بکھرے موتی

بچہ تعلیم میں دلچسپی نہیں لے رہا ؟

بچہ تعلیم میں دلچسپی نہیں لے رہا ؟
ــــــــــــــــــــــــــــ

دوستوں کو اولاد کے حوالے سے ایک خاص تحفہ دینے لگا ہوں، اسے غور سے سمجھ لیں، کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں جو کسی خاص حوالے سے والدین کے لئے درد سر بن جاتے ہیں، مثلاََ تعلیم میں بالکل دلچسپی نہ لینا ۔ وغیرہ

 ایسے بچوں کے اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ جب وہ گہری نیند سو جائے تو آپ اسکے سرہانے بیٹھ یا لیٹ جایئے اور نہایت ہلکی سرگوشی میں اسے تلقین کیجئے کہ بیٹا تعلیم بہت فائدے کی چیز ہے تم پڑھا کرو۔
 یہ سرگوشی اسکے شعور پر ہر گز نہیں پڑنی چاہئے ۔
 اگر آپکی سرگوشی سےوہ کسمسانے لگا ہے تو اسکا مطلب ہے اسکا شعور سن رہا ہے۔ آپ کا مخاطب اسکا شعور نہیں بلکہ لا شعور ہے، اور لا شعور کو مخاطب کرنے کی شعور کو کانوں کان خبر نہیں ہونی چاہئے، یاد رکھئے انسانی شعور کا کمانڈر اسکا لا شعور ہے۔

 اگر آپ اس کمانڈر کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو شعور کو وہ خود سنبھال لے گا ۔   لاشعورکو قائل کرنے کے لئے دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی صرف آگہی درکار ہوتی ہے۔  یہ عمل روز آدھا گھنٹہ کیجئے آپ چند دن میں بچے کو خود بخود تبدیل ہوتا دیکھیں گے۔

 ایک بار پھر کہہ رہا ہوں کہ اگر آپکی سرگوشی شعور سن رہا ہے تو ساری محنت برباد ہو جائیگی، وہ اتنی ہلکی ہونی چاہئے کہ شعور نہ سن سکے۔ شعور جب کچھ سنتا ہے تو انسانی بدن میں حرکت کی صورت رد عمل ضرور ظاہر ہوتا ہے۔ اگر نصف گھنٹے کی اس کار روائی کے دوران بچہ چپ چاپ سو رہا ہے تو آپ کامیاب جا رہے ہیں لیکن اگر وہ ردعمل میں کروٹ بدل لیتا ہے یا اسکا ہاتھ کان کی طرف آجاتا ہے تو آپ غلط کر رہے ہیں، ہم نے شعور کو مکمل بے خبر رکھ کر لاشعور سے گفتگو کرنی ہے۔

نوٹ: باشرع دوست خیال رکھیں کہ انکی داڑھی بچے کے گال یا گردن وغیرہ سے ٹچ نہ ہو ورنہ وہ جاگ جائیگا  ۔ ۔ ۔




کیا آج کے دور میں ہیں ایسے لوگ ؟؟؟

کیا آج کے دور میں ہیں ایسے لوگ ؟؟؟

“کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی کچھ لوگ اس کے پاس پوچھنے اور سببب معلوم کرنے آئے کہ اُس نے طلاق کیوں دی ؟ ؟ ؟
وہ کہنے لگا : کہ وہ ابھی عدت میں ہے ابھی تک وہ میری بیوی ہے مجھے اُس سے رجوع کا حق حاصل ہے میں اگر اس کے عیب تمہارے سامنے بیان کردوں تو رجوع کیسے کروں گا ؟؟؟
لوگوں نے انتظار کیا اور عدت ختم ہوگئی اور اس شخص نے رجوع نہیں کیا لوگ دوبارہ اُس کے پاس آئے تو اس نے کہا :
 اگر میں نے اب اس کے بارے میں کچھ بتایا تو یہ اُس کی شخصیت مسخ کرنے کے مترادف ہو گا اور کوئی بھی اس سے شادی نہیں کرے گا !!!
لوگوں نے انتظار کیا حتٰی کہ اس عورت کی دوسری جگہ شادی ہوگئی

لوگ پھر اُس کے پاس آئے اور طلاق کا سبب پوچھنے لگے
اس اعرابی نے کہا: اب چونکہ وہ کسی اور کی عزت ہے اور مروت کا تقاضا یہ ہے کہ میں پرائی اور اجنبی عورت کے بارے میں اپنی زبان بند رکھوں ۔"


(بشکریہ انتخاب سخن (

ہر بیماری سےشفاء کی دعا : مولانا یونس پالنپوری - ( بکھرے موتی )

حضرت مولانا یونس پالنپوری صاحب  دامت برکاتہم کے  " آج کے سبق " میں حضرت نے یہ دعا بتائی ہے ۔


اگلا صفحہ >>>

تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.