انڈین پریمئر لیگ (آئی ۔ پی ۔ ایل ) . . . ایسا کیوں ہے ؟ ؟ ؟ ؟

ایسا کیوں ہے ؟ ؟ ؟ ؟
۔
۔
۔
۔
۔
۔


انڈین پریمئر لیگ   (آئی   ۔  پی ۔  ایل )

میں  ۔ ۔ ۔ ۔

۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔



پاکستانی  امپائر  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔




پاکستانی  کامینٹیٹر  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔



پاکستانی   کوچ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


 


مگر   ۔ ۔ ۔ ۔ 
۔
۔
۔
۔
۔
۔


پاکستانی  کھلاڑی  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ؟ ؟ ؟ 




تیری آنکھیں تيری زلفیں تیرا شانہ دیکھوں


تیری آنکھیں تيری زلفیں تیرا شانہ دیکھوں
بارہا خواب میں منظر یہ سہانہ دیکھوں

لوگ سارے تو تیرے شہر کے دیوانے ہیں
میری خواہش ہے کہ میں تیرا زمانہ دیکھوں

ریت پہنی ہوئی مکّہ کی گزرگاہوں پر
نیچی نظروں سے تیرا غار میں جانا دیکھوں

تیرے کمبل سے تیرے جسم کی خوشبو سونگھوں
تجھ پہ اترا تھا جو حکمت کا خزانہ دیکھوں

تیرے  فاقوں  نے کئی دن کی کڑی بھوک کے بعد ۔ ۔
فاطمہ  کو جو کھلایا تھا وہ کھانا دیکھوں

حکم اللہ سے اس رات کی خاموشی میں
سوئے یثرب تجھے ہوئے میں روانہ دیکھوں

پائے صدیق  کو جس سانپ نے بار بار ڈسا 
میں اسی سانپ کا گمنام ٹھکانہ دیکھوں


دف بجاتے ہوئے ہاتھوں کی خوشی کو سمجھوں
تیری آمد پہ وہ دربار سجانا دیکھوں

جنگ خندق میں جو باندھے تھے وہ پتھر چوموں
اور مصیبت میں تیرا ساتھ نبھانا دیکھوں

ڈر کے دشمن تیرے خوف سے تھرّائیں مگر
معاف کرنے کا وہ انداز پرانا ديکھوں

چشم اطہر کو خدایا وہ بصارت دے دے
قبلہ رو ہو کے محمد  کو روزانہ دیکھوں۔


دینی مدارس کے طلباء اور ٹیکنیکل کام ـ تجویز یا اعتراض

دینی مدارس کے طلباء اور ٹیکنیکل کام ـ


 درس نظامی کے طلبا ہنر مندی سے عاری ہوتے ہیں۔ انہیں ٹیکنیکل کام سکھائے جائیں تاکہ معاشی طورپر خود کفیل ہو کر اسلام کی خدمت فی سبیل اللہ سر انجام دے سکیں  ۔ ۔ ۔ !!!

اسے اعتراض کہیں یا تجویز  ؟ ؟ ؟ 


معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی اگر غورکرے تو یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیگا کہ دینی مدارس کے فضلا اور مولوی حضرات کے ساتھ یہ امتیاز ی سلوک کیوں ہے ! وکیلوں اور ججوں سے کیوں نہیں کہا جاتاکہ وہ ٹیکنیکل کام سیکھ کر اپنی گزر بسر کریں اور قوم کی قانونی رہنمائی فی سبیل اللہ سر انجام دیں ! ڈاکٹر وں اور انجینئروں سے کیوں نہیں کہا جاتا کہ وہ دستکاری اور ہنر سیکھ کر اپنے اخراجات پورے کریں اور طبی مشورے اور تعمیراتی رہنمائی، خدمت خلق کے جذبہ کے تحت بلا معاوضہ سر انجام دیں ! اسمبلی ممبران اور انتظامی امور چلانے والے افسران سے کیوں نہیں کہا جاتاکہ وہ قانون سازی اور انتظامی معاملات کو قومی جذبہ سےسرشار ہو کر انجام دیا کریں اور اپنے ذاتی اور گھریلو اخراجات کیلئے کوئی ہنر سیکھ کر ’’الکاسب حبیب اللہ‘‘ پر عمل کرنے کی سعادت حاصل کیا کریں۔۔۔!

اگر وکیل عدالت میں پیش ہونیکا سلیقہ سکھا تا ہے اور قانونی رہنمائی فراہم کرکے حق الخدمت وصول کرتاہے تو ایک عالم دین، احکم الحاکمین کے دربار میں پنج وقتہ پیشی میں معاونت کرتاہے اور مذہبی رہنمائی فراہم کرتاہے ۔۔۔! اگر جج لوگوں کے مقدمات کے فیصلے کرکے تنخواہ کا مستحق ہوتاہے توایک عالم دین مسلمانوں کے معاملات اور مسائل کو کتاب وسنت کی روشنی میں سلجھا کر معاشرہ کی بہت بڑی ضرورت پوری کرتاہے۔ اگر ڈاکٹر جسمانی علاج کرتاہے تو ایک عالم دین جسمانی تقاضوں کو شریعت کے مطابق پورا کرنیکا طریقہ بتاتا ہے اور روحانی علاج میں رہنمائی فراہم کرتاہے۔  اگر انجینئر آپ کو سر چھپا نے کی جگہ بنانے میں مشوروں سے نوازتاہے اور مشینری کے ستعمال کے طریقے بتاتا ہے تو ایک عالم دین قبر کی تعمیر وکشادگی، عرش کا سایہ اور جنت کے عظیم الشان محلات کی تعمیر میں آپ کو مشورے دیتاہے اور آپ کے جسم کی مشینری کے جائز استعمال کے طریقے سکھاتاہے آپ ذرا کسی ایسے مفتی صاحب کا تصور کریں جو ٹیکنیکل کام سیکھ کر روزی کمانے کی فکر میں ہو۔ آپ کوئی اہم مسئلہ پوچھنے دارالافتا پہنچے تو معلوم ہوا کہ مفتی صاحب کسی کی واشنگ مشین یا ریفریجریٹر ٹھیک کرنے گئے ہوئے ہیں یا ادھاری وصول کرنے گئے ہوئے ہیں۔

فوری ضرورت کا مسئلہ درپیش ہے مگر مولانا صاحب اپنے اور بچوں کے معاش کا انتظام کرنے میں مصروف ہیں۔ اگر مولوی صاحب کی دکان صدر میں ہے اور امامت شہر کے کسی دوردراز  علاقے میں کرواتے ہیں تو ذرا انصاف سے بتلائیے کہ اوپر تلے عصر، مغرب اور عشا کی امامت کیلئے کیا صورت اختیار کی جائے گی؟ عوام کا تو یہ حال ہے کہ خود بھلے چوتھی رکعت میں پہنچیں مولوی صاحب کسی مجبوری کے سبب اگر چار منٹ بھی لیٹ ہوجائیں تو انہیں خونخوار نظروں سے گھورا جاتا ہے ہمیں فیصلہ یہ کرنا ہوگا کہ دینی مدارس کے فضلا سے ہم نے کس شعبہ\" زندگی میں کام لیناہے؟ ہر فن کے ماہر اور ہر میدان کے شہسوار ہوتے ہیں اور ان کا دائرہ کار ان کا فن ان کے میدان تک محدود ہوتاہے کسی سرجن سے ہم نے کبھی مطالبہ نہیں کیا کہ اسےتعمیراتی نقشوں میں مہارت ہونی چاہئے اور بجری اور سیمنٹ کا تناسب )Ratio( معلوم ہونا چاہئے اور نہ ہی کسی انجینئر کیلئے ہم مشورہ دیتے ہیں کہ اسے آنکھ کے پردے یا دل کی جھلی اور پھیپھڑوں کےفنکشن کے متعلق معلومات نہ ہوں تو اسے ملازمت نہیں ملے گی لیکن دینی مدارس کے فضلا سے ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ انہیں جدید ٹیکنا لوجی میں مہارت ہونی چاہئے اور اپناپیٹ پالنے کیلئے کوئی ہنر سیکھنا چاہئے۔

آخر کیوں؟ ؟؟؟

بشکریہ  فیس بک / واٹس  اپ احباب

تو ہی نہ چاہے تو بہانے ہزار ہیں !!!!

 تو ہی نہ چاہے تو بہانے ہزار ہیں !!!!


رومن اردو لکھنے والوں سے جب بھی اردو میں لکھنے کی بات کی تو انہوں نے عام طور سے ایک بات ضرور کہی کہ ہمیں اردو لکھتے ہوئے ٹائم بہت لگتا ہے، میری سمجھ میں آج تک یہ نہیں آسکا کہ ٹائم کیسے لگتا ہے جبکہ اردو کیبورڈ جو موبائل میں دیا گیا ہے وہ فونیٹک ہے، فونیٹک کا مطلب یہ کہ اردو الفاظ انگلش الفاظ کے حساب سے رکھے گئے ہیں جیسے A سے جو اردو لفظ آنا چاہئے وہ الف ہونا چاہئے، آپ اپنے کیبورڈ کو دیکھ لیجئے الف ہی ہے۔ S سے جو لفظ آنا چاہئے وہ سین ہونا چاہئے آپ اپنے کیبورڈ میں دیکھ لیجئے سین ہی ہے۔ D سے جو لفظ آنا چاہئے وہ دال ہونا چاہئے آپ اپنے کیبورڈ میں دیکھ لیجئے دال ہی ہے۔  Q سے جو لفظ آنا چاہئے وہ قاف ہونا چاہئے آپ اپنے کیبورڈ میں دیکھ لیجئے قاف ہی ہے کوہ قاف کی پری نہیں ہے۔



اور p سے پ 

اور L سے ل

اور F سے ف

اور B سے ب

اور N سے ن

اور M سے م





ہلم جرا ۔ کہاں تک گنائے جائیں۔ سارے ہی الفاظ تو 'مطابق قیاس'رکھے گئے ہیں (ما سوائےپانچ الفاظ کے،کہ وہ خلاف قیاس واقع ہوئے ہیں ۔  ان کا اسکرین شاٹ  بھی حاضر خدمت ہے   ۔ ۔ ۔


۔۔۔۔ پھر بھی رومن اردو سے اصل اردو لکھنے میں اتنا ٹائم کیوں لگ رہا ہے؟؟؟؟؟  

 ہاں اگر کیبورڈ آفتاب کیبورڈ کی شکل میں دیا جاتا تو آپکی یہ بات درست ہوتی لیکن یہ تو فونیٹک کی شکل میں دیا گیا ہے، پھر اکثر ہمارے دوست فضلائے دار العلوم ہیں ان کیلئے تو اردو کوفتہ ہوتی ہے، املاء کی پریشانی بھی ان کے سامنے نہ ہونی چاہئے

اصل چیز ہمت ہوتی ہے، بس ذرا ہمت سے کام لیں پھر دیکھئے کیسے اردو ٹائپنگ آپ کیلئے پانی بن جاتی ہے۔ ہمت سے ایک صاحب یاد آگئے، وہ ایک عربی گروپ میں ایڈ تھے ہمارے ساتھ، عربی میں دھڑادھڑ میسیجز ٹائپ کرکرکے ارسال کیا کرتے تھے، مگر انکو جب بھی موبائل کے کسی مسئلہ میں ہم سے پرسنل پہ گفتگو کرنی ہوئی انہوں نے ہمیشہ رومن اردو میں میسیجز کئے۔ ہم نے بارہا پوچھاکہ جب آپ ما شاء اللہ عربی میں میسیجز لکھ رہے تو ہم سے اردو میں بات کرتے ہوئے یہ انگلش رسم الخط کیوں؟ پہلے تو طرح دے گئے مگر جب ہم نے انکے مسئلہ کے حل کو اپنے سوال کے جواب پہ معلق کردیا تو فرمانے لگے کہ مجھے اردو لکھنے میں ٹائم لگتا ہے۔  😕😕

کوئی ٹھکانہ ہے اس ظلم و عدوان کا، عجمی ہوتے ہوئے اجنبی زبان کو نہ صرف بول رہے ہیں بلکہ نسبتا مشکل کیبورڈ کے ساتھ روانی سے ٹائپ بھی کئے جارہے ہیں (جوکہ اچھی بات ہے) مگر جب اردو کی بات آئی تو بہانے تراش دئیے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ   ؎

تو ہی نہ چاہے تو بہانے ہزار ہیں

بلکہ اگر انہوں نے اردو کیبورڈ کی مشق کی ہوتی تو وہ اس سے عربی بھی لکھ سکتے تھے۔ مناطقہ کی زبان میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت۔ عربی کیلئے چاہ لیا تو عربی لکھنے لگے عربی رسم الخط میں اور وہ بھی مشکل کیبورڈ کے ساتھ جبکہ اردو کیلئے نہیں چاہا تو اردو کے ساتھ زنا بالجبر کرتے رہے اور مسلسل کررہے ہیں

الغرض بات چاہنے سے بنتی ہے اور بڑے بڑے امور جو دنیا میں انجام دئیے گئے ہیں ان کے پیچھے بھی چاہت کا ایک مخلصانہ اور پیہم جذبہ کار فرما رہا ہے۔ ایک بار اگر آپ نے سچے دل سے چاہ لیا اور چاہت کی راہ نوردی شروع فرما دی تو آپ ایک ہی دن میں اردو ٹائپ کرنے لگیں گے۔نئےلکھنے والوں کیلئے  چند ہدایات درج کی جاتی ہیں ۔ ۔ ۔ 

·         الف ‌: اردو لکھتے ہوئے اگر املاء کی پریشانی آڑے آئے تو کوئی بات نہیں۔ آپ غلط املاء کے ساتھ ہی شروع کریں اور جب کسی ساتھی کی طرف سے وہ لفظ صحیح املاء کے ساتھ ملے تو اسے اوٹو ٹیکس میں غلط املاء کے ساتھ ہی محفوظ کرلیں۔ جیسے لفظ بالکل آپکو پریشان کرتا ہے ، آپ بار بار بلکل لکھ رہے ہیں صحیح بالکل کی املاء یاد ہی نہیں آرہی تو آپ بلکل ہی لکھ کر ارسال کردیجئے، پھر کسی ساتھی کی طرف سے آپکو لفظ بالکل صحیح املاء کے ساتھ موصول ہو تو آپ اس بالکل کو اوٹو ٹیکس میں لیجائیں اور اسکو کورڈ بلکل کا دے دیں، اگلی بار جب آپ بلکل لکھیں گے تو کیبورڈ سجیشن کے بار میں  بالکل بھی دکھا ئے گا جسے آپ انگلی مارتے ہوئے سلیکٹ فرما لیں، بس اسی چلتے جائیں، ایک دن آئے گا کہ آپ بلکل کو بھول جائیں گے اور بالکل اچھے سے یاد ہوجائے گا۔ اس طرح کم از کم آپکی اردو املاء کی سطح بلند ہوگی جوکہ رومن اردو لکھنے کی صورت میں قیامت کی صبح تک ہونے سے رہی

·         ب ‌: جو جملے بکثرت لکھے جاتے ہیں  ان سب کو اوٹو ٹیکس میں جمع فرما لیں۔جمع کرنے کے بعد یہ بات خاص طور سے یادرکھیں کہ اوٹو ٹیکس ان انسٹال نہ ہونے پائے۔ ورنہ آپکو یہ جملے از سر نو لکھنے پڑیں گے الا یہ کہ آپ نے اپنے جملے محفوظ کررکھے ہوں اور جملے محفوظ کرنے کے کیبورڈ پیسے مانگتا ہے

·         ج ‌: کیبورڈ کا اوپشن ‌: نیکسٹ ورڈ لرننگ چالو رکھیں ۔



مزید اگر آپکو کہیں پریشانی ہو تو ہم سےدریافت فرمائیں، پر اتنا ضرور یاد رکھیں کہ چلنا آپ کو پڑے گا، ہم صرف انگلی پکڑ سکتے ہیں، صرف راہنمائی کرسکتے ہیں  - 





<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.