مسائل - فتاوی

حلالہ کیوں ۔ ۔ ۔ ۔ (حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم عالیہ )

حلالہ  کیوں ۔ ۔ ۔ ۔ (حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب  دامت برکاتہم عالیہ )

یہ خیال غلط ہے کہ  : حلالہ " کوئی تدبیر ہے جس پر عورت کو مجبور کیا جا رہا ہے ۔

اصل یہ ہے کہ جس شخص نے اللہ کی مقرر کی ہوتی تمام حدود کو پامال کرکے تینوں طلاقیں دے دیں وہ اب اس لائق نہیں  کہ ایک شریف عورت اس کے پاس رہے ۔ لہذہ حکم یہ ہے کہ اب اس سے نکا ح نہ کرو ، کوئی اور شوہر تلاش کرو ۔ ہاں !  اگر اس شوہر سےبھی نبھاؤ نہ ہو  اور وہ از خود طلاق دیدے ، تو اس صورت میں امید ہےکہ پہلا شوہر کچھ سبق حاصل کر چکا ہوگا ۔ اس لئے اگر اب اسے سے نکاح کرنے پر بیوی رضامند ہو  تو اس کی اجازت دیدی گئی ہے ۔

اور یہ جو محض حیلہ کے طور پر حلالہ کیا جاتا ہے  وہ شریعت کے منشاء کے خلاف ہے ۔۔

( فتاوی عثمانیہ ۔ جلد نمبر 1 ۔ صفحہ نمبر 138)
ناقل : نون میم
بشکریہ : جناب زبیر صاحب

بہت احتیاط کیجۓ ۔ ۔ ۔ ۔ !!!!!

بہت احتیاط کیجۓ   ۔ ۔ ۔ ۔  !!!!!

آجکل لوگ آیات قرآنی کا ترجمہ یا احادیث نبویہ یا صحابۂ کرام ، اولیاۓ کرام ، مشائخ عظام کے اقوال بہت روانی سے بغیر کسی ثبوت اور حوالہ کے لکھتے اور شئیر کرتے جارہے  ھیں ، جوکہ بہت خطرناک معاملہ ہے  ، اسلۓ کہ اگر آپ نے ایک آیت کا ترجمہ اپنی سوچ کے مطابق لکھ دیا اور وہ غلط تھا تو سمجھ جائیے کہ آپ نے قرآن کے ترجمہ میں تحریف کی ہے  ، جوکہ ایک کبیرہ گناہ ہے  ،

مشہور اردو تفسیر معارف القرآن کے مؤلف ، مفتئ اعظم پاکستان ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں آیات کا ترجمہ خود نہیں کیا بلکہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا تفسیر بیان القرآن میں کیا ہو ا ترجمہ بعینہ نقل کردیا ، اب سمجھ لیں کہ مفتئ اعظم پاکستان تو اتنا احتیاط کریں اور ھم کیسے بے دھڑک ترجمہ کرتے ہیں جاتے ؟ اگر کسی جگہ کسی آیت کو لکھ کر اس کا ترجمہ کرنا ضروری ہو  تو مفتئ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرح کسی مستند تفسیر سے دیکھ کر ترجمہ نقل کردیں اور اس تفسیر کانام اور اس کا صفحہ نمبر آخر میں ضرور لکھ دیں ، اپنی طرف سے کوئ وضاحت لکھنی ہو  تو برائیکٹ ( ) کے اندر لکھیں ، تاکہ واضح طور پر سمجھ آجاۓ کہ برائیکٹ والی بات آپ نے خود کی ہے  . اور حدیث کو بغیر ثبوت اور حوالہ کے نقل کر دینے اور بلا تحقیق شئیر کرنے کا " رواج " اور " شوق " تو اتنا پھیل گیا کہ اللہ پناہ میں رکہے  بس ! .. 

اور یہی حال صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے  اقوال ، اولیاۓ کرام اور مشائخ عظام رح کے اقوال بیان کرنے کا ہے  ، لوگ بے دھڑک اور بلاجھجک لکھتے اور شئیر کرتے جاتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ ۔

 " رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا "...           یا          " حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے  کہ " ...

اور نہ لکھنے والے کو کتاب کا نام اور صفحہ نمبر لکھنے کی ضرورت محسوس ہو تی ہے  ، نہ ہی شئیر کرنے والا تحقیق کی ضرورت محسوس کرتا ہے  اور رہے  کمنٹ دینے والے حضرات ، تو وہ خیر سے “بیشک " اور " سبحان اللہ " لکھ لکھ کر ان کی خوب حوصلہ افزائ کرتے جاتے ہیں . اس بات کی طرف توجہ کسی کی بھی نہیں جاتی کہ جتنا ثبوت کے ساتھ حدیث کو لکھ کر شئیر کرنا ثواب ہے  ، اس سے کہیں زیادہ گناہ بلاتحقیق و ثبوت کے کوئ بات حدیث بتا کر پیش کرنا اور لکھ کر شئیر کرنا ہے  ، اور ساتھ ساتھ اگر واقعی وہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یا حضرت علی رضی اللہ عنہ یا دیگر حضرات صحابہ یا مشائخ و اولیاء کا فرمان نہیں ہے  تو یہ لکھنے والے نے ان پر بہتان لگایا اور اس کو شئیر کرنے والا اور اس پر حوصلہ افزائ والے کمنٹ دینے والا بھی بہتان لگانے میں برابر کا شریک گناہ ، اور مجرم ہے  .

میرے استاد محترم ، شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم فرمایا کرتے ہیں کہ ان کو ان کے والد ماجد مفتئ اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے نصیحت فرمائ تھی کہ :

" اپنے قلم یا اپنی زبان سے وہ بات کرو جس کو اگر کبھی دنیا کی عدالت یا اللہ کی عدالت میں سچ ثابت کرنا پڑجاۓ تو واقعی سچ ثابت کرسکو ، ایسا کام کبھی نہ کرو جس کو سچ ثابت نہ کرسکو اور دنیا یا آخرت میں رسوا ہو جاؤ ! .. "


غور فرمائیے ! ...

آپ فیس بک پر جتنی تحریریں لکھ چکے ،

یا

کسی کی لکھی ہو ئ تحریروں کو شیئر کر چکے ،

یا

جن چیزوں کو آپ لائیک کرکے یا اچہے  کمنٹ دے کر ان کی تائید کر چک چکے ہیں ،

کیا آپ کو ان کو دنیا یا آخرت کی عدالت میں سچ ثابت کرسکیں گے ...؟

اگر آپ کا جواب ہے  " ہاں " میں تو مبارک ہو  ، ورنہ  ۔ ۔ ۔


خدارا ... احتیاط کیجۓ ! ...

فقط والسلام :
مفتی ابولائبہ عفان غفرلہ ،

جھوٹے مہدی ومسیح کے خلاف دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ۔ مولانا شاہ عالم گورکھپوری

جھوٹے مہدی ومسیح کے خلاف دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ۔ مولانا شاہ عالم گورکھپوری 
مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنی مساجد سے ایسے لوگوں کو دور رکھیں ۔
​

دیوبند ۲۸ مارچ ( عارف عثمانی ) دارالعلوم دیو بند کے شعبہ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب ناظم مولانا شاہ عالم گو رکھپوری نے پریس کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ الیکشن کی گہما گہمی اور مسلمانوں پر چھوٹے مقدمات والزامات کے درمیان دہلی کے مسلمان ایک اور نئے جھوٹے مہدی کی پریشانی سے جھو جھنے لگے ہیں ۔ مصدقہ خبروں کے مطابق در بھنگہ بہار سے تعلق رکھنے والے شکیل بن حنیف نامی ایک شخص نے مہدی اور مسیح ہو نے کا دعویٰ کر کے جامعہ ملیہ کی دیگر یو نیورسٹیوں کے ایسے طلبا کو اپنے دام فر یب میں لینا شروع کر دیا ہے جو دین کی بنیادی تعلیم سے بھی نا واقف ہیں ۔ دارالعلوم دیوبند نے فتویٰ جاری کر کے مسلمانوں کو ایسے غلط لوگوں سے خود کو اور اپنے ایمان کو بچانے کی ہدایت جاری کر دی ہے ۔

مولانا شاہ عالم نے بتا یا کہ سیاسی اور معا شرتی میدان میں مسلمان جہاں آزمائش سے گذررہے ہیں وہیں ان کے مذہب کو بھی آزمائش میں ڈالا جارہا ہے ۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنی مساجد سے ایسے لوگوں کو دور رکھیں ۔ مولانا مو صوف نے اس بات کی تصدیق کی کہ گذشتہ دنوں جامعہ کے علاقے میں بڑے پیمانے پر تین دن کا

تربیتی کیمپ مجلس تحفظ ختم نبوت ساؤتھ دہلی کی جانب سے لگایا جس میں علاقہ کے ائمہ اور علماء نے شرکت کی اور تازہ فتنہ سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کا طور طریقہ سیکھا ۔انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ دنوں دارالعلوم دیوبند کے مفتیان کرام سے ایک صاحب نے با الترتیب تین سوالات پو چھے (۱)جو مسلمان شکیل بن حنیف در بھنگوئی کو احادیث صحیحہ کے مطابق عبد اللہ مہدی کا مصداق مانتے ہیں ایسے لوگوں کو مسلمانوں میں شمار کیا جائے یا نہیں ؟ اگر مسلمانوں میں وہ شمار نہیں ہیں تو ان کے ساتھ مسلمانوں جیسا میل جول رکھنا، ان کے ساتھ شادی وغمی میں شرکت یا خود ان کو اپنے گھر میں دعوت وغیرہ میں بلانا ازروئے شریعت کیا ہے ؟(۲) جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ شکیل بن حنیف کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں ان کے اس عمل کو بیعت سے تا بیر کرنا درست ہے یا نہیں ؟ نیر ایسے لوگوں کو مسلمانوں کی مساجد میں دخول اور عبادت گزاری کی اجازت ہے یا نہیں ؟ (۳) شکیل بن حنیف کے ماننے والے بھی اپنی عبادت کو نماز ، روزہ ، تلاوت وغیرہ کہتے ہیں اُن کا اس طرح کہنا صحیح ہے ؟ اگر نہیں تو مسلمان ان کی عبادت کو کیا نام دیں اور کیا کہیں ؟ دلائل کی روشنی واضح فر مایا جائے تا کہ مسلمانوں کو شرعی رہنمائی مل سکے ۔اس کے جواب میں دارالعلوم کے مفتیان میں اپنے جواب میں کہا کہ (۱) مہدی اور مسیح سے متعلق جو احادیث صحیحہ متواترہ ہیں ان احادیث کو شکیل بن حنیف پر چسپاں کر کے جو لوگ اس (شکیل ) کو مہدی مانتے ہیں وہ از خود دائرہ اسلام سے باہر ہیں ایسے لوگوں کے ساتھ میل جول اسلامی روا داری اُ ن کی شادی غمی میں شرکت اُن کی تقریبات میں جانا جائز نہیں ہے ۔ اسی طرح ایسے شخص کے ہاتھ بیعت کر نے کے عمل کو بیعت ہونا نہیں بلکہ مرتد ہونا کہا جائے گا جو حرام اور گناہ ہے اور جب شکیل بن حنیف اور اس کے پیرو کار اسلام میں داخل ہی نہیں ہے تو ان کی اپنی مساجد میں عبادت گزاری کی وغیرہ کی اجازت دینا شرعاً درست نہیں ، متولیان مساجد اور تمام مسلمانوں پر لا زم ہے کہ اُکو اپنے مساجد سے دور اور پاک رکھیں ۔ نیز اسلام کے لئے مخصوص اصطلاحات کا استعمال جیسے قادیانویوں اور دیگر کافروں کے لئے جائز نہیں ایسے ہی شکیل بن حنیف کے پیرو کاروں کیلئے بھی جائز نہیں ۔ مسلمانوں کو ان لوگوں کی عبادت کو بجائے نماز کے پو جا سے اور روزہ کو بَرت واُپواس سے اور تلاوت کو پڑھنے سے تعبیر کرنا چاہئے تا کہ اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے دوسرے مسلمانوں کو مغالطہ نہ ہو اور غلط فہمی میں کو اُن کو مسلمان نہ سمجھ بیٹھے ۔
 بشکریہ اردو صحافت دہلی

بقدرضرورت علمِ دین سکھنے کے لیے ایک مطالعاتی نصاب کا خاکہ



فقیہ العصر شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ نے ایک سائل کی درخواست پر عوام الناس کیلئے بقدر ضرورت علمِ دین سیکھنے کیلئے درج ذیل نصاب منتخب فرمایا، جو دو حصوں پر مشتمل ہے (ہر کتاب کے ساتھ آن لائن پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کی سہولت دی گئی ہے):۔
حصہ اوّل:
سچا مسلمان بننے کیلئے ابتدائی ضروری معلومات پر مشتمل کتب یہ ہیں:
1۔حیاۃ المسلمین مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
2۔فروغ الایمان مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے۔۔ ڈانلوڈ کیجیے۔)
3۔تعلیم الدین مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
4۔مردوں کے لیے بہشتی گوہر …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
اور عورتوں کے لیے بہشتی زیور مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
5۔جزاء الاعمال مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
6۔سیرتِ خاتم الانبیاء ﷺ مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
7۔حکایات صحابہ مولانا محمد زکریا رحمہم اللہ …………… یہ رسالہ اکیلا نہیں ملا اور فضائلِ اعمال کے شروع میں یہ موجود ہے اس لیے اُسی کا ربط دیا گیا ہے (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
8۔تاریخ اسلام کامل حضرت مولانا محمد میاں رحمۃ اللہ علیہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
9۔اسوۂ رسول اکرم ﷺ ڈاکٹر عبد الحی عارفی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)

حصہ دوم:
گمراہ ہونے سے بچنے کیلئے دینی معلومات میں وسعت اور استحکام پیدا کرنے کیلئے کتب یہ ہیں:
1۔معارف القرآن مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ ……………
(آن لائن پڑھیے: فہرست۔ جلد اوّل۔ جلد دوم۔ جلد سوم۔ جلد چہارم۔ جلد پنجم۔ جلد ششم۔ جلد ہفتم۔ جلد ہشتم۔ ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے: فہرست۔ جلد اوّل۔ جلد دوم۔ جلد سوم۔ جلد چہارم۔ جلد پنجم۔ جلد ششم۔ جلد ہفتم۔ جلد ہشتم۔)
یا تفسیرِعثمانی مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ ……………
(آن لائن پڑھیے: جلد اوّل۔ جلد دوم۔ جلد سوم ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے: جلد اوّل۔ جلد دوم۔ جلد سوم)
2۔معارف الحدیث کامل مولانا منظوراحمد نعمانی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے: جلد اوّل۔ جلد دوم۔ جلد سوم و چہارم۔ جلد پنجم، ششم و ہفتم۔ جلد ہشتم ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے: جلد اوّل۔ جلد دوم۔ جلد سوم و چہارم۔ جلد پنجم، ششم و ہفتم۔ جلد ہشتم)
3۔بہشتی زیور کے مسائل اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈانلوڈ کیجیے)
یا علم الفقہ مولانا عبد الشکور لکھنوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
4۔عقائد اسلام مولانا ادریس کاندہلوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
5۔شریعت و طریقت اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)

خصوصیت:۔ ان شاء اللہ ان کتابوں کے مطالعے سے دین کی اتنی ضروری معلومات حاصل ہوجائیں گی کہ ان کے بعد اپنی زندگی بھی سنور جائے اور انسان کسی باطل نظریئے سے گمراہ بھی نہ ہو۔ (مستفید از فتاویٰ عثمانی:۱؍۱۵۸۔۱۶۰)

جمعہ مبارک کہنے کا رواج ۔ مفتی عزیز الرحمن فتحپوری


Mufti Azizul Rehman Fatahpuri sahab jawab me JUMA KI FAZILAT bayan karne ke baat likhte hain . . .

 . . . . . Kulasa ye khe JUMA  ke din ki ahmiyat musallim hai. aur iss din ka kiya kiya ehtimaam hona chahiye, iss ka zikar bhi Hadis me neez Ulma ki tahreeron me batafseel milta hai. Mgar kahin bhi JUMA ki Mubarak baad dene ka koyi Tazkira nahi milta.

Agar ye mubarak Baad SHARA-AN pasandida amr hota, tow jahan dusri tafseelat milti hain, wahin iss ka tazkira bhi hota, magr mere naqis mutaliye ki had tak iss Mubarak baad ka koyi saboot nahi.

Agar sahab ki nazar me koyi riwayat ya maa'mul ho to zarur bakhabar karden, Warna Zahir hai " YE BE ASAL BAAT HAI. SHARA-AN ISS KI KOYI HAISIYAT NAHI"   wALLAH - Aalam.

Mufti Azizul Rehman Fatahpuri - Muftiy-e-A'azam - Maharashtara. India.

قرآنی آیات کو انگریزی رسم الخط (رومن اردو) میں لکھنا ؟ ؟ ؟ ؟


بسم اللہ الرحمن الرحیم


آپ لوگوں نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بعض اوقات لوگ عربی رسم الخط کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے بعض قراٰنی آیات کو انگریزی رسم الخط میں لکھ دیتے ہیں جس کو آج کل کی اصطلاح میں رومن بھی کہا جاتا ہے۔

میں نے بھی بارہا یہ غلطی دیکھی تو سوچا کہ اپنے معزز ممبران کو اِس غلطی کی طرف توجہ دلاؤں کہ

"قرآن کی کوئی بھی آیت عربی زبان کے علاوہ کسی بھی رسم الخط میں لکھنا جائز نہیں ہے۔"

اس مسئلہ پر امت کا اجماع ہے۔ حوالہ جات میں آخر میں دیدونگا۔

کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اس کی اجازت ہونی چاہیئے کیونکہ اِس سے قرآن کی تعلیم عجمیوں )غیر عربی( میں رائج کرنے کی سہولت ہے کیونکہ وہ عربی نہیں پڑھ سکتے۔

·        سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ بات خلافِ واقعہ ہے کیونکہ مشاہدہ اس کا گواہ ہے۔

·        دوسری بات یہ ہے کہ ماضی میں اگر نظر دوڑائیں تو کتنے ہی غیر عربیوں نے قرآن پڑھا اور تجوید و قرات و رسم الخط کے امام مانے گئے۔
بالفرض اگر اِس مصلحت کو تسلیم کیا بھی جائے تو بھی صرف اِ س وجہ سے اجماعِ امت کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ خود حضرت عثمان رضی اللی عنہ نے اِس مصلحت کی طرف نظر نہیں فرمائی باوجود اسکے کہ اُس وقت اس مصلحت کی زیادہ ضرورت تھی کیونکہ آج کل کی طرح اُس وقت لوگوں میں زیادہ زبانیں سیکھنے کا رواج نہ تھا۔ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ اُس وقت دوسری زبان میں کتابت کرانا ممکن نہ تھا کیونکہ خود کاتبِ وحی حضرت زید بن ثابت رضی اللی عنہ مختلف زبانیں جانتے تھے اسکے باوجود صرف عربی رسم الخط میں ہی کتابت کراکے قرآن کے نسخے مختلف ممالک بھیجے گئے۔

·        ایک بات بھی ذہن میں آئی کہ انگریزی رسم الخط میں قرآن لکھنے سے حرف "خ" ، "ط" ، "ض" یا "ظ" وغیرہ کا حق ادا نہیں ہوسکتا اور حرکات کو ظاہر کرنے کے لیئے آپ کو باقاعدہ حروف کا اضافہ کرنا پڑیگا۔ یہ معاذ اللہ تحریف کے زمرہ میں بھی آسکتا ہے۔

حوالہ جات:

شامی 1/453
النفخۃ القدسیۃ صفصہ 32
فتح القدیر 249/1
مغنی مع الشرح الکبیر 1/530
النصوص الجلیہ صفحہ 25
فضائل القرآن لامام ابن کثیر صفحہ 51

قاضی محمد حارث

اگلا صفحہ >>>

تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.