اک قدم سیّدِ ابرار کی امّت کے لئے ۔ ۔ ۔
Friday, 25 July 2014 noor آہ ۔ ۔ ۔, اسلامی مضامین, حالات حاضرہ, دوٹوک, شعر و شاعری, فلسطین, گستاخی معاف, مسلمانان عالم 0
اک قدم سیّدِ ابرار کی امّت کے لئے ۔
۔ ۔
آج میں سوچ رہا ہوں کہ کوئی بات کروں
قومِ مسلم کے جوانوں سے سوالات کروں
قومِ مسلم کے جوانوں سے سوالات کروں
تبصرہ میں بھی کوئی برسرِ حالات کروں
کچھ عیاں اپنے بھی جذبات و خیالات کروں
کچھ عیاں اپنے بھی جذبات و خیالات کروں
بے حسی دیکھ کے کڑھتا رہوں یا بات
کروں
ان سے منہ پھیر لوں یا طنز کی برسات کروں
ان سے منہ پھیر لوں یا طنز کی برسات کروں
ائے مسلمان بتا تیری جوانی ہے کہاں
تیری غیرت ہے کہاں آنکھ کا پانی ہے کہاں
تیری غیرت ہے کہاں آنکھ کا پانی ہے کہاں
انبئیا اور صحابہ کی روایات تو ہیں
انبئیا اور صحابہ کی نشانی ہے کہاں
انبئیا اور صحابہ کی نشانی ہے کہاں
جو ترے جسم سے آنکھوں سے جھلک جاتی
تھی
خون میں دوڑنے والی وہ روانی ہے کہاں
خون میں دوڑنے والی وہ روانی ہے کہاں
تیرے نعروں سے پلٹ جاتی تھی اغیار کی
فوج
وہ شجاعت ہے کہاں شاہ زمانی ہے کہاں
وہ شجاعت ہے کہاں شاہ زمانی ہے کہاں
عظمتِ دیں پہ ائے جانوں کو لٹانے والے
غیرتِ قوم پہ سر اپنا کٹانے والے
غیرتِ قوم پہ سر اپنا کٹانے والے
کم سے کم ہاتھ اٹھا کر ہی اشارہ کر دے
کٹتے ہاتھوں سے علم اونچا اٹھانے والے
کٹتے ہاتھوں سے علم اونچا اٹھانے والے
دل سے اک نعرہء تکبیر لگا کر تو بتا
تیرے پیارے ہیں محمد کے گھرانے والے
تیرے پیارے ہیں محمد کے گھرانے والے
بے حسی اوڑھ کے بیٹھا ہے مکاں میں چھپ
کر
تجھ کو تکتے ہیں تعجب سے زمانے والے
تجھ کو تکتے ہیں تعجب سے زمانے والے
تیرا کہنا ہے کہ دنیا تجھے مقصود نہیں
تیرا اللہ کے سوا کوئی بھی معبود نہیں
تیرا اللہ کے سوا کوئی بھی معبود نہیں
لیکن اس غیرتِ ایمانی کا کیوں ذکر بھی
ہو
جو ترے جسم تری روح میں موجود نہیں
جو ترے جسم تری روح میں موجود نہیں
عصمتِ قومِ مسلماں کو بچانے والے
تیری غیرت ترے گھر تک ہی تو محدود نہیں
تیری غیرت ترے گھر تک ہی تو محدود نہیں
جن کے تلوؤں کے نشاں تیری زباں پر
ابھریں
کیا یہ حاکم ترے داتا ترے مسجود نہیں؟ ؟؟
کیا یہ حاکم ترے داتا ترے مسجود نہیں؟ ؟؟
اک دفعہ سوچ کہ کب ہوش میں آئے گا تو
اپنے معیار کو کس درجہ گرائے گا تو
اپنے معیار کو کس درجہ گرائے گا تو
کیا فلسطین کے بوڑھے سے ترا رشتہ نہیں
کیا فقط اپنے ہی والد کو بچائے گا تو
کیا فقط اپنے ہی والد کو بچائے گا تو
تو فلسطین کی بوڑھی سے بھی بے گانہ
ہے؟ ؟
کیا فقط اپنی ہی امّاں کو بچائے گا تو
کیا فقط اپنی ہی امّاں کو بچائے گا تو
کیا فلسطین کی عورت بھی تری بہن نہیں
آبرو اپنی ہی بہنوں کی بچائے گا تو؟ ؟
آبرو اپنی ہی بہنوں کی بچائے گا تو؟ ؟
دیکھ معصوم سے بچوں کی طرف دیکھ بھی
لے
کب تلک ان سے نگاہوں کو چرائے گا تو
کب تلک ان سے نگاہوں کو چرائے گا تو
دیکھ معصوم فرشتوں کی پڑی لاشوں کو
سچ بتا کیسے انہیں بھولنے پائے گا تو
سچ بتا کیسے انہیں بھولنے پائے گا تو
یاد رکھ بے حسی اچھی نہیں
ورنہ اک دن
اپنے ہی بچوں کی لاشوں کو اٹھائے گا تو
اپنے ہی بچوں کی لاشوں کو اٹھائے گا تو
تو اگر ان کو وہاں جا کے بچانے سے رہا
کھل کے جذبات کا اظہار تو کر سکتا ہے
کھل کے جذبات کا اظہار تو کر سکتا ہے
بے حسی اوڑھ کے سوئے ہیں جو مسلم
حکّام
تو انہیں نیند سے بیدار تو کر سکتا ہے
تو انہیں نیند سے بیدار تو کر سکتا ہے
اپنی تکلیف کا درماں جو ترے بس میں نہیں
اپنی تکلیف کا اظہار تو کر سکتا ہے
اپنی تکلیف کا اظہار تو کر سکتا ہے
میں نے مانا ترے ہتھیار ترے پاس نہیں
اپنی آواز کو ہتھیار تو کر سکتا ہے
اپنی آواز کو ہتھیار تو کر سکتا ہے
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
اسی بنیاد پہ للکار تو کر سکتا ہے
اسی بنیاد پہ للکار تو کر سکتا ہے
اٹھ سبھی عالمِ اسلام کے حکام
سے بول
ائے کہ سب نعرہء ایمان لگانے والو
ائے کہ سب نعرہء ایمان لگانے والو
اسی اللہ سے ڈر جاؤ جسے مانتے ہو
اک نشاں اپنی جبینوں پہ سجانے والو
اک نشاں اپنی جبینوں پہ سجانے والو
کیا تمہیں عدل کا مفہوم بھی معلوم
نہیں
ناروا ظلم کو انصاف بتانے والو
ناروا ظلم کو انصاف بتانے والو
کیا شریعت تمہیں رستہ بھی نہیں
دکھلاتی
سارے احکام شریعت سے نبھانے والو
سارے احکام شریعت سے نبھانے والو
حّق و باطل کا بھی تم فرق سمجھنے سے
رہے
رات دن کلمہء حق سننے سنانے والو
رات دن کلمہء حق سننے سنانے والو
تم اگر حق پہ ہو کس بات کا ڈر ہے تم
کو
کیا وسائل کی کمی دیکھ کے ڈر جاتے ہو
کیا وسائل کی کمی دیکھ کے ڈر جاتے ہو
اپنے ہتھیار کی قلت پہ پریشاں ہو کیا
یا کہ ناسازیء حالات سے گھبراتے ہو
یا کہ ناسازیء حالات سے گھبراتے ہو
اقتدار اور حکومت کو کوئی خطرہ ہے
حرفِ حق کہتے ہوئے کس لئے شرماتے ہو
حرفِ حق کہتے ہوئے کس لئے شرماتے ہو
کثرت و قلتِ افراد سے لرزاں ہو کیا
کیا سبب ہو گیا جو فرض سے کتراتے ہو
کیا سبب ہو گیا جو فرض سے کتراتے ہو
حق پہ ہو تو فقط اللہ ہی کافی ہے
تمہیں
اپنے اللہ کا کہا کس لئے جھٹلاتے ہو
اپنے اللہ کا کہا کس لئے جھٹلاتے ہو
کہیں ایسا تو نہیں بیچ دیا ہے خود کو
دینِ اسلام کا سودا تو نہیں کرڈالا
دینِ اسلام کا سودا تو نہیں کرڈالا
سچ بتانا کہ کہیں کھا کے یہودی لقمہ
اپنے ایمان کو کھوٹا تو نہیں کر ڈالا
اپنے ایمان کو کھوٹا تو نہیں کر ڈالا
رٹ کے اللہ کا اور اس کے نبی کا نعرہ
تم نے ان دونوں کو رسوا تو نہیں کر ڈالا
تم نے ان دونوں کو رسوا تو نہیں کر ڈالا
تم نے بھی جبّہ و دستار کی لالچ میں
کہیں
اپنے کردار کو بونا تو نہیں کرڈالا
اپنے کردار کو بونا تو نہیں کرڈالا
آنکھ پھیری تو نہیں اپنے نبی سے
تم نے
اور شریعت کو تماشہ تو نہیں کر ڈالا
اور شریعت کو تماشہ تو نہیں کر ڈالا
کہیں امریکہ کے تلوئے تو نہیں چاٹ لئے
موڑ کر رخ اسے قبلہ تو نہیں کر ڈالا
موڑ کر رخ اسے قبلہ تو نہیں کر ڈالا
یاد رکھّو کہ اگر ایسا کیا ہے تم نے
تب تو قدرت تمہیں انجام پہ پہونچائے گی
تب تو قدرت تمہیں انجام پہ پہونچائے گی
جلد ہی خاک نشاں ہوگی تمہاری ہستی
اور تقدیر تمہیں آئینہ دکھلائے گی
اور تقدیر تمہیں آئینہ دکھلائے گی
یاد رکھّو جو رعایا ہے تمہاری محکوم
ضبط کھو دے گی تو سڑکوں پہ اتر آئے گی
ضبط کھو دے گی تو سڑکوں پہ اتر آئے گی
جس نے عزّت سے بٹھایا ہے تمہیں مسند
پر
وہ رعایا تمہیں پھانسی پہ بھی چڑھوائے گی
وہ رعایا تمہیں پھانسی پہ بھی چڑھوائے گی
اپنی عشرت کے جنازے پہ کھڑے ہو کر تم
اتنا روؤگے کہ دنیا بھی ترس کھائے گی
اتنا روؤگے کہ دنیا بھی ترس کھائے گی
آج بھی وقت ہے اللہ کی رسّی تھامو
ایک ہو جاؤ شریعت کی حفاظت کے لئے
ایک ہو جاؤ شریعت کی حفاظت کے لئے
فرض تو پورا کرو کرنا حکومت بھی
پھر
رب نے تم کو ہی بنایا ہے حکومت کے لئے
رب نے تم کو ہی بنایا ہے حکومت کے لئے
اک دعا اپنے لئے مانگو کہ اللہ چن لے
اس دفعہ اہلِ فلسطین کی نصرت کے لئے
اس دفعہ اہلِ فلسطین کی نصرت کے لئے
اک قدم رب کی بنائی ہوئی جنت کے لئے
اک قدم سیّدِ ابرار کی امّت کے لئے
اک قدم سیّدِ ابرار کی امّت کے لئے
شاعر
: نامعلوم ۔ ۔
کتاب اللہ کے بعد سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب "فضائل اعمال "کے مختلف زبانوں میں تر جمے۔
Wednesday, 23 July 2014 noor اسلامی مضامین, علمائے دیوبند 0
"فضائل اعمال "
فضا ئل قران:
عربی ۔مترجم: مولانا سید محمد واضح رشید ندوی صاحب ۔ برمی ۔ مترجم : مولانا محمد موسیٰ فاضل مظاہر علوم
انگریزی۔ مترجم : سید عز الدین ۔ بنگالی۔ مترجم قاضی خلیل الرحمن ۔ فارسی ۔ ،مترجم استاذ محمد اشرف ۔ گجراتی ۔مترجم : سید محمود قاسم
فضائل نماز ۔درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) عربی (۲) برمی (۳) انگریزی(۴) مدراسی (۵) بنگالی (۶)تلگو(۷) ملیالم (۸) تامل (۹) فرانسیسی (۱۰)گجراتی
(۱۱) فارسی (۱۲) سھالی (۱۳) پشتو (۱۴) ملائشی
فضائل ذکر ۔درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) برمی (۲) مدراسی (۳)بنگالی(۴)ملیالم (۵) تامل (۶)پشتو(۷)ملائشی (۸) فارسی
فضائل حج: (۱) برمی (۲) گجراتی (۳) انگریزی(۴) تامل ۔
فضائل صدقات :درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) برمی (۲) مدراسی (۳) ملیالم (۴) گجراتی (۵) انگریزی (۶) تامل
فضائل درود :درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) عربی (۲) گجراتی (۳) تلگو (۴) پشتو (۵) انگریزی(۶) فارسی ( ۷) ملائشی
فضائل رمضان :درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) فارسی ۔ جناب سید محمد اشرف صاحب (۲) ہندی ۔ جناب ظہیر الدین صاحب (۳) پشتو ۔ جناب ظہیر الدین صاحب
(۴) انگریزی ۔ جناب یو سف افریقی صاحب (۵ ) تامل ۔ جناب خلیل الرحمن صاحب ( ۶) بنگالی ۔ جناب قاضی خلیل الرحمن صاحب
(۷) تلگو ۔ مولانا سید نوراللہ قادری صاحب (۸) ملیالم ۔ جناب محمد عبد القادر صاحب (۹) گجراتی ۔ جناب عیسی صاحب
(۱۰) فرانسیسی ۔ جناب احمد سعید صاحب (۱۱) برمی ۔ شیخ محمد موسیٰ صاحب
فضائل تبلیغ:درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) عربی ۔ حضرت مولانا سید محمد رابع ندوی صاحب (۲) برمی ۔ شیخ محمد موسیٰ صاحب (۳) انگریزی ۔ جناب حامد محمد سلیمان صاحب ۔ (۴)ہندجناب عطا ء الرحمن صاحب (۵) تامل ۔ جناب خلیل الرحمن صاحب (۶) ملیالم ۔ جناب محمد عبد القادر صاحب ( ۷) پشتو ۔ جناب سید محمد عبد الخالق صاحب ۔ (۸) گجراتی ۔ جناب سید عیسیٰ صاحب (۹) ملیشائی ۔ جناب سید عیسیٰ صاحب ۔ (۱۰) فارسی ۔ شیخ محمد اشرف صاحب ۔ (۱۱) تلگو ۔ مولانا سید نور اللہ قادری صاحب ۔ (۱۲) سھالی ۔ شیخ مقداد یوسف صاحب ۔ (۱۳) فرانسیسی ۔ جناب احمد سعید صاحب ۔
حکایات صحابہ :درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱)برمی ۔ شیخ محمد موسی صاحب(۲) انگریزی (۳) سید عبد الر شید صاحب(۴) مدراسی ۔ شیخ محمد ابراہیم صاحب(۵) ملیالم ۔ جناب محمد عبد القادر صاحب (۶)تامل ۔ جناب خلیل الر حمن صاحب(۷) گجراتی ۔ جناب عیسی صاحب (۸) بنگالی شیخ عبد المجید صاحب(۹) فارسی ۔ شیخ محمد اشرف صاحب (۹)جا پانی ۔ جناب محمد ارشد صاحب(۱۰) ہندی ۔ جناب محمد ارشد صاحب(۱۱) مراٹھی ۔ جناب زبیر احمد صاحب(۱۲) تلگو مولانا نورا للہ قادری صاحب (۱۳)پشتو ۔ شیخ ابو الفیض صاحب(۱۴) فرانسیسی ۔ جناب احمد سعید صاحب (۱۵) ملائشی ۔ جناب یعقوب صاحب
عربی ۔مترجم: مولانا سید محمد واضح رشید ندوی صاحب ۔ برمی ۔ مترجم : مولانا محمد موسیٰ فاضل مظاہر علوم
انگریزی۔ مترجم : سید عز الدین ۔ بنگالی۔ مترجم قاضی خلیل الرحمن ۔ فارسی ۔ ،مترجم استاذ محمد اشرف ۔ گجراتی ۔مترجم : سید محمود قاسم
فضائل نماز ۔درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) عربی (۲) برمی (۳) انگریزی(۴) مدراسی (۵) بنگالی (۶)تلگو(۷) ملیالم (۸) تامل (۹) فرانسیسی (۱۰)گجراتی
(۱۱) فارسی (۱۲) سھالی (۱۳) پشتو (۱۴) ملائشی
فضائل ذکر ۔درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) برمی (۲) مدراسی (۳)بنگالی(۴)ملیالم (۵) تامل (۶)پشتو(۷)ملائشی (۸) فارسی
فضائل حج: (۱) برمی (۲) گجراتی (۳) انگریزی(۴) تامل ۔
فضائل صدقات :درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) برمی (۲) مدراسی (۳) ملیالم (۴) گجراتی (۵) انگریزی (۶) تامل
فضائل درود :درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) عربی (۲) گجراتی (۳) تلگو (۴) پشتو (۵) انگریزی(۶) فارسی ( ۷) ملائشی
فضائل رمضان :درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) فارسی ۔ جناب سید محمد اشرف صاحب (۲) ہندی ۔ جناب ظہیر الدین صاحب (۳) پشتو ۔ جناب ظہیر الدین صاحب
(۴) انگریزی ۔ جناب یو سف افریقی صاحب (۵ ) تامل ۔ جناب خلیل الرحمن صاحب ( ۶) بنگالی ۔ جناب قاضی خلیل الرحمن صاحب
(۷) تلگو ۔ مولانا سید نوراللہ قادری صاحب (۸) ملیالم ۔ جناب محمد عبد القادر صاحب (۹) گجراتی ۔ جناب عیسی صاحب
(۱۰) فرانسیسی ۔ جناب احمد سعید صاحب (۱۱) برمی ۔ شیخ محمد موسیٰ صاحب
فضائل تبلیغ:درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱) عربی ۔ حضرت مولانا سید محمد رابع ندوی صاحب (۲) برمی ۔ شیخ محمد موسیٰ صاحب (۳) انگریزی ۔ جناب حامد محمد سلیمان صاحب ۔ (۴)ہندجناب عطا ء الرحمن صاحب (۵) تامل ۔ جناب خلیل الرحمن صاحب (۶) ملیالم ۔ جناب محمد عبد القادر صاحب ( ۷) پشتو ۔ جناب سید محمد عبد الخالق صاحب ۔ (۸) گجراتی ۔ جناب سید عیسیٰ صاحب (۹) ملیشائی ۔ جناب سید عیسیٰ صاحب ۔ (۱۰) فارسی ۔ شیخ محمد اشرف صاحب ۔ (۱۱) تلگو ۔ مولانا سید نور اللہ قادری صاحب ۔ (۱۲) سھالی ۔ شیخ مقداد یوسف صاحب ۔ (۱۳) فرانسیسی ۔ جناب احمد سعید صاحب ۔
حکایات صحابہ :درج زیل زبانوں میں تر جمہ ہوا۔
(۱)برمی ۔ شیخ محمد موسی صاحب(۲) انگریزی (۳) سید عبد الر شید صاحب(۴) مدراسی ۔ شیخ محمد ابراہیم صاحب(۵) ملیالم ۔ جناب محمد عبد القادر صاحب (۶)تامل ۔ جناب خلیل الر حمن صاحب(۷) گجراتی ۔ جناب عیسی صاحب (۸) بنگالی شیخ عبد المجید صاحب(۹) فارسی ۔ شیخ محمد اشرف صاحب (۹)جا پانی ۔ جناب محمد ارشد صاحب(۱۰) ہندی ۔ جناب محمد ارشد صاحب(۱۱) مراٹھی ۔ جناب زبیر احمد صاحب(۱۲) تلگو مولانا نورا للہ قادری صاحب (۱۳)پشتو ۔ شیخ ابو الفیض صاحب(۱۴) فرانسیسی ۔ جناب احمد سعید صاحب (۱۵) ملائشی ۔ جناب یعقوب صاحب
از تصحیح الخیال تلخیص وترجمہ تحقیق المقال فی تخریج احادیث فضائل اعمال
اصل روزہ ۔ ۔ ۔
noor اسلامی مضامین, قلم ِ نور, متفرقات 0
ہم لوگ آفس میں ، ایر کنڈیشن کے مزے لے کر بڑے اطمینا ن
سے دن گزار لیتے ہیں ۔ ۔ ۔ پھر بھی اپنے
روزہ دار ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔
۔ ( بس دعا ہے کہ اللہ رب العزت ۔ ۔ اس ٹوٹی پھوٹی عبادت کو اپنے فضل و کرم سے قبول کرے ۔ ۔ آمین )
مگر
۔ ۔ ۔ ۔
اصل
روزہ تو ان مزدور بھائیوں کا ہے جو ( خصوصا" ) بوجھ اٹھانے کا کام کرتے ہیں اور جن کو سخت گرمی میں کام کرنا پڑتا ہے۔ ان حضرات سے کوئی جا کر پوچھے کہ اتنی محنت و
مشقت کے بعد اور اتنی سخت گرمی میں کام کرنے کے بعد دو گھونٹ پانی کی قیمت کیا ہے ۔ ۔ ۔
( نہ معلوم اللہ سبحانہ و تعالی ان حضرات کی اس قربانی پر کتنے ثواب سے نوازتا ہوگا )
اسی
طرح اور ایک طبقہ ہے ۔ ۔ ۔ جو کام کاج کے
سلسلے میں اپنے اہل وعیال ، گھر بار سے دور
شہروں میں رہتا ہے ۔۔۔ اور ان لوگوں کے گھر کے کام ۔ ۔ ۔( کھانا بنانا
/ کپڑے برتن دھونا۔ ۔ وغیرہ سب
) ان کے ذمے ہوتے ہیں ۔ یہ حضرات بھی قابل رشک ہیں کہ ۔ ۔ ۔ ۔
آفس کے جھمیلوں سے نمٹنے کے بعد گھر آ کر
۔ ۔ ۔ صبح کی سحری اور شام کی افطاری کا انتظام خود کر لیتے ہیں ۔ ۔
۔ ۔
دعا
ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی ہم سب کے روزوں کو اپنے فضل کرم سے قبول کرے ۔ اور جانے انجانے میں جو کوتاہیاں ، غلطیاں ہم سے ہو رہی ہیں ان سے درگزر کرے ۔ ہم سب کی مغفرت کرے اور عالم اسلام کی
مسلمانوں کی مدد کرے
۔ ۔ ۔ ۔
آمین ۔ ۔ ۔آمین ۔ ۔ یا رب العالمین
انداذِ دعا ۔ ۔ ۔
Tuesday, 15 July 2014 noor آہ ۔ ۔ ۔, اسلامی مضامین, امت مسلمہ, دعا و اذکار, فیس بک, واٹس آپ !! 0
اسکی عادت تھی کہ وہ اذان سے کافی پہلے مسجد میں آجاتا اور وضو کرکے قران پاک کی تلاوت شروع کردیتا اس طرح جماعت ہونے سے پہلے اسے تلاوت کے لیے کافی وقت مل جاتا –
آ ج بھی کچھ اسی طرح
ہوا تھا وہ مسجد میں بیٹھا تلاوت کر رہا تھا کہ ایک چھوٹا بچہ مسجد میں داخل ہوا اور ۔ ۔ ۔ اور ہاتھ منہ دھو کر مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ
گیا-
اس نے مسکرا کر بچے کی طرف دیکھا تو بچے نے بھی مسکراہٹ سے جواب دیا. وہ سر جھکا کر پھر تلاوت میں مشغول ہوگیا.
تھوڑی دیر بعد تلاوت کے دوران
اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ چھوٹا سا بچہ
اپنے ننھے ہاتھ اٹھا کر آنکھیں بند کرکے دعا
مانگ رہا تھا. اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی، بچے کا دعا مانگنے کا انداز اتنا پیارا تھا کہ وہ بے ساختہ قرآن مجید بند کرکے اسے دیکھنے لگا.
تھوڑی دیر بعد اس بچے نے دعا ختم کی اور باہر جانے لگا اس کا دل چاہا کہ وہ اس بچے کی حوصلہ افزائی کے لیے اسے کچھ دے. اس نے بچے کو پاس بلایا اور
سر پر ہاتھ پھیر کر اس کو سو روے کا ایک نوٹ دیا. بچے
نے تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے بعد وہ نوٹ قبول کرلیا اس نے بچے سے پوچھا کہ بیٹا تم اللہ سے کیا دعا
مانگ تھے رہے؟
بچے نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میرا چاکلیٹ کھانے کو بہت دل کررہا تھا تو میں نے اللہ سے سو روپے
مانگے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہ کہہ کر وہ بچہ چلا گیا بچے کے جانے کے بعد بھی
وہ اسی سمت دیکھتا رہا جس طرف وہ بچہ گیا تھا،
جو اسے یقین اور اخلاص سے دعا مانگنے کا ایک طریقہ سمجھا گیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ !!!!
آہ ۔ ۔ ۔
فلسطین !!!!
آہ ۔ ۔ ۔ فلسطین !!!!
یہ لوگ سو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ !!!! . . . اب تو جاگو ۔ ۔ ۔ ۔
Monday, 14 July 2014 noor حالات حاضرہ, گستاخی معاف, مسلمانان عالم 0
کاش ، ہم غور کریں کہ قرآن کریم سے ہمارا کیسا اور کتنا تعلق ہے !!!
Friday, 11 July 2014 noor اسلامی مضامین, خالد سیف اللہ رحمانی, قرآن مجید 0
اس چمن میں اب اپنا گزارا نہیں . . .
Wednesday, 25 June 2014 noor آہ ۔ ۔ ۔, شعر و شاعری 0
اے میرے ہم نشیں چل کہیں اور چل، اس چمن میں
ہمارا گزارا نہیں
بات ہوتی گلوں کی تو سہہ لیتے ہم، اب تو کانٹوں پہ بھی حق ہمارا نہیں
بات ہوتی گلوں کی تو سہہ لیتے ہم، اب تو کانٹوں پہ بھی حق ہمارا نہیں
تم ابھی آئے ہو اورچلے جاؤ گے، کیسے اپنی طبیعت گوارا کرے
عمر بھر کا سہارا بنو تو بنو، چار دن کا سہارا سہارا نہیں
جانے کس کی لگن کس کی دھن میں مگن، جار رہے ہو کہ مڑ کےبھی دیکھا نہیں
ہم نے آواز پر تم کو آواز دی، پھر بھی کہتے ہو ہم کو پکارا نہیں
ہم نے آواز پر تم کو آواز دی، پھر بھی کہتے ہو ہم کو پکارا نہیں
جب بھی اہل چمن کو ضرورت پڑی ، خون ہم نے دیا، گردنیں پیش کیں
پھر بھی ہم سے یہ کہتے ہیں اہلِ
چمن، یہ ہمارا چمن ہے ، تمہارا نہیں !!!
جوش دریا میں تھا ، الاماں الاماں ، پہنچا ساحل سے طوفاں کا دھارا گیا
اس کو کہتے ہیں قسمت کی ناکامیاں پہلے کشتی گئی پھر کنارہ گیا
ہاتھ میری تباہی میں اُنکا ہی تھا،
جن کو اپنا سمجھتا رہا آج تک
غیر تو غیر ہیں ، غیر سے کیا گلہ ، میرا غیروں کی جانب اشارہ نہیں
ظلمتِ شب نے گھیرا ہوا ہے ہمیں، کچھ سُجھائی نہیں دے رہا کیا
کریں
مہر و ماہ تو بڑی چیز
ہے دوستو ، روشنی کے لئے اک ستارہ نہیں
دیکھتے دیکھتے عزتیں لٹ گئی، عظمتیں مٹ گئیں ، عِصمتیں بِک گئی
ایسے جینے سے بہتر ہے مر جائیں ہم، ایسا جینا تو
ہم کو گوارہ نہیں
ظالموں اپنی قسمت پہ نازاں نہ ہو، دور بدلے گا یہ وقت کی بات
ہے
وہ یقینا" سُنے گا صدائیں میری ، کیا تمہارا خدا ہے ہمارا نہیں؟؟؟
وہ یقینا" سُنے گا صدائیں میری ، کیا تمہارا خدا ہے ہمارا نہیں؟؟؟
اپنی زلفوں کو رخ سے ہٹا لیجیئے، میرا ذوقِ نظر آزما لیجیئے
آج گھر سے چلا ہوں یہی سوچ کر، یا تو نظریں نہیں یا نظارہ نہیں
دی صدا دار پر اور کبھی طور پر، کس جگہ میں نے تم کو پکارا نہیں
ٹھوکریں یوں کھلانے سے کیا فائدہ، صاف کہ دو کہ ملنا گوارا نہیں
اے میرے ہم نشیں ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔
اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
Powered by Blogger.
Featured post
ابنِ ثابتؓ کی زباں مجھ کو میسر کر دے : طرحی نعت پاک
مرے مولا، مری قسمت کو تو، خوشتر کردے "مجھ کو سرکار کا دیدارمیسرّ کردے" مدتیں بیت گئیں آس لگائے بیٹھے شہرِ بطحا کا سفر اب تو ...
الیوم . . .
آن لائن
بلاگر حلقہ احباب
آمدو رفت
موضوعات
- #msajid #navabi (1)
- #QuranPak #HolyQuran #TheHolybook #Alwoder #SpiritualHealing (1)
- #چاہت_محمد_قریشی_قاسمی (1)
- blog (1)
- CartOOns - کارٹون (1)
- آس پاس - مقامی (2)
- آمنہ کا لال (1)
- آہ ۔ ۔ ۔ (32)
- اخلاق (4)
- اردو اور موبائیل (3)
- اسامہ' بن لادن (1)
- اسکول کالج (1)
- اسلامی مضامین (47)
- اصولِ شاعری (1)
- اعلانات (4)
- اقتباسات (3)
- اکابرین - سلف صالحین (1)
- الرحیق المختوم (1)
- الیکشن (2)
- امت مسلمہ (25)
- انتقال پرملال (2)
- اورنگ زیب عالمگیر (2)
- اولیاء اکرام (1)
- بابری مسجد (1)
- بکھرے موتی (3)
- بلاگ (2)
- پاکستان (8)
- پیر ذوالفقار احمد نقشبندی (1)
- تاریخ (1)
- تاریخی مقامات (2)
- تربیتِ اطفال (1)
- تصاویر (2)
- تعلیم و تربیت (1)
- تقاریر (1)
- تلاش (1)
- ٹوٹکے (1)
- حالات حاضرہ (39)
- حج و عمرہ (2)
- حسن و اخلاق (1)
- حقوق نسواں (1)
- حکایات (2)
- خالد سیف اللہ رحمانی (1)
- خبریں (13)
- خطوط (1)
- خیال سومیشوری (6)
- دارالعلوم دیوبند (9)
- دعا و اذکار (9)
- دعوت و تبلیغ (1)
- دفع سحر- جادو (1)
- دوٹوک (5)
- ذرا مسکرائیے (13)
- ذہنی آزمائش (2)
- راہی حجازی (2)
- رد غیر مقلدیت (3)
- رَدِ غَیر مُقلّدِیَت (1)
- رمضان (1)
- رومن اردو (1)
- زیارات (2)
- سائنس (1)
- سردار (1)
- سیاست (5)
- سیو اردو (2)
- شخصیات (4)
- شعر و شاعری (37)
- شیخ محمد ایوب برمیؒ (1)
- صحابہ اکرام (1)
- صوفیانہ کلام (1)
- ضربِ کلیم (1)
- طب و صحت (4)
- طنز و مزاح (5)
- علاج - دوا - مرض - شفا (1)
- علمائے دیوبند (5)
- غزل (7)
- فلسطین (7)
- فیس بک (7)
- قابل غور (8)
- قرآن مجید (4)
- قلم ِ نور (12)
- قوانین (1)
- کرکٹ (4)
- کمپوٹر ' سافٹ ویر (4)
- کھیل کھلاڑی (2)
- کوکن ریلوے (1)
- گجرات (1)
- گستاخی معاف (20)
- لبیک (1)
- متفرقات (49)
- مدارس ، (4)
- مدد - Help (2)
- مسائل - فتاوی (11)
- مسجد نبوی (1)
- مسلمانان عالم (4)
- مسلمانان ہند (8)
- معمار حرم (1)
- مفتی تقی عثمانی (9)
- مفتی سعید احمد پالنپوری (1)
- ممبرا (1)
- منظر بھوپالی (1)
- مولانا احمد سعید پالنپوری (2)
- مولانا حسین احمد مدنی (1)
- مولانا سعید احمد خان صاحب (1)
- مولانا طارق جمیل (3)
- مولانا عادل سعیدی (3)
- مولانا یونس پالنپوری (1)
- میڈیا (1)
- میرے قلم سے (11)
- میلاد النبی (1)
- نئی پوسٹ (1)
- ناقابل یقین (1)
- نسخے (1)
- نسیم ہدایت کے جھونکے (8)
- نعت پاک (1)
- نعت پاک، (8)
- نون میم (24)
- واٹس آپ !! (1)
- وطن ِ عزیز (7)
ایک نظر ۔ ۔ ۔ ۔
کون کہاں سے؟
Recent Comments : تبصرے
Get this Recent Comments Widget
دوست بلاگران
-
-
-
-
-
-
-
ڈوپامین ، لذت کا تکلیف5 months ago
-
یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔5 months ago
-
-
-
رتن ٹاٹا: ایک عظیم صنعتکار کا سفر1 year ago
-
-
-
طالبان سے امن معاہدہ6 years ago
-
-
DOMAIN FOR SALE!6 years ago
-
مناجات - الٰہی دل کو کوہِ طور کردے8 years ago
-
چوسر(چار)8 years ago
-
Review: Yalghaar9 years ago
-
-
-
اُس راہ پر9 years ago
-
-
عابد کی سال گرہ کا احوال10 years ago
-
قدرت، معاشرہ اور صنفی امتیاز10 years ago
-
بھگوان انسان کے روپ میں10 years ago
-
باؤلا کتا10 years ago
-
یا بے شرمی تیرا ہی آسرا10 years ago
-
-
-
-
-
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو12 years ago
-
-
تعارف از مفتی سعید احمد پالنپوری13 years ago
-
-
BARALVIYOON KI GUSTAKHIYAN15 years ago
-
-
بلاگ کے مراسلات کی تعدادNo. of posts: :
بلاگ کے تبصروں کی تعداد :No. of comments:






