ایک سوال : یہ جو باب الاسلام جیسی اصطلاحات ہیں اور حجاج بن یوسف و محمد بن قاسم جیسے ہیروز سے ہمیں متعارف کرایا گیا ہے, کیا یہ ہو بہو ایسا ہے یا وہ لوگ پیسے اور اقتدار کی حرص میں ادھر آنکلے؟

مُحمد مُسلم "" خواجہ فرید گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج رحیم یار خان "" میں لیکچرر ہیں !! مُحمد مُسلم بھائی کی طرف سے ایک سوال کا خوبصورت جواب پیش خدمت ہے !!!
یہی وہ کام ہے جس کی کمی محسوس ہوتی ہے فیس بُک پر اہل اسلام کی طرف سے !! دل باغ باغ ہو گیا یہ تحریر پڑھ کر !! جزاک اللہ خیر !! مُحمد مُسلم بھائی
!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر !!! مُحمد مسلم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ جو باب الاسلام جیسی اصطلاحات ہیں اور حجاج بن یوسف و محمد بن قاسم جیسے ہیروز سے ہمیں متعارف کرایا گیا ہے, کیا یہ ہو بہو ایسا ہے یا وہ لوگ پیسے اور اقتدار کی حرص میں ادھر آنکلے؟
جن لوگوں نے صرف نسیم حجازی صاحب کا حوالہ دینا تھا ان کو جان بوجھ کر ٹیگ نہیں کیا  ۔ ۔ ۔ ۔ توجہ چاہوں گا احباب !!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مُحمد مسلم صاحب کا جواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس بارے میں عرض ہے کہ: صنعتی انقلاب سے پہلے جبکہ ابھی مادیت نے جنم نہیں لیا تھا، تہذیب و ثقافت کی بنیاد مذہب پر ہی رکھی جاتی تھی۔ ایک ہی مذہب کو ماننے والے دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوتے تو آپس میں بھائی بھائی ہوتے۔ یہ بات اسلام کے بارے میں اور بھی سچی تھی۔ محمد رسول اﷲﷺ کی تشریف آوری کے بعد عرب ہدایت پر آئے اور انہیں اپنے ہدایت یافتہ ہونے کا اس قدر پختہ یقین تھا کہ انہوں نے اس پیغامِ ہدایت کو ساری دنیا میں پھیلانے کا عہد کر لیا۔ بنو امیہ کے دور کے آخر تک مسلمانوں میں یہ جذبہ بہت کمال کو پہنچا ہوا تھا۔ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں مکران تک کا علاقہ فتح ہو چکا تھا۔ اسی دوران سندھ کا سروے بھی کرایا جا چکا تھا۔ اسلامی افواج افریقہ، ماوراء النہر، چین، آزربائیجان وغیرہ کی سمتوں میں اپنی فتوحات جاری رکھے ہوئے تھیں۔ جو بھی مفتوح ہوئے ان کی حیثیت ذمیوں کی تھی، جو مفتوح مسلمان ہو گئے وہ برابر کے اسلامی ریاست کے شہری بن گئے اس وجہ سے اس ابتدائی دور میں کسی قسم کا کوئی تعصب نظر نہیں آتا۔ شادی بیاہ بھی آپس میں ہو رہے تھے، تہذیب و ثقافت بھی اسلامی ہی ان لوگوں پر غالب آگئی، بلکہ ان میں سے بیشتر علاقوں کی آج بھی زبان عربی ہے، پہلی صدی میں ہی اکثر و بیشتر شہروں کی مسند علم پر عجمی براجمان ہو چکے تھے۔ انہی حالات میں بعد ازاں محمد بن قاسم نے سندھ کو فتح کیا، اہل سندھ کے اسلام قبول کرنے کے بعد وہ بھی ایک عالمگیر اسلامی برادری کا حصہ بن گئے، اور سندھ باب الاسلام کہلایا۔ یہ خالصتاً اسلامی اصطلاح ہے آپ کو یہ اصطلاح ہندو مصنفین کے ہاں بالعموم نہیں ملے گی اگر ملے گی تو مسلمانوں کے تتبع میں ملے گی۔ سندھ کے جو لوگ مسلمان ہوئے ان کے رشتے ناتے عرب فاتحین سے جائز قرار پائے لیکن مقامی ہندو سندھیوں سے ناجائز قرار پائے، جس کی بنا پر جو مسلمان ہوئے ان کا رابطہ جاہلیتِ قدیمہ سے کٹ گیا اور انہوں نے اپنی مذہبی تاریخ نئے سرے سے شروع کی، جس کی بنیاد پر ان کی تہذیب و ثقافت اور لٹریچر کی بھی تاریخ نئے سرے سے شروع ہوئی۔ ماضی میں کوئی قابلِ فخر چیز تو تھی نہیں کہ اس پر فخر کیا جاتا۔۔۔۔ کیا کفر و شرک، ظلم و عدوان پر فخر کیا جاتا؟ یا کوئی عربوں سے زیادہ ایڈوانس ٹیکنالوجی تھی ان لوگوں کے پاس؟ عرب اس وقت کی سائنس اور ٹیکنالوجی میں بھی آگے تھے، تہذیب و ثقافت میں بھی آگے تھے، عدل و انصاف میں بھی بر تر تھے سو محمد بن قاسم کو مقامی مسلمانوں نے ہیرو قرار دیا۔ وہ واقعتاً اس قابل تھا کہ اس کو ہیرؤوں کی عالمی فہرست میں جگہ دی جائے۔

