غزل

ہے عبث ہند میں، انسان کا انساں ہونا - غزل - نون میم

طرحی غزل

کبھی مایوس ، کبھی تیرا پریشاں ہونا
مجھ سے ملنے کے لئے دل کا وہ خواہاں ہونا

سارے عالم پہ ترے عشق کا افشاں ہونا
اور اس پر بھی مری جاں ترا خنداں ہونا

وہ کبھی روٹھنا، بے وجہ مری جاں مجھ سے
پھر اسی بات پہ تیرا وہ پشیماں ہونا

یاد آتا ہے ترا سجنا سنورنا اے صنم
دیکھ کر آئینے میں خود کو ہی حیراں ہونا

چھوڑ دیتا ہوں مقدر پہ میں انجام اپنا
"‌‌مجھ کو آتا نہیں بے وجہ پریشاں ہونا"

طعنے سن سن کے بھی، کرتے ہیں وطن سے الفت
اتنا آسان نہیں، ہندی مسلماں ہونا

گائے محفوظ ہے، محفوظ نہیں ہے انساں
ہے عبث ہند میں، انسان کا انساں ہونا

رب کو ہر حال میں خوش رکھنا، "مسلمانی"ہے
اتنا آسان نہیں، نوؔر مسلماں ہونا

کاوش: نون میم: نوؔرمحمد ابن بشیر
۱۲شوال المکرم ۱۲۰۱۷ / ۷ جولائی ۲۰۱۷ء


اور۔.... اک ہزل کا شعر۔۔۔
لینا پنگا ترے بھائی سے، کبھی کنبے سے
میرا وہ تیرے لئے دست و گریباں ہونا









دل آ گیا ہے تجھ پہ ترا ہی خمار ہے - طرحی غزل

طرحی غزل 
دل آ گیا ہے تجھ پہ ترا ہی خمار ہے
دل پہ اے یار میرا نہیں اختیار ہے

کس کا بتا اے دل مرے اب انتظار ہے
کس کے لئے یہ آنکھ مری  اشکبار ہے

کیچڑ نہ یوں اچھال تو کردار پر مرے
دامن ترا بھی یار مرے داغدار ہے

بدلا ہے اور نہ بدلے گا  اسلام کا اصول
بنیاد اس کی ٹھوس بہت پائدار ہے

نیت اگر ہو ٹھیک عمل نؔور ہر درست
ہر اک عمل کا اس پہ ہی دارومدار ہے

نون میم : نوؔرمحمد ابن بشیر

16 رجب المرجب 1438 ھ

دیدے اب ایک حسیں نیک سی دختر مجھ کو - نون میم

طرحی مشاعرہ ۔۔۔ محبانِ اردو گروپ

طرحی مصرعہ :
‌" کوئی دیتا ہے صدا دور سے اکثر مجھ کو ‌"
..............................

اب نہ بھائے کوئی محفل کوئی منظر مجھ کو
‌" کوئی دیتا ہے صدا دور سے اکثر مجھ کو ‌"

کوئی ترکیب نئی ڈھونڈ لے اب تو جانم
تیری ہر چال ترا وار ہے ازبر مجھ کو

ایک دن آئے گا، ہاں آئے گا، ہاں آئے گا
اپنی الفت کا بنا لے گا وہ محور مجھ کو

سنگِ اسود میں بھی کیا رب نے اثر رکھا ہے
ایک بوسے سے بنا دے وہ منور مجھ کو

نعمتیں لاکھ عطا کی ہیں مرے رب تُونے
دیدے اب ایک حسیں نیک سی دختر مجھ کو

میری اوقات نہیں پھر بھی بنا دے یارب
میرے آقاﷺ کے غلاموں کا ہی نوکر مجھ کو

میں نے جب نوؔر کہی دل کی لگی دنیا سے
اہلِ دنیا تو سمجھ بیٹھےسخن ور مجھ کو
............ ............
نُون میم : نوؔرمحمد ابن بشیر
کوسہ، ممبرا، تھانہ ، الہند
بتاریخ. ٤ جمادی الآخر ١٤٣٧ ھ ۔۔14 فروری 2016
............ ............ ............ ......




آباد بھی ہوئے ہمیں برباد بھی ہوئے‌ : طرحی غزل ـ نون میم

طرحی غزل
.
ہیں خوش نصیب کچھ جو یاں آباد بھی ہوئے
کچھ بدنصیب ہیں کہ جو برباد بھی ہوئے

مانا ہوئے لطیف ہر اک یار کے لئے
پر ہم عدو کے سامنے فولاد بھی ہوئے

اُن سے نظر ملی نہ ہوئی بات کچھ مگر
قصّے ہمارے وصل کے ایجاد بھی ہوئے

تنہا ہوں میں ابھی بھی ترے انتظار میں
سب یار میرے, صاحبِ اولاد بھی ہوئے

اب کون سا بہانہ بنائے گا تو بتا
تیرےسبھی بہانے مجھے یاد بھی ہوئے

ہم کیا سنائیں عشق کی روداد تم کو نوؔر
‌" آباد بھی ہوئے ہمیں برباد بھی ہوئے‌"
......................
نون میم : نوؔرمحمد ابن بشیر
کوسہ، ممبرا، تھانہ، الہند
١٧ ربیع الآخر ١٤٣٧ھ ۔ ٢٨ جنوری ٢٠١٦ ء
......................

