امت مسلمہ

ایک نومسلم کا اعلیٰ ایمان ۔ ۔ ۔ ۔

ایک نومسلم کا اعلیٰ ایمان



خامہ فرسائی: چاہت محمد قاسمی
مدرسہ فیض العلوم یاسینیہ گنگوہ

آج اس وقت ایمانی کیفیت کا عجب نمونہ دیکھا، جس وقت ہمارے ایک نومسلم بھائی کو ختنہ کے بعد آپریشن تھیٹر سے باہر لایا گیا، محترم بھائی اسٹریچر پر سیدھے آسمان کی طرف رخ کر کے لیٹے ہوئے تھے،ان کا دایاں ہاتھ ناف پر براجمان تھا جس کی متحرک انگشت شہادت نے ہماری نگاہ کو مقناطیسی طرز پر یک جگہ محدود کرلیا تھا، یہ دائیں ہاتھ کی انگشت شہادت گھڑی کی سوئی کی طرح تقریبا 2 سیکنڈ کے وقفہ سے بار بار مسلسل حرکت کر رہی تھی، انگشت شہادت کی حرکت ایک مسلمان کے ذہن میں بجلی کی سرعت سے بھی تیز کلمہ شہادت پر دلالت کرتی ہے، لیکن جب ہم لمبے لمبے قدم اٹھاتے ہوئے ان کے اسٹریچر کے پاس پہونچے تو ہم نے ایمان کی معراج کا نمونہ دیکھا، ایک فرشتہ سے افضل انسان کی زیارت کی، ایک مضبوط ایمان کی کیفیت کا مشاہدہ کیا، ہم نے دیکھا محترم نومسلم کی آنکھیں بند ہیں ، اور وہ بے ہوشی کی حالت میں ہیں، لیکن بحالت بے ہوشی بھی ان کی زبان پر کلمہ شہادت سرگوشی کے انداز سے جاری ہے، جس کو توجہ کے بعد بخوبی سنا جا سکتا تھا اور اشہد پر ان کی انگشت شہادت باربار حرکت کرتی رہی،سبحان اللہ تعالی۔
 
ہمارا یہ بھائی ــــــ عمر 22 سال ــــــ انجینئرنگ کے لاسٹ ایئر میں تقریبا 7 مہینے قبل مسلمان ہوا تھا، لیکن ان ساتھ مہینوں میں ان کے ایمان کی کیفیت کا اندازہ دیکھئے کہ بحالت بے ہوشی بھی کلمہ کا ورد جاری ہے، سبحان اللہ تعالی۔
 
جونیر ڈاکٹر نے بتایا کہ جب ہم کسی کو بے ہوشی کا انجیکشن دیتے ہیں تو کوئی گالی گلوچ کرتا ہے، کوئی مغلظات بکتا ہے، کوئی چیختا چلاتا ہے، کوئی عجیب عجیب حرکات کا مرتکب ہوتا ہے، حالانکہ ان میں سے اکثر لوگ مسلمان ہی ہوتے ہیں ، لیکن ان نو مسلم بھائی کی حالت بڑی عجیب دیکھی کہ جب سے ان پر بے ہوشی طاری ہوئی اسی وقت سے ان کی زبان پر کلمہ شہادت بھی جاری ہے، حالانکہ ان پر بے ہوشی اس وقت غالب ہوئی جب کہ یہ ڈاکٹر کے ساتھ محو گفتگو تھے، لیکن پھر بھی ان کی ایمانی کیفیت کا اندازہ لگائے کہ بے ہوشی کی حالت میں بھی کلمہ شہادت ورد کرتے رہے، سبحان اللہ تعالی۔ 
22
سال کی عمر میں ختنہ کرانا کوئی آسان نہیں ہے، باقاعدہ ایک آپریشن کی شکل ہوتی ہے، اور انسانی فطرت کے مطابق ڈر اور دہشت ان پر بھی محسوس ہوتا تھا، جس کی وجہ سے ہم کسی چیخ کے منتظر تھے، اور اسی لئے میں نے ان سے کہا تھا بھائی اگر مشکل محسوس ہو تو بول دینا، بغیر ختنہ کے بھی انسان مسلمان صحیح طور پر بنا رہتا ہے، لیکن ان کا جواب تھا…
 ۔ ۔ ۔ ۔  نہیں، مجھے ختنہ کرانی ہے کہ یہ ایک سنت ہے، اور میں کسی سنت کو چھوڑنا نہیں چاہتا ۔ ۔ ۔ ۔
 ( یہاں ہم نام نہاد پیدائشی مسلمان اپنے گریبانوں میں جھانکیں کہ ہم روز کتنی سنتوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ )


خیر ان کی یہ کیفیت ہم سب مسلمانوں کے ایمان کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی تھی، اور شاید یہی وجہ تھی کہ جونیئرڈاکٹر صاحب نے ہماری جمع شدہ رقم واپس کردی، جب ہم نے استفسار کیا تو گویا ہوئے - - - -     فی سبیل للہ  - - - -

سبحان اللہ تعالی

آپ سے گذارش ہے کہ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالی ہمارے نومسلم بھائی کو ثابت قدمی عطا فرمائیں

دعا کا طالب
چاہت محمد قاسمی

فلسطینی لوگ اور فلسطینی ڈاکٹر اصلی ہیرو ہیں . .ڈاکٹر میڈز گلبرٹ


غزہ پر اسرائیلی حملوں کے دوران وہاں کام کرنے والے ایک طبی ماہر کے مطابق ماضی کے برعکس اس بار اسرائیلی فوج نے منظم طریقے سے حملے کیے ہیں جس میں انھوں نے عام شہریوں کے مکانات کو ہدف بنایا ہے۔

ڈاکٹر میڈز گلبرٹ سے غزہ کی وزارتِ صحت نے درخواست کی تھی کہ وہ حالیہ بحران کے دوران غزہ کے الشفا ہسپتال آئیں۔ ڈاکٹر گلبرٹ کے مطابق یوں وہ ایک ڈاکٹر نہ کہ کارکن کی حیثیت سے غزہ گئے اور الشفا ہسپتال میں 15 روز تک کام کرنے کے بعد حال ہی میں ناروے واپس لوٹے ہیں۔

غزہ سے انھوں نے ایک خط لکھا جو مڈل ایسٹ مانیٹر یا ’میمو‘ کی ویب سائٹ پر شائع ہوا۔
اس خط میں ڈاکٹر گلبرٹ نے امریکی صدر براک اوباما کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا:
’مسٹر اوباما کیا آپ کا دل ہے؟ میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ ایک رات، بس صرف ایک رات، ہمارے ساتھ الشفا میں گزاریں۔
 مجھے سو فیصد یقین ہے کہ اس سے تاریخ تبدیل ہو جائےگی۔‘



یہ خط سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ میں نے میڈز گلبرٹ سے پوچھا کہ جو رات ان کے خیال میں اوباما کا دل اور اس کے نتیجے میں تاریخ تبدیل کر سکتی ہے وہ رات کیسی ہے؟
اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’اس رات ایک بہت بڑی تعداد میں زخمی ہونے والے عام شہری ہسپتال لائے گئے جن میں کئی بچے تھے اور شفا ہسپتال ایک جنگ زدہ علاقہ لگ رہا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہر جگہ مرنے والے یا مرے ہوئے لوگ نظر آ رہے تھے۔ کبھی کبھی آپ خود کو انتہائی بے بس محسوس کرتے ہیں۔ کام نہایت سخت ہے۔ ہسپتال میں جگہ جگہ گوشت کے ٹکڑے اور خون نظر آ رہا تھا۔‘

اس سوال پر کہ کیا ہر روز شفا ہسپتال میں ایسا ہی منظر پایا جاتا ہے؟؟؟؟     
 ڈاکٹر میڈز کہتے ہیں کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اسرائیل کی طرف سے حملے کب ہوں گے اور ان کی شدت کیا ہوگی۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس بار غزہ میں کسی ایک دن دس سے لے کر چار سو تک زخمی لوگ ہسپتال میں آتے ہیں اور شفا ہسپتال کے لیے سب سے بڑی مشک یہی ہے کہ وہ اتنی تعداد میں لوگوں کا کیسے علاج کریں گے۔‘