یہاں ایک اور بات بھی سامنے آتی ہے کہ یہ لوگ ہزار سالہ اسلامی دورِ حکومت میں بغیر کسی اختلاف کی ہیرو ہی رہے۔ نہ صرف محمد بن قاسم بلکہ سلطان محمود غزنوی، شہاب الدین غوری، قطب الدین ایبک اور دیگر فاتحین بھی۔ لیکن اگریزوں کے آنے کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی۔ انگریز بھی فاتح تھے، مسلمانوں کی طرح، ان کا بھی الگ مذہب تھا، وہ بھی ایک فرسودہ نظام کے مقابلے میں عدل و انصاف کا ایک نیا نظام لے کر آئے تھے، وہ بھی ایک نئی تہذیب و ثقافت لے کر آئے تھے۔ انہیں توقع تھی کہ ان کو بھی ان مسلمان ہیروز کی طرح ہیروز کی فہرست میں جگہ ملے گی بلکہ تازہ ترین فاتح کے طور پر ان سے بھی برتر مقام حاصل ہوگا۔ لیکن ان کے یہ خواب دھرے کے دھرے رہ گئے۔ ان کی فتوحات کو کبھی بھی دل سے قبول نہیں کیا گیا، نہ مسلمانوں نے نہ ہندؤں نے۔ ان کے مذہب کو اجتماعی طور پر قبول کرنے کی شرح بھی نہ ہونے برابر تھی، ان کی تہذیب و ثقافت کو اپنانے والے اگرچہ خال خال نظر آتے تھے لیکن وہ اپنی کمیونٹی میں بھی مطعون ہی رہتے، ان کے نظام عدل و انصاف کی سست روی نے اس کی خوبیوں کو نیست و نابود کر دیا۔ اسلامی دور کے آثار مٹانے کی حرص نے انہوں نے مسلمانوں کو اپنا دشمن بنا لیا۔ ان حالات میں انہیں ہیرو کا درجہ نہیں مل سکتا تھا۔ اگرچہ نصاب میں سرکارِ انگلشیہ کے فضائل اور انگریز فاتحین کی تاریخ اہتمام سے پڑھائی جاتی تھی، لیکن مسلمان عوام کے دلوں میں محمد بن قاسم، محمود غزنوی، شہاب الدین غوری، محمد شاہ تغلق، غیاث الدین بلبن، بابر، اورنگزیب عالمگیر اور ٹیپو سلطان جیسے مشاہیر ہی بستے تھے۔

