مسلمانان عالم

فلسطینی لوگ اور فلسطینی ڈاکٹر اصلی ہیرو ہیں . .ڈاکٹر میڈز گلبرٹ


غزہ پر اسرائیلی حملوں کے دوران وہاں کام کرنے والے ایک طبی ماہر کے مطابق ماضی کے برعکس اس بار اسرائیلی فوج نے منظم طریقے سے حملے کیے ہیں جس میں انھوں نے عام شہریوں کے مکانات کو ہدف بنایا ہے۔

ڈاکٹر میڈز گلبرٹ سے غزہ کی وزارتِ صحت نے درخواست کی تھی کہ وہ حالیہ بحران کے دوران غزہ کے الشفا ہسپتال آئیں۔ ڈاکٹر گلبرٹ کے مطابق یوں وہ ایک ڈاکٹر نہ کہ کارکن کی حیثیت سے غزہ گئے اور الشفا ہسپتال میں 15 روز تک کام کرنے کے بعد حال ہی میں ناروے واپس لوٹے ہیں۔

غزہ سے انھوں نے ایک خط لکھا جو مڈل ایسٹ مانیٹر یا ’میمو‘ کی ویب سائٹ پر شائع ہوا۔
اس خط میں ڈاکٹر گلبرٹ نے امریکی صدر براک اوباما کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا:
’مسٹر اوباما کیا آپ کا دل ہے؟ میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ ایک رات، بس صرف ایک رات، ہمارے ساتھ الشفا میں گزاریں۔
 مجھے سو فیصد یقین ہے کہ اس سے تاریخ تبدیل ہو جائےگی۔



یہ خط سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ میں نے میڈز گلبرٹ سے پوچھا کہ جو رات ان کے خیال میں اوباما کا دل اور اس کے نتیجے میں تاریخ تبدیل کر سکتی ہے وہ رات کیسی ہے؟
اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’اس رات ایک بہت بڑی تعداد میں زخمی ہونے والے عام شہری ہسپتال لائے گئے جن میں کئی بچے تھے اور شفا ہسپتال ایک جنگ زدہ علاقہ لگ رہا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہر جگہ مرنے والے یا مرے ہوئے لوگ نظر آ رہے تھے۔ کبھی کبھی آپ خود کو انتہائی بے بس محسوس کرتے ہیں۔ کام نہایت سخت ہے۔ ہسپتال میں جگہ جگہ گوشت کے ٹکڑے اور خون نظر آ رہا تھا۔

اس سوال پر کہ کیا ہر روز شفا ہسپتال میں ایسا ہی منظر پایا جاتا ہے؟؟؟؟     
 ڈاکٹر میڈز کہتے ہیں کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اسرائیل کی طرف سے حملے کب ہوں گے اور ان کی شدت کیا ہوگی۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس بار غزہ میں کسی ایک دن دس سے لے کر چار سو تک زخمی لوگ ہسپتال میں آتے ہیں اور شفا ہسپتال کے لیے سب سے بڑی مشک یہی ہے کہ وہ اتنی تعداد میں لوگوں کا کیسے علاج کریں گے۔

میڈز گلبرٹ کے لیے فلسطین کوئی نا آشنا جگہ نہیں ہے۔ وہ پہلی انتفاضہ (1993-1987) کے وقت سے غزہ کے صحت کے نظام سے وابستہ ہیں۔ میڈز کہتے ہیں کہ طبی خدمت فراہم کرنے کے علاوہ وہ فلسطین میں ’گواہ کی حیثیت‘ سے بھی جاتے رہے ہیں تا کہ وہ صورت حال کی تفتیش اور اس کے بارے میں حالات قلم بند کر سکیں۔ ڈاکٹر گلبرٹ اپنے اس کام کو ’سولیڈیرٹی میڈیسن‘ یا ’اتحاد میڈیسن‘ کہتے ہیں، جس کے تحت ’جن لوگوں کو شدید ضرورت ہے ان کی مدد کی جائے۔