غزل : مجھ کو ہر سایۂ دیوار سے ڈر لگتا ہے ۔ نون میم

دبستان سخن مصرعہ :
مجھ کو ہر سایۂ دیوار سے ڈر لگتا ہے
▪▪▪▪▪▪▪▪

مجھ کو محبوب کے انکار سے ڈر لگتا ہے
اس لئے عشق کے اظہار سے ڈر لگتا ہے

ہائے کیا دور ہے یہ، کیسا زمانہ ہے اب
ہم کو اپنوں کے ہی کردار سے ڈر لگتا ہے

کام ان کا ہے فقط وعدوں پہ وعدے کرنا
وعدے والی، ہمیں سرکار سے ڈر لگتا ہے

مجھ کو اکثر ملے ہیں دھوکے مرے اپنوں سے
‌" مجھ کو ہر سایۂ دیوار سے ڈر لگتا ہے‌"

اک زمانہ تھا کہ ہتھیار تھا زیور اپنا
اب تو لٹکی ہوئی تلوار سے ڈر لگتا ہے

دل سے دنیا کی ہوس نوؔر نکل جائے تو
مال و زر درہم و دینار سے ڈر لگتا ہے
▪▪▪▪▪▪▪

نون میم : نوؔر محمد ابن بشیر
کوسہ ، ممبرا، تھانہ الہند
21 ربیع الاول 1437 ـ 2 جنوری 2016
▪▪▪▪▪▪▪

وفا کی بات کرنے سے وفا داری نہیں آتی





آن لائن مشاعرہ :  مُحِبّانِ اُردو گروپ
ہوئے تذلیل ہم پھر بھی سمجھداری نہیں آتی
بڑا افسوس ہے امت میں بیداری نہیں آتی

مسلماں کی وفاداری پہ شک جو کرتے ہیں سن لے
یہ مسلم قوم ایسی ہے کہ غداری نہیں آتی

وفاداری کی مالا جپنے والو غور سے سن لو
‌”وفا کی بات کرنے سے وفاداری نہیں آتی‌”

سرِ بازار الفت کا وہ سودا کر رہے ہیں پر
محبت کی ہمیں کرنے خریداری نہیں آتی

بھلا کیوں کھیل لگتی ہے مری الفت تمہیں جانم
میں عاشق ہوں ترا ، مجھ کو اداکاری نہیں آتی

 یہ ہے فرمان آقا ﷺ کا، کہ پاکی نصف ایماں ہے
رہو تم پاک تو باطن کی بیماری نہیں آتی

ہو گرمظلوم تو ہم ساتھ دیں گے اس کا ہر دم نوؔر
ہو ظالم تو ہمیں کرنے طرفداری نہیں آتی

نون میم ۔ نؔورمحمد ابن بشر
  کوسہ، ممبرا، تھانہ، الہند  ۔  18ذی الحجہ ١٤٣٦ھ،   ٣۔اکتوبر ٢٠١٥ء

غزل - لٹاتے تھے محبت میں وہ ساری پونجیاں پہلے - نون میم

لٹاتے تھے محبت میں وہ ساری پونجیاں پہلے
'
محبت میں کہاں تھے اس قدر سود و زیاں پہلے'

مری تعریف تو کرتے ہو مجھ پر اک کرم کر دو
بتاؤ مجھ کو یارو ہیں جو مجھ میں خامیاں پہلے

مرے مسکن پہ تم بجلی گرادو شوق سے لیکن
بنانے دو مجھے چھوٹا سا اپنا آشیاں پہلے

ذرا تاریخ کے اوراق کو پلٹاؤ اور دیکھو
نہ آیا ہند میں ایسا ہے قاتل حکمراں پہلے

دلِ مسلم میں پِنہاں تھا وہ ایسا جذبہء ایمانی
سبھی آتے تھے مسجد میں جو ہوتی تھی اذاں پہلے

شجاعت کی کہانی آ کے ہم پر ختم ہوتی ہے
ٹھہر بھائی! ذرا سن لے ہماری داستاں پہلے

ہاں ماضی کے دریچوں میں کبھی تم جھانک کر دیکھو
سنہرے حرف سے لکھی تھی ہم نے داستاں پہلے

تجھے کچھ یاد ہے اسلاف کے وہ کارنامے نوؔر
جلائی تھیں کبھی ساحل پہ اپنی کشتیاں پہلے

 کاوش : نون میم - نورمحمد ابن بشیر
ممبرا – تھانہ - الہند
١٠ ذی القعدۃ ١٤٣٦ھ
26
اگست 2015 ء

اگلا صفحہ >>>

تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.