حرم شریف کی چند نایاب تصاویر


تقریبا ساٹھ سال قبل سنہ 1953 کے وقت کی حرم شریف کی تصاویر ' جنکو ایک پاکسنانی طالب علم نے اپنے کیمرے میں قید کیا تھا ۔


الأسواق الشعبية في شوارع مكة
مکہ کا  بازار




باب الدخول إلى الحرم المكي
حرم مکہ کا داخلی دروازہ




المباني المحيطة بالحرم المكي
مکہ مکرمہ کے ارد گرد کی عمارات
 


 هذه الكعبة المشرفة وعليها كسوة هدية من مصر
کعبہ شریف اور غلاف کعبہ  " كسوة " جو مصر کی جانب سے تحٖفۃ آیا تھا ۔ 


وقت الصلاة في الحرم
حرم شریف میں وقت نماز

صحن الحرم
 


الصلاة في الحرم في وقت الزحام والمصلون وصلوا لأبواب الحرم
کعبہ شریف کے دروازے پر نماز ادا کرتے ہوئے


باب الكعبة ويبدو أنه كان مفتوحاً أمام زوار الحرم
کعبہ کا دروازہ
 

رمي الجمرات


الحجاج يشترون الهدي والأضاحي و في وسطهم يبدو المصور شخصياً
حجاج اکرام قربانی کا جانور خریدتے ہوئے ( درمیان میں شاید ٖفوٹو گرافرہے)


حاج يحلق رأسه وفي الصورة الأخرى رجل يقوم بنقل الذبائح لتوزيعها على الفقراء
 

حجاج اکرام حلق کرتے ہوئے ۔


جبل الرحمة

زيارة للمدينة المنورة وفي الصورة قبر النبي
 


الدخول للمسعى من باب بجوار المنارة على اليسار

برما میں مسلمانوں کے حالات

میانمار کی سیاسی اصلاحات
 اور
 وہاں کے مسلمانوں کی آہیں
 محمد عامل عثمانی  (مکہ مکرمہ )
 (Thanks Rabtaa ul islami for detail informations)
             میانمار بنام برما میں اپریل کے شروع میں قانونی جزئی الیکشن ہوا ، الیکشن کا گھمسان اڑتالیس سیٹوں پر بر سر اقتدار پارٹی اور حزب مخالف سومتی کے امیدواروں کے درمیان ہوا ، حزب مخالف کے امیدوار جمہوری نیشنل فرنٹ کی طرف سے رانجوں کے قریب ‘‘ کومو’’ حلقے کے لئے اتارے گئے۔
                 مغرب پر امید ہے کہ یہ الیکشن نومبر ۲۰۱۰ ؁  کی قرعہ اندازی کے بعد فوجی بر سر اقتدار نظام کے لئے ایک طرح کا امتحان ہے کہ وہ اپنے کو عوامی حکومت کے پیرہن میں پیش کرے ، اور یہ کہ وہ کس حد تک سیاسی اصلاحات کے نفاذ میں سنجیدہ ہے ، دوسری جانب عالم اسلامی میانمار کے مظلوم مسلمانوں کی آہوں اور آنسؤوں سے بالکل بے خبر ہے ، میانمار کے مسلمان ملک کی مجموعی آبادی ۶۵۰۔۵۸۴۔۵۴ کا چار فیصد ہیں جب کہ ۸۹ فیصدبودھ مذہب کے ماننے والے ہیں ۔
                 بلاشبہ میانمار میں قانونی حکومت کے قیام کی کوشش یوروپی یونین کے زیر نگرانی ملک پر عاید پابندیوں کوکم کر نے کے لئے ہے،لیکن یہ کوشش ہر گز ان بیس لاکھ مسلمانوں کو نظر انداز کر کے بار آور نہیں ہو سکتی جن کو رو ہینجیا کی اقلیت کا نام دیا گیا ہے جو چند سالوں سے ملک کو چھوڑنے پر مجبور ہیں اور صفایا و حاتمہ کی مہم سے دو چار ہیں ، فوج ان مسلمانوں کو قانونی الیکشن میں حصہ لینے ہی سے نہیں روک رہی ہے بلکہ انہیں شہری حقوق سے بھی محروم کر رہی ہے ان مسلمانوں کو وہاں کا نیشنل نہیں سمجھا جاتا ہے اور ان کے پاس پاسپورٹ بھی نہیں ہے اور انہیں اتری راحینی صوبہ سے میانمار کے دوسرے صوبے میں سابقہ اجازت کے بغیر سفر کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی ، اس کے علاوہ پرسنل لاءسے متعلق کاروائی کرانے جیسے شادی بیاہ ، بچوں کے نام درج کرانے کے سلسلے میں ایسی کڑی شرطیں ہیں جس کی وجہ سے وہ لوگ غیر قانونی طورپرپڑوسی ملکوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں خاص طور سے بنگلہ دیس جو اکثریتی مسلم ملک ہے ، اور ہزاروں لوگ ہندوستان میں بھی مہاجرکی زندگی گزار رہے ہیں۔