میڈز گلبرٹ کے لیے فلسطین کوئی نا آشنا جگہ نہیں ہے۔ وہ پہلی انتفاضہ (1993-1987) کے وقت سے غزہ کے صحت کے نظام سے وابستہ ہیں۔ میڈز کہتے ہیں کہ طبی خدمت فراہم کرنے کے علاوہ وہ فلسطین میں ’گواہ کی حیثیت‘ سے بھی جاتے رہے ہیں تا کہ وہ صورت حال کی تفتیش اور اس کے بارے میں حالات قلم بند کر سکیں۔ ڈاکٹر گلبرٹ اپنے اس کام کو ’سولیڈیرٹی میڈیسن‘ یا ’اتحاد میڈیسن‘ کہتے ہیں، جس کے تحت ’جن لوگوں کو شدید ضرورت ہے ان کی مدد کی جائے۔‘

ماضی کے تجربات کے مقابلے میں میڈز گلبرٹ کہتے ہیں کہ ’2009 اور 2012 کے حملوں کے مقابلے میں یہ اسرائیل کی جانب سے سب سے شدید حملہ ہے جس میں ایک بڑی تعداد میں لوگ مارے اور زخمی ہوئے ہیں جن میں سینکڑوں بچے بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر کے مطابق ’اس بار اسرائیلی فوج نے منظم طریقے سے حملے کیے ہیں جس میں انھوں نے عام شہریوں کے مکانات کو ہدف بنایا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’بڑی تعداد میں ایک ہی خاندان کے لوگ ہسپتال آتے تھے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حملوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘
اقوام متحدہ کے مطابق اس بحران میں ہلاک ہونے والے 85 فیصد فلسطینی عام شہری تھے جبکہ چار فیصد اسرائیلی عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ یو این کے مطابق 16 ہزار تک گھر مکمل یا جزوی طور پر تباہ کیے گیے ہیں۔

ڈاکٹر میڈز کے مطابق یہ ایک شدید انسانی بحران ہے جو کہ اب تک جاری ہے کیوں کہ اس وقت غزہ میں 485 ہزار فلسطینی بے گھر ہیں جن میں سے کئی لوگ شفا ہسپتال علاج کے لیے آئے تھے اور ’ان کے پاس واپس جانے کے لیے اب کوئی گھر نہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ مزید 9,300 زخمی لوگوں کو علاج کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر میڈز کی نظر میں اسرائیل کا حملہ حماس کے خلاف نہیں بلکہ ’فلسطینی لوگوں کے خلاف‘ ہے ۔

جاری جنگ بندی کے حوالے سے ڈاکٹر میڈز گلبرٹ کا کہنا ہے کہ فلسطینی ’ماضی کی طرح محض جنگ بندی نہیں چاہتے، بلکہ اپنا حق مانگتے ہیں۔ وہ غلاموں کی زندگی نہیں گزارنا چاہتے اور اس جنگ بندی کے دوران ان کے مطالبوں کو سنا جانا چاہیے۔‘

جب ان سے سوال کیا گیا کہ ڈاکٹر ہونے کے ناطے وہ بالخصوص کن چیزوں کی توقع کرتے ہیں تو گلبرٹ نے جواب دیا: ’بم دھماکے فوری طور پر روکے جانے چاہییں، محاصرہ ختم کر دیا جائے، سرحدوں کو کھول جائے تا کہ زخمی لوگوں کو غزہ سے باہر اچھا علاج مہیا کیا جا سکے اور ادویات کو غزہ میں آنے کی اجازت دی جائیں۔‘


