اخلاق

کیا آج کے دور میں ہیں ایسے لوگ ؟؟؟

کیا آج کے دور میں ہیں ایسے لوگ ؟؟؟

کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی کچھ لوگ اس کے پاس پوچھنے اور سببب معلوم کرنے آئے کہ اُس نے طلاق کیوں دی ؟ ؟ ؟
وہ کہنے لگا : کہ وہ ابھی عدت میں ہے ابھی تک وہ میری بیوی ہے مجھے اُس سے رجوع کا حق حاصل ہے میں اگر اس کے عیب تمہارے سامنے بیان کردوں تو رجوع کیسے کروں گا ؟؟؟
لوگوں نے انتظار کیا اور عدت ختم ہوگئی اور اس شخص نے رجوع نہیں کیا لوگ دوبارہ اُس کے پاس آئے تو اس نے کہا :
 اگر میں نے اب اس کے بارے میں کچھ بتایا تو یہ اُس کی شخصیت مسخ کرنے کے مترادف ہو گا اور کوئی بھی اس سے شادی نہیں کرے گا !!!
لوگوں نے انتظار کیا حتٰی کہ اس عورت کی دوسری جگہ شادی ہوگئی

لوگ پھر اُس کے پاس آئے اور طلاق کا سبب پوچھنے لگے
اس اعرابی نے کہا: اب چونکہ وہ کسی اور کی عزت ہے اور مروت کا تقاضا یہ ہے کہ میں پرائی اور اجنبی عورت کے بارے میں اپنی زبان بند رکھوں ۔"


(بشکریہ انتخاب سخن (

مستحق ۔ ۔ ۔ ۔ ۔



 مولانا تقی عثمانی صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ ۔  
 میں ایک دفعہ اپنے والد مولانا شفیع عثمانی صاحب کے ساتھ کہیں جا رہا تھا رستے میں ایک جگہ سگنل پر کار رکی تو ایک فقیر جو اپنے حیلےاور شکل سے فقیر نہیں لگ رہا تھا ، پاس آیا اور سوال کیا ، والد صاحب نے اپنی جیب میں سے کچھ رقم نکال کر اسکو دی اور وہ لے کر چلا گیا

میں نے اپنے والد صاحب سے کہا کہ ابا جی یہ تو مستحق نہیں تھا آپ نے اسے پیسے کیوں دیے
؟؟؟

والد صاحب نے بہت خوبصورت بات کی جو مجھے ہمیشہ یاد رہے گی  ۔ ۔ ۔

انہوں نے فرمایا کہ بیٹا ۔ ۔ ۔ ۔  ہم بھی اللہ کی بہت سی نعمتوں کے مستحق نہیں ہیں لیکن اللہ نے ہمیں دی ہوئی ہیں  ' اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم کسی کی ظاہری حالت دیکھ کر اس کے مستحق ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ نہ کریں ، کیا پتہ وہ کس مجبوری کی وجہ سے ہاتھ پھیلا رہا ہے ،
ہاں جس کے بارے میں یقین ہو کہ وہ پیشہ ور ہے تو اس کی حوصلہ شکنی کرنے میں کوئی حرج نہیں ..


ہے کوئی آج ایسے اخلاق کا مظاہرہ کرنے والا ؟؟

ایک دفعہ مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔ سامنے والی نشست پر ایک بڑے شائستہ اور نستعلیق سوٹ بوٹ صاحب تشریف فرما تھےکچھ ابتدائی بات ہوئی مگر سوٹ صاحب کو مولوی صاحب بڑے دقیانوسی اور قوم کی پسماندگی کی دلیل نظر آئے۔چنانچہ بات چیت زیادہ آگے نہ بڑھی۔

کچھ دیر بعد سوٹ صاحب کو بیت الخلا کی حاجت ہوئی۔مگر بیت الخلا کا دروازہ کھولتے ہی انہوں نے ناک پر رومال رکھ لیا اور
جھٹ سے دروازہ بند کرکے واپس اپنی نشست پر آبیٹھےبیت الخلا میں کسی بے ہودہ شخص نے سارے میں غلاظت پھیلا دی تھی۔واقعی کوئی نفاست پسند شخص وہاں ناک نہیں دے سکتا تھا۔سوٹ صاحب کی ضرورت شدید ہوئی تو وہ پھر اٹھے، مگردوبارہ اندر جانے کی ہمت نہ کر سکے اور واپس آگئے۔ایسا تین چار بار ہوا۔ 

اب مولانا حسین احمد اٹھے۔لوٹا ہاتھ میں لیا اور بلا جھجک بیت الخلا میں داخل ہوکر دروازہ اندر سے بند کر لیا ۔ سوٹ صاحب نے ایک مولوی کی اس بے حسی پر ناک منہ بنایا۔ انہیں یوں بھی کسی مولوی سے تہذیب تمیز کی امید نہیں تھی۔
 
دس پندرہ منٹ بعد مولانا بیت الخلا سے برآمد ہوئے اور سوٹ صاحب سے کہا:
واقعی اندر بے حد غلاظت تھی اوروہاں جانا آپ کی نفاست پسندطبیعت سے بعید تھا ، مگر آپ کی سخت ضرورت دیکھ میں نہ رہ سکا۔میں نے بیت الخلا کو خوب اچھی طرح دھو دیا ہے۔اب آپ اطمینان سے جا سکتے ہیں۔

ہے کوئی آج ایسے اخلاق کا مظاہرہ کرنے والا ؟؟


بشکریہ : عمران میمن صاحب - فیس بک

بیٹے یہ کیا ہے؟


ایک 85 سالہ عمر رسیدہ باپ اپنے 45 سالہ بیٹے کے ساتھ گھر کے ھال کمرے میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک کوّے نے کھڑکی کے قریب آ کر شور مچایا۔...

باپ کو نجانے کیا سوجھی، اُٹھ کر بیٹے کے پاس آیا اور اُس سے پوچھا، بیٹے یہ کیا چیز ہے؟


بیٹے نے جواب دیا؛ یہ کوّا ہے۔ یہ سُن کر باپ اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گیا۔



کُچھ دیر کے بعد وہ پھر اُٹھ کر اپنے بیٹے کے پاس کر آیا اور دوبارہ اُس سے پوچھا، بیٹے؛ یہ کیا ہے؟



بیٹے نے حیرت کے ساتھ باپ کی طرف دیکھا ور پھر اپنا جواب دُہرایا: یہ کوّا ہے۔



کُچھ دیر کے بعد باپ پھر اُٹھ کر آیا اور تیسری بار پوچھا: بیٹے یہ کیا ہے؟



بیٹے نے اپنی آواز کو اونچا کرتے ہوئے کہا؛ ابا جی یہ کوّا ہے، یہ کوّا ہے۔



تھوڑی دیر کے بعد باپ پھر اُٹھ کر آیا ور چوتھی بار بیٹے سے مُخاطب ہو کر پوچھا؛ بیٹے یہ کیا ہے؟



اس بار بیٹے کا صبر جواب دے چُکا تھا، نہایت ہی اُکتاہٹ اور ناگواری سے اپنی آواز کو مزید بُلند کرتے ہوئے باپ سے کہا؛ کیا بات ہے، آج آپکو سُنائی نہیں دے رہا کیا؟ ایک ہی سوال کو بار بار دُہرائے جا رہے ہو۔ میں کتنی بار بتا چُکا ہوں کہ یہ کوّا ہے، یہ کوّا ہے۔ کیا میں کسی مُشکل زبان میں آپکو یہ سب کُچھ بتا رہا ہوں جو اتنا سادہ سا جواب بھی نہ تو آپ کو سُنائی دے رہا ہے اور نہ ہی سمجھ آرہا ہے!



اس مرتبہ باپ یہ سب کُچھ سننے کے بعد اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد واپس باہر آیا تو ہاتھ میں کُچھ بوسیدہ سے کاغذ تھے۔ کاغذوں سے لگ رہا تھا کہ کبھی کسی ڈائری کا حصہ رہے ہونگے۔ کاغذ بیٹے کو دیتے ہوئے بولا، بیٹے دیکھو ان کاغذوں پر کیا لکھا ہے؟



بیٹے نے پڑھنا شروع کیا، لکھا تھا؛ آج میرے بیٹے کی عمر تین سال ہو گئی ہے۔ اُسے کھیلتے کودتے اور بھاگتے دوڑتے دیکھ دیکھ کر دِل خوشی سے پاگل ہوا جا رہا ہے۔ اچانک ہی اُسکی نظر باغیچے میں کائیں کائیں کرتے ایک کوّے پر پڑی ہے تو بھاگتا ہوا میرے پاس آیا ہے اور پوچھتا ہے؛ یہ کیا ہے۔ میں نے اُسے بتایا ہے کہ یہ کوّا ہے مگر اُسکی تسلی نہیں ہورہی یا شاید میرے منہ سے سُن کر اُسے اچھا لگ رہا ہے۔ ہر تھوڑی دیر کے بعد آ کر پھر پوچھتا ہے یہ کیا ہے اور میں ہر بار اُسے کہتا ہوں یہ کوّا ہے۔ اُس نے مُجھ سے یہ سوال ۲۳ بار پوچھا ہے اور میں نے بھی اُسے ۲۳ بار ہی جواب دیا ہے۔ اُسکی معصومیت سے میرا دِل اتنا خوش ہو رہا ہے کہ کئی بار تو میں جواب دینے کے ساتھ ساتھ اُسے گلے سے لگا کر پیار بھی کر چُکا ہوں۔ خود ہی پوچھ پوچھ کر تھکا ہے تو آکر میرے پاس بیٹھا ہے اور میں اُسے دیکھ دیکھ کر فدا اور قُربان ہو رہا ہوں۔



سُبحان اللہ

اگلا صفحہ >>>

تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.