مسلمانوں کی پریشانیاں:
                 اس ملک کے مسلمانوں کی آہ و بکا اور پریشانیوں کے ساتھ ساتھ ہزارہا ہزار روہینجیا کے لوگ جو بنگلہ دیش میں غیر قانونی ہجرت کر کے زندگی بسر کر رہے ہیں یا مہاجرین کے کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں وہ لوگ میانمار میں دوبارہ واپس ہونے کے مقابلے میں موت کو ترجیح دیتے ہیں کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہاں موت ان کے انتظارمیں کھڑی ہے۔
                 پناہ گزینوں میں حاجی عبد المطلب ہیں جو میانمار اور بنگلہ دیش کے علاقے میدا میں غیر سرکاری کیمپ میں رہ رہے ہیں ان کا کہنا ہے : میانمار میں کورٹ مارشل مسلم اقلیت سے ملک کو پاک و صاف کر نے لئے کوشاں ہے اس کے لئے وہ انہیں بلا معاوضہ مشکل کام انجام دینے کے لئے مجبور کرتی ہے، اس کے ساتھ غصب و اغوا و قتل و غارت گری کا بازار پورے ملک میں گرم ہے جیسا کہ رویتر کی ۳۱۔ ۱۔ ۲۰۰۹ ؁ کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے۔
                 ایک دوسرے صاحب ہیں جن کا نام نامی محمد نور ہے وہ بھی پناہ گزینی کی زندگی گزار رہے تھے وہ کسی طرح تکلیف دہ سفر کرکے انڈونیشیا پہنچے ان کو بلا قصور جیل میں ڈال دیا گیا تھا جن سے میانمار کی فوج کے مفاد میں کام لیا جاتا تھا ، وہ مقام سخرہ میں کام کے دوران بے حد تکلیفوں سے گزرے چنانچہ وہ بنگلہ دیش بھاگنے پر مجبور ہوئے پھر وہاں سے انڈونیشیا پہنچے جہاں انڈونیشیا کی سمندری فوج نے پناہ گزینوں کی کشتی کے ڈوب جانے کے بعد انہیں نکالا تھا لیکن جناب محمد نور - جو روہینجیا کے مسلم اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں - کی آزمائش یہیں پر ختم نہیں ہوئی جیسا کہ شیتد برس ایجنسی کی  ۲۸۔ ۱ ۔  ۲۰۰۹ ؁  کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے ، محمد نور کہتے ہیں ، اگر مجھے میانمار بھیجا گیا تو میں یہاں مر جانے کو ترجیح دونگا کیوں کہ مجھے یقین ہے کہ اگر میں وہاں پہنچا تو وہاں کی فوج مجھے دردناک حالت میں قتل کر دے گی انہوں نے مجھے قید کر رکھا تھا وہ مجھے مارتے تھے مجھے ادھ مرا کرکے چھوڑتے تھے۔
                 مسلم اقلیت جن پریشانیوں سے دو چار ہے ہیومن رائٹس نے اپنی سالانہ رپورٹ میں اس کی مذمت کی ہے اور ایک سے زائد بار مطالبہ کیا ہے کہ میانمار کی فوج رو ہینجیا کے نام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہی ہے اس کی بین الاقوامی تحقیق و تفتیش ہونی چاہئے چنانچہ ۱۳/۷/۱۱۰۲؁کے بیان میں کہا گیا ہے کہ میانمار کو عدالت کے اندر پیش ہونا چاہئے کیوں کہ انہوں نے انسانوں کے ساتھ جانوروں والا معاملہ کیا ہے ، برمی فوج قیدیوں پر ظلم کرتی ہے اور ان سے جانوروں والاکام لیتی ہے جن کی اکثریت مسلمان ہے، پھر بغیر کسی فیصلے کے انہیں پھانسی دے دی جاتی ہے اور ٹارچر کیا جاتا ہے اور ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے

قانون کی پامالی - اوراصلاحات کی کوششیں :
                 برمی فوج کی شہریوں کے حقوق کی پامالی جس کا تذکرہ ہیومن رائٹس نے اپنی جنوری ۲۱۰۲ءمیں شائع ہونے والی رپورٹ میں پیش کیا ہے کہ یہ انسانی بین الاقوامی قانون کی قانون شکنی ہے، وہاں بڑے پیمانے پر لوگوں کے لئے بارودوی سرنگوں کا استعمال ، عورتوں و دوشیزاؤں کے ساتھ جنسی زیادتی ، قتل و غارت گری ، مارپیٹ ، غذائی سامان کو نشانہ بنانا ، زمین و جائداد کو ہڑپ کرنا اور بچوں سے زبردستی کام لینا ، جس کی وجہ سے روہینجیا کے پناہ گزینوں کی تعداد بنگلہ دیش کے سرکاری کیمپوں میں (۲۸) اٹھائیس ہزار ہو گئی ہے جب کہ چودہ ہزار لوگ تھائلینڈ کے غیر سرکاری کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں اور دو لاکھ لوگ میانمار کے سرحدی علاقوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں جو وہاں سے ہندوستان یا سنگا پور میں داخل ہونا چاہتے ہیں ۔
                 امریکہ کے انسانی معاملات کو منظم کر نے والے ایک ادارے کے آفس نے ۲۳/۱/۲۰۱۲؁ کو یہ رپورٹ شائع کی ہے کہ رو بینجیا کے چالیس ہزار بچوں کا نام درج نہیں کیا جا سکا ہے ان کڑی شرطوں کی وجہ سے جو وہاں کی اقلیت پر عائد ہیں اس میں سے ایک پابندی یہ ہے کہ دو سے زائد بچے نہ ہوں اور بیبیوں کے نام بھی نوٹ نہیں کئے جاتے ان شرطوں کی خلاف ورزی ایسا جرم ہے کہ جس کی سزا دس سال قید با مشقت ہے ، ۱۹۸۲ءمیں جاری شدہ میانمار حکومت کے قانون کے مطابق رو ہینجیا کے تمام بچے خواہ نام نوٹ کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو برمی نہیں سمجھے جائیں گے انہیں غذا خورو نوش ،صحت کی سہولتیں اور تعلیم کے مواقع فراہم نہ ہوں گے ، اور انہیں فوج کے مفاد والے مشکل کاموں میں استعمال کیا جائے گا ۔
                 بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کی محافظ تنظیموں کی رپورٹوں اور امریکن پناہ گزیں لوگوں کے حالات کو منظم کرنے والی تنظیموں کی مذمتوں کا دنیا کے بڑے ملکوں خاص طور سے ایشیا کے بڑے ملکوں پر کچھ بھی اثر نہیں ہو رہا ہے ، جس کی واضح مثال یہ ہے کہ ایشیائی کانفرنس جو انڈونیشیا میں اپریل ۲۰