ڈاکٹر میڈز پر اکثر تنقید کی گئی ہے کہ وہ اپنے پیشے کے ساتھ ساتھ سیاسی رائے رکھتے ہیں اور اسرائیل کے خلاف پروپگینڈا کرنے میں ملوث ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اصل ’میڈز گلبرٹ‘ کون ہیں، تو انھوں نے کہا کہ ’میں ایک انسان ہوں اور جہاں بھی کسی کو مدد چاہیے ہو گی، چاہے وہ ناروے کے کسی گاؤں میں ہو یا غزہ میں تو میں اسی کی طرف داری کروں گا۔ ایک عام آدمی کی حیثیت میں میں جتنی بھی سیاسی رائے رکھتا ہوں، میں بس انصاف چاہتا ہوں۔‘

ناروے اور دنیا بھر میں کئی لوگ ڈاکٹر میڈز گلبرٹ کو ہیرو سمجھتے ہوں گے لیکن ان کہنا ہے کہ  ۔ ۔

’فلسطینی لوگ اور فلسطینی ڈاکٹر اصلی ہیرو ہیں

 وہ اپنے وقار سے ہمیں انسان ہونا اور انسانیت کا مطلب سکھا رہے ہیں۔‘





انداذِ دعا ۔ ۔ ۔


اسکی عادت تھی کہ وہ اذان سے کافی پہلے مسجد میں  آجاتا اور وضو کرکے قران پاک کی تلاوت شروع کردیتا اس طرح جماعت ہونے سے پہلے اسے تلاوت کے لیے کافی وقت مل جاتا –

 آ ج بھی کچھ اسی طرح ہوا تھا وہ مسجد میں بیٹھا تلاوت کر رہا  تھا کہ ایک  چھوٹا  بچہ مسجد میں داخل  ہوا اور  ۔ ۔ ۔  اور ہاتھ منہ دھو کر مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ گیا-

اس نے مسکرا کر بچے کی طرف دیکھا تو بچے نے بھی  مسکراہٹ سے جواب دیا. وہ سر جھکا کر پھر تلاوت  میں مشغول ہوگیا.

 تھوڑی دیر بعد تلاوت کے دوران اس نے سر اٹھا کر دیکھا  تو وہ چھوٹا سا بچہ اپنے ننھے ہاتھ اٹھا کر آنکھیں بند  کرکے دعا مانگ رہا تھا. اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی، بچے کا دعا مانگنے کا انداز اتنا   پیارا تھا کہ وہ بے  ساختہ قرآن مجید بند کرکے اسے دیکھنے لگا. 

تھوڑی دیر بعد اس بچے نے دعا ختم کی اور باہر جانے  لگا اس کا دل چاہا   کہ وہ اس بچے کی حوصلہ افزائی  کے لیے اسے کچھ دے. اس نے بچے کو پاس بلایا اور سر  پر ہاتھ پھیر کر اس کو سو روے کا ایک نوٹ   دیا. بچے    نے تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے بعد وہ نوٹ قبول کرلیا  اس نے بچے سے پوچھا کہ بیٹا تم اللہ سے کیا دعا مانگ  تھے رہے؟

بچے نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میرا چاکلیٹ کھانے  کو بہت دل کررہا تھا تو میں نے اللہ سے سو روپے مانگے تھے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

  یہ کہہ کر وہ بچہ چلا گیا بچے کے جانے کے بعد بھی وہ اسی سمت دیکھتا رہا  جس طرف وہ بچہ گیا تھا، جو اسے یقین اور اخلاص سے دعا مانگنے کا ایک طریقہ سمجھا گیا تھا   ۔ ۔ ۔ ۔ !!!!




آہ    ۔ ۔ ۔  فلسطین  !!!!





آہ    ۔ ۔ ۔  فلسطین  !!!!

دینی مدارس کے طلباء اور ٹیکنیکل کام ـ تجویز یا اعتراض

دینی مدارس کے طلباء اور ٹیکنیکل کام ـ


 درس نظامی کے طلبا ہنر مندی سے عاری ہوتے ہیں۔ انہیں ٹیکنیکل کام سکھائے جائیں تاکہ معاشی طورپر خود کفیل ہو کر اسلام کی خدمت فی سبیل اللہ سر انجام دے سکیں  ۔ ۔ ۔ !!!

