دعائے خیالؔ
اے خدا تیرے سوا کوئی مددگار نہیں
تو مددگار توپھر غیر کی درکا ر نہیں
تیرے محتاج خداہم ہیں سبھی شاہ و گدا
کون ایسا ترا جگ میں یہاں طلبگار نہیں؟
زندگی بخش دے یا موت بخشدے مجھے
تیرے ہر کار سے مجھ کو کبھی انکار نہیں
خیالؔ گرداب الم میں جو پھنسا ہے لیکن
پار بیڑا تو کریگا ' تو پھر کچھ دشوار نہیں !!
بروز جمعرات : 3 جمادی الاوّل سنہ 1388 ھ مطابق 15 اگست سنہء 1968
دوسروں کو نصیحت ۔ ۔ ۔
Tuesday, 20 December 2011 noor اسلامی مضامین 5
حضرت حسن بصری رح سے عرض کیا گیا کہ بعض افراد کا یہ خیال ہے کہ دوسروں کو نصیحت اس وقت کرنی چاہیے جب خود بھی تمام برائيوں سے پاک ہو جاۓ ۔
فرمایا کہ ابلیس تو یہی چاہتا ہے کہ اوامر نواہی کا سدباب ہو جاۓ۔
(تذکرۃالاولیاء صفحہ 19)
فرمایا کہ ابلیس تو یہی چاہتا ہے کہ اوامر نواہی کا سدباب ہو جاۓ۔
(تذکرۃالاولیاء صفحہ 19)
سہراب گوٹھ میں مدرسے پر چھاپہ ۔ حقیقت کیا ہے؟
Friday, 16 December 2011 noor اسلامی مضامین, مدارس ، 9
ایک خبر
تصویر کا ایک رخ
کراچی : کراچی میں سہراب گوٹھ کے علاقے میں گڈاپ پولیس نے ایک مسجد سے متصل مدرسے پرچھاپہ مارکر وہاں سے زنجیروں میں جکڑے 50سے زیادہ بچوں کو بازیاب کرایاہے، معلوم ہوا ہے کہ ان بچوں کو پشاور کے نواحی علاقوں سے یہاں لایا گیا تھا۔ ایس پی گڈاپ راؤانوار کا کہنا ہے کہ زیادہ تر بچوں کا تعلق صوبہ خیبر پختوانخوا سے ہے۔ادھر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے اس واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ ان معصوم بچوں کو مدرسے کے تہہ خانے میں مبحوس رکھا گیا تھا۔
اس خبر کو بنیاد بنا کر پورے پاکستان اور ہندوستان کا میڈیا مدارس دینیہ کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیتا ہے ۔ اور مدارس کو بدنام کرنے کے لئے کمر بستہ ہوتا ہے۔۔۔
اس خبر کو بنیاد بنا کر پورے پاکستان اور ہندوستان کا میڈیا مدارس دینیہ کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیتا ہے ۔ اور مدارس کو بدنام کرنے کے لئے کمر بستہ ہوتا ہے۔۔۔
اب دیکھتے ہیں حقیقت کیا ہے
تصویر کا دوسرا رخ
پہلی خبر کو دیکھئے ہمارے آزاد میڈیا کا کارنامہ ۔ ۔ ۔ ۔ جب بھی موقعہ ملا اس آزاد میڈیا نے رشد و ہدایت کے مراکز کو بدنام کرنے میں پورا زور لگا دیا ۔ ۔ ۔
مگر ۔ ۔ ۔ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے
فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
تسلّئ خیال سومیشوری
Thursday, 8 December 2011 noor خیال سومیشوری 0
مقدر ہوبُری اپنی ' تو کب ہوگا بھلا اپنا
ہمارے ہی مقدر سے ہو گر روٹھا خدا اپنا
ہم اپنے رنج و غم کا حال اب' جا کر کسے کہہ دیں
نظر آیا نہ کوئی بھی ' اس دنیا میں بھلا اپنا
کوئی گر نا سنے ' پھر تُو ہی بتلا دے ہمیں یارب
بجُز تیرے جہاں میں جا کروں کس سے گلہ اپنا
خیال ؔ اس دارِفانی میں'نہ جینے کا مزہ اب ہے
بھلائی کرنا چاہتے ہیں' مگر ہوتا بُرا اپنا
تیری دنیا ' تیری دنیا - خیال حسن
Monday, 5 December 2011 noor خیال سومیشوری 3
خ خوشی مجھ سے بھگاتی ہے ' تیری دنیا ' تیری دنیا
وجہ مجھ کو نہ بھاتی ہے ' تیری دنیا ' تیری دنیا