اب انگریزوں نے ایک اور پینترا بدلا، ہندو مسلمانوں میں خلیج کو گہرا کرنے کے لیے ہندو اور مسلم ہیروز کو باہم متنازعہ بنانا شروع کر دیا، پہلی بار انگریزوں کی زیرِ نگرانی ایسی تواریخ مرتب کی گئیں جن میں ان مسلمان راہنماؤں کو لٹیرا اور غاصب قرار دیا گیا۔ کیونکہ اب میٹیریل ازم کا دور تھا اس لیے لٹیرا اور غاصب کا لفظ سمجھنا لوگوں کے لیے آسان ہو گیا خصوصاً ان لوگوں کے لیے جنہوں نے میٹیریل ازم کو اپنا لیا تھا۔ جنگ آزادی کے ہیروز تو پورے ہندوستان کے مشترک تھے، خواہ وہ جھانسی کی رانی (ہندو) ہو یا ملکہ حضرت محل (مسلمان)، اب ان میں بھی اختلافات ہو گئے۔ ہندو مت جو اکثریتی تہذیب و ثقافت ہی تھی اسے ایک مذہب کے طور پر کھڑا کیا گیا جس سے مذھب کا مذہب سے ٹکراؤ شروع ہوا۔

دوسرا یہ مقصد سامنے تھا کہ جب تک مسلمان اپنی تاریخ اور اپنے ہیروز پر فخر کرتے رہیں گے انگریز کی بالا دستی قبول نہیں کریں گے۔ اس لیے باقاعدہ منظم انداز میں ان فاتحین کو لٹیرا اور غاصب قرار دیا گیا تاکہ مسلمان انہیں ہیرو سمجھنا ہی چھوڑ دیں۔ بلکہ ان لوگوں کی عیاشی اور حماقتوں کی قصے بھی گھڑے گئے، (کچھ عیاشی کی داستانیں درست بھی ہوں گی، لیکن بیشتر گھڑی گئیں) اس طرح سے ان لافانی کرداروں کو متنازعہ بنا دیا۔

باقی رہی بات محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری کی، کہ کیا انہوں نے لوٹ مار کی؟ تو حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ بہت اعلیٰ پائے کے مذہبی علماء بھی تھے، ان کے لشکر کے ساتھ مفتی اور علماء ساتھ ہوتے تھے۔ ان لوگوں کو اسلامی اصول جنگ کا علم تھا۔ انہوں نے حملہ کیا، یہاں کے مقامی راجاؤں کو شکست دی، اور اسلامی اصولوں کے مطابق مقامی راجاؤں کے لشکر کا سامان بھی لوٹ کر مجاہدین میں مال غنیمت کے طور پر تقسیم کر دیا۔ لیکن یہ لوٹ مار صرف سرکاری افواج اورسرکاری اداروں تک محدود تھی۔ عوام کے اموال پر ان لوگوں نے دست درازی نہیں کی۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ انگریزوں کے سو سالہ دورِ حکومت کے بعد آج تک برصغیر معاشی امور میں اپنے قدموں پر کھڑا نہیں ہو سکا، لیکن ان فاتحین کے حملوں نے ایسا کوئی لمبے عرصے تک رہنے والا اثر نہیں چھوڑا ما سوائے تیمور لنگ کے۔ کہ اس کا حملہ خالصتاً لوٹ مار کے لیے ہی تھا۔ اس کے اثرات بہت لمبے عرصے تک برصغیر کی عوام نے محسوس بھی کئے۔ محمود غزنوی کا سومنات کا مندر لوٹنے کا افسانہ بہت مشہور ہوا، خود ایک ہندو محققہ رومیلا تھاپر نے (جس نے یونیورسٹی آف لندن سے پی ایچ ڈی کی)، Somanatha: the Many voices of history میں یہ ثابت کیا کہ یہ لوٹ مار محض ایک افسانہ ہے جس کو انگریزوں نے صرف اس لیے گھڑا تاکہ افغانستان پر ہندوستان کی لوٹ مار کا پریشر بڑھایا جائے اور ہندوؤں کو اینگلو افغان وار میں لڑنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ دوسرا مقصد مسلمان فاتحین کی کردار کشی تھی جو کہ برگ و بار لانے کی کئی بار کوشش کر چکی ہے۔ اس افسانے کی بنیاد لارڈ ایلن برو نے 1843ء میں برطانوی پارلیمنٹ میں بحث کے دوران رکھی، جس میں اس نے یہ دعویٰ کیا کہ محمود غزنوی نے سومنات کے عظیم مندر کے صندل کی لکڑی کے دروازے اکھڑوا کر غزنی میں نصب کیے تھے، یہ دروازے ہندوستان کا اثاثہ ہیں انہیں واپس لایا جائے اور یہ کہ یہ ہندو قوم کی بڑی توہین تھی۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ خود محمود غزنوی کی فوج میں ایک بڑی تعداد ہندؤں کی شامل تھی۔ اور محمود غزنوی کا اگر ایسا کردار ہوتا تو یہ ہندو کبھی بھی اس کی فوج کا حصہ نہ بنتے۔ باقی اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ مزید تھوڑی تلاش کرنے سے سچ اور جھوٹے الزامات سبھی کچھ مل جائے گا۔ تاریخ کی گرد بہت خوب طریقے سے انگریزی عہد میں اڑائی گئی ہے، اس میں سے سچ تلاش کرنا ہو تو اصل فارسی ماخذوں کی طرف رجوع کیا جائے جس میں مسلمان حکمرانوں نے صحیح تاریخ لکھوانے کا اہتمام کیا تھا۔

