علمائے دیوبند
حجۃ اللہ البالغہ کو کیسے سمجھیں؟
مقرر: حضرت اقدس مولانا مفتی سعید احمد
صاحب پالن پوری دامت برکاتھم، شیخ الحدیث و صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند
خطبۂ
مسنونہ کے بعد:(اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ، خَلَقَ الِاِنْسَانَ مِنْ
عَلَقٍ، اِقْرَأْ وَرَبُّکَ الأَکْرَمُ، الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ، عَلَّمَ الِنْسَانَ
مَالَمْ یَعْلَمْ)
واجب
الاحترام علمائے کرام! مجھے آج تقریر کے لئے موضوع یہ دیا گیا ہے کہ امام الہند حضرت
اقدس شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی قدس سرہ کی مشہور زمانہ، مایۂ ناز کتاب: حجۃ اﷲ
البالغہ کے سلسلہ میں کچھ باتیں عرض کروں۔
آپ سبھی حضرات جانتے ہیں کہ حجۃ اللہ البالغہ
ایک دقیق کتاب ہے، مگر دقیق ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس سے پردہ نہیں اٹھایا جاسکتا،
اس کو حل نہیں کیا جاسکتا،بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کوسمجھنے کے لئے محنت کرنی پڑے
گی۔ عام کتابوں کے پڑھنے اور سمجھنے کے لئے جتنی محنت درکار ہوتی ہے اتنی محنت اس کتاب
کے لئے کافی نہیں۔ اس کے لئے محنت شاقہ برداشت کرنی پڑے گی، جبھی کتاب سمجھ میں آئے
گی۔
جیسے ایک حدیث میں ہے:أَرْبَعُُ فِیْ أُمَّتِیْ
مِنْ أَمْرِ الْجاھلِیَّةِ، لَنْ یَّدَعَھُنَّ الناسُ، النِّیاحةُ، والطعنُ فی الأَحْساب،
والْعَدْویٰ: أَجْرَبَ بعیر فأجرب مأةَ بعیرٍ، مَنْ أَجْرَبَ البعیرَ الأولَّ؟
وَالأَنْوَاءُ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ کِذَا وَکَذَا( ترمذی شریف حدیث :٨٨٢)
ترجمہ: میری امت میں جاہلیت کی چار چیزیں ایسی
ہیں جنھیں لوگ ہرگز نہیں چھوڑ یں گے (١) نوحہ کرنا، مرنے والے کا ماتم کرنا(٢) خاندان
پر اعتراض کرنا (٣) یہ اعتقاد رکھنا کہ ایک کی بیماری دوسرے کو لگتی ہے، لوگ کہتے ہیں:
ایک اونٹ کو کھجلی ہوئی تو سب کو ہوگئی، ان سے پوچھو: پہلے اونٹ کو کھجلی کہاں سے لگی
(٤)نچھترّوں کا عقیدہ کہ فلاں نچھتر لگا تو بارش ہوئی۔
اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جب امت ان باتوں
کو نہیں چھوڑے گی تو یہ باتیں چلنے دی جائیں، ان کے ازالے کے لئے محنت نہ کی جائے،
بلکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مصلحین امت ان چار باتوں کو امت میں سے نکالنے کے لئے ایڑی
چوٹی کا زور لگائیں، کسی بھی طریقے سے ان چار باتوں کو امت میں سے ختم کریں، جیسے کپڑے
پر داغ لگ جاتا ہے تو دھوتے ہیں اور چائے گرجاتی ہے تو اس کو ہر ممکن طریقہ سے زائل
کرتے ہیں،اسی طرح یہ چار خرابیاں امت میں ایسی ہیں جو آسانی سے نکلنے والی نہیں، پس
مصلحین امت کی ذمہ داری ہے کہ انکے پیچھے خصوصی محنت کریں، اور کسی بھی طرح امت میں
سے ان چار باتوں کو نکالیں ۔
اسی طرح میں عرض کرتا ہوں کہ حجۃ اللہ البالغہ
دقیق کتاب ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کو یہ کہہ کر چھوڑ دو کہ یہ ہمارے بس کا
روگ نہیں! ارے بھائی! انسان نے لکھی ہے، ہم ایسی کتاب لکھ نہیں سکتے تو سمجھ تو سکتے
ہیں، مگر عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ سپر ڈال دیتے ہیں، ہمت ہار جاتے ہیں، کہتے
ہیں: یہ کتاب بہت مشکل ہے، چیدہ چیدہ حضرات ہی اس کا مطالعہ کرتے ہیں، عام طور پر لوگوں
نے اس کو چھوڑ رکھا ہے، پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ موقوف کردیا ہے، اس طرح اس کتاب کا جو
عظیم فائدہ تھا اس سے امت محروم ہوگئی، اس لئے میں نے قرآن کی جو پہلی وحی ہے اس کی
پانچ آیتیں پڑھی ہیں، پہلے یہ پانچ آیتیں سمجھ لی جائیں تو بات آگے بڑھائی جائے گی۔
پڑھنے کی اہمیت:
قرآنِ کریم کی پہلی وحی میں دو اقرأ ہیں، ایک:
ناخواندہ کا اقرأ ہے اور ایک: خواندہ کا، ناخواندہ کے اقرأ کی آخری حد ہے، مگر خواندہ
کا اقرأ غیر محدود ہے، زندگی کے آخری سانس تک پڑھنا چاہئے۔ جب یہ دو اقرأ جمع ہوں
گے تبھی قلعہ فتح ہوگا، اگر کسی نے ایک اقرأ پر اکتفا کرلیا تو قلعہ فتح نہیں ہوگا۔
پہلی وحی کے مخاطب اول کون تھے؟ ناخواندہ لوگ!
جو اپنے امی ہونے پر فخر کیا کرتے تھے، ان سے پہلی بات جوکہی گئی ہے اس سے پڑھنے کی
اہمیت واضح ہوتی ہے۔ پھر پہلی وحی کا جو پہلا کلمہ ہے اس سے پڑھنے کی اہمیت اور بڑھ
جاتی ہے۔
پہلی وحی کا پہلا کلمہ: پڑھ!
اللہ تعالیٰ کی پہلی وحی کا پہلا کلمہ ہے پڑھ!
فرمایا :(اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ): پڑھ اس پروردگار کے نام سے جس
نے تجھے پیدا کیا، جس نے تجھے نیست سے ہست کیا، اس کے نام کی مدد لے کر پڑھ وہ ضرور
تجھے عالم بنادے گا۔ ذرا تو اپنی پیدائش کے مراحل کو سوچ، تجھے اللہ نے سات مراحل سے
گذار کر انسان بنایا ہے، اور یہ ساتوں مراحل بے جان مادہ ہیں، ان سات بے جان مادوں
سے گذار کر تجھے اشرف المخلوقات بنایا ، پس جو ہستی بے جان مادوں میں تبدیلیاں کرکے
اشرف المخلوقات بناسکتی ہے وہ تجھ جاہل ناخواندہ کو اگر تو اس کے نام کی مدد سے پڑھے
تو مختلف مراحل سے گذار کر عالم نہیں بناسکتی؟ ضرور بناسکتی ہے، پس تو پڑھنے کے لئے
کمر کس لے۔
تخلیقِ انسان کے سات مراحل:
تخلیقِ انسان کے سات مراحل کا تذکرہ اٹھارہویں
پارے کے پہلے رکوع میں آیا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اُن
آیات میں انسان کی تخلیق کے سات مراحل کا بیان ہے، وہ سات مراحل کیا ہیں؟ پہلا مرحلہ
یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو مٹی سے بنایا، پھر مٹی کاست( جوہر) نکالا، ایک ہی آیت میں
دو مرحلوں کا ذکر ہے: (لَقَدْ خَلَقْنَا الاِنْسَانَ مِنْ سُلاَلَةٍ مِنْ طِیْنٍ):
مٹی کے جوہر سے ہم نے انسان کو پیدا کیا۔ مٹی کا جوہر کیا ہے، ہم مٹی سے پیدا ہونے
والی غذائیں کھاتے ہیں ، ان غذاؤں سے ہمارے بدن میں خون بنتا ہے، یہ خون مٹی کا سلالہ
اور جوہر ہے(ثُمَّ جَعَلْنَاہُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ): پھر ہم نے اس جوہر
کو نطفہ بنایا، یہ تیسرا مرحلہ ہے، ہمارے بدن میں جو خون ہے اس سے خاص جوہر نکالا جاتا
ہے، وہ مادہ بنتا ہے، اس مادے کو اللہ تعالیٰ رحم مادر میں پہنچاتے ہیں اور حمل ٹھہر
جاتا ہے، حمل ٹھہرنے کے بعد بچہ دانی کا منھ بند ہوجاتا ہے، نہ باہر کی کوئی چیز اندر
جاسکتی ہے اور نہ اندر کی کوئی چیز باہر آسکتی ہے، یہی قرار مکین: اطمینان سے نطفہ
ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ انسان کی تخلیق کے یہ تین مرحلے ہوئے، مٹی، مٹی کا جوہر اور مادہ۔
