خیال سومیشوری

دعائے خیالؔ

دعائے خیالؔ

اے خدا تیرے سوا کوئی مددگار نہیں
تو مددگار توپھر  غیر کی درکا ر نہیں

تیرے محتاج خداہم  ہیں سبھی شاہ و گدا
کون ایسا ترا جگ میں یہاں طلبگار نہیں؟

زندگی بخش دے یا موت بخشدے مجھے
تیرے ہر کار سے مجھ کو کبھی انکار نہیں

خیالؔ گرداب الم میں جو پھنسا ہے لیکن
پار بیڑا تو کریگا ' تو پھر کچھ دشوار نہیں !!




بروز جمعرات : 3 جمادی الاوّل سنہ 1388 ھ مطابق  15 اگست سنہء 1968

تسلّئ خیال سومیشوری

مقدر ہوبُری اپنی ' تو کب ہوگا بھلا اپنا
ہمارے ہی مقدر سے ہو گر روٹھا خدا اپنا

ہم اپنے رنج و غم کا حال اب' جا کر کسے کہہ دیں
نظر آیا نہ کوئی بھی ' اس دنیا میں بھلا اپنا

کوئی گر نا سنے ' پھر تُو ہی بتلا دے ہمیں یارب
بجُز  تیرے جہاں میں جا کروں کس سے گلہ اپنا

خیال ؔ اس دارِفانی میں'نہ جینے کا مزہ اب ہے
بھلائی کرنا چاہتے ہیں' مگر ہوتا بُرا اپنا

تیری دنیا ' تیری دنیا - خیال حسن

خ          خوشی  مجھ سے بھگاتی ہے ' تیری دنیا ' تیری دنیا
وجہ مجھ کو نہ  بھاتی ہے  ' تیری دنیا ' تیری دنیا

ی          یہ نالے رنج و غم' ہردم  بنا کر اے میرے ہمدم
سدا کیوں کر ستاتی ہے ' تیری دنیا ' تیری دنیا

ا            اگر میں لاکھ یوں ' کہتے رہا اپنی مصیبت کو
مگر نہ کام آتی ہے  ' تیری دنیا ' تیری دنیا

ل         لگا کر آگ سرتاپا محبت کی میرے تن کو
یہ کیوں مجھ کو جلاتی ہے ' تیری دنیا ' تیری دنیا

ح         حقیقت لاکھ یوں کہتے رہا  اپنی مگر ہرگز
نہیں بگڑی بناتی ہے  ' تیری دنیا ' تیری دنیا

س        سہارا زندگی کا میں نے  چاہا ہر گھڑی لیکن
ستم ہر دم یہ ڈھاتی ہے ' تیری دنیا ' تیری دنیا

ن       نہ رکھتی  ہے خیالؔ میرا ' مصیبت نے ہے یوں گھیرا
بھنور میں پھر پھنساتی ہے  ' تیری دنیا ' تیری دنیا

بقلم : خیالؔ حسن سومیشوری 

شکوہ خیال سومیشوری ۔ ۔ ۔

اے خدا دنیا میں کیا تجھ کو نہ میری یاد ہے
یاد ہے پھر زندگی کیوں کر میری ناشاد ہے

کیا ہوئی مجھسے خطا جسکی وجہ میرے خدا
مجھ پہ ہوں لاکھوں ستم اور سمجھوں نہ بیداد ہے

ذندگی بخشی تونے یارب مجھے یوں زندگی
جس کے باعث آج تک میرا نہیں دل شاد ہے

زندہ رہوں یا کہ مروں تو ہی بتا دے کیا کروں 
میرے مولا سر پہ میرے غم کی گھٹا آباد ہے

کوئی نہیںسنتا یہاں تیرے بنا میرے خدا
سارا جہاں میرے لئے اب بن گیا جلاد ہے

کیا تجھے احوال اپنی زندگی کا میں کہوں ؟ ؟ ؟
سب تجھے معلوم کیوں ناشاد ہے برباد ہے

خیال کو گرداب الم سے بچا دینا ابھی
ایخدا تجھ سے  یہی ہر دم میرے فریاد ہے -

بقلم : خیال حسن سومیشوری : اتوار - 13 فروری سنہ 1955 

کہ طیبہ کو جاؤں میں : بحروف : خیال حسن سومیشور

یہی ہے خیال  کہ' طیبہ کو جاؤں میں : بحروف : خیال حسن

خ : خدا لیجائے مدینے کو اگر جاؤں میں 
ی : یہ آرزو ہے کہ نہ ہند کبھی آؤں میں  


ا : الہی ہے یہی ایک تمنّا  میری ہر دم
ل : لیجا کے پھول کی چادر وہاں چڑھاؤں میں
 
ح : حیات ہے میری جب تک' میرے خدا میں 
س : سدا تڑپتے امیدوں میں نہ رہ جاؤں میں 
 
ن : نہیں اب صبر کی طاقت' ہے ہجر میں ہردم
یہی
ہے خیال کہ' طیبہ کو جاؤں میں

بقلم : خیال حسن سومیشوری - بروز سنیچر 17 جمادی الاول 1370 ھ ( 24 فروری 1951)

ایک دن دنیا میں آنا' اور ہے جانا ایک دن . . . خیال سومیشوری

السلام علیکم  . . .

دوستو . . .اس جہاں میں کئی شعرا ایسے ہوتے ہیں جو زمانے کی آنکھوں سے پوشیدہ رہتے ہیں .  وقت اور حالات میں ایسے جکڑے ہوئے کہ ان کو اپنا کلام دوسروں تک پہنچانے کا موقع ہی نہیں مل پاتا یا ایسے ماحول میں ان کی  زندگی گذرتی ہے جہاں ان کے فن کے قدرداں انہیں نہیں ملتے  اور اس طرح وہ اپنی شاعری کو اپنے قلب میں ہی لے کر اس فانی جہاں سے' ابدی جہاں میں چلے جاتے ہیں  . .
  آج جو کلام ہم آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں وہ ایسے ہی  ایک شاعر کا ہے - جنھوں نے اپنا تخلص " خیال سومیشوری " رکھا تھا - وہ اور کوئی نہیں بلکہ میرے عزیز مرحوم نانا جان تھے جو میرے ہوش و حواس سنبھالنے سے قبل ہی اس دنیا سے کوچ کر کے اپنے مالکِ حقییقی سے جا ملے .  ( اللہ تعالی ان کی مغرفت فرمائے . ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور ان کے درجات کو بلند کرے . آمین )


ایک دن دنیا میں آنا' اور ہے جانا ایک دن
بزم دنیا میں سبھوں کا' ہے ٹھکانہ ایک دن
تیرا میرا رونا دھونا' کچھ چلے گا ہی نہیں
ثانئی  آدم'  بنی  آدم  کا سہنا   ایک  دن
جنت الفردوس کا' دعوی تو ہم کرتے مگر
حکم رب ہرگز کبھی' ہم نے نہ مانا ایک دن
خلد جانے کی تمنا' پر نفس کو ہے مگر
دنیا میں خوفِ خدا' کسی نے نہ جانا ایک دن
ذوالجلالِ پاک کا' اب کب کسی کو ہے خیالٕٕ ٕٕ
رب کی فرقت میں نہ اب' ہے کس کا رہنا ایک دن
زاہدوں کو ہے یقیں' مل جائے گا خلدِ بریں
ساتھ میں بھی عابدوں کا' ہے ٹھکانا ایک دن
شکریہ رب کا ابھی' کرتا نہیں کوئی کبھی
صدقِ دل سے رب کو رب ' ہم نے
نہ مانا ایک دن

(بقلم : خیال سومیشوری  . .  لکھی گئی  :  بروز جمعرات - 9 رجب المرجب سنہ 1404 ھ  . . . 12 اپریل سنہ 1984 ء)

اگلا صفحہ >>>

تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.