باقی ایک لطیفہ عرض ہے: میں جہاں پڑھاتا ہوں وہاں سرائیکی پنجابی تعصب کی بات چل رہی تھی، اور خوب ایک دوسرے کو مطعون کیا جا رہا تھا۔ مجلس میں ایک عیسائی استاد بھی موجود تھے،جو کہ پنجابی بولنے والے تھے، اور اسی طرح ایک اور غیر مسلم بھی تھے جو کہ سرائیکی بولنے والے تھے۔ میں نے ان سرائیکی اور پنجابی مسلمانوں سے پوچھا کہ کیا اپنے بچوں کے رشتے محض پنجابی یا سرائیکی کے اشتراک کی وجہ سے ان غیر مسلموں سے کرنے پر راضی ہوں گے؟ یا آپس مسلمان ہونے کی بنیاد پر سرائیکی اور پنجابی آپس میں رشتے کر سکیں گے؟ تو ان کا مشترکہ جواب یہی تھا کہ اس کے لیے ہم مذہب کو ہی دیکھیں گے۔ اور خود دونوں غیر مسلم بھی اس پر متفق تھے کہ ہم بھی اپنے ہم مذہبوں کے ساتھ ہی رشتے ناتے کریں گے۔

مقصد یہ ہے کہ اسلام تمام تعلقات اور binding forces پر غالب آجاتا ہے۔ اس کے سامنے دیگر تمام تعصبات ہیچ ہو جاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر !! مُحمد مُسلم
Muhammad Muslim