بچہ دانی میں جاکر وہ مادہ چالیس دن میں علقة
( خون بستہ) بن جاتا ہے۔ یہ چوتھا مرحلہ ہے جو بیچ کا مرحلہ ہے، جب سات مرحلے ہیں تو
بیچ میں کوئی نہ کوئی مرحلہ ضرور ہوگا، پھر اس کے بعدعلقة:مضغة ( بوٹی ) بنتا ہے پھر
اس مضغہ میں ہڈیاں پیدا ہوتی ہیں پھر ان ہڈیوں پر گوشت چڑھتا ہے۔ یہ کل سات مرحلے ہوئے
اور یہ ساتوں مرحلے بے جان مادہ ہیں ان سات
مراحل سے گذار کر اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی مخلوق بنادی جس سے بہتر اور اشرف مخلوق کوئی
نہیں، بڑی برکت والی ہے وہ ذات جو احسن الخالقین ہے۔
ان سات مرحلوں میں سے بیچ کے مرحلہ کا ذکر فرماتے
ہیں:(خَلَقَ الِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ): اللہ نے انسان کو جمے ہوئے خون سے بنایا، اس
پردروگار کے نام کی مدد سے پڑھ وہ تجھ جاہل ناخواندہ کو عالم بنادے گا۔ یہ پہلا اقرأ
ہے جو ناخواندہ کا اقرأ ہے، وہ الف باء سے شروع ہوتا ہے اور اس کا آخری مرحلہ یہ ہے
کہ آدمی میں استعداد پیدا ہوجائے، جب تک استعداد پیدا نہ ہو پڑھتا رہے، دورہ پڑھ کر
یہ نہ سمجھ لے کہ میں فارغ ہوگیا۔
دوسرا
اِقْرَأْ:
پھر دوسرا اقرأ شروع ہوتا ہے اور غور کرو انداز
بیان کیسے بدل رہا ہے، فرمایا: (اِقْرَأْ وَرَبُّکَ الأَکْرَمُ): پڑھ اورتیرا پروردگار
بڑا کریم( سخی) ہے، اس کے یہاں فضل کی کمی نہیں، جتنا پڑھے گا اتنا بڑھے گا۔ وہ تجھے
بے حساب علم دے گا۔
یہ خواندہ کا اقرأ ہے اور اس کی کم سے کم مقدار
متعین ہے، مطالعہ کی صلاحیت پیدا ہونے کے بعد یہ مرحلہ شروع ہوتا ہے، اور اس کی آخری
حد کوئی نہیں۔ کائنات میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، حضرت نانوتوی قدس سرہ نے
رسالہ تحذیر الناس میں ایک حدیث لکھی ہے: عُلِّمْتُ علمَ الأولین والآخرین: مجھے اگلوں
اور پچھلوں کا علم دیا گیا ہے، پوری کائنات کے پاس جتنا علم ہے اتنا حضور صلی اللہ
علیہ وسلم کو دیا گیا ہے، ایسی ہستی کو اللہ نے دعا سکھلائی ہے: (وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ
عِلْمًا): آپؐ دعا کیجئے کہ اے اللہ! میرے علم میں اضافہ فرما، اتنا علم رکھنے والا
بھی مامور ہے کہ وہ علم میں اضافہ کی دعا کرے، معلوم ہوا کہ علم کی کوئی حد نہیں۔
اس کے بعد فرماتے ہیں:(الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ)
تیرا پروردگار وہ ہے جو قلم کے ذریعہ علم سکھاتا ہے، پہلے استاذ کے سامنے زانوئے ادب
تہہ کرتا ہے پھر قلم کے ذریعہ یعنی اگلوں نے جو کچھ لکھا ہے اسے پڑھتا ہے، اس طرح
(عَلَّمَ الِاِنْسَانَ مَالَمْ یَعْلَمْ): اللہ تعالیٰ انسان کو وہ علوم سکھاتے ہیں
جو وہ نہیں جانتا یعنی جو اس نے مدرسہ کی زندگی میں نہیں جانے وہ علوم اب ذاتی مطالعہ
سے حاصل کرے گا۔
دور تنزل
مگر اب تنزل کا زمانہ آگیا ہے۔ طلبہ کے پڑھنے
میں بھی اور اساتذہ کے پڑھنے میں بھی ، طلبہ استعداد بننے سے پہلے فارغ ہوجاتے ہیں،
اور اساتذہ عربی کتابوں کو ہاتھ نہیں لگاتے، وہ سمجھتے ہیں کہ اردو شرحوں سے کام چل
جائے گا، حالانکہ مصادر اصلیہ کا مطالعہ کئے بغیر علم میں کمال پیدا نہیں ہوسکتا، اس
لئے میں نے یہ آیات کریمہ پڑھیں تاکہ ہم اپنی کمی دور کریں، اگر ہم نے اپنی کمی دور
کرلی تو پھر ہمیں حجۃ اللہ البالغہ کسی سے پڑھنے کی ضرورت نہیں رہے گی ، یہ تو دوسرے
اقرأ میں آتی ہے، ہر ایک کو یہ کتاب خود پڑھنی ہے، مگر پڑھے گا وہی جو پہلے مرحلہ
کے اقرأ سے کامیاب گذرا ہے، اگر پہلے مرحلہ سے کامیاب نہیں گذرا تو نہ خود مطالعہ
کرسکتا ہے نہ اس کو پڑھانے سے کچھ حاصل ہوگا، میں نے یہ کتاب حضرت حکیم الاسلام رحمہ
اللہ سے پڑھی ہے۔ حضرت کثیر الاسفار تھے ،صرف چند ابواب ہم نے حضرت سے پڑھے ہیں مگر
اس سے کتاب کا اندازہ ہوگیا اور ہم نے طے کرلیا کہ اس کتاب کو حل کرکے چھوڑیں گے الحمد
للہ وہ خواب شرمندۂ تعبیر ہوگیا، کتاب حل کرلی، بلکہ شرح بھی لکھ دی۔
شاہ صاحب کی دور بینی:
حضرت حکیم الاسلام قدس سرہ فرمایا کرتے تھے
کہ حضرت شاہ صاحب نے مستقبل میں جو محسوسات
کا دور شروع ہونے والا تھا اس کو پہلے سے محسوس کرلیا تھا، حضرت شاہ صاحب کا زمانہ
عقلیت پسندی کا زمانہ تھا، مگر شاہ صاحب کو یہ احساس ہوگیا تھاکہ آگے محسوسات کا دور
آرہا ہے، سائنس کا دور آرہا ہے، ہر بات محسوس کرکے امت کے سامنے پیش کرنی ہوگی۔ اب
یہ دور شروع ہوچکا ہے ۔ حضرت شاہ صاحب نے حجۃ اللہ اسی دور کے لئے لکھی ہے، اور اس
میں ایسے افکار پیش کئے ہیں جن کی روشنی میں تمام مسائل شرعیہ کو محسوس بناکر لوگوں
کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے، یورپ اور امریکہ تو ترقی یافتہ ممالک ہیں، یہاں بچے بھی
ہر بات کی وجہ پوچھتے ہیں، ابھی اس نے ہوش کے ناخن بھی نہیں لئے، مگر مسائل شرعیہ کے
بارے میں پوچھتا ہے: ایسا کیوں ہے؟ یعنی مسئلہ کو محسوس کرکے سمجھاؤ، تبھی وہ سمجھے
گا ورنہ نہیں سمجھے گا۔
بیت اللہ میں جاکر چھت نہ دیکھنے کی وجہ:
ٹورنٹو کی مسجد دارالسلام میں ایک باپ اپنے
بچہ کو لے کر آیا، بچے کی عمر مشکل سے دس گیارہ سال رہی ہوگی، اس کا باپ کہنے لگا:
اس بچہ کا ایک سوال ہے، آپ اس کا جواب دیں۔ میں نے پوچھا: پیارے ! تیرا کیا سوال ہے؟
اس نے کہا: میں نے ایک کتاب میں پڑھا ہے کہ جو شخص کعبہ شریف کے اندر جائے وہ چھت کی
طرف نہ دیکھے، ایسا کیوں ہے؟ چھت کی طرف کیوں نہیں دیکھ سکتا؟ میں نے اس سے پوچھا:
کعبہ شریف کے اندر کیوں جاتے ہیں؟ وہ بچہ تھا کیا جواب دیتا! اس لئے میں نے اسے بتایا
کہ کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کے لئے جاتے ہیں، عبادت کرنے کے لئے جاتے ہیں، پھر میں
نے اس سے پوچھا: پرانی عمارتیں( آثار قدیمہ) دیکھنے کے لئے اسکول کے بچے کیوں جاتے
ہیں؟ اس نے کہا: عمارت دیکھنے کے لئے جاتے ہیں کہ کیسی ہے؟ کس چیز سے بنی ہے؟ اب میں
نے اس کو سمجھایا کہ کعبہ شریف تمام عمارتوں سے پرانی عمارت ہے، مگر اس کے اندر جانا
آثار قدیمہ دیکھنے کے لئے جانا نہیں ہے، اندر جانا عبادت کے لئے ہے، اللہ جتنی توفیق
دیں نماز پڑھنی چاہئے اور نماز پڑھ کر نکل آنا چاہئے،دیواریں دیکھنا، چھت دیکھنا وغیرہ
تو آثار ِ قدیمہ کی عمارتوں میں ہوتا ہے، اور دیوار دیکھنے کی ممانعت اس لئے نہیں کی
کہ اس پر تو ضرور ہی نظر پڑے گی، اس سے نظر بچانہیں سکتے، اور چھت کو دیکھنے کی کوئی
ضرورت نہیں، وہ بچہ سمجھ گیا، اور مطمئن ہوکر چلاگیا، کیونکہ میں نے محسوس بناکر بات
پیش کی تھی، اس لئے وہ آسانی سے سمجھ گیا۔
