قرآن مجید : اورنگ زیب عالمگیر کا نسخہ
![[تصویر: clip_image001_0017.jpg]](https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEg1L30cEpJP6mubhQ13eK2MplKLv-n2Rugo4zkDhrJX_qOy8v7SmnMC8vS7Xyu1gWnUqfG5S4CRaq_aQrgyn25yQ3Z81-_WLt0r8sjfVMWcmdLy-eJP-4SEw4b5_p4I4WtzOgfVrewCD8_U/s320/clip_image001_0017.jpg)
![[تصویر: _42656567_koran1_203.jpg]](https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEg6qGl8x_KPOplvOJN0SsRNEcl_iYVQiDP7g6BH588XX6ALN9DoCq1A4iHisKq0sZM-4zP2EckMaU_aL5lJmBhNvJOHOzlaSOzxJmODUdDS37B3ZbuiB0_uHZJIf7Ct08Or6VdfUXYP85Rd/s320/_42656567_koran1_203.jpg)
آئیے آپ کو رمضان الکریم میں قرآن مجید کا ایسا نسخہ دکھاتے ہیں ،جسے ھندوستان کے مسلمان مغل بادشاہ ابو المظفر محئی الدین محمد اورنگ زیب مرحوم (جسے ہندوستان کا خلیفہ راشد کہا جاتا ہے) نے اپنے ہاتھوں سے لکھا ، جو 1618ء میں پیدا ہوا ..اورنگ زیب شاہ جہاں کا تیسرا بیٹا تھا اس نے 1658 سے لے کر 1707یعنی اپنی وفات تک ھندوستان پر حکومت کی اور ابو المظفر محئی الدین محمد اورنگ زیب عالمگیر کہلایا ،
اس قرآن مجید المبارک کے بارے پڑھیے ،
آج سے چار سال پہلے بنگلور پولیس نے کیرالا ریاست ہندوستان میں ایک انڈین کو گرفتار کیا ، 44 سالہ جوان جس کا نام ایم جی شو کمار ہے وہ اس قرآن مجید کو جو کہ انتہائی قیمتی پرانے زمانہ کی ایک یادگار ہے ، وہ اسے پانچ کروڑ انڈین روپیہ یعنی پچاس ملین ڈالر میں میں سودا کر چکا تھا . پولیس نے قرآن مجید کو قبضہ میں لے کر اسے حیدرآباد اس کی تصدیق کے لیے بھیج دیا .
اس قرآن مجید کے بارے مندرجہ ذیل حقائق جانیے ،
1: اسے مسلمان بادشاہ اورنگ زیب نے دو ادوار میں لکھا 1636 ء سے لیکر 1644ء اور 1653ء سے 1658 ء میں لکھا گیا نے اپنے ھاتھوں سے لکھا .تقریبا 400 سال پرانا ہونے کے باوجود آج بھی اس کی چمک ویسی ہی ہے ،
2:اس کی پیمائش کے مطابق اس کی لمبائی 39.51 سنٹی میٹر اور چوڑائی 20 سینٹی میٹر ہے اور صفحات کی تعداد 1000 ہے .اسے فارسی رسم الخط میں لکھا گیا ہے ،اس کا وزن 13.5 کلوگرام ہے ،
3: اس کی لکھائی میں سونے اور چاندی کے دو محلول بنا کر ان سے لکھا گیا تھا، جسے آبِ زر اور آب ِنقرہ کہا جاتا ہے. .اور لکھائی سے مخلتف رنگوں کی جھلک بھی نمایاں ہتی ہے ،
4: قرآن مجید کے کاغذ کو آگ لگنے سے مکمل محفوظ بنایا گیا تھا.
5: اس قرآن مجید کا ہر صفحہ الگ الگ اور مختلف قسم کی خوشبوؤں میں بسایا گیا ہے کہ چار سو سال گزرنے کے بعد بھی آج بھی اس میں مہک آتی ہے ،
6: اس پر اورنگ زیب عالمگیر کے دستخط بھی موجود ہیں .