بلبلِ محراب نبوی؛ شیخ محمد ایوب برمیؒ ...... راہی حجازی

بلبلِ محراب نبوی؛ شیخ محمد ایوب برمیؒ

.......... راہی حجازی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  
اسّی کی دہائی کا سورج غروب ہورہا تھا اور نوے کی دہائی کا خورشید مطلع پر نمودار ہونے کیلئے پا برکاب تھا ۔ بچپن ہمارا اپنی تمام تر معصومیتوں اور شرارتوں کے ساتھ جاری تھا۔ ماہ و سال کی گردش نے رمضان تک بھی پہنچایا۔ نابالغ ہونے کی بنا پر تراویح میں اپنے کسی بڑے بھائی کا سامع بننا یقینی تھا سو بنے۔ معمول ہمارے ہاں یہ تھا کہ اگلے دن کا پارہ رات میں ہی یاد کیا جاتا۔ پوری رات پارہ یاد کرنے اور اسکو دہرانے میں گذاری جاتی،پھر سونا ہوتا بعد فجر۔ہم بھی چونکہ سامع بن چکے تھے اس لئے رات میں سونے کا اب کوئی مطلب نہیں تھا، پارہ یاد کرنے والوں کی جماعت میں ہم بھی شریک ہوچکے تھے۔ پارہ یاد ہو چکنے کے بعد چند بڑے بھائی چھت پر جاتے۔کافی وقت گذارنے کے بعد وہ نیچے آتے۔ ہمیں لگتا کہ یہ کوئی عمدہ سی کھانے کی چیز چھت پر لیجاتے ہیں اور تھور تھار کے نیچے آتے ہیں۔ راتیں رمضان کی ان دنوں ٹھنڈی ہوچلی تھی۔ اسّی کی دہائی میں آنے والے رمضان اگرچہ انتہائی گرم رہے تھے، مگر نوے سے خنکی کا آغاز ہوچکا تھا۔ ایسی ٹھنڈی راتوں میں ہم نے بھی چھت پر جانا چاہا تو بھائیوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ہمیں لے لیا کہ بتائیں تجھے! چپ چاپ نیچے مرا رہ.......... انکو اصل خدشہ اس بات کا تھا کہ اس بچے کو اگر ٹھنڈ میں کچھ ہو ہا گیا تو امی سے ڈانٹ ہمیں سننی پڑ جائے گی۔ ویسے بھی رمضان میں حافظ ‌؛ عید کے موقعے سے دودھ کے مانند وہ سامانِ ضرورت بن جاتا ہے جس کے بغیر چارہ کار نہیں ۔اسکی مصروفیت کا عالم یہ ہوتا ہے کہ تقریبا پورے مہینے اسکو نہ چھٹی ملتی ہے اور نہ ہی بیمار وغیرہ پڑ کر وہ رخصت لینے کا روادار ہوسکتا ہے۔ خیر ایک دو دن تو دال نہ گل سکی۔ کوشش ہم نے ہر بار کی۔ چار پانچ دنوں بعد کسی بھائی کو ہم پر ترس آگیا اور یوں ہم ان گریٹ 4 کی دیوار ِاتحاد میں اپنا معصومانہ نقب لگانے میں کامیاب ہوگئے۔ ہمیں گرم کپڑا لانے کی تلقین کردی گئی۔ ہم ایک نہیں دو گرم کپڑے لیکر موجود۔چھت پر جاتے ہوئے ہم دانتوں کو اندر اندر تیز کرتے رہے کہ آج کوئی تگڑی چیز ہاتھ لگنے والی ہے۔ ہاتھ کیا جی منھ کہئیے ۔ دیکھتے کیا ہیں کہ چھت پر جاکر بھائیوں نےتھیلے میں سے ایک ریڈیو نکالا (یاد کر لیجئے کہ یہ اسی کی دہائی کا اختتام اور نوے کے عشرے کے آغاز کی بات ہورہی ہے ، ان دنوں شریف گھرانوں میں ریڈیو انتہائی معیوب سمجھا جاتا تھا۔آج؛ خدا جھوٹ نہ بلوائے تو یہ گناہ گار لکھنے کی جسارت کرے کہ ٹیلی ویژن بھی اب ایسا معیوب نہ رہا۔ ایسے ایسوں کے ہاں ٹی وی دیکھنے کو ملا کہ شروع میں تو تراہ ہی نکل گیا،بھونچکا ہی رہ گیا،حیرت سے آنکھیں ہی ابل آئیں۔ بعد میں جب کثرت سے ایسے مناظر سامنے آئے تو عقل و نظر دونوں ہی بے حس ہوگئے اور اٹس نورمل کہہ کر اپنی راہ چلتے بنے۔ یہی حال تصویر کے باب میں بھی دیکھنے کو ملا ہے )بہر کیف واپس پیچھے چلتے ہیں۔ تھیلے سے ریڈیو نکالا گیا .......... چھوٹا سا ریڈیو تھا، تقریبا اٹھ بائی بارہ انچ کا۔ سرخاب کے پروں کے مانند لال بھبھوکا ۔ دائیں طرف اس کے فریکونسی کے حساب سے اسٹیشن سیٹ کرنے کا نظام۔ نظام بھی بعد کے ترقی یافتہ نظام؛ عمودی شکل یا دائیں سے بائیں ہونے کے محرابی شکل میں تھا۔ متعینہ اسٹیشن پر پہنچنے کیلئے بطور علامت چلنے والی تِلّی کے بجائے ایک سفید رنگ کا بڑا سا نقطہ۔ اسی نقطے کو اوپر نیچے کرکے مطلوبہ اسٹیشن پہنچنا ہوتا تھا.......... غرضیکہ ریڈیو نکالا گیا۔ مطلوبہ اسٹیشن کی تلاش شروع ہوئی۔ کبھی میڈیم وے پہ تلاش کیا جاتا تو کبھی شارٹ وے بھی۔ اس دوران میں ریڈیو کی گھوں گھوں کی آواز لگاتار۔چونکہ بارہ سے اوپر کا وقت ہوتا اس لئے صوبائی اور مرکزی اسٹیشن بھی خاموش۔۔۔۔۔ آج کا زمانہ نہیں کہ شیطان کی آنت کی طرح چوبیس گھنٹے نون اسٹوپ بک بک جھک جھک ۔ اسی گھوں گھوں کی آواز میں پانچ سات منٹ کی کوشش کے بعد کامیابی ملی اور ایک انتہائی مہین آواز ریڈیو کے چھوٹے سے اسپیکر پر بلند ہوئی جس میں ایسا محسوس ہوا کہ کوئی صاحب قرآن کریم کی تلاوت فرما رہے ہیں۔‌‌"‌‌بس بس۔۔۔۔ یہیں سیٹ کردو‌‌"‌‌۔۔۔۔۔ دیگر بھائیوں نے یاد دہانی کرائی۔۔۔۔ سیٹ کرنے والے نے سوت برابر اوپر نیچے کرکے زیادہ سے زیادہ فریکونسی حاصل کرنے کی کوشش کی اور ایک مرکزی نقطے پر سفید نقطے کو لاکر ریڈیو کو اس جگہ رکھ دیا جہاں فریکونسی زیادہ سے زیادہ ملنے کا قصباتی گھریلو تجربہ کئی بار کیا جاچکا تھا اور اس ریڈیو کے گردا گرد ہالہ بنا کر بیٹھ گئے۔ وہ آواز جو مہین تھی قدرے صاف ہوئی۔ کچھ لمحوں بعد تو اتنی واضح اور صاف ہوگئی کہ بدیہی طور پر ایک بچے نے بھی جان لیا کہ کوئی صاحب تراویح پڑھا رہے ہیں۔ رکوع سجدے جو ہورہے تھے.........