اسی طرح ایک نوجوان میرے پاس آیا، یہ بھی ٹورنٹو
کا واقعہ ہے، اس نے سوال کیا: دو نمازیں:ظہر اور عصر خاموش کیوں ہیں؟ اور تین نمازیں:
مغرب، عشاء اور فجر جہری کیوں ہیں؟ یہ ایک دقیق مسئلہ تھا، ہمارے طلبہ بھی اس کو نہیں
سمجھ پاتے، وہ تو کالج میں پڑھنے والا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا: آپ کی شادی ہوئی ہے؟
اس نے کہا: ہاں! میں نے کہا: تم میاں بیوی گپ کب کرتے ہو؟ دن میں یا رات میں؟ اس نے
کہا: رات میں، دن میں تو ضروری باتیں کرتے ہیں، میں نے کہا: آپ کے سوال کا یہی جواب
ہے، دن کو اللہ نے ایسا بنایا ہے کہ زیادہ باتیں کرنے کو جی نہیں چاہتا، اسی لئے سنیما،
ٹھیٹر اور گانے بجانے کے پروگرام رات میں ہوتے ہیں کیونکہ رات کی فطرت میں اللہ نے
انبساط رکھا ہے اوردن کی فطرت میں انقباض اور جب طبیعت میں انقباض ہو تا ہے تو نہ سنانے
کو جی چاہتا ہے نہ سننے کو، اس لئے دن کی نمازیں خاموش ہیں، اور رات میں طبیعت میں
انبساط ہوتا ہے سنانے کو بھی جی چاہتا ہے اور سننے کو بھی، اس لئے رات کی نمازیں جہری
ہیں۔
پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ دن کی فطرت میں انقباض
اور رات کی فطرت میں انبساط کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ دن کو اللہ تعالیٰ نے معاش
کا وقت بنایا ہے، اگر اس میں انبساط رکھا جاتا تو آدمی ٹی وی دیکھتا رہتا ، گاتا بجاتا
رہتا، بیوی سے گپ کرتا رہتا۔ نہ جوب (کام) پر جاتا نہ شوپ( دوکان) پر، اس لئے اس میں
انقباض رکھا تاکہ آدمی صبح اٹھ کر نہا دھو کر نوکری پر پہنچ جائے یا دوکان کھول کر
بیٹھ جائے، اور رات میں کوئی دھندا نہیں ، وہ سونے کے لئے ہے، اس لئے رات میں انبساط
رکھا۔ اور شریعت نے انقباض وانبساط کا احکام میں لحاظ رکھا ، اسی لئے دن کی نمازوں
کو سری اور رات کی نمازوں کو جہری کردیا۔
اس نے سوال کیا: پھر جمعہ اور عیدین میں جہری
قرأت کیوں ہے؟ میں نے اس سے پوچھا: آپ کے یہاں روز زفاف ہوتا ہے یا نہیں؟ شادی کے
بعد رخصی دن میں عمل میں آتی ہے یا نہیں؟ اس نے کہا: دن میں بھی عمل میں آتی ہے (یورپ
اور امریکہ میں دن میں بھی رخصتی ہوتی ہے) میں نے کہا: جب رخصتی دن میں ہو اور روز
ِ زفاف ہو تو پہلی ملاقات میں میاں بیوی گپ کرتے ہیں یا نہیں؟ اس نے کہا: کرتے ہیں،
میں نے کہا: یہی آپ کے سوال کا جواب ہے، اس نے کہا: میں سمجھا نہیں۔ میں نے کہا: یہ
موقع کی بات ہے اور خاص موقعوں کے احکام الگ ہوتے ہیں، جمعہ کے دن اورعید کے دن آدمی
نہاتا ہے، نئے یا دھلے ہوئے کپڑے پہنتا ہے، خوشبو لگاتا ہے اور بڑے اجتماع میں پہنچتا
ہے۔ ایسے موقعہ پر طبیعت میں انبساط پیدا ہوجاتا ہے، اس لئے قرآن زور سے پڑھا جاتا
ہے ۔
یہ دقیق ترین مسئلہ تھا مگر میں نے اس کو محسوس
بنادیا تو اس کی سمجھ میں آگیا، یہ سب حجةاللہ کی برکت ہے، حجۃ اللہ میں یہ مسئلہ نہیں
آیا، مگر پڑھتے پڑھاتے ایک مزاج بن گیا، اب شریعت کا کوئی مسئلہ ہو میں اس کو محسوس
بناکر پیش کرسکتا ہوں۔
غرض حکیم الاسلام نے فرمایا: شاہ صاحب کوڈیڑھ
سو سال پہلے یہ بات محسوس ہوگئی تھی کہ اب عقلیت کا دور ختم ہونے والا ہے اور سائنس
کا دور شروع ہونے والا ہے، جس میں معنویات کومحسوس بناکر پیش کرنا ہوگا، اس لئے شاہ
صاحب نے حجۃ اللہ لکھی تاکہ دو سو سال کے بعد جب یہ دور شروع ہو، علماء امت اس قابل
ہوجائیں کہ وہ ہر مسئلہ کو محسوسات کے دائرہ میں لاکر افہام وتفہیم کرسکیں۔
مشکل کتاب کو سمجھنے کا طریقہ:
اگر آپ کوئی گہرا فن اور گہری کتاب سمجھنا چاہتے
ہیں تو اس کا طریقہ شاہ صاحب نے یہ بتایا ہے کہ پہلے اس کے آلات جمع کریں، کسی بھی
مسئلہ کو سمجھنے کے لئے جو ابتدائی معلومات ضروری ہوتی ہیں ان کوجمع کریں، پھر تدریجاً
آگے بڑھیں، ایک دم چھلانگ نہ لگائیں، مثلاً: حجۃ اللہ میں ایک مضمون ہے، اس میں ہے
کہ واقعات سلسلۂ مُعِدَّات ہیں، اس کو سمجھنے کے لئے پہلے مُعِدّ کو سمجھنا پڑے گا،
اس کے بغیر یہ بات نہیں سمجھ سکتے، غور کریں کہ یہ کس فن کی بات ہے؟ یہ منطق کی اصطلاح
ہے، منطق کی کتابوں میں معدّ وہ چیز ہے جو موجود ہوکر فنا ہوجائے تب اگلا فرد وجود
میں آتا ہے، جیسے میرا ایک قدم وجود میں آیا، پھر دوسرا قدم کب وجود میں آئے گا؟ جب
میں پچھلا پیر اٹھاکر آگے رکھونگا تب دوسرا قدم وجود میں آئے گا،اب پچھلا قدم ختم ہوگیا،
اور دوسرا قدم وجود میں آگیا، اسی طرح اعداد (گنتی) بھی سلسلہ معدات ہیں ، چھ میں ایک
ملائیں تب سات بنیں گے، اب چھ ختم ہوگئے اور سات وجود میں آگئے، اسی طرح سات میں ایک
ملایا تو آٹھ بنا، اب سات ختم ہوگیا اور آٹھ وجود میں آگیا۔
غرض لفظ یا اصطلاح جس فن کی ہے اس فن میں جاکر
جب تک معنی متعین نہیں کریں گے پلّے کچھ نہیں پڑے گا، اس لئے شاہ صاحب نے فرمایا کہ
جب کوئی مشکل مضمون ہو یا مشکل کتاب ہو اور آپ اس کوسمجھنا چاہیں تو پہلے اس کے آلات
مہیا کریں، جو تمہیدی باتیں ضروری ہیں ان کو پہلے حاصل کریں، پھر تدریجاً آگے بڑھیں۔
تدریج سے ذہن میں آگے بڑھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، او ر رفتہ رفتہ آدمی مجتہد بن
جاتا ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ رات میں سوتے نہیں تھے، سوچتے تھے اور جب کوئی دقیق مسئلہ
حل ہوتا تو صحن میں ناچتے تھے، اور خوش ہوکر فرماتے: بادشاہوں کے لڑکوں کو یہ نعمت
کہاں حاصل ! امین اور مامون کو یہ نعمت کہاں حاصل ! بہت خوش ہوتے۔
معلوم ہوا کہ سوچنا بھی ایک مطالعہ ہے، حضرت
علامہ محمد ابراہیم صاحب بلیاوی رحمہ اللہ جب درس کے لئے آتے تو پہلے وضو کرتے، عمامہ
باندھتے، پھر تپائی پر رکھ کر ترمذی شریف کھولتے اور جو ابواب پڑھانے ہوتے ان کو ایک
نظر دیکھتے، پھر کتاب بند کرکے دس منٹ سوچتے، پھر پڑھانے کے لئے چل دیتے، یہ سر جھکاکر
بیٹھنا ہی ان کا مطالعہ تھا کیونکہ مواد تو سارا دماغ میں اکٹھا ہوتا ہی تھا، صرف ترتیب
دینے کی ضرورت تھی کہ مسئلہ کو کس انداز سے بیان کرنا ہے۔
شاہ صاحب نے حجۃاللہ کے مقدمہ میں لکھا ہے:وکذلک
کلُّ مسلم یَتَرَائٰ بادیَ الرأی: أن البحث
عنہ مستحیل، ولااِ حاطةَ بہ ممتنعة، ثم اِذا ارْتِیْضَ بِأَدَوَاتِہِ، وَتُدُرِّجَ
فی فہم مقدِّماتہ حصل التمکُّن فیہ، وتیسر تأسیس مبانیہ، وتفریعُ فروعہ، وزویہ: اسی
طرح ہر فن سرسری نظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس سے محبت کرنا ممکن ہے، اور اس کا
احاطہ کرنا محال ہے، مگر جب اس کے اوزاروں کے ذریعہ اس کو سدھالیا جاتا ہے، اور آہستہ
آہستہ اس کی تمہیدی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس میں جماؤ حاصل ہوجاتا