اسے اعتراض کہیں یا تجویز  ؟ ؟ ؟ 


معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی اگر غورکرے تو یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیگا کہ دینی مدارس کے فضلا اور مولوی حضرات کے ساتھ یہ امتیاز ی سلوک کیوں ہے ! وکیلوں اور ججوں سے کیوں نہیں کہا جاتاکہ وہ ٹیکنیکل کام سیکھ کر اپنی گزر بسر کریں اور قوم کی قانونی رہنمائی فی سبیل اللہ سر انجام دیں ! ڈاکٹر وں اور انجینئروں سے کیوں نہیں کہا جاتا کہ وہ دستکاری اور ہنر سیکھ کر اپنے اخراجات پورے کریں اور طبی مشورے اور تعمیراتی رہنمائی، خدمت خلق کے جذبہ کے تحت بلا معاوضہ سر انجام دیں ! اسمبلی ممبران اور انتظامی امور چلانے والے افسران سے کیوں نہیں کہا جاتاکہ وہ قانون سازی اور انتظامی معاملات کو قومی جذبہ سےسرشار ہو کر انجام دیا کریں اور اپنے ذاتی اور گھریلو اخراجات کیلئے کوئی ہنر سیکھ کر ’’الکاسب حبیب اللہ‘‘ پر عمل کرنے کی سعادت حاصل کیا کریں۔۔۔!

اگر وکیل عدالت میں پیش ہونیکا سلیقہ سکھا تا ہے اور قانونی رہنمائی فراہم کرکے حق الخدمت وصول کرتاہے تو ایک عالم دین، احکم الحاکمین کے دربار میں پنج وقتہ پیشی میں معاونت کرتاہے اور مذہبی رہنمائی فراہم کرتاہے ۔۔۔! اگر جج لوگوں کے مقدمات کے فیصلے کرکے تنخواہ کا مستحق ہوتاہے توایک عالم دین مسلمانوں کے معاملات اور مسائل کو کتاب وسنت کی روشنی میں سلجھا کر معاشرہ کی بہت بڑی ضرورت پوری کرتاہے۔ اگر ڈاکٹر جسمانی علاج کرتاہے تو ایک عالم دین جسمانی تقاضوں کو شریعت کے مطابق پورا کرنیکا طریقہ بتاتا ہے اور روحانی علاج میں رہنمائی فراہم کرتاہے۔  اگر انجینئر آپ کو سر چھپا نے کی جگہ بنانے میں مشوروں سے نوازتاہے اور مشینری کے ستعمال کے طریقے بتاتا ہے تو ایک عالم دین قبر کی تعمیر وکشادگی، عرش کا سایہ اور جنت کے عظیم الشان محلات کی تعمیر میں آپ کو مشورے دیتاہے اور آپ کے جسم کی مشینری کے جائز استعمال کے طریقے سکھاتاہے آپ ذرا کسی ایسے مفتی صاحب کا تصور کریں جو ٹیکنیکل کام سیکھ کر روزی کمانے کی فکر میں ہو۔ آپ کوئی اہم مسئلہ پوچھنے دارالافتا پہنچے تو معلوم ہوا کہ مفتی صاحب کسی کی واشنگ مشین یا ریفریجریٹر ٹھیک کرنے گئے ہوئے ہیں یا ادھاری وصول کرنے گئے ہوئے ہیں۔

