شتر گربہ کسے کہتے ہیں؟
شتر گربہ کسے کہتے ہیں؟
یہ ایک عمومی اصطلاح ہے جو کہ دو غیر متناسب چیزوں کو یکجا کرنے یا متضاد صفات کو جمع کرنے یا قول و فعل میں مخالفت ہونے کے یا پھر ایسے ہی کسی موقع پر بولی جاتی ہے۔
کبھی میری تربت پہ آجانا تم بھی
ترے ہجر میں جاں سے جانے لگا ہوں
اس شعر میں مخاطب کے لیے پہلے مصرع میں "تم" کی ضمیر استعمال کی گئی ہے ، جبکہ دوسرے مصرع میں اسی مخاطب کے لیے "ترے" ہے ، اس شترگربگی کو ختم کرنے کے لیے یا تو پہلے مصرع میں "تو" لانا ہوگا یا دوسرے مصرع میں "تمھارے"۔
غالب کا شعر ہے:
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ "تو کیا ہے"
تمھی کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے
اس شعر کے پہلے مصرع میں "تم" بھی ہے اور "تو" بھی ، مگر یہ شترگربہ نہیں ہے ، اس لیے کہ "تم" غالب کی طرف سے اس کے مخاطب کے لیے ہے ، جبکہ "تو" غالب نے اپنے مخاطب کی طرف سے اپنے لیے کہا ہے ، یعنی تم ہر بات میں مجھ سے کہتے ہو کہ تو کیا ہے؟ گویا غالب تو اپنے مخاطب کے لیے کلمۂ خطاب "تم" لائے ہیں جس سے خاص تعلق ظاہر ہوتا ہے جبکہ غالب کا مخاطب غالب کو بقول غالب "تو" کہہ کر مخاطب کرتا ہے جوکہ انسانوں کے حق میں کلمۂ تحقیر ہے۔
"شتر گربہ بیسویں صدی سے پہلے کے یعنی متاخرین کے زمانے میں بہت پایا جاتا تھا، پھر حسرت موہانی کے دور اور بعد کے ادوار میں اس کو مکمل طور پر متروک جانا گیا۔ مصحفی، جرات وغیرہ کے کلام میں اس قسم کی مثالیں عام پائی جاتی ہیں۔ پھر بعد کے اساتذہ مثلاً داغ دہلوی اور اس زمانے کے دیگر شعراء نے اسے بالکل ختم کر دیا۔ تو اب مکروہ تحریمی ہی جانا جاتا ہے۔"
شتر گربہ کسے کہتے ہیں؟ پہ 3 تبصرے ہو چکے ہیں
اگر آپ (بلاگ اسپاٹ کی دنیا میں) نئے ہیں اور درج بالا تحریر پر آپ کا قیمتی تبصرہ کرنے کا ارادہ ہے تو ۔ ۔ ۔ Comment as میں جا کر“ANONYMOUS" پر کلک کر کے اپنا تبصرہ لکھ دیں – ہاں آخر میں اپنا نام لکھنا نہ بھولیں -
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔
بہت شکریہ
ReplyDeleteجزاک اللّٰہ خیر
ReplyDeleteمحمد احمد
جزاک اللہ
ReplyDelete