ہے، اور اس کی بنیادوں کو قائم کرنا اور اس کی جزئیات ومتعلقات کی تفریع کرنا آسان
ہوجاتا ہے( رحمۃاللہ ١:١٢١)
حجۃاللہ مشکل کیوں ہے؟
اور حجۃ اللہ دو وجہ سے مشکل ہے، ایک: اس میں
ایجاز( اختصار) ہے اور جب بھی کلام میں ایجاز ہوتا ہے بات مشکل سے سمجھ میں آتی ہے۔
دوم: مضامین بہت بلند ہیں، میں نے رحمة اللہ کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ شاہ صاحب عرش
پر بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ ان مضامین کو فرش پر لانا مشکل ہوتا ہے، جب تک ان کی اصطلاحات
حل نہ کی جائیں، ان کے انداز بیان سے واقفیت پیدا نہ کی جائے مضمون سمجھ میں نہیں آتا۔
حجۃ اللہ کیسے سمجھیں؟
مگر اب حجۃ اللہ کا سمجھنا بہت آسان ہوگیا ہے،
آپ رحمۃ اللہ الواسعہ لے کر بیٹھیں اور ایک مقدار متعین کریں کہ مجھے روزانہ ایک مسئلہ
پڑھنا ہے یا تین صفحے پڑھنے ہیں، اس سے زیادہ نہ پڑھیں، اس کو اپنی کاپی میں دوسرے
لفظوں میں لکھیں، لمبے مضمون کو مختصر کریں اور چوبیس گھنٹے اس مضمون کودماغ میں گھمائیں،
ساتھیوں سے مذاکرہ کا موقعہ ملے تو مذاکرہ کریں، ساتھی نہ ملیں تو چند تپائیاں سامنے
رکھ کر تقریر کریں، اس سے مضمون یاد بھی ہوگا اور ذہن میں بھی بیٹھے گا۔
البتہ حجۃ اللہ کی دوقسمیں ہیں: قسم اول میں
سات مباحث ہیں اور ہر مبحث میں متعدد ابواب ہیں، اگر کوئی ان سات مباحث پر قابو پالے
تو شریعت کا ہر مسئلہ حل کرسکتا ہے، ہر مسئلہ کا راز اور حکمت پاسکتا ہے۔ حجۃ اللہ
میں اُس مسئلہ کا ہونا ضروری نہیں،اور قسم ثانی میں حضرت نے مشکوٰة شریف کو سامنے رکھ
کر اسی ترتیب سے حدیثیں لکھی ہیں اور حدیثوں میں جو حکم آیا ہے اس کا راز بیان کیا
ہے اس کی حکمت بیان کی ہے۔
قسم ثانی کا سمجھنا آسان ہے، کہیں کہیں کوئی
بات مشکل آجاتی ہے، ورنہ وہ بہت آسان ہے، ہر پڑھا لکھا آدمی اس کو سمجھ سکتا ہے، پس
جو حضرات حجۃ اللہ کا مطالعہ کریں وہ پہلے قسم ثانی پڑھیں، جب اس سے فارغ ہوں تو قسم
اول شروع کریں، رحمة اللہ میں میں نے اس کی ایک مثال دی ہے۔ ایک ماہر باورچی ہے، اس
کے پاس پلاؤ پکانے کا ایک فارمولہ ہے، مگر مجمع میں باورچی اس فارمولہ کو بتائے تو
ضروری نہیں کہ ہر آدمی اس فارمولہ کے مطابق پلاؤ پکالے، کوئی کامیاب ہوسکتا ہے اور
کوئی ناکام۔ لیکن اگر وہ باروچی پلاؤ پکاکر سب کے سامنے پلیٹوں میں کھاناسجادے تو پھر
کیا دیر ہے؟ ہاتھ بڑھائے اور کھانا شروع کرے۔ پہلی قسم میں حضرت نے اصول وضوابط بیان
کئے ہیں اور اصول وضوابط ہمیشہ نظری ہوتے ہیں اور نظری چیزوں کا سمجھنا دشوار ہوتا ہے اس لئے قسم اول کا
سمجھنا دشوار ہے، اور قسم ثانی میں حدیثوں کو سامنے رکھ کر ان میں جو احکام آئے ہیں
ان کے اسرار وحکم بیان کئے ہیں، یعنی اصول وضوابط کے مطابق حدیث میں مذکور احکام کے
اسرار وحکم بیان کرکے کھانا سامنے کردیا ہے، اب کیا کمی ہے آگے بڑھو اور خوانِ نعمت
سے فائدہ اٹھاؤ۔
حجۃ اللہ کے ہم پلہ کوئی کتاب نہیں:
حجۃ اللہ کے انداز پر اور بھی کتابیں لکھی گئی
ہیں لیکن حجۃ اللہ کے ہم پلہ کوئی کتاب نہیں، حضرت تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی المصالح
العقلیۃ فی الأحکام النقلیۃہے، اس میں صرف احکام کی حکمتیں ہیں کہ یہ حکم کیوں ہے؟
وضوء میں چار فرض کیوں ہیں؟ اطراف کیوں دھوئے جاتے ہیں؟ لیکن اس میں کوئی ایسا فارمولہ
نہیں ہے کہ وہ ہم جان لیں تو خود شریعت کے احکام کی حکمت نکال لیں، اور حجۃ اللہ میں
آدھی کتاب میں ایسے ہی فارمولے بیان کئے ہیں ۔ علامہ حسین جسر رحمہ اللہ نے بھی عقائد
پر ایک کتاب لکھی ہے، انھوں نے بھی احکام کی علتیں بیان کی ہیں، مگر فارمولہ بیان نہیں
کیا، الغرض جو بھی کتاب اس باب میں لکھی گئی ہے وہ حجۃ اللہ کے ہم پلہ نہیں، حجۃ اللہ
پہلی اور آخری کتاب ہے، اس میں جہاں احکام کی حکمتیں بیان کی گئی ہیں وہیں اصول اور
ضابطے بھی بیان کئے گئے ہیں۔
نظام الاوقات بنانا ضروری ہے:
مگرہمارے فضلاء پر ایسا احساس کمتری چھایا ہوا
ہے کہ وہ کچھ کرنا ہی نہیں چاہتے، بھائیو! کب تک سننے کے محتاج رہوگے، پڑھنا شروع کرو،
دس سال تک کانوں سے علم حاصل کیا اب آنکھوں کو استعمال کرو، اور اس کے ذریعہ علم حاصل
کرو، کہتے ہیں: اجی وقت نہیں، فرصت نہیں، بھائی! جب آپ چاہیں گے وقت بھی نکل آئے گا
اور فرصت بھی مل جائے گی۔ اپنا حساب کرو، ہم کم از کم چار گھنٹے فضولیات میں ضائع کرتے
ہیں، اِدھر کھڑے ہیں ،اُدھرباتیں کررہے ہیں، خواہ مخواہ مس کال ماررہے ہیں، پیسہ بھی
برباد کررہے ہیں اور وقت بھی ضائع کررہے ہیں، ہمیں چاہئے کہ وقت کی حفاظت کریں، وقت
کو بچاکر پڑھنے کا نظام بنائیں۔ نظام الاوقات بنائے بغیر کچھ نہیں ہوگا، طے کرلیں کہ
فلاں وقت یہ کرنا ہے اور فلاں وقت وہ، رات کو دس بجے سے بارہ بجے تک ضرور پڑھنا ہے،
اور یہ پڑھنا ہے ، اور اس طرح پڑھنا ہے، کچھ بھی ہوجائے پڑھنا ہے۔ حضرت تھانوی قدس
سرہ کا واقعہ ہے: ایک مرتبہ ان کے استاذ حضرت مولانا خلیل احمد صاحب تھانہ بھون آئے،
حضرت تھانوی بہت خوش ہوئے اور زور کی دعوت کی، کھانے کے بعد مجلس میں بیٹھے۔ حضرت تھانوی
نے عرض کیا: حضرت ! اس وقت میرا بیان القرآن لکھنے کا معمول ہے اگر اجازت ہو تو میں
لکھنے کے لئے چلا جاؤں؟ حضرت نے فرمایا: بالکل جاؤ اور لکھو! حضرت تھانوی چلے گئے،
اور دس منٹ کے بعد آگئے، حضرت نے پوچھا: کیوں آگئے؟ کہنے لگے: حضرت! میں نے اپنا معمول
پورا کرلیا، اور چونکہ آپ تشریف فرما ہیں اس لئے لکھنے کو جی نہیں چاہتا، دس منٹ لکھا
اور معمول پورا کرلیا، اس طرح آدمی نظام الاوقات بنائے تو کامیابی حاصل ہوتی ہے، یہ
نہیں کہ کسی دن موقع ملا تو پڑھ لیا اور سات دن ناغہ کردیا۔ کیونکہ آٹھویں دن پڑھنے
کو جی نہیں چاہے گا، اس لئے ایک وقت مقرر کرکے مطالعہ میں لگ جاؤ اور پابندی سے لگے
رہو تو استعداد بڑھے گی، دماغ میں معلومات جمع ہونگی، اور رفتہ رفتہ دین کا علم پکا
ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حجۃاللہ پڑھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔
وآخر دعوانا أن الحمدﷲ رب العالمین۔
رحمة اللہ الواسعہ شرح حجة اللہ البالغہ
حاصل کرنے کےلئے رابطہ کریں:
قاسم احمد پالن پوری
منیجر مکتبہ حجاز دیوبند
09358914948
ہماری تلاوت قرآن کریم، اور بچوں پر اسکے اثرات
Friday, 26 June 2015 noor اکابرین - سلف صالحین, علمائے دیوبند, قرآن مجید, متفرقات, مولانا عادل سعیدی 1
!!! ہماری تلاوت قرآن کریم، اور بچوں پر اسکے اثرات !!!