فوری ضرورت کا مسئلہ درپیش ہے مگر مولانا صاحب اپنے اور بچوں کے معاش کا انتظام کرنے میں مصروف ہیں۔ اگر مولوی صاحب کی دکان صدر میں ہے اور امامت شہر کے کسی دوردراز  علاقے میں کرواتے ہیں تو ذرا انصاف سے بتلائیے کہ اوپر تلے عصر، مغرب اور عشا کی امامت کیلئے کیا صورت اختیار کی جائے گی؟ عوام کا تو یہ حال ہے کہ خود بھلے چوتھی رکعت میں پہنچیں مولوی صاحب کسی مجبوری کے سبب اگر چار منٹ بھی لیٹ ہوجائیں تو انہیں خونخوار نظروں سے گھورا جاتا ہے ہمیں فیصلہ یہ کرنا ہوگا کہ دینی مدارس کے فضلا سے ہم نے کس شعبہ\" زندگی میں کام لیناہے؟ ہر فن کے ماہر اور ہر میدان کے شہسوار ہوتے ہیں اور ان کا دائرہ کار ان کا فن ان کے میدان تک محدود ہوتاہے کسی سرجن سے ہم نے کبھی مطالبہ نہیں کیا کہ اسےتعمیراتی نقشوں میں مہارت ہونی چاہئے اور بجری اور سیمنٹ کا تناسب )Ratio( معلوم ہونا چاہئے اور نہ ہی کسی انجینئر کیلئے ہم مشورہ دیتے ہیں کہ اسے آنکھ کے پردے یا دل کی جھلی اور پھیپھڑوں کےفنکشن کے متعلق معلومات نہ ہوں تو اسے ملازمت نہیں ملے گی لیکن دینی مدارس کے فضلا سے ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ انہیں جدید ٹیکنا لوجی میں مہارت ہونی چاہئے اور اپناپیٹ پالنے کیلئے کوئی ہنر سیکھنا چاہئے۔

آخر کیوں؟ ؟؟؟

بشکریہ  فیس بک / واٹس  اپ احباب

جھوٹے مہدی ومسیح کے خلاف دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ۔ مولانا شاہ عالم گورکھپوری

جھوٹے مہدی ومسیح کے خلاف دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ۔ مولانا شاہ عالم گورکھپوری 
مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنی مساجد سے ایسے لوگوں کو دور رکھیں ۔
​

دیوبند ۲۸ مارچ ( عارف عثمانی ) دارالعلوم دیو بند کے شعبہ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب ناظم مولانا شاہ عالم گو رکھپوری نے پریس کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ الیکشن کی گہما گہمی اور مسلمانوں پر چھوٹے مقدمات والزامات کے درمیان دہلی کے مسلمان ایک اور نئے جھوٹے مہدی کی پریشانی سے جھو جھنے لگے ہیں ۔ مصدقہ خبروں کے مطابق در بھنگہ بہار سے تعلق رکھنے والے شکیل بن حنیف نامی ایک شخص نے مہدی اور مسیح ہو نے کا دعویٰ کر کے جامعہ ملیہ کی دیگر یو نیورسٹیوں کے ایسے طلبا کو اپنے دام فر یب میں لینا شروع کر دیا ہے جو دین کی بنیادی تعلیم سے بھی نا واقف ہیں ۔ دارالعلوم دیوبند نے فتویٰ جاری کر کے مسلمانوں کو ایسے غلط لوگوں سے خود کو اور اپنے ایمان کو بچانے کی ہدایت جاری کر دی ہے ۔

مولانا شاہ عالم نے بتا یا کہ سیاسی اور معا شرتی میدان میں مسلمان جہاں آزمائش سے گذررہے ہیں وہیں ان کے مذہب کو بھی آزمائش میں ڈالا جارہا ہے ۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنی مساجد سے ایسے لوگوں کو دور رکھیں ۔ مولانا مو صوف نے اس بات کی تصدیق کی کہ گذشتہ دنوں جامعہ کے علاقے میں بڑے پیمانے پر تین دن کا

تربیتی کیمپ مجلس تحفظ ختم نبوت ساؤتھ دہلی کی جانب سے لگایا جس میں علاقہ کے ائمہ اور علماء نے شرکت کی اور تازہ فتنہ سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کا طور طریقہ سیکھا ۔انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ دنوں دارالعلوم دیوبند کے مفتیان کرام سے ایک صاحب نے با الترتیب تین سوالات پو چھے (۱)جو مسلمان شکیل بن حنیف در بھنگوئی کو احادیث صحیحہ کے مطابق عبد اللہ مہدی کا مصداق مانتے ہیں ایسے لوگوں کو مسلمانوں میں شمار کیا جائے یا نہیں ؟ اگر مسلمانوں میں وہ شمار نہیں ہیں تو ان کے ساتھ مسلمانوں جیسا میل جول رکھنا، ان کے ساتھ شادی وغمی میں شرکت یا خود ان کو اپنے گھر میں دعوت وغیرہ میں بلانا ازروئے شریعت کیا ہے ؟(۲) جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ شکیل بن حنیف کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں ان کے اس عمل کو بیعت سے تا بیر کرنا درست ہے یا نہیں ؟ نیر ایسے لوگوں کو مسلمانوں کی مساجد میں دخول اور عبادت گزاری کی اجازت ہے یا نہیں ؟ (۳) شکیل بن حنیف کے ماننے والے بھی اپنی عبادت کو نماز ، روزہ ، تلاوت وغیرہ کہتے ہیں اُن کا اس طرح کہنا صحیح ہے ؟ اگر نہیں تو مسلمان ان کی عبادت کو کیا نام دیں اور کیا کہیں ؟ دلائل کی روشنی واضح فر مایا جائے تا کہ مسلمانوں کو شرعی رہنمائی مل سکے ۔اس کے جواب میں دارالعلوم کے مفتیان میں اپنے جواب میں کہا کہ (۱) مہدی اور مسیح سے متعلق جو احادیث صحیحہ متواترہ ہیں ان احادیث کو شکیل بن حنیف پر چسپاں کر کے جو لوگ اس (شکیل ) کو مہدی مانتے ہیں وہ از خود دائرہ اسلام سے باہر ہیں ایسے لوگوں کے ساتھ میل جول اسلامی روا داری اُ ن کی شادی غمی میں شرکت اُن کی تقریبات میں جانا جائز نہیں ہے ۔ اسی طرح ایسے شخص کے ہاتھ بیعت کر نے کے عمل کو بیعت ہونا نہیں بلکہ مرتد ہونا کہا جائے گا جو حرام اور گناہ ہے اور جب شکیل بن حنیف اور اس کے پیرو کار اسلام میں داخل ہی نہیں ہے تو ان کی اپنی مساجد میں عبادت گزاری کی وغیرہ کی اجازت دینا شرعاً درست نہیں ، متولیان مساجد اور تمام مسلمانوں پر لا زم ہے کہ اُکو اپنے مساجد سے دور اور پاک رکھیں ۔ نیز اسلام کے لئے مخصوص اصطلاحات کا استعمال جیسے قادیانویوں اور دیگر کافروں کے لئے جائز نہیں ایسے ہی شکیل بن حنیف کے پیرو کاروں کیلئے بھی جائز نہیں ۔ مسلمانوں کو ان لوگوں کی عبادت کو بجائے نماز کے پو جا سے اور روزہ کو بَرت واُپواس سے اور تلاوت کو پڑھنے سے تعبیر کرنا چاہئے تا کہ اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے دوسرے مسلمانوں کو مغالطہ نہ ہو اور غلط فہمی میں کو اُن کو مسلمان نہ سمجھ بیٹھے ۔
 بشکریہ اردو صحافت دہلی

حلال فوڈ - کوکب اسلام ابڑو



۔ ۔ ۔ ۔ میں کراچی کے ایک مشورریسٹورنٹ میں بیٹھا ایک دوست کا انتظار کررہا تھا ۔ ۔ ۔ کہ چار آدمی داخل ہوۓ ، جن میں سے ایک بہت بڑا افسر بھی تھا ۔

 انھوں نے ٹیبل پر بیٹھ کے بیرے کے آنے پر آرڈر سے پہلے پوچھا  ۔ ۔ ۔

"یہاں حلال فوڈ ہی ہوتا ہے نا؟"

 بیرا بیچارہ پرشان ہوگیا کہ پاکستان میں ایسا سوال  ؟ ؟ ؟ ؟ ؟

 خیر اس نے سنبھل کے کہا "

 جی سر، فوڈ حلال ہی ہے، ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن میں امید کرتا ہوں کہ جب آپ پیمنٹ کرینگے تو وہ بھی حلال کی کمائی سے ہی ہوگی"!!!!!!

بس پھر تو کچھ مت پوچھو کہ  اس افسر اور ا س کے ساتھیوں کا کیا حال ہوا ۔

 ۔۔ ۔ ۔  ۔ ) کوکب اسلام ابڑو (

اگلا صفحہ >>>

تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.