ماضی کے تجربات کے مقابلے میں میڈز گلبرٹ کہتے ہیں کہ ’2009 اور 2012 کے حملوں کے مقابلے میں یہ اسرائیل کی جانب سے سب سے شدید حملہ ہے جس میں ایک بڑی تعداد میں لوگ مارے اور زخمی ہوئے ہیں جن میں سینکڑوں بچے بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر کے مطابق ’اس بار اسرائیلی فوج نے منظم طریقے سے حملے کیے ہیں جس میں انھوں نے عام شہریوں کے مکانات کو ہدف بنایا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’بڑی تعداد میں ایک ہی خاندان کے لوگ ہسپتال آتے تھے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حملوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق اس بحران میں ہلاک ہونے والے 85 فیصد فلسطینی عام شہری تھے جبکہ چار فیصد اسرائیلی عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ یو این کے مطابق 16 ہزار تک گھر مکمل یا جزوی طور پر تباہ کیے گیے ہیں۔

ڈاکٹر میڈز کے مطابق یہ ایک شدید انسانی بحران ہے جو کہ اب تک جاری ہے کیوں کہ اس وقت غزہ میں 485 ہزار فلسطینی بے گھر ہیں جن میں سے کئی لوگ شفا ہسپتال علاج کے لیے آئے تھے اور ’ان کے پاس واپس جانے کے لیے اب کوئی گھر نہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ مزید 9,300 زخمی لوگوں کو علاج کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر میڈز کی نظر میں اسرائیل کا حملہ حماس کے خلاف نہیں بلکہ ’فلسطینی لوگوں کے خلاف‘ ہے ۔

جاری جنگ بندی کے حوالے سے ڈاکٹر میڈز گلبرٹ کا کہنا ہے کہ فلسطینی ’ماضی کی طرح محض جنگ بندی نہیں چاہتے، بلکہ اپنا حق مانگتے ہیں۔ وہ غلاموں کی زندگی نہیں گزارنا چاہتے اور اس جنگ بندی کے دوران ان کے مطالبوں کو سنا جانا چاہیے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ ڈاکٹر ہونے کے ناطے وہ بالخصوص کن چیزوں کی توقع کرتے ہیں تو گلبرٹ نے جواب دیا: ’بم دھماکے فوری طور پر روکے جانے چاہییں، محاصرہ ختم کر دیا جائے، سرحدوں کو کھول جائے تا کہ زخمی لوگوں کو غزہ سے باہر اچھا علاج مہیا کیا جا سکے اور ادویات کو غزہ میں آنے کی اجازت دی جائیں۔


ڈاکٹر میڈز پر اکثر تنقید کی گئی ہے کہ وہ اپنے پیشے کے ساتھ ساتھ سیاسی رائے رکھتے ہیں اور اسرائیل کے خلاف پروپگینڈا کرنے میں ملوث ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اصل ’میڈز گلبرٹ‘ کون ہیں، تو انھوں نے کہا کہ ’میں ایک انسان ہوں اور جہاں بھی کسی کو مدد چاہیے ہو گی، چاہے وہ ناروے کے کسی گاؤں میں ہو یا غزہ میں تو میں اسی کی طرف داری کروں گا۔ ایک عام آدمی کی حیثیت میں میں جتنی بھی سیاسی رائے رکھتا ہوں، میں بس انصاف چاہتا ہوں۔

ناروے اور دنیا بھر میں کئی لوگ ڈاکٹر میڈز گلبرٹ کو ہیرو سمجھتے ہوں گے لیکن ان کہنا ہے کہ  ۔ ۔