تحریر: احمد سعید پالنپوری استاد جامعۃ الشیخ حسین احمد المدنی
محلہ خانقاہ دیوبند
آپ بیتی میں حضرت مولانا زکریا صاحب رحمہ
اللہ نے لکھا ہے کہ جب انکے ابا حضرت مولانا یحیی کاندھلوی صاحب رحمہ اللہ کا دودھ
چھڑایا گیا تو وہ پاؤ پارہ کے حافظ تھے، دو ڈھائی سال کا بچہ پاؤ پارہ کا حافظ بڑی
عجیب بات ہے، اسکی وجہ بھی شیخ الحدیث صاحب رحمہ اللہ نے لکھی ہے کہ حضرت مولانا یحیی
صاحب رحمہ اللہ کی والدہ محترمہ حمل کے زمانہ میں قرآن کریم کی خوب تلاوت کیا کرتی
تھی، اور پیدائش کے بعد بچے کو گود میں لیکر تلاوت قرآن کریم کرتی رہتی تھی، بچہ اسکو
سنتا رہتا، اسکی وجہ سے اتنی چھوٹی عمر میں وہ پاؤ پارے کے حافظ ہوگئے تھے، اور سات
برس کی عمر میں حضرت مولانا یحیی صاحب رحمہ اللہ نے قرآن شریف حفظ
کر لیا تھا، اور حفظ قرآن کریم کے بعد ایک قرآن کریم روز پڑھ لیا کرتے تھے، خود حضرت
مولانا یحیی صاحب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے میں صبح کی نماز پڑھ کر امی بی کے مکان کی چھت
پر قرآن شریف شروع کرتا اور دوپہر تک قرآن کریم مکمل کرلیا کرتا تھا، حضرت مولانا عاشق
الہی صاحب رحمہ اللہ تذکرة الخلیل میں حضرت مولانا یحیی کاندھلوی صاحب کے حالات میں لکھتے ہیں:
'' ایک
مرتبہ میری درخواست پر رمضان میں قرآن شریف سنانے کے لیے میرٹھ تشریف لائے تو میں
نے دیکھا کہ دن بھر میں چلتے پھرتے پورا قرآن مجید ختم فرما
لیتے، اور افطار کا وقت ہوتا تو ان کی زبان پر قل اعوذ برب
الناس ہوتی تھی. ریل
سے اترے تو عشاء کا وقت ہوگیا تھا، ہمیشہ باوضو رہنے کی عادت تھی، اسی لیے مسجد میں قدم رکھتے
ہی مصلے پر آگئے، اور تین گھنٹے میں دس پارے ایسے
صاف اور رواں پڑھے کہ نہ کہیں لکنت تھی، نہ متشابہہ، گویا
قرآن شریف سامنےکھلا رکھا ہے، اورباطمینان پڑھ رہے ہیں، تیسرے دن ختم فرماکر روانہ
ہوگئے کہ نہ دور کی ضرورت تھی نہ سامع کی '') تذکرة الخلیل 204 (
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمدزکریا صاحب
رحمہ اللہ اپنے والدمحترم کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں '': میرٹھ کے اسسفر کے
متعلق والد صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ میرٹھ کےلوگوں سے معلوم ہوا کہ جب لوگوں میں یہ
تذکرہ ہوا کہایک شخص سہارنپور سے تین دن میں قرآن شریف سنانے کےلیے آرہا ہے، تو تیس
چالیس حافظ محض امتحان کے لیے میرے پیچھے تراویح پڑھنے کے لیے آتے تھے، والد
صاحب کو رمضان المبارک میں میری طرح سے بخار نہیں آتا
تھا، دوستوں کے اصرار پر ایک دو دن کے لیے ان کے یہاں
جاکر دو شب یا زیادہ سے زیادہ تین شب میں تراویح میں
ایک قرآن پڑھ کر واپس آجاتے تھے، مساجد میں عموما تین تین
شب میں ہوتا تھا، غیر مساجد میں ایک یا دو شب میں بھی
ہوجاتا تھا.
ایک مرتبہ شاہ زاہد حسین صاحب مرحوم کے اصرار
پر دو شب کے اندر قصبہ بہٹ میں ان کے مردانہ مکان میں
قرآن پاک سنا کر آئے تھے، مسجد نواب والی قصاب پورہ
دہلی میں ایک دفعہ قرآن سنانا مجھے یاد ہے، عزیز مولوی
نصیرالدین سلمہ حکیم اسحاق صاحب مرحوم کی مسجد میں ایک
مرتبہ قرآن پاک سنا رہے تھے، میرے والد صاحب نور اللہ
مرقدہ کسی
سفر سے واپس تشریف لارہے تھے، حکیم اسحاق صاحب کی بیٹھک
میں استراحت فرما رہے تھے، نصیر الدین کا چودھواں پارہ تھا، سامع بار بار لقمہ دے رہا تھا،
وہ باوضو تھے، مسجد میں تشریف لے گئے، اور نصیر الدین کے سلام
پھیرنے کے بعد مصلے پر سے ہٹا کر سولہ رکعات میں سولہ
پارے ختم کردئے، مصلیوں کو تو گراں ضرور ہوئی، مگر لوگوں کو جلد قرآنپاک ختم ہونے کی
خوشی مشقت پر غالب ہوا کرتی ہے. بارہویں رات کو قرآن پاک ختم کرکے سب تھکان
بھول گئے.
بعض
اعزہ کے اصرار پر کاندھلہ میں بھی امی بی رحمہا اللہ کے مکان پر اخیر زمانہ میں ایک مرتبہ قرآن
سنانے کا حال تو مجھے بھی معلوم ہے، اور وہ اپنی جوانی
کا وہ قصہ سنایا کرتے کہ ساری رات نوافل میں قرآن سنانے
میں گذرتی تھی، اور چونکہ ہمارے یہاں نوافل میں چار سے
زیادہ مقتدیوں کی اجازت نہیں ہوتی تھی، اس لیے مستورات تو
بدلتی رہتی تھیں، اور میرے والد مسلسل پڑھتے رہتے تھے. میرے
چچا جان
حضرت مولانا محمد الیاس نور اللہ مرقدہ نے بھی کئی رمضان المبارک
امی بی کی وجہ سے کاندھلہ گذارے، تراویح تقریبا ساری
رات میں پوری ہوتی تھی، مسجد میں فرض پڑھنے کےبعد مکان تشریف لے جاتے تھے، اور سحر
تک تراویح میں چودہپندرہ پارے پڑھتے تھے.
مولانا رؤف الحسن صاحب نور اللہمرقدہ میرے
والد صاحب کے حقیقی ماموں اور میری سابقہ اہلیہ مرحومہ کے والد، جن کا مفصل قصہ
تو عنقریب تقوی کے مضمون میں آرہا ہے، اس کا یہ جزو یہاں
کے مناسب ہے کہ تیس رمضان المبارک کو الف لام میم سے
لے کر قل اعوذ برب الفلق تک ایک رکعت میں اور دوسری رکعت
میں قل
اعوذ برب الناس پڑھ کر سحر کے وقت اپنی والدہ یعنی امی بی
سے یہ کہا کہ '' دو رکعات میں نے پڑھا دیں، اٹھارہ آپ پڑھ لیں '' اور ان کی والدہ امی بی
نے سارا قرآن کھڑے ہوکر سنا. بات پر بات نکلتی جاتی ہے، مگر
یہ واقعات بھی اکابر کے مجاہدات میں داخل ہیں، اس لیے
زیادہ بے محل نہیں.) آپ بیتی، جلد دوم، (104 ص
متعدد ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ماں
کی خوشی، غم، غصہاور پریشانی جیسے حالات سے پیٹ میں پلنے والا بچہ متاثر ہوتا ہے، اگر
ماں ایام حمل میں قرآن کریم پڑھے، یا کثرت سے قرآن کریم سنے، تویقینا یہ ماں کیلے بڑی
سعادتندی کی بات ہے، اور بچے کیلے بھی مفید تر ہے، شیخ ڈاکٹر محمد راتبالنابلسی کے
بقول "قرآن پڑھنے والی حاملہ ماں کا نومولودقرآن سے تعلق رکھنے والا ہوتا ہے". .
نیز ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ دودھ
پیتا بچہ اپنے اطراف کی چیزوںکا اثر لیتا ہے، جبکہ اس کے حواس میں سماعت کی سب سےپہلے
شروعات ہوتی ہے، بچہ ایام رضاعت میں مفرد الفاظ کوجمع کرنا شروع کردیتا ہے، اگرچہ وہ
ایام رضاعت میں انالفاظ کو ادا نہیں کرسکتا، لیکن یہی مفردات کو وہ بعد میں ادا کرنے
پر قادر ہوجاتا ہے، اگر دودھ پلانے والی ماں کو اس عرصے میں قرآن کریم کی سماعت یا بآواز
بلندتلاوت کا موقعمیسر آجائے، تو کوئی شک نہیں کہ اس کا یہ عمل بچہ پر بہت
زیادہ اثر انداز ہوگا، اور بچے کے لیے حفظ قرآن کریم کرنا آسان ہوگا، چھوٹے بچے اکثر اپنے بڑوں
کی حرکات وسکنات نقل کرتے ہیں، اگر بچے کے سامنے ہم لوگ کثرتسے تلاوت قرآن کریم کریں،
تو ہمارا یہ عمل بچے کے لیے یقینا محبوب بن جائے گا، اور بعدمیں ہمارا یہی عمل بچہ
کے حفظ کرنے میں مددگار ثابتہوگا، مزید یہ کہ تلاوت قرآن کریم کی برکات پورے گھر اور
پورے کنبےکے لیے باعث خیرہوگی، یقینا تلاوت کیفضیلتاوراسکےثواب کا ہم انداز ہ نہیں
لگا سکتے.
مجھے حضرت مولانا یحیی صاحب رحمہ اللہ
کے واقعہ کو بیان کرکے یہ بتلانا ہے کہ ہم لوگ رمضان المبارک میں تلاوت قرآن کریم کرتے
ہیں، اگر تلاوت قرآن کریم کرتے ہوئے، ہم لوگ اپنے گہر کے چھوٹے بچوں کو اپنے پاس لٹالیں،
اور جو تھوڑے بڑے بچے ہیں، انکو اپنے پاس بٹھالیں، اور ان کے سامنے تجوید کی رعایت
کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کریں، تو چھوٹے بچوں پر اس کے عمدہ اثرات مرتب ہونگے، اور
بڑے بچے ہماری تلاوت قرآن کریم سن کر پڑھنے کا لہجہ سیکھیں گے، جو بعد میں قرآن کریم
کے حفظ میں انکے لیے بھت فائدہ کا باعث ہوگا، اللہ سبحانہ وتعالي ہمیں اپنی اولاد کو
قرآن کریم حفظ کروانے کی توفیق عطا فرمائے
آمین ثم آمین یارب العالمین
کتاب اللہ کے بعد سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب "فضائل اعمال "کے مختلف زبانوں میں تر جمے۔
Wednesday, 23 July 2014 noor اسلامی مضامین, علمائے دیوبند 0
"فضائل اعمال "
فضا ئل قران:
عربی ۔مترجم: مولانا سید محمد واضح رشید ندوی صاحب ۔ برمی ۔ مترجم : مولانا محمد موسیٰ فاضل مظاہر علوم
انگریزی۔ مترجم : سید عز الدین ۔ بنگالی۔ مترجم قاضی خلیل الرحمن ۔ فارسی ۔ ،مترجم استاذ محمد اشرف ۔ گجراتی ۔مترجم : سید محمود قاسم
فضائل نماز ۔درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) عربی (۲) برمی (۳) انگریزی(۴) مدراسی (۵) بنگالی (۶)تلگو(۷) ملیالم (۸) تامل (۹) فرانسیسی (۱۰)گجراتی
(۱۱) فارسی (۱۲) سھالی (۱۳) پشتو (۱۴) ملائشی
فضائل ذکر ۔درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) برمی (۲) مدراسی (۳)بنگالی(۴)ملیالم (۵) تامل (۶)پشتو(۷)ملائشی (۸) فارسی
فضائل حج: (۱) برمی (۲) گجراتی (۳) انگریزی(۴) تامل ۔
فضائل صدقات :درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) برمی (۲) مدراسی (۳) ملیالم (۴) گجراتی (۵) انگریزی (۶) تامل
فضائل درود :درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) عربی (۲) گجراتی (۳) تلگو (۴) پشتو (۵) انگریزی(۶) فارسی ( ۷) ملائشی
فضائل رمضان :درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) فارسی ۔ جناب سید محمد اشرف صاحب (۲) ہندی ۔ جناب ظہیر الدین صاحب (۳) پشتو ۔ جناب ظہیر الدین صاحب
(۴) انگریزی ۔ جناب یو سف افریقی صاحب (۵ ) تامل ۔ جناب خلیل الرحمن صاحب ( ۶) بنگالی ۔ جناب قاضی خلیل الرحمن صاحب
(۷) تلگو ۔ مولانا سید نوراللہ قادری صاحب (۸) ملیالم ۔ جناب محمد عبد القادر صاحب (۹) گجراتی ۔ جناب عیسی صاحب
(۱۰) فرانسیسی ۔ جناب احمد سعید صاحب (۱۱) برمی ۔ شیخ محمد موسیٰ صاحب
فضائل تبلیغ:درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) عربی ۔ حضرت مولانا سید محمد رابع ندوی صاحب (۲) برمی ۔ شیخ محمد موسیٰ صاحب (۳) انگریزی ۔ جناب حامد محمد سلیمان صاحب ۔ (۴)ہندجناب عطا ء الرحمن صاحب (۵) تامل ۔ جناب خلیل الرحمن صاحب (۶) ملیالم ۔ جناب محمد عبد القادر صاحب ( ۷) پشتو ۔ جناب سید محمد عبد الخالق صاحب ۔ (۸) گجراتی ۔ جناب سید عیسیٰ صاحب (۹) ملیشائی ۔ جناب سید عیسیٰ صاحب ۔ (۱۰) فارسی ۔ شیخ محمد اشرف صاحب ۔ (۱۱) تلگو ۔ مولانا سید نور اللہ قادری صاحب ۔ (۱۲) سھالی ۔ شیخ مقداد یوسف صاحب ۔ (۱۳) فرانسیسی ۔ جناب احمد سعید صاحب ۔
حکایات صحابہ :درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱)برمی ۔ شیخ محمد موسی صاحب(۲) انگریزی (۳) سید عبد الر شید صاحب(۴) مدراسی ۔ شیخ محمد ابراہیم صاحب(۵) ملیالم ۔ جناب محمد عبد القادر صاحب (۶)تامل ۔ جناب خلیل الر حمن صاحب(۷) گجراتی ۔ جناب عیسی صاحب (۸) بنگالی شیخ عبد المجید صاحب(۹) فارسی ۔ شیخ محمد اشرف صاحب (۹)جا پانی ۔ جناب محمد ارشد صاحب(۱۰) ہندی ۔ جناب محمد ارشد صاحب(۱۱) مراٹھی ۔ جناب زبیر احمد صاحب(۱۲) تلگو مولانا نورا للہ قادری صاحب (۱۳)پشتو ۔ شیخ ابو الفیض صاحب(۱۴) فرانسیسی ۔ جناب احمد سعید صاحب (۱۵) ملائشی ۔ جناب یعقوب صاحب
عربی ۔مترجم: مولانا سید محمد واضح رشید ندوی صاحب ۔ برمی ۔ مترجم : مولانا محمد موسیٰ فاضل مظاہر علوم
انگریزی۔ مترجم : سید عز الدین ۔ بنگالی۔ مترجم قاضی خلیل الرحمن ۔ فارسی ۔ ،مترجم استاذ محمد اشرف ۔ گجراتی ۔مترجم : سید محمود قاسم
فضائل نماز ۔درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) عربی (۲) برمی (۳) انگریزی(۴) مدراسی (۵) بنگالی (۶)تلگو(۷) ملیالم (۸) تامل (۹) فرانسیسی (۱۰)گجراتی
(۱۱) فارسی (۱۲) سھالی (۱۳) پشتو (۱۴) ملائشی
فضائل ذکر ۔درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) برمی (۲) مدراسی (۳)بنگالی(۴)ملیالم (۵) تامل (۶)پشتو(۷)ملائشی (۸) فارسی
فضائل حج: (۱) برمی (۲) گجراتی (۳) انگریزی(۴) تامل ۔
فضائل صدقات :درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) برمی (۲) مدراسی (۳) ملیالم (۴) گجراتی (۵) انگریزی (۶) تامل
فضائل درود :درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) عربی (۲) گجراتی (۳) تلگو (۴) پشتو (۵) انگریزی(۶) فارسی ( ۷) ملائشی
فضائل رمضان :درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) فارسی ۔ جناب سید محمد اشرف صاحب (۲) ہندی ۔ جناب ظہیر الدین صاحب (۳) پشتو ۔ جناب ظہیر الدین صاحب
(۴) انگریزی ۔ جناب یو سف افریقی صاحب (۵ ) تامل ۔ جناب خلیل الرحمن صاحب ( ۶) بنگالی ۔ جناب قاضی خلیل الرحمن صاحب
(۷) تلگو ۔ مولانا سید نوراللہ قادری صاحب (۸) ملیالم ۔ جناب محمد عبد القادر صاحب (۹) گجراتی ۔ جناب عیسی صاحب
(۱۰) فرانسیسی ۔ جناب احمد سعید صاحب (۱۱) برمی ۔ شیخ محمد موسیٰ صاحب
فضائل تبلیغ:درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) عربی ۔ حضرت مولانا سید محمد رابع ندوی صاحب (۲) برمی ۔ شیخ محمد موسیٰ صاحب (۳) انگریزی ۔ جناب حامد محمد سلیمان صاحب ۔ (۴)ہندجناب عطا ء الرحمن صاحب (۵) تامل ۔ جناب خلیل الرحمن صاحب (۶) ملیالم ۔ جناب محمد عبد القادر صاحب ( ۷) پشتو ۔ جناب سید محمد عبد الخالق صاحب ۔ (۸) گجراتی ۔ جناب سید عیسیٰ صاحب (۹) ملیشائی ۔ جناب سید عیسیٰ صاحب ۔ (۱۰) فارسی ۔ شیخ محمد اشرف صاحب ۔ (۱۱) تلگو ۔ مولانا سید نور اللہ قادری صاحب ۔ (۱۲) سھالی ۔ شیخ مقداد یوسف صاحب ۔ (۱۳) فرانسیسی ۔ جناب احمد سعید صاحب ۔
حکایات صحابہ :درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱)برمی ۔ شیخ محمد موسی صاحب(۲) انگریزی (۳) سید عبد الر شید صاحب(۴) مدراسی ۔ شیخ محمد ابراہیم صاحب(۵) ملیالم ۔ جناب محمد عبد القادر صاحب (۶)تامل ۔ جناب خلیل الر حمن صاحب(۷) گجراتی ۔ جناب عیسی صاحب (۸) بنگالی شیخ عبد المجید صاحب(۹) فارسی ۔ شیخ محمد اشرف صاحب (۹)جا پانی ۔ جناب محمد ارشد صاحب(۱۰) ہندی ۔ جناب محمد ارشد صاحب(۱۱) مراٹھی ۔ جناب زبیر احمد صاحب(۱۲) تلگو مولانا نورا للہ قادری صاحب (۱۳)پشتو ۔ شیخ ابو الفیض صاحب(۱۴) فرانسیسی ۔ جناب احمد سعید صاحب (۱۵) ملائشی ۔ جناب یعقوب صاحب
از تصحیح الخیال تلخیص وترجمہ تحقیق المقال فی تخریج احادیث فضائل اعمال
جھوٹے مہدی ومسیح کے خلاف دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ۔ مولانا شاہ عالم گورکھپوری
Tuesday, 1 April 2014 noor امت مسلمہ, حالات حاضرہ, علمائے دیوبند, مسائل - فتاوی 0
جھوٹے مہدی ومسیح کے خلاف دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ۔ مولانا شاہ عالم گورکھپوری
مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنی مساجد سے ایسے لوگوں کو دور رکھیں ۔
مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنی مساجد سے ایسے لوگوں کو دور رکھیں ۔
دیوبند ۲۸ مارچ ( عارف عثمانی ) دارالعلوم دیو بند کے شعبہ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب ناظم مولانا شاہ عالم گو رکھپوری نے پریس کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ الیکشن کی گہما گہمی اور مسلمانوں پر چھوٹے مقدمات والزامات کے درمیان دہلی کے مسلمان ایک اور نئے جھوٹے مہدی کی پریشانی سے جھو جھنے لگے ہیں ۔ مصدقہ خبروں کے مطابق در بھنگہ بہار سے تعلق رکھنے والے شکیل بن حنیف نامی ایک شخص نے مہدی اور مسیح ہو نے کا دعویٰ کر کے جامعہ ملیہ کی دیگر یو نیورسٹیوں کے ایسے طلبا کو اپنے دام فر یب میں لینا شروع کر دیا ہے جو دین کی بنیادی تعلیم سے بھی نا واقف ہیں ۔ دارالعلوم دیوبند نے فتویٰ جاری کر کے مسلمانوں کو ایسے غلط لوگوں سے خود کو اور اپنے ایمان کو بچانے کی ہدایت جاری کر دی ہے ۔
مولانا شاہ عالم نے بتا یا کہ سیاسی اور معا شرتی میدان میں مسلمان جہاں آزمائش سے گذررہے ہیں وہیں ان کے مذہب کو بھی آزمائش میں ڈالا جارہا ہے ۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنی مساجد سے ایسے لوگوں کو دور رکھیں ۔ مولانا مو صوف نے اس بات کی تصدیق کی کہ گذشتہ دنوں جامعہ کے علاقے میں بڑے پیمانے پر تین دن کا
تربیتی کیمپ مجلس تحفظ ختم نبوت ساؤتھ دہلی کی جانب سے لگایا جس میں علاقہ کے ائمہ اور علماء نے شرکت کی اور تازہ فتنہ سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کا طور طریقہ سیکھا ۔انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ دنوں دارالعلوم دیوبند کے مفتیان کرام سے ایک صاحب نے با الترتیب تین سوالات پو چھے (۱)جو مسلمان شکیل بن حنیف در بھنگوئی کو احادیث صحیحہ کے مطابق عبد اللہ مہدی کا مصداق مانتے ہیں ایسے لوگوں کو مسلمانوں میں شمار کیا جائے یا نہیں ؟ اگر مسلمانوں میں وہ شمار نہیں ہیں تو ان کے ساتھ مسلمانوں جیسا میل جول رکھنا، ان کے ساتھ شادی وغمی میں شرکت یا خود ان کو اپنے گھر میں دعوت وغیرہ میں بلانا ازروئے شریعت کیا ہے ؟(۲) جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ شکیل بن حنیف کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں ان کے اس عمل کو بیعت سے تا بیر کرنا درست ہے یا نہیں ؟ نیر ایسے لوگوں کو مسلمانوں کی مساجد میں دخول اور عبادت گزاری کی اجازت ہے یا نہیں ؟ (۳) شکیل بن حنیف کے ماننے والے بھی اپنی عبادت کو نماز ، روزہ ، تلاوت وغیرہ کہتے ہیں اُن کا اس طرح کہنا صحیح ہے ؟ اگر نہیں تو مسلمان ان کی عبادت کو کیا نام دیں اور کیا کہیں ؟ دلائل کی روشنی واضح فر مایا جائے تا کہ مسلمانوں کو شرعی رہنمائی مل سکے ۔اس کے جواب میں دارالعلوم کے مفتیان میں اپنے جواب میں کہا کہ (۱) مہدی اور مسیح سے متعلق جو احادیث صحیحہ متواترہ ہیں ان احادیث کو شکیل بن حنیف پر چسپاں کر کے جو لوگ اس (شکیل ) کو مہدی مانتے ہیں وہ از خود دائرہ اسلام سے باہر ہیں ایسے لوگوں کے ساتھ میل جول اسلامی روا داری اُ ن کی شادی غمی میں شرکت اُن کی تقریبات میں جانا جائز نہیں ہے ۔ اسی طرح ایسے شخص کے ہاتھ بیعت کر نے کے عمل کو بیعت ہونا نہیں بلکہ مرتد ہونا کہا جائے گا جو حرام اور گناہ ہے اور جب شکیل بن حنیف اور اس کے پیرو کار اسلام میں داخل ہی نہیں ہے تو ان کی اپنی مساجد میں عبادت گزاری کی وغیرہ کی اجازت دینا شرعاً درست نہیں ، متولیان مساجد اور تمام مسلمانوں پر لا زم ہے کہ اُکو اپنے مساجد سے دور اور پاک رکھیں ۔ نیز اسلام کے لئے مخصوص اصطلاحات کا استعمال جیسے قادیانویوں اور دیگر کافروں کے لئے جائز نہیں ایسے ہی شکیل بن حنیف کے پیرو کاروں کیلئے بھی جائز نہیں ۔ مسلمانوں کو ان لوگوں کی عبادت کو بجائے نماز کے پو جا سے اور روزہ کو بَرت واُپواس سے اور تلاوت کو پڑھنے سے تعبیر کرنا چاہئے تا کہ اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے دوسرے مسلمانوں کو مغالطہ نہ ہو اور غلط فہمی میں کو اُن کو مسلمان نہ سمجھ بیٹھے ۔ بشکریہ اردو صحافت دہلی
مستحق ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
Tuesday, 9 April 2013 noor اخلاق, اسلامی مضامین, شخصیات, علمائے دیوبند, متفرقات, مسلمانان ہند, مفتی تقی عثمانی 0
مولانا
تقی عثمانی صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ ۔
میں ایک دفعہ اپنے والد مولانا شفیع عثمانی صاحب
کے ساتھ کہیں جا رہا تھا رستے میں ایک جگہ سگنل پر کار رکی تو ایک فقیر جو اپنے
حیلےاور شکل سے فقیر نہیں لگ رہا تھا ، پاس آیا اور سوال کیا ، والد صاحب نے اپنی
جیب میں سے کچھ رقم نکال کر اسکو دی اور وہ لے کر چلا گیا
میں نے اپنے والد صاحب سے کہا کہ ابا جی یہ تو مستحق نہیں تھا آپ نے اسے پیسے کیوں دیے ؟؟؟
والد صاحب نے بہت خوبصورت بات کی جو مجھے ہمیشہ یاد رہے گی ۔ ۔ ۔
انہوں نے فرمایا کہ بیٹا ۔ ۔ ۔ ۔ ہم بھی اللہ کی بہت سی نعمتوں کے مستحق نہیں ہیں لیکن اللہ نے ہمیں دی ہوئی ہیں ' اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم کسی کی ظاہری حالت دیکھ کر اس کے مستحق ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ نہ کریں ، کیا پتہ وہ کس مجبوری کی وجہ سے ہاتھ پھیلا رہا ہے ،
اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
Powered by Blogger.
Featured post
ابنِ ثابتؓ کی زباں مجھ کو میسر کر دے : طرحی نعت پاک
مرے مولا، مری قسمت کو تو، خوشتر کردے "مجھ کو سرکار کا دیدارمیسرّ کردے" مدتیں بیت گئیں آس لگائے بیٹھے شہرِ بطحا کا سفر اب تو ...
الیوم . . .
آن لائن
بلاگر حلقہ احباب
آمدو رفت
موضوعات
- #msajid #navabi (1)
- #QuranPak #HolyQuran #TheHolybook #Alwoder #SpiritualHealing (1)
- #چاہت_محمد_قریشی_قاسمی (1)
- blog (1)
- CartOOns - کارٹون (1)
- آس پاس - مقامی (2)
- آمنہ کا لال (1)
- آہ ۔ ۔ ۔ (32)
- اخلاق (4)
- اردو اور موبائیل (3)
- اسامہ' بن لادن (1)
- اسکول کالج (1)
- اسلامی مضامین (47)
- اصولِ شاعری (1)
- اعلانات (4)
- اقتباسات (3)
- اکابرین - سلف صالحین (1)
- الرحیق المختوم (1)
- الیکشن (2)
- امت مسلمہ (25)
- انتقال پرملال (2)
- اورنگ زیب عالمگیر (2)
- اولیاء اکرام (1)
- بابری مسجد (1)
- بکھرے موتی (3)
- بلاگ (2)
- پاکستان (8)
- پیر ذوالفقار احمد نقشبندی (1)
- تاریخ (1)
- تاریخی مقامات (2)
- تربیتِ اطفال (1)
- تصاویر (2)
- تعلیم و تربیت (1)
- تقاریر (1)
- تلاش (1)
- ٹوٹکے (1)
- حالات حاضرہ (39)
- حج و عمرہ (2)
- حسن و اخلاق (1)
- حقوق نسواں (1)
- حکایات (2)
- خالد سیف اللہ رحمانی (1)
- خبریں (13)
- خطوط (1)
- خیال سومیشوری (6)
- دارالعلوم دیوبند (9)
- دعا و اذکار (9)
- دعوت و تبلیغ (1)
- دفع سحر- جادو (1)
- دوٹوک (5)
- ذرا مسکرائیے (13)
- ذہنی آزمائش (2)
- راہی حجازی (2)
- رد غیر مقلدیت (3)
- رَدِ غَیر مُقلّدِیَت (1)
- رمضان (1)
- رومن اردو (1)
- زیارات (2)
- سائنس (1)
- سردار (1)
- سیاست (5)
- سیو اردو (2)
- شخصیات (4)
- شعر و شاعری (37)
- شیخ محمد ایوب برمیؒ (1)
- صحابہ اکرام (1)
- صوفیانہ کلام (1)
- ضربِ کلیم (1)
- طب و صحت (4)
- طنز و مزاح (5)
- علاج - دوا - مرض - شفا (1)
- علمائے دیوبند (5)
- غزل (7)
- فلسطین (7)
- فیس بک (7)
- قابل غور (8)
- قرآن مجید (4)
- قلم ِ نور (12)
- قوانین (1)
- کرکٹ (4)
- کمپوٹر ' سافٹ ویر (4)
- کھیل کھلاڑی (2)
- کوکن ریلوے (1)
- گجرات (1)
- گستاخی معاف (20)
- لبیک (1)
- متفرقات (49)
- مدارس ، (4)
- مدد - Help (2)
- مسائل - فتاوی (11)
- مسجد نبوی (1)
- مسلمانان عالم (4)
- مسلمانان ہند (8)
- معمار حرم (1)
- مفتی تقی عثمانی (9)
- مفتی سعید احمد پالنپوری (1)
- ممبرا (1)
- منظر بھوپالی (1)
- مولانا احمد سعید پالنپوری (2)
- مولانا حسین احمد مدنی (1)
- مولانا سعید احمد خان صاحب (1)
- مولانا طارق جمیل (3)
- مولانا عادل سعیدی (3)
- مولانا یونس پالنپوری (1)
- میڈیا (1)
- میرے قلم سے (11)
- میلاد النبی (1)
- نئی پوسٹ (1)
- ناقابل یقین (1)
- نسخے (1)
- نسیم ہدایت کے جھونکے (8)
- نعت پاک (1)
- نعت پاک، (8)
- نون میم (24)
- واٹس آپ !! (1)
- وطن ِ عزیز (7)
ایک نظر ۔ ۔ ۔ ۔
کون کہاں سے؟
Recent Comments : تبصرے
Get this Recent Comments Widget
دوست بلاگران
-
-
-
-
-
برڈنگ سے استعفیً و سفر پر ایک نظر وغیرہ وغیرہ2 months ago
-
-
ڈوپامین ، لذت کا تکلیف7 months ago
-
یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔8 months ago
-
-
-
رتن ٹاٹا: ایک عظیم صنعتکار کا سفر2 years ago
-
-
-
طالبان سے امن معاہدہ6 years ago
-
-
DOMAIN FOR SALE!7 years ago
-
مناجات - الٰہی دل کو کوہِ طور کردے8 years ago
-
چوسر(چار)9 years ago
-
Review: Yalghaar9 years ago
-
-
-
اُس راہ پر9 years ago
-
-
عابد کی سال گرہ کا احوال10 years ago
-
قدرت، معاشرہ اور صنفی امتیاز10 years ago
-
بھگوان انسان کے روپ میں10 years ago
-
باؤلا کتا10 years ago
-
یا بے شرمی تیرا ہی آسرا10 years ago
-
-
-
-
-
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو12 years ago
-
-
تعارف از مفتی سعید احمد پالنپوری13 years ago
-
-
BARALVIYOON KI GUSTAKHIYAN15 years ago
-
-
بلاگ کے مراسلات کی تعدادNo. of posts: :
بلاگ کے تبصروں کی تعداد :No. of comments:
