شب میں ہوتا تھا، غیر مساجد میں ایک یا دو شب میں بھی ہوجاتا تھا. 

ایک مرتبہ شاہ زاہد حسین صاحب مرحوم کے اصرار پر دو شب کے اندر قصبہ بہٹ میں ان کے مردانہ مکان میں قرآن پاک سنا کر آئے تھے، مسجد نواب والی قصاب پورہ دہلی میں ایک دفعہ قرآن سنانا مجھے یاد ہے، عزیز مولوی نصیرالدین سلمہ حکیم اسحاق صاحب مرحوم کی مسجد میں ایک مرتبہ قرآن پاک سنا رہے تھے، میرے والد صاحب نور اللہ مرقدہ کسی سفر سے واپس تشریف لارہے تھے، حکیم اسحاق صاحب کی بیٹھک میں استراحت فرما رہے تھے، نصیر الدین کا چودھواں پارہ تھا، سامع بار بار لقمہ دے رہا تھا، وہ باوضو تھے، مسجد میں تشریف لے گئے، اور نصیر الدین کے سلام پھیرنے کے بعد مصلے پر سے ہٹا کر سولہ رکعات میں سولہ پارے ختم کردئے، مصلیوں کو تو گراں ضرور ہوئی، مگر لوگوں کو جلد قرآنپاک ختم ہونے کی خوشی مشقت پر غالب ہوا کرتی ہے. بارہویں رات کو قرآن پاک ختم کرکے سب تھکان بھول گئے

بعض اعزہ کے اصرار پر کاندھلہ میں بھی امی بی رحمہا اللہ کے مکان پر اخیر زمانہ میں ایک مرتبہ قرآن سنانے کا حال تو مجھے بھی معلوم ہے، اور وہ اپنی جوانی کا وہ قصہ سنایا کرتے کہ ساری رات نوافل میں قرآن سنانے میں گذرتی تھی، اور چونکہ ہمارے یہاں نوافل میں چار سے زیادہ مقتدیوں کی اجازت نہیں ہوتی تھی، اس لیے مستورات تو بدلتی رہتی تھیں، اور میرے والد مسلسل پڑھتے رہتے تھے. میرے چچا جان حضرت مولانا محمد الیاس نور اللہ مرقدہ نے بھی کئی رمضان المبارک امی بی کی وجہ سے کاندھلہ گذارے، تراویح تقریبا  ساری رات میں پوری ہوتی تھی، مسجد میں فرض پڑھنے کےبعد مکان تشریف لے جاتے تھے، اور سحر تک تراویح میں چودہپندرہ پارے پڑھتے تھے. 

مولانا رؤف الحسن صاحب نور اللہمرقدہ میرے والد صاحب کے حقیقی ماموں اور میری سابقہ اہلیہ مرحومہ کے والد، جن کا مفصل قصہ تو عنقریب تقوی کے مضمون میں آرہا ہے، اس کا یہ جزو یہاں کے مناسب ہے کہ تیس رمضان المبارک کو الف لام میم سے لے کر قل اعوذ برب الفلق تک ایک رکعت میں اور دوسری رکعت میں قل اعوذ برب الناس پڑھ کر سحر کے وقت اپنی والدہ یعنی امی بی سے یہ کہا کہ '' دو رکعات میں نے پڑھا دیں، اٹھارہ آپ پڑھ لیں '' اور ان کی والدہ امی بی نے سارا قرآن کھڑے ہوکر سنا. بات پر بات نکلتی جاتی ہے، مگر یہ واقعات بھی اکابر کے مجاہدات میں داخل ہیں، اس لیے زیادہ بے محل نہیں.) آپ بیتی، جلد دوم، (104 ص

متعدد ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ماں کی خوشی، غم، غصہاور پریشانی جیسے حالات سے پیٹ میں پلنے والا بچہ متاثر ہوتا ہے، اگر ماں ایام حمل میں قرآن کریم پڑھے، یا کثرت سے قرآن کریم سنے، تویقینا یہ ماں کیلے بڑی سعادتندی کی بات ہے، اور بچے کیلے بھی مفید تر ہے، شیخ ڈاکٹر محمد راتبالنابلسی کے بقول "قرآن پڑھنے والی حاملہ ماں کا نومولودقرآن سے تعلق رکھنے والا ہوتا ہے". .