ی یہ نالے رنج و غم' ہردم بنا کر اے میرے ہمدم
سدا کیوں کر ستاتی ہے ' تیری دنیا ' تیری دنیا
ا اگر میں لاکھ یوں ' کہتے رہا اپنی مصیبت کو
مگر نہ کام آتی ہے ' تیری دنیا ' تیری دنیا
ل لگا کر آگ سرتاپا محبت کی میرے تن کو
یہ کیوں مجھ کو جلاتی ہے ' تیری دنیا ' تیری دنیا
ح حقیقت لاکھ یوں کہتے رہا اپنی مگر ہرگز
نہیں بگڑی بناتی ہے ' تیری دنیا ' تیری دنیا
س سہارا زندگی کا میں نے چاہا ہر گھڑی لیکن
ستم ہر دم یہ ڈھاتی ہے ' تیری دنیا ' تیری دنیا
ن نہ رکھتی ہے خیالؔ میرا ' مصیبت نے ہے یوں گھیرا
بھنور میں پھر پھنساتی ہے ' تیری دنیا ' تیری دنیا
بقلم : خیالؔ حسن سومیشوری
دیر آید درست آید
Saturday, 3 December 2011 noor حالات حاضرہ 5
روز مرہ کی طرح آج بھی صبح صبح گھر سے جلد بازی میں دفتر کے لئے نکلا- پارکنگ میں بائیک لگانے کے بعد اسٹیشن کی جانب جاتے ہوئے قریب کے بک اسٹال پر نظر پڑی جس میں کئی قسم کے اخبار تروتازہ دکھائی دے رہے تھے۔ ایک نظر ان پر ڈالی تو ایک اخبار کی شہ سرخی " پاکستان فوج کو نیٹو کے خلاف کاروائی کی کھلی چھوٹ " پڑھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ کم از کم ایک عرصے کے بعد تو پاک کی غیرت جاگ گئی ۔
اب تک کی جو خبریں ہم کو سننے مل رہی تھیں ان سب سے تو یہی لگ رہا تھا کہ پاک پر امریکی فوج ہی قابض ہے ۔ جہاں دیکھو امریکی فوج اپنی من مانی کر رہی ہے۔ پاک عوام ان کے لئے تو بس ایک کھلونہ ہیں۔ جب چاہیں' جس وقت چاہیں، جس جگہ چاہیں ان کو اپنی گولیوں اور بموں کا نشانہ بنا لیں ۔
آج ایک مدت کے بعد پاکستان کی جانب سے یہ خبر سن کر بہت مسرت ہوئی- 26 نومبر کے 24 فوجیوں کی شہادت کے بعد آخر کار کچھ تو غیرت جاگ ہی گئی ۔۔ ۔۔ کاش کہ یہ غیرت ہزاروں بے گناہ عوام کے جان گنوانے سے قبل جاگ جاتی ۔۔۔ مگر کہتے ہیں نا کہ ۔ ۔ ۔ دیر آید درست آید ۔ ۔ ۔
امید ہے کہ جلد ہی وہ دن بھی آئے گا جب ارض پاک ان گوروں کے تسلط سے مکمل پاک ہو جائے گی ۔
دعا ہے کہ ہمیں وہ دن جلد از جلد دیکھنا نصیب ہو ۔ آمین
انکار . . . . کے ڈرسے - - - -
بہت ہی دور وادیوں سے یہ صدا آئی
کہ جب تم پیار کرنا' تو کبھی انکار کے ڈر سے
کسی کی جیت کے ڈر سے' یا اپنی ہار کے ڈر سے
کبھی بھی دل کی آوازوں کو تم دل میں نہیں رکھنا
انہیں ہونٹوں کے زندانوں کے پھر آزاد کر دینا
کہ جو ایسا نہیں کرتا' اسے افسوس ہوتا ہے
اسے پھر زندگی میں ہر لمحہ افسوس رہتا ہے
کہ اس نے زندگی کے بے بہا انمول تحفہ کو
فقط اندیشہ و افکار پر قربان کر ڈالا
کہ اس نے چند برسوں کی فقط تکلیف کے بدلے
زندگی بھر کے پچھتاوے کا یہ عذاب کیوں پالا
کہ جو ایسا نہیں کرتا
وہ پھر تنہائی کے وسیع و بے رحم صحرا میں
محبت کی فقط دو چار بوندوں کو ترستا ہے
زندگی کے کسی بھی موڑ سے جب وہ گذرتا ہے
کسی اپنے سے دل کی بات کرنے کو مچھلتا ہے
وہ جب بیمار ہوتا ہے
کسی ہمدرد' کسی ہمنوا کو یاد کرتا ہے
وہ پھر یہ سوچا کرتا ہے
کوئی ہو جو مجھے' پرہیز کی تاکید کرتا ہو
کوئی ہو جو میری تکلیف میں خود بھی تڑپتا ہو
دوا نہ لوں کبھی جو میں تو پھر ڈانٹا بھی کرتا ہو
کوئی تو ہو . . . . کوئی تو ہو . . جو مجھ سے پیار کرتا ہو.