’فلسطینی لوگ اور فلسطینی ڈاکٹر اصلی ہیرو ہیں

 وہ اپنے وقار سے ہمیں انسان ہونا اور انسانیت کا مطلب سکھا رہے ہیں۔





اک قدم سیّدِ ابرار کی امّت کے لئے ۔ ۔ ۔

اک قدم سیّدِ ابرار کی امّت کے لئے۔ ۔ ۔

آج میں سوچ رہا ہوں کہ کوئی بات کروں
قومِ مسلم کے جوانوں سے سوالات کروں

تبصرہ میں بھی کوئی برسرِ حالات کروں
کچھ عیاں اپنے بھی جذبات و خیالات کروں

بے حسی دیکھ کے کڑھتا رہوں یا بات کروں
ان سے منہ پھیر لوں یا طنز کی برسات کروں


ائے مسلمان بتا تیری جوانی ہے کہاں
تیری غیرت ہے کہاں آنکھ کا پانی ہے کہاں

انبئیا اور صحابہ کی روایات تو ہیں
انبئیا اور صحابہ کی نشانی ہے کہاں

جو ترے جسم سے آنکھوں سے جھلک جاتی تھی
خون میں دوڑنے والی وہ روانی ہے کہاں

تیرے نعروں سے پلٹ جاتی تھی اغیار کی فوج
وہ شجاعت ہے کہاں شاہ زمانی ہے کہاں


عظمتِ دیں پہ ائے جانوں کو لٹانے والے
غیرتِ قوم پہ سر اپنا کٹانے والے

کم سے کم ہاتھ اٹھا کر ہی اشارہ کر دے
کٹتے ہاتھوں سے علم اونچا اٹھانے والے

دل سے اک نعرہء تکبیر لگا کر تو بتا
تیرے پیارے ہیں محمد کے گھرانے والے

بے حسی اوڑھ کے بیٹھا ہے مکاں میں چھپ کر
تجھ کو تکتے ہیں تعجب سے زمانے والے

تیرا کہنا ہے کہ دنیا تجھے مقصود نہیں
تیرا اللہ کے سوا کوئی بھی معبود نہیں

لیکن اس غیرتِ ایمانی کا کیوں ذکر بھی ہو
جو ترے جسم تری روح میں موجود نہیں

عصمتِ قومِ مسلماں کو بچانے والے
تیری غیرت ترے گھر تک ہی تو محدود نہیں

جن کے تلوؤں کے نشاں تیری زباں پر ابھریں
کیا یہ حاکم ترے داتا ترے مسجود نہیں؟ ؟؟


اک دفعہ سوچ کہ کب ہوش میں آئے گا تو
اپنے معیار کو کس درجہ گرائے گا تو

کیا فلسطین کے بوڑھے سے ترا رشتہ نہیں
کیا فقط اپنے ہی والد کو بچائے گا تو

تو فلسطین کی بوڑھی سے بھی بے گانہ ہے؟ ؟
کیا فقط اپنی ہی امّاں کو بچائے گا تو

کیا فلسطین کی عورت بھی تری بہن نہیں
آبرو اپنی ہی بہنوں کی بچائے گا تو؟ ؟

دیکھ معصوم سے بچوں کی طرف دیکھ بھی لے
کب تلک ان سے نگاہوں کو چرائے گا تو

دیکھ معصوم فرشتوں کی پڑی لاشوں کو
سچ بتا کیسے انہیں بھولنے پائے گا تو

یاد رکھ بے حسی اچھی نہیں  ورنہ  اک دن
اپنے ہی بچوں کی لاشوں کو اٹھائے گا تو



تو اگر ان کو وہاں جا کے بچانے سے رہا
کھل کے جذبات کا اظہار تو کر سکتا ہے

بے حسی اوڑھ کے سوئے ہیں جو مسلم حکّام
تو انہیں نیند سے بیدار تو کر سکتا ہے

اپنی تکلیف کا درماں جو ترے بس میں نہیں
اپنی تکلیف کا اظہار تو کر سکتا ہے

میں نے مانا ترے ہتھیار ترے پاس نہیں
اپنی آواز کو ہتھیار تو کر سکتا ہے

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
اسی بنیاد پہ للکار تو کر سکتا ہے