نیز ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ دودھ پیتا بچہ اپنے اطراف کی چیزوںکا اثر لیتا ہے، جبکہ اس کے حواس میں سماعت کی سب سےپہلے شروعات ہوتی ہے، بچہ ایام رضاعت میں مفرد الفاظ کوجمع کرنا شروع کردیتا ہے، اگرچہ وہ ایام رضاعت میں انالفاظ کو ادا نہیں کرسکتا، لیکن یہی مفردات کو وہ بعد میں ادا کرنے پر قادر ہوجاتا ہے، اگر دودھ پلانے والی ماں کو اس عرصے میں قرآن کریم کی سماعت یا بآواز بلندتلاوت کا موقعمیسر آجائے، تو کوئی شک نہیں کہ اس کا یہ عمل بچہ پر بہت زیادہ اثر انداز ہوگا، اور بچے کے لیے حفظ قرآن کریم کرنا آسان ہوگا، چھوٹے بچے اکثر اپنے بڑوں کی حرکات وسکنات نقل کرتے ہیں، اگر بچے کے سامنے ہم لوگ کثرتسے تلاوت قرآن کریم کریں، تو ہمارا یہ عمل بچے کے لیے یقینا محبوب بن جائے گا، اور بعدمیں ہمارا یہی عمل بچہ کے حفظ کرنے میں مددگار ثابتہوگا، مزید یہ کہ تلاوت قرآن کریم کی برکات پورے گھر اور پورے کنبےکے لیے باعث خیرہوگی، یقینا تلاوت کیفضیلتاوراسکےثواب کا ہم انداز ہ نہیں لگا سکتے.

مجھے حضرت مولانا یحیی صاحب رحمہ اللہ کے واقعہ کو بیان کرکے یہ بتلانا ہے کہ ہم لوگ رمضان المبارک میں تلاوت قرآن کریم کرتے ہیں، اگر تلاوت قرآن کریم کرتے ہوئے، ہم لوگ اپنے گہر کے چھوٹے بچوں کو اپنے پاس لٹالیں، اور جو تھوڑے بڑے بچے ہیں، انکو اپنے پاس بٹھالیں، اور ان کے سامنے تجوید کی رعایت کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کریں، تو چھوٹے بچوں پر اس کے عمدہ اثرات مرتب ہونگے، اور بڑے بچے ہماری تلاوت قرآن کریم سن کر پڑھنے کا لہجہ سیکھیں گے، جو بعد میں قرآن کریم کے حفظ میں انکے لیے بھت فائدہ کا باعث ہوگا، اللہ سبحانہ وتعالي ہمیں اپنی اولاد کو قرآن کریم حفظ کروانے کی توفیق عطا فرمائے

آمین ثم آمین یارب العالمین

سورہ رحمان سے متا ثر ہو کر لکھی گئ نظم . . . جوش ملیح آبادی

سورہ رحمان سے متا ثر ہو کر لکھی گئ نظم


اے فنا انجام انسان کب تجھے ہوش آئے گا
تیر گی میں ٹھوکریں آخر کہاں تک کھائے گا
اس تمرد کی روش سے بھی کبھی شرمائے گا
کیا کرے گا سامنے سے جب حجاب اٹھ جائے گا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

یہ سحر کا حسن ، یہ سیارگاں اور یہ فضا
یہ معطر باغ ، یہ سبزہ ، یہ کلیاں دل ربا
یہ بیاباں ، یہ کھلے میدان یہ ٹھنڈی ہوا
سوچ تو کیا کیا ، کیا ہے تجھ کو قدرت نے عطا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

خلد میں حوریں تری مشتاق ہیں آنکھیں اٹھا
نیچی نظریں جن کا زیور ، جن کی آرائش حیا
جِن و انساں میں کسی نے بھی نہیں جن کو چھوا
جن کی باتیں عطر میں ڈوبتی ہوئی جیسے صبا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

اپنے مرکز سے نہ چل منہ پھیر کر بہر ِ خدا
بھولتا ہے کوئی اپنی انتہا اور ابتدا
یاد ہے وہ دور بھی تجھ کو کہ جب تو خاک تھا
کس نے اپنی سانس سے تجھ کو منور کر دیا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

سبز گہرے رنگ کی بیلیں چڑھی ہیں جا بجا
نرم شاخیں جھومتی ہیں ، رقص کرتی ہے صبا
پھل وہ شاخوں میں لگے ہیں دل فریب و خوشنما
جن کا ہر ریشہ ہے قندو شہد میں ڈوبا ہوا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

پھول میں خوشبو بھری ، جنگل کی بوٹی میں دوا
بحر سے موتی نکالے صاف روشن ، خوش نما
آگ سے شعلہ نکالا، ابر سے آبِ صفا
ک سے ہو سکتا ہے اس کی بخششوں کا حق ادا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

ہر نفس طوفان ہے ، ہر سانس ہے اک زلزلہ
موت کی جانب رواں ہے زندگی کا قافلہ
مضطرب ہر چیز ہے جنبش میں ہے ارض وسما
ان میں قائم ہے تو تیرے رب کے چہرے کی ضیا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

صبح کے شفاف تاروں سے برستی ہے ضیا
شام کو رنگ شفق کرتا ہے اک محشر بپا
چودھویں کے چاند سے بہتا ہے دریا نور کا
جھوم کر برسات میں اٹھتی ہے متوالی گھٹا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

جوش ملیح آبادی

JOSH MALIH ABADI
(Shabbir Hasan Khan)
December 5, 1894 - 22 February 1982

قرآن مجید : اورنگ زیب عالمگیر کا نسخہ

[تصویر: Surah_Tobah_2.jpg][تصویر: clip_image001_0017.jpg]

[تصویر: 41f03fe810b3452e7ccafe0795f7e2e7.jpg]

[تصویر: n151.jpg]
[تصویر: _42656567_koran1_203.jpg]
[تصویر: aurangzeb.jpg]

آئیے آپ کو رمضان الکریم میں قرآن مجید کا ایسا نسخہ دکھاتے ہیں ،جسے ھندوستان کے مسلمان مغل بادشاہ ابو المظفر محئی الدین محمد اورنگ زیب مرحوم (جسے ہندوستان کا خلیفہ راشد کہا جاتا ہے) نے اپنے ہاتھوں سے لکھا ، جو 1618ء میں پیدا ہوا ..اورنگ زیب شاہ جہاں کا تیسرا بیٹا تھا اس نے 1658 سے لے کر 1707یعنی اپنی وفات تک ھندوستان پر حکومت کی اور ابو المظفر محئی الدین محمد اورنگ زیب عالمگیر کہلایا ،
اس قرآن مجید المبارک کے بارے پڑھیے ،
آج سے چار سال پہلے بنگلور پولیس نے کیرالا ریاست ہندوستان میں ایک انڈین کو گرفتار کیا ، 44 سالہ جوان جس کا نام ایم جی شو کمار ہے وہ اس قرآن مجید کو جو کہ انتہائی قیمتی پرانے زمانہ کی ایک یادگار ہے ، وہ اسے پانچ کروڑ انڈین روپیہ یعنی پچاس ملین ڈالر میں میں سودا کر چکا تھا . پولیس نے قرآن مجید کو قبضہ میں لے کر اسے حیدرآباد اس کی تصدیق کے لیے بھیج دیا .


اس قرآن مجید کے بارے مندرجہ ذیل حقائق جانیے ،
1: اسے مسلمان بادشاہ اورنگ زیب نے دو ادوار میں لکھا 1636 ء سے لیکر 1644ء اور 1653ء سے 1658 ء میں لکھا گیا نے اپنے ھاتھوں سے لکھا .تقریبا 400 سال پرانا ہونے کے باوجود آج بھی اس کی چمک ویسی ہی ہے ،
2:اس کی پیمائش کے مطابق اس کی لمبائی 39.51 سنٹی میٹر اور چوڑائی 20 سینٹی میٹر ہے اور صفحات کی تعداد 1000 ہے .اسے فارسی رسم الخط میں لکھا گیا ہے ،اس کا وزن 13.5 کلوگرام ہے ،
3: اس کی لکھائی میں سونے اور چاندی کے دو محلول بنا کر ان سے لکھا گیا تھا، جسے آبِ زر اور آب ِنقرہ کہا جاتا ہے. .اور لکھائی سے مخلتف رنگوں کی جھلک بھی نمایاں ہتی ہے ،
4: قرآن مجید کے کاغذ کو آگ لگنے سے مکمل محفوظ بنایا گیا تھا.
5: اس قرآن مجید کا ہر صفحہ الگ الگ اور مختلف قسم کی خوشبوؤں میں بسایا گیا ہے کہ چار سو سال گزرنے کے بعد بھی آج بھی اس میں مہک آتی ہے ،
6: اس پر اورنگ زیب عالمگیر کے دستخط بھی موجود ہیں
.
 بشکریہ : جناب بے باک صاحب اورالغزالی اردو فورم  

اگلا صفحہ >>>

تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.