لا تخافی لا تحزنی (اے عورت ۔ ۔ ۔ مت خوف کر مت غمگین ہو) ۔ ۔ ۔

حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (م۱۲۳۹ھ، ۱۸۲۲ء) فرماتے ہیں کہ:
’’ میں جس زمانے میں دہلی کہنہ میں رہتاتھا کوچہ انبیاء میں ایک سید کے گھر ایک پوربی باندی رہتی تھی جو بالکل جاہلہ تھی اور نماز کی بھی پابند نہ تھی چونکہ وہ عمر رسیدہ ہو گئی تھی اور گھر کے تمام صاحبزادوں پراپنا حق رکھتی تھی۔ اس لئے و ہ لوگ اس کی بڑی خدمت اور دیکھ بھال کرتے تھے۔

 جب اس کا آخری وقت ہوا تو وہ ایک آواز پوربی لہجے میں بلند کرتی تھی جس کا مطلب ، مفہوم کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ حکماء و صلحاء کو بلا کر دریافت کیا گیا کچھ نہ معلوم ہوا۔ آخر میرے چچا شاہ اہل اللہ ؒ کے بلانے کی نوبت آئی۔ وہ تشریف لے گئے انہوں نے معلوم کر لیا کہ اس کی زبان سے   لا تخافی لا تحزنی   (اے عورت! مت خوف کر 'مت غمگین ہو)    نکل رہا ہے –


 چچا صاحب نے اس کے تیمارداروں سے فرمایا کہ اس سے دریافت کرو کہ یہ الفاظ کس وجہ سے کہہ رہی ہے۔بڑی کوشش کے بعد اس نے جواب دیا کہ ایک جماعت (فرشتوں کی آئی ہوئی ہے اس کی زبان سے یہ الفاظ نکل رہے ہیں جو میری زبان پر آگئے) –

پھر آپ نے دریافت کرایا کہ کیا تو ان الفاظ کا مطلب سمجھ رہی ہے؟ اس نے کہا مجھے تو بس اتنا محسوس ہو رہا ہے کہ یہ جماعت مجھے تسلی دے رہی ہے۔

 پھر چچا صاحب نے فرمایا کہ اس سے دریافت کروکس عمل کی وجہ سے یہ تسلی دی جا رہی ہے ؟

 اس نے کچھ دیر کے بعد کہا کہ یہ حضرات کہہ رہے ہیں کہ تیرے پاس اوراعمال خیر تونہیں ہیں ، البتہ توایک دن موسم گرما میں گھی لینے کے لئے بازار گئی تھی جب تو نے گھی لا کر گھر میں جوش دیا تو اس میں سے ایک روپیہ نکلا۔ اول توُ نے چاہا کہ اس روپے کو چپکے سے اپنے پاس رکھ لے ، اپنے کام میں لائے اس لئے کہ کسی کو اس راز کی خبر نہ تھی، پھر یہ خیال کر کے کہ حق تعالیٰ تودیکھ رہا ہے تو نے وہ روپیہ دکاندار کو لوٹا دیا ۔ تیرا یہ عمل اللہ کے یہاں پسند ہوا ، اسی کی وجہ سے ہم تجھ کو بشارت دے رہے ہیں‘‘۔



(ماہنامہ دارالعلوم جلد ۸ شمارہ ۲ صفحہ ۴۰۔ بحوالہ جواہر پارے از مولانا نعیم الدین مکتبہ قاسمیہ اردو بازار لاہور صفحہ ۱۵۶)


’امریکہ کولمبس نے نہیں مسلمانوں نے دریافت کیا‘ . . .

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلمانوں نے کرسٹوفر کولمبس سے تین صدی قبل ہی براعظم امریکہ دریافت کر لیا تھا۔
استنبول میں لاطینی امریکہ کے مسلمان رہنماؤں کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا کہ اس بات کا ثبوت کولمبس کی دستاویزات سے ملتا ہے جس میں اس نے کیوبا میں ایک پہاڑی پر مسجد کی موجودگی کا تذکرہ کیا ہے۔طیب ارگان کا کہنا تھا کہ اسلام اور لاطینی امریکہ کا تعلق 12 ویں صدی میں ہی استوار ہو چکا تھا اور مسلمان سنہ 1178 میں اس سرزمین پر پہنچ چکے تھے۔انھوں نے اسی مقام پر ایک مسجد کی تعمیر کی پیشکش بھی کی جس کا ذکر کولمبس نے کیا ہے۔

عام خیال یہی ہے کہ سیاح کرسٹوفر کولمبس نے 1492 میں امریکہ اس وقت دریافت کیا جب وہ بھارت کے لیے نئے بحری راستے کی تلاش میں سفر پر نکلا تھا۔تاہم 1996 میں ایک مسلم مورخ یوسف مروح نے اپنی کتاب میں کولمبس کی دستاویز کے حوالے سے دعویٰ کیا مسلمان سب سے پہلے امریکہ پہنچے اور وہاں دینِ اسلام پھیل چکا تھا۔تاہم بہت سے دیگر مورخین کے خیال میں کولمبس نے اپنے سفر نامے میں مسجد کا نہیں بلکہ مسجد جیسی شکل والی پہاڑی کا تذکرہ کیا تھا۔ترک صدر کا کہنا تھا کہ آج بھی اس پہاڑی پر بہترین مسجد تعمیر ہو سکتی ہے اور وہ اس بارے میں کیوبن حکام سے بات کرنا چاہیں گے۔
خیال رہے کہ شمالی و جنوبی امریکہ پر سب سے پہلے قدم ایشیا سے آنے والے افراد نے رکھے جو ایک خیال کے مطابق آبنائے بہرنگ سے گزر کر 15 ہزار سال قبل وہاں آئے تھے۔شمالی امریکہ پہنچنے والے سب سے پہلے یورپی ناروے کے مہم جو تھے جو کولمبس سے پانچ سو سال قبل وہاں گئے تھے۔

بچہ تعلیم میں دلچسپی نہیں لے رہا ؟

بچہ تعلیم میں دلچسپی نہیں لے رہا ؟
ــــــــــــــــــــــــــــ

دوستوں کو اولاد کے حوالے سے ایک خاص تحفہ دینے لگا ہوں، اسے غور سے سمجھ لیں، کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں جو کسی خاص حوالے سے والدین کے لئے درد سر بن جاتے ہیں، مثلاََ تعلیم میں بالکل دلچسپی نہ لینا ۔ وغیرہ

 ایسے بچوں کے اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ جب وہ گہری نیند سو جائے تو آپ اسکے سرہانے بیٹھ یا لیٹ جایئے اور نہایت ہلکی سرگوشی میں اسے تلقین کیجئے کہ بیٹا تعلیم بہت فائدے کی چیز ہے تم پڑھا کرو۔
 یہ سرگوشی اسکے شعور پر ہر گز نہیں پڑنی چاہئے ۔
 اگر آپکی سرگوشی سےوہ کسمسانے لگا ہے تو اسکا مطلب ہے اسکا شعور سن رہا ہے۔ آپ کا مخاطب اسکا شعور نہیں بلکہ لا شعور ہے، اور لا شعور کو مخاطب کرنے کی شعور کو کانوں کان خبر نہیں ہونی چاہئے، یاد رکھئے انسانی شعور کا کمانڈر اسکا لا شعور ہے۔

 اگر آپ اس کمانڈر کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو شعور کو وہ خود سنبھال لے گا ۔   لاشعورکو قائل کرنے کے لئے دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی صرف آگہی درکار ہوتی ہے۔  یہ عمل روز آدھا گھنٹہ کیجئے آپ چند دن میں بچے کو خود بخود تبدیل ہوتا دیکھیں گے۔

 ایک بار پھر کہہ رہا ہوں کہ اگر آپکی سرگوشی شعور سن رہا ہے تو ساری محنت برباد ہو جائیگی، وہ اتنی ہلکی ہونی چاہئے کہ شعور نہ سن سکے۔ شعور جب کچھ سنتا ہے تو انسانی بدن میں حرکت کی صورت رد عمل ضرور ظاہر ہوتا ہے۔ اگر نصف گھنٹے کی اس کار روائی کے دوران بچہ چپ چاپ سو رہا ہے تو آپ کامیاب جا رہے ہیں لیکن اگر وہ ردعمل میں کروٹ بدل لیتا ہے یا اسکا ہاتھ کان کی طرف آجاتا ہے تو آپ غلط کر رہے ہیں، ہم نے شعور کو مکمل بے خبر رکھ کر لاشعور سے گفتگو کرنی ہے۔

نوٹ: باشرع دوست خیال رکھیں کہ انکی داڑھی بچے کے گال یا گردن وغیرہ سے ٹچ نہ ہو ورنہ وہ جاگ جائیگا  ۔ ۔ ۔




حق تلفی !!

قابل احترام     اویسی صاحبان  کی  " میم   -“MIM پارٹی سے محبت  / عقیدت     اور  سپورٹ تو ہے لیکن   ۔ ۔ ۔
ممبرا کا       ماضی اور حال   دیکھ کر  اب کے الیکشن میں  جتیندر آوہاڈ  ”  کو ووٹ نہ دینا اس کی              
حق تلفی ہوگی !!!

نورمحمد ابن بشیر

ممبراکی سڑکوں پر سیاسی جلوس کی اجازت نہیں !!!


بالکل درست فیصلہ ہے ۔ ۔


کیا آپ بھی اس سے متفق ہیں ؟ ؟ ؟ ؟

کاش میرا والد مجهے مارتا اور سزا دیتا ۔ ۔ ۔


ریاض شہر کے ایک سیکنڈری سکول کا ہیڈ ماسٹر کہتا ہے:
ایک دن جب میں سکول پہنچا تو کیا دیکهتا ہوں کہ کسی نے سکول کی ساری بیرونی دیواروں کو انتہائی بے دردی سے سپرے پینٹ کے ساتھ خرافات لکھ کر اور گندے نقش و نگار بنا کر خراب کر ڈالا ہے.
میرے سکول کیلئے یہ پہلا اور افسوسناک واقعہ تها. میں نے سکول جا کچھ سٹاف کے ذمہ لگایا کہ اس حرکت کرنے والے بچے کا پتہ چلائیں. حاضر و غائب کا ریکارڈ دیکهنے اور چند بچوں سے پوچھ گچھ کے بعد ہمیں ایک لڑکے کے بارے میں پتہ چل گیا جس نے یہ حرکت کی تهی.
اسی دن میں نے اس لڑکے کے والد کو فون کر کے کہا میں آپ سے ملنا چاہونگا، کل آپ سکول تشریف لائیں.
دوسرے دن جب لڑکے کا باپ آیا تو میں نے اس سے سارا قصہ کہہ ڈالا. باپ نے اپنا بیٹا بلوانے کیلئے کہا. بیٹے کے آنے کے بعد اس نے بڑے دهیمے سے لہجے میں اس سے تصدیق کی. لڑکے نے اعتراق کیا تو باپ نے وہیں بیٹهے بیٹهے ایک رنگساز کو فون کر کے بلایا، دیواروں کو پہلے جیسا رنگ کرنے کی بات کی. مجھ سے اپنے بیٹے کے رویے کی معافی مانگی، اجازت لیکر اٹها اور اپنے بیٹے کے سر پر شفقت سے پیار کیا اور دهیمی سی آواز میں اسے کہا: بیٹے اگر میرا سر اونچا نہیں کر سکتے تو کوئی ایسا کام تو نا کرو جس سے میرا سر نیچا ہو اور یہ کہتے ہوئے چلا گیا.
میں نے دیکها کہ لڑکے نے اپنا منہ اپنے دونوں ہاتهوں میں چهپا لیا تها، واضح دکهائی دے رہا تها کہ وہ رو رہا ہے.
مجهے بہت حیرت ہو رہی تهی کہ لڑکے کے باپ نے کیا خوب نفسیاتی طریقہ اپنایا تها. اس کی چهوٹی سی بات نے جو کام کر دکهایا تها ویسا نتیجہ تو مار پیٹ سے بهی نا حاصل ہو پاتا.
میں نے لڑکے کے تاثرات دیکهنے کیلئے اس سے پوچها: بچے، تیرا باپ بہت شفیق اور محترم انسان ہے، اور اس نے تجهے کوئی خاص سرزنش بهی نہیں کی، پهر تجهے کس بات پر رونا آرہا ہے؟
لڑکے نے کہا: سر، اسی بات پہ تو رونا آ رہا ہے کہ کاش میرا والد مجهے مارتا اور سزا دیتا مگر ایسی بات نا کہتا.
لڑکے نے مجھ سے معذرت کی اور اجازت لیکر چلا گیا.
پهر میں نے دیکها کہ اس بچے نے میرے سکول میں اعلیٰ کارکردگی دکهائی.



ایک اسکول ٹیچر کا محبت نامہ : حنیف سمانا


ایک اسکول ٹیچر کا محبت نامہ : حنیف سمانا

مائی ڈئیر تاج الدین،
سلامِ محٌبت،
تمھارا اِملے کی غلطیوں سے بھرپور مراسلہ مِلا،  جسے تم بدقسمتی سے "محٌبت نامہ" کہتے ہو ۔ کوئی مسٌرت نہیں ہوئی ۔
یہ خط بھی تمھارا پچھلے خطوط کی  طرحبےترتیب اور بےڈھنگا تھا۔ اگر خود صحیح نہیں لکھ سکتے تو کسی سے لِکھوا لیا کرو۔
 خط سے آدھی ملاقات ہوتی ہے اور تم سے یہ آدھی ملاقات بھی اِس قدر دردناک ہوتی ہے کہ بس!
 اور ہاں.... یہ جو تم نے میری شان میں قصیدہ لِکھا ہے ،  یہ دراصل قصیدہ نہیں بلکہ ایک فلمی گانا ہے اور تمھارے شاید عِلم میں نہیں کہ فِلم میں یہ گانا ھیرو اپنی ماں کے لئے گاتا ہے ۔

اور سُنو! پان کم کھایا کرو۔  
خط میں جگہ جگہ پان کے دھبے صاف نظر آتے ھیں۔ اگر پان نہیں چھوڑ سکتے تو کم از کم خط لکھتے وقت توہاتھ دھوکے بیٹھا کرو۔
اور یہ جو تم نے ملاقات کی خواھِش کا اظِہار انتہائی اِحمقانہ انداز میں کیا ھے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے کوئی یتیم بچہ اپنی ظالِم سوتیلی ماں سے ٹوفی کی فرمائش کر رھا ھو، اس یقین کہ ساتھ کہ وہ اِسے نہیں دےگی۔
ایک بات تم سے اور کہنی تھی کہ کم از کم اپنا نام تو صحیح لکھا کرو۔ یہ "تاجو" کیا ھوتا ہے۔  ایسا لگتا ہے کہ جیسے کسی قصائی یا دودھ والے کا نام ھو۔ مخفٌف لِکھنا ہی ہے تو صِرف "تاج" لِکھدو۔
آئندہ خط احتیاط سے لِکھنا۔ اُس میں کوئی غلطی نہیں ھونی چاہیے۔ آخر میں تم نے جو شعر لِکھا ہے.. وہ تو اب رکشہ والو نے لکھنا بھی چھوڑ دیا ہے۔
Oh my God!
مجھے ڈر ہے کہ تم سے عشق کا یہ سلسلہ میری اردو خراب نہ کر دے۔
بس یہی کہنا تھا۔

    فقط
تمھاری رضیہ

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.