انہی سوچوں سے گبھرا کر وہ پھر خود ہی سے لڑتا ہے
میں اس بے رحم دنیا میں اکیلے جی بھی سکتا ہوں!!!
مقدر میں ہیں جو لکھے' وہ آنسو پی بھی سکتا ہوں!!!
مگر وہ ہار جاتا ہے .
اور جب وہ ہار جاتا ہے
تو اس کی آنکھ سے چپکے سے اک آنسو لڑھکتا ہے
اسے پچھتانا پڑتا ہے
سو جب تم پیار کرنا تو کھی انکار کے ڈر سے
کسی کی جیت کے ڈر سے' یا اپنی ہار کے ڈر سے
کبھی بھی دل کی آوازوں کو تم دل میں نہیں رکھنا
انہیں ہونٹوں کے زندانوں سے بھر آذاد کر دینا
کہ جو ایسا نہیں کرتا اسے افسوس ہوتا ہے
کہ جو ایسا نہیں کرتا اسے پچھتانا پڑتا ہے
کہ جب تم پیار کرنا' تو کبھی انکار کے ڈر سے
کسی کی جیت کے ڈر سے' یا اپنی ہار کے ڈر سے
کبھی بھی دل کی آوازوں کو تم دل میں نہیں رکھنا
انہیں ہونٹوں کے زندانوں کے پھر آزاد کر دینا
کہ جو ایسا نہیں کرتا' اسے افسوس ہوتا ہے
اسے پھر زندگی میں ہر لمحہ افسوس رہتا ہے
کہ اس نے زندگی کے بے بہا انمول تحفہ کو
فقط اندیشہ و افکار پر قربان کر ڈالا
کہ اس نے چند برسوں کی فقط تکلیف کے بدلے
زندگی بھر کے پچھتاوے کا یہ عذاب کیوں پالا
کہ جو ایسا نہیں کرتا
وہ پھر تنہائی کے وسیع و بے رحم صحرا میں
محبت کی فقط دو چار بوندوں کو ترستا ہے
زندگی کے کسی بھی موڑ سے جب وہ گذرتا ہے
کسی اپنے سے دل کی بات کرنے کو مچھلتا ہے
وہ جب بیمار ہوتا ہے
کسی ہمدرد' کسی ہمنوا کو یاد کرتا ہے
وہ پھر یہ سوچا کرتا ہے
کوئی ہو جو مجھے' پرہیز کی تاکید کرتا ہو
کوئی ہو جو میری تکلیف میں خود بھی تڑپتا ہو
دوا نہ لوں کبھی جو میں تو پھر ڈانٹا بھی کرتا ہو
کوئی تو ہو . . . . کوئی تو ہو . . جو مجھ سے پیار کرتا ہو.
انہی سوچوں سے گبھرا کر وہ پھر خود ہی سے لڑتا ہے
میں اس بے رحم دنیا میں اکیلے جی بھی سکتا ہوں!!!
مقدر میں ہیں جو لکھے' وہ آنسو پی بھی سکتا ہوں!!!
مگر وہ ہار جاتا ہے .