اس صغر سنی میں دو جھٹکے بڑے زور سے لگے۔ ایک یہ کہ کیاتراویح میں بھی فرض نماز کی طرح اتنے سکون سے قرآن پڑھا جاسکتا ہے؟؟؟ جس نے صرف یعلمون تعلمون سمجھ میں آنے والے ماحول میں آنکھ کھولی ہو اس کیلئے یقینا یہ خوشگواری کا جھٹکا تھا۔ دوسرے یہ کہ کیا قرآن کو اتنا میٹھا اور شیریں بھی پڑھا جاسکتا ہے؟؟؟

.......... الغرض کبھی ریڈیو کی گھوں گھوں شیخ کی تلاوت پر غالب تو کبھی تلاوت گھوں گھوں پر غالب۔ اکثر گھوں گھوں غالب رہتا، مگر جتنی دیر تلاوت کو غلبہ حاصل ہوتا اس میں کان و دماغ کیلئے اتنا سامانِ ترنم و سرور ضرور ہوتا تھا جو گھوں گھوں کے موجودہ دورانئے اور تلاوت کے اگلے غلبے تک کام کرجاتا تھا۔ یہ تھا ہمارا پہلا تعارف  شیخ محمد ایوب برمیؒ  سے ــــــ

یہ نام تو ہم آج لکھ رہے ہیں،اس وقت تو نام بھی معلوم نہ تھا۔ نہ ہمیں نہ بھائیوں کو۔ نام معلوم ہونے کی بھی ایک الگ داستان ہے۔ وہ پھر کبھی اگر اللہ نے چاہا تو ــــــ یہ جو شیخ کی آواز اور طرز کو انتہائی شیریں لکھا گیا ہے یہ حقیقی معنی میں لکھا گیا ہے۔ محض یونہی رسما نہیں لکھ دیا گیا۔ آج تو الحمد للہ آپکو گھر گھر عمدہ آواز اور شیریں طرز والے مل جائیں گے۔ مگر بات جس زمانے کی ہورہی ہے وہ زمانہ آواز و طرز کے باب میں انتہائی قحط الرجال کا زمانہ تھا۔ ایسے ویسے دیہاتی طرز والے بھی،جنکو اب ایک نماز میں بھی برداشت نہ کیا جاسکے، قاری و مقری بنے ہوئے تھے۔ ایسے عالم میں شیخ برمی رحمہ اللہ کی آواز ریڈیو کے واسطے سے دنیا بھر میں گونجی۔آج کی نسل کو شاید انکا طرز اتنا اچھا نہ لگے کہ آج کی نسل اس باب میں چھکی پڑی ہے،اپھری پڑی ہے۔ شیخ برمیؒ کی آواز سے قبل ہمارے دیار میں شیخ عبد الباسط عبد الصمد رحمہ اللہ کی آواز پہنچ چکی تھی۔ انکی ترتیل نے بھی وہ سماں باندھا تھا کہ ایک عالَم کے دلوں میں شیخ عبد الباسط ؒکا قیام رہا۔ ترتیل کے باب میں راقم سطور کے دل میں آج بھی شیخ عبد الباسطؒ ہی قیام کرتے ہیں،بہتوں کو سنا مگر کوئی اور انکی جگہ نہ لے سکا۔ شیخ عبد الباسط کی تدویر بھی سنی تھی مگر اس میں وہ بات کہاں شیخ عبد الباسط کی سی۔ تدویر کے باب میں پہلا بندہ جس نے دل کے در و دیوار کو ہلا ڈالا وہ شیخ ایوب برمی رحمہ اللہ ہی تھے۔ آج بھی جب میں اس دور کو یاد کرتا ہوں تو بیخود ہونے لگتا ہوں۔ ٹھنڈی اور خاموش راتوں میں شیخ کا لہراتا ہوا طرز ریڈیو سے جب ابھرتا تھا تو گرم کپڑوں کے ساتھ بدن بھی گرم ہوجاتا تھا۔ من کرتا تھا کہ یہ زائد گرم کپڑے اتار پھینکئے اور کم از کم ایک بار تو دھمال ڈال ہی دیجئے کہ دل کی بے کلی و خلش کو کچھ تو قرار آئے ۔ مگر ارد گرد سارے بڑے بھائی تھے، وہ بھی کمبخت (ابتسامه) سارے دیوبندی الولاده۔ ہاتھ وہ پڑتا کہ سارا وجد و حال کافور ہوجاتا۔ خاص طور سے جب شیخ صاحبؒ اپنی آواز اور طرز کو اٹھاتے تھے۔قابو اتنا تھا کہ اٹھانے کے باوجود طرز کی نغمگی،لہراہٹ اور سحر انگیزی میں بال برابر بھی فرق نہیں آنے دیتے تھے، بس یہی وہ لمحہ ہوتا تھا جب ہم اپنے دل و جگر کو لخت لخت پاتے تھے، ٹکڑے ٹکڑے پاتے تھے۔۔۔۔ یہی حال شیخ عبد الباسط عبد الصمدؒ کی ترتیل میں بعض سورتوں کے سنتے وقت پیش آتا ہے۔ بالخصوص انکی سورہ مریم۔ اُس میں بھی بالخصوص تتساقط علیک رطبا جنیا والی قراءت ایک کمزور دل آدمی کو رلا دینے کیلئے کافی ہے .................... 

................ جاری بشرط وقت............................... 

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.