اٹھ  سبھی عالمِ اسلام کے حکام سے بول
ائے کہ سب نعرہء ایمان لگانے والو

اسی اللہ سے ڈر جاؤ جسے مانتے ہو
اک نشاں اپنی جبینوں پہ سجانے والو

کیا تمہیں عدل کا مفہوم بھی معلوم نہیں
ناروا ظلم کو انصاف بتانے والو

کیا شریعت تمہیں رستہ بھی نہیں دکھلاتی
سارے احکام شریعت سے نبھانے والو

حّق و باطل کا بھی تم فرق سمجھنے سے رہے
رات دن کلمہء حق سننے سنانے والو


تم اگر حق پہ ہو کس بات کا ڈر ہے تم کو
کیا وسائل کی کمی دیکھ کے ڈر جاتے ہو

اپنے ہتھیار کی قلت پہ پریشاں ہو کیا
یا کہ ناسازیء حالات سے گھبراتے ہو

اقتدار اور حکومت کو کوئی خطرہ ہے
حرفِ حق کہتے ہوئے کس لئے شرماتے ہو

کثرت و قلتِ افراد سے لرزاں ہو کیا
کیا سبب ہو گیا جو فرض سے کتراتے ہو

حق پہ ہو تو فقط اللہ ہی کافی ہے تمہیں
اپنے اللہ کا کہا کس لئے جھٹلاتے ہو


کہیں ایسا تو نہیں بیچ دیا ہے خود کو
دینِ اسلام کا سودا تو نہیں کرڈالا

سچ بتانا کہ کہیں کھا کے یہودی لقمہ
اپنے ایمان کو کھوٹا تو نہیں کر ڈالا

رٹ کے اللہ کا اور اس کے نبی کا نعرہ
تم نے ان دونوں کو رسوا تو نہیں کر ڈالا

تم نے بھی جبّہ و دستار کی لالچ میں کہیں
اپنے کردار کو بونا تو نہیں کرڈالا

آنکھ  پھیری تو نہیں اپنے نبی سے تم نے
اور شریعت کو تماشہ تو نہیں کر ڈالا

کہیں امریکہ کے تلوئے تو نہیں چاٹ لئے
موڑ کر رخ اسے قبلہ تو نہیں کر ڈالا


یاد رکھّو کہ اگر ایسا کیا ہے تم نے
تب تو قدرت تمہیں انجام پہ پہونچائے گی

جلد ہی خاک نشاں ہوگی تمہاری ہستی
اور تقدیر تمہیں آئینہ دکھلائے گی

یاد رکھّو جو رعایا ہے تمہاری محکوم
ضبط کھو دے گی تو سڑکوں پہ اتر آئے گی

جس نے عزّت سے بٹھایا ہے تمہیں مسند پر
وہ رعایا تمہیں پھانسی پہ بھی چڑھوائے گی


اپنی عشرت کے جنازے پہ کھڑے ہو کر تم
اتنا روؤگے کہ دنیا بھی ترس کھائے گی

آج بھی وقت ہے اللہ کی رسّی تھامو
ایک ہو جاؤ شریعت کی حفاظت کے لئے

فرض تو پورا کرو  کرنا حکومت بھی پھر
رب نے تم کو ہی بنایا ہے حکومت کے لئے

اک دعا اپنے لئے مانگو کہ اللہ چن لے
اس دفعہ اہلِ فلسطین کی نصرت کے لئے

اک قدم رب کی بنائی ہوئی جنت کے لئے
اک قدم سیّدِ ابرار کی امّت کے لئے

شاعر  :  نامعلوم   ۔ ۔

یہ لوگ سو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ !!!! . . . اب تو جاگو ۔ ۔ ۔ ۔

ش ۔ ش ۔ش  ۔ ۔ ۔  


آہستہ بولو ۔ ۔ ۔ ۔




یہ لوگ سو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ !!!!

 


مہربانی کرکے ۔ ۔ ۔اب تو جاگو  !!




اگلا صفحہ >>>

تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.