اور جب وہ ہار جاتا ہے
تو اس کی آنکھ سے چپکے سے اک آنسو لڑھکتا ہے
اسے پچھتانا پڑتا ہے
سو جب تم پیار کرنا تو کھی انکار کے ڈر سے
کسی کی جیت کے ڈر سے' یا اپنی ہار کے ڈر سے
کبھی بھی دل کی آوازوں کو تم دل میں نہیں رکھنا
انہیں ہونٹوں کے زندانوں سے بھر آذاد کر دینا
کہ جو ایسا نہیں کرتا اسے افسوس ہوتا ہے
کہ جو ایسا نہیں کرتا اسے پچھتانا پڑتا ہے
- - - - - - - - - - - - - - - - - - - -
( شاعر : نامعلوم )
۔ ۔ ۔ ۔ ۔میں اپنی اچھی عادت کیوں چھوڑ دوں؟
Wednesday, 23 November 2011 noor اسلامی مضامین 5
دریا کے کنارے وضو کیلئے بیٹھ کر انہوں نے دریا کی طرف پانی کیلئے ہاتھ بڑھایا تو حضرت خواجہ خواجگان حضرت گیسودراز رحمة اللہ علیہ نے دیکھا ایک بچھو دریا کے بہاؤ سے باہر نکلنے کی کوشش کررہا ہے مگر دریا کا تیز بہاؤاس کو کامیاب نہیں ہونے دیتا‘ ان کے دل میں خیال آیا یہ بچھو اللہ کی مخلوق ہے مجھے اس کی مدد کرنی چاہیے۔
یہ سوچ کر انہوں نے بچھو کو پانی سے نکالنے کیلئے پانی میں ہاتھ ڈالا‘ بچھو ہاتھ میں اٹھا کر جیسے ہی باہر نکالنا چاہا وہ تو بچھو تھا‘ اس نے فوراً ہاتھ میں ڈنک مارا‘ ڈنک مارنے سے تکلیف ہوئی اور بچھو ہاتھ سے چھوٹ گیا‘ خواجہؒ نے ہاتھ کو دبایا ڈنک نکالنے کی کوشش کی اور پھر وضو کیلئے ہاتھ بڑھایا تو انہوں نے دیکھا وہ بچھو الٹے پلٹے لے کر پھر دریا سے نکلنے کی کوشش کررہا ہے۔ خواجہؒ نے اپنا فرض سمجھ کر پھر اس کو نکالنے کیلئے ہاتھ بڑھایا جیسے ہی بچھو کو ہاتھ میں اٹھایا اس نے ڈنک مارا بچھو ہاتھ سے چھوٹ گیا دوسری بار پہلے سے بھی زیادہ تکلیف دی۔ کچھ دیر کے بعد پھر وضو کیلئے ہاتھ بڑھایا اور بچھو کو پھر اسی حالت میںپایا اور پھر ازراہ رحمت نکالنے کیلئے ہاتھ میں اٹھایا‘ بچھو نے تیسری بار بھی ڈنک مار دیا اور چھوٹ کر دریا میں گرگیا۔
ایک نوجوان دور بیٹھا یہ تماشہ دیکھ رہا تھا اس سے رہا نہ گیا اور وہ خواجہ گیسو دراز رحمة اللہ علیہ کے پاس آیا اور بولا آپ مجنون ہیں یا دیوانے؟ جواب دیا آپ کو کیوں غم ہے؟ نوجوان بولا یہ بچھو بار بار آپ کے ہاتھ میں ڈنک مار رہا ہے اور آپ بار بار اس کو دریا سے نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ خواجہ گیسودراز رحمة اللہ علیہ نے جواب دیا‘ بیٹا تم ٹھیک ہی کہتے ہو مگر مجھے یہ خیال آرہا ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بچھو ہے‘ اللہ نے اس کی فطرت اورسرشت میں ڈنک مارنا رکھا ہے میں نبی رحمة اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوں‘ میری فطرت میں اللہ کی مخلوق کی خدمت اور مدد کرنا ہے‘ مجھے یہ خیال آرہا ہے کہ جب یہ اپنی بری عادت نہیں چھوڑ رہا ہے تو میں اپنی اچھی عادت کیوں چھوڑ دوں؟
یہ سوچ کر انہوں نے بچھو کو پانی سے نکالنے کیلئے پانی میں ہاتھ ڈالا‘ بچھو ہاتھ میں اٹھا کر جیسے ہی باہر نکالنا چاہا وہ تو بچھو تھا‘ اس نے فوراً ہاتھ میں ڈنک مارا‘ ڈنک مارنے سے تکلیف ہوئی اور بچھو ہاتھ سے چھوٹ گیا‘ خواجہؒ نے ہاتھ کو دبایا ڈنک نکالنے کی کوشش کی اور پھر وضو کیلئے ہاتھ بڑھایا تو انہوں نے دیکھا وہ بچھو الٹے پلٹے لے کر پھر دریا سے نکلنے کی کوشش کررہا ہے۔ خواجہؒ نے اپنا فرض سمجھ کر پھر اس کو نکالنے کیلئے ہاتھ بڑھایا جیسے ہی بچھو کو ہاتھ میں اٹھایا اس نے ڈنک مارا بچھو ہاتھ سے چھوٹ گیا دوسری بار پہلے سے بھی زیادہ تکلیف دی۔ کچھ دیر کے بعد پھر وضو کیلئے ہاتھ بڑھایا اور بچھو کو پھر اسی حالت میںپایا اور پھر ازراہ رحمت نکالنے کیلئے ہاتھ میں اٹھایا‘ بچھو نے تیسری بار بھی ڈنک مار دیا اور چھوٹ کر دریا میں گرگیا۔
ایک نوجوان دور بیٹھا یہ تماشہ دیکھ رہا تھا اس سے رہا نہ گیا اور وہ خواجہ گیسو دراز رحمة اللہ علیہ کے پاس آیا اور بولا آپ مجنون ہیں یا دیوانے؟ جواب دیا آپ کو کیوں غم ہے؟ نوجوان بولا یہ بچھو بار بار آپ کے ہاتھ میں ڈنک مار رہا ہے اور آپ بار بار اس کو دریا سے نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ خواجہ گیسودراز رحمة اللہ علیہ نے جواب دیا‘ بیٹا تم ٹھیک ہی کہتے ہو مگر مجھے یہ خیال آرہا ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بچھو ہے‘ اللہ نے اس کی فطرت اورسرشت میں ڈنک مارنا رکھا ہے میں نبی رحمة اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوں‘ میری فطرت میں اللہ کی مخلوق کی خدمت اور مدد کرنا ہے‘ مجھے یہ خیال آرہا ہے کہ جب یہ اپنی بری عادت نہیں چھوڑ رہا ہے تو میں اپنی اچھی عادت کیوں چھوڑ دوں؟
نبی ؑ کا لباس ۔ ۔ ۔
Tuesday, 22 November 2011 noor اسلامی مضامین 21
حال کی بقر عید گاؤں میں گذری – ایک لمبے عرصے کے بعد دوست اور عزیز و اقارب سے ملاقاتیں ہوئیں – ایک عجب سا احساس ہوتا ہے جب بڑی مدت کے بعد اپنے عزیز واقارب اور دوست و احباب کا ملاپ ہوتا ہے ' جو ناقابل بیاں ہے- ان ہی دنوں میں ایک دوست کے ہمراہ چہل قدمی کے دوران ہم دونوں ایک دوسرے سے اپنے خیالات شیئر کر رہے تھے کہ اچانک میرے دوست نے ایک اعتراض کے بارے میں بحث کی جو کہ اس سے ایک جان پہچان والے شخص نے ( جن کا نام لینا مناسب نہ ہوگا ) کیا تھا " کہ ہمارے نبی صل اللہ علیہ و سلم کی ولادت اگر یورپ میں ہوتی تو کیا وہ ( یورپی تہذیب کے مطابق) پینٹ شرٹ اور سوٹ بوٹ کو نہ استعمال کرتے اور آیا یہ کہ کیا وہی لباس سنت نہ کہلاتا ؟؟؟ "
اب مجھ سا جاہل شخص تو اس کا جواب کیا دیتا ۔ بس علماء اکرام سے سنی سنائی کچھ باتیں ' جو اس عنوان کے تحت مجھے یاد تھیں وہی اس کے سامنے بیان کی – اب تھوڑا سا وقت فرصت کا ہے اس لئے خیا ل آیا کہ تھوڑا س بارے میں کچھ لکھ ہی دہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میرے بات ۔
ہائے ! میرے عزیز - بات یہ ہے کہ جس کو جس سے جتنا تعلق ہوتا ہے ' اس کو اس کی اداؤں سے اتنی ہی محبت ہوتی ہے ۔ دنیا کی ہی بات لیجئے ۔ کو جس کا فین ہوتا ہے بس اس کا حال چال' اس کی چال چلن' اس کا اسٹائل ویسا بن جاتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے ۔ کوئی شاہ رخ کو عزیز رکھتا ہے تو وہ اس کی ا داؤں کا دیوانہ ہو جاتا ہے ' کوئی سلمان کو پسند کرتا ہے تو اس کی اسٹائیل کو اپنا نصب العین بنا لیتا ہے – وہ خود کو اپنے محبوب کے اسٹائیل میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے ۔ کالج میں میرا ایک دوست جو اب بھی نئی ممبئی میں مقیم ہے' اسے شاہ رخ خان سے لگاؤ تھا۔ بس ۔۔۔۔ اب جس طرح کی ہیر اسٹائیل شاہ رخ کی ' اسی طرز پر بال وہ بھی سنوارے' جس طرح کے کپڑے شاہ رخ پسند کرے ، اس کے کپڑے بھی اسی سے ملتے جلتے' جس طرح کا چشمہ شاہ رخ کا' اسی طرح کا وہ بھی خریدے' غرض یہ کہ ہر وہ چیز جو شاہ رخ کرے ' یہ بندہ اس کی ہر ادا کی نقل کرے ۔ اب بتاؤ کہ ایک بے وقوف کی نقل کرنے والے کی تو ہم واہ واہی کریں اور اس بنی ؑ کی نقل کرنے اور اس کی سنتوں پر عمل کرنے ' اور اس کی زندگی کو اپنانے ہم تنقیدوں اور اعراضات کی بوچھار کریں ؟ ؟ ؟ جس کو رب کائنات نے سارے عالم کے لئے نمونہ یا ہیرو بنا کر بھیجا ہے '
میرے دوست ! اصل بات یہ کہ ۔ ۔ ۔
- ہم نے اس نبیؑ سے محبت ہی نہ کی۔
- ہم نے اس کو اپنا ہی نہ سمجھا۔
- ہم نے اس کو دل میں جگہ ہی نہ دی۔
- ہم نے اس کو دل میں ہی نہ بسایا۔
- ہم نے اس کو پہچانا ہی نہیں۔ ۔ ۔
لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ ہمارے اس سے محبت کے دعوے تو صرف زبانی ہیں' مگر مجھے تو یہ ڈر ہے کہ ہمارے یہ دعوے زبانی بھی ہیں یا نہیں ۔
آخر میں یہ کہوں گا کہ ہاں ۔ ۔ ۔ میرا نبیؑ جس لباس کو پسند کرتا وہی ہماری پسند ہوتی ۔ پھر چاہے وہ کرتا پاجامہ ہو یا سوٹ اور کوٹ ۔
علامہ اقبال رح نے بھی کیا خوب فرمایا تھا ۔ ۔ ۔
بھجی عشق کی آگ' اندھیر ہے
مسلمان نہیں' خاک کا ڈھیر ہے
اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
Powered by Blogger.
Featured post
ابنِ ثابتؓ کی زباں مجھ کو میسر کر دے : طرحی نعت پاک
مرے مولا، مری قسمت کو تو، خوشتر کردے "مجھ کو سرکار کا دیدارمیسرّ کردے" مدتیں بیت گئیں آس لگائے بیٹھے شہرِ بطحا کا سفر اب تو ...
الیوم . . .
آن لائن
بلاگر حلقہ احباب
آمدو رفت
موضوعات
- #msajid #navabi (1)
- #QuranPak #HolyQuran #TheHolybook #Alwoder #SpiritualHealing (1)
- #چاہت_محمد_قریشی_قاسمی (1)
- blog (1)
- CartOOns - کارٹون (1)
- آس پاس - مقامی (2)
- آمنہ کا لال (1)
- آہ ۔ ۔ ۔ (32)
- اخلاق (4)
- اردو اور موبائیل (3)
- اسامہ' بن لادن (1)
- اسکول کالج (1)
- اسلامی مضامین (47)
- اصولِ شاعری (1)
- اعلانات (4)
- اقتباسات (3)
- اکابرین - سلف صالحین (1)
- الرحیق المختوم (1)
- الیکشن (2)
- امت مسلمہ (25)
- انتقال پرملال (2)
- اورنگ زیب عالمگیر (2)
- اولیاء اکرام (1)
- بابری مسجد (1)
- بکھرے موتی (3)
- بلاگ (2)
- پاکستان (8)
- پیر ذوالفقار احمد نقشبندی (1)
- تاریخ (1)
- تاریخی مقامات (2)
- تربیتِ اطفال (1)
- تصاویر (2)
- تعلیم و تربیت (1)
- تقاریر (1)
- تلاش (1)
- ٹوٹکے (1)
- حالات حاضرہ (39)
- حج و عمرہ (2)
- حسن و اخلاق (1)
- حقوق نسواں (1)
- حکایات (2)
- خالد سیف اللہ رحمانی (1)
- خبریں (13)
- خطوط (1)
- خیال سومیشوری (6)
- دارالعلوم دیوبند (9)
- دعا و اذکار (9)
- دعوت و تبلیغ (1)
- دفع سحر- جادو (1)
- دوٹوک (5)
- ذرا مسکرائیے (13)
- ذہنی آزمائش (2)
- راہی حجازی (2)
- رد غیر مقلدیت (3)
- رَدِ غَیر مُقلّدِیَت (1)
- رمضان (1)
- رومن اردو (1)
- زیارات (2)
- سائنس (1)
- سردار (1)
- سیاست (5)
- سیو اردو (2)
- شخصیات (4)
- شعر و شاعری (37)
- شیخ محمد ایوب برمیؒ (1)
- صحابہ اکرام (1)
- صوفیانہ کلام (1)
- ضربِ کلیم (1)
- طب و صحت (4)
- طنز و مزاح (5)
- علاج - دوا - مرض - شفا (1)
- علمائے دیوبند (5)
- غزل (7)
- فلسطین (7)
- فیس بک (7)
- قابل غور (8)
- قرآن مجید (4)
- قلم ِ نور (12)
- قوانین (1)
- کرکٹ (4)
- کمپوٹر ' سافٹ ویر (4)
- کھیل کھلاڑی (2)
- کوکن ریلوے (1)
- گجرات (1)
- گستاخی معاف (20)
- لبیک (1)
- متفرقات (49)
- مدارس ، (4)
- مدد - Help (2)
- مسائل - فتاوی (11)
- مسجد نبوی (1)
- مسلمانان عالم (4)
- مسلمانان ہند (8)
- معمار حرم (1)
- مفتی تقی عثمانی (9)
- مفتی سعید احمد پالنپوری (1)
- ممبرا (1)
- منظر بھوپالی (1)
- مولانا احمد سعید پالنپوری (2)
- مولانا حسین احمد مدنی (1)
- مولانا سعید احمد خان صاحب (1)
- مولانا طارق جمیل (3)
- مولانا عادل سعیدی (3)
- مولانا یونس پالنپوری (1)
- میڈیا (1)
- میرے قلم سے (11)
- میلاد النبی (1)
- نئی پوسٹ (1)
- ناقابل یقین (1)
- نسخے (1)
- نسیم ہدایت کے جھونکے (8)
- نعت پاک (1)
- نعت پاک، (8)
- نون میم (24)
- واٹس آپ !! (1)
- وطن ِ عزیز (7)
ایک نظر ۔ ۔ ۔ ۔
کون کہاں سے؟
Recent Comments : تبصرے
Get this Recent Comments Widget
دوست بلاگران
-
-
-
-
-
-
-
ڈوپامین ، لذت کا تکلیف5 months ago
-
یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔5 months ago
-
-
-
رتن ٹاٹا: ایک عظیم صنعتکار کا سفر1 year ago
-
-
-
طالبان سے امن معاہدہ6 years ago
-
-
DOMAIN FOR SALE!6 years ago
-
مناجات - الٰہی دل کو کوہِ طور کردے8 years ago
-
چوسر(چار)8 years ago
-
Review: Yalghaar9 years ago
-
-
-
اُس راہ پر9 years ago
-
-
عابد کی سال گرہ کا احوال10 years ago
-
قدرت، معاشرہ اور صنفی امتیاز10 years ago
-
بھگوان انسان کے روپ میں10 years ago
-
باؤلا کتا10 years ago
-
یا بے شرمی تیرا ہی آسرا10 years ago
-
-
-
-
-
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو12 years ago
-
-
تعارف از مفتی سعید احمد پالنپوری13 years ago
-
-
BARALVIYOON KI GUSTAKHIYAN15 years ago
-
-
بلاگ کے مراسلات کی تعدادNo. of posts: :
بلاگ کے تبصروں کی تعداد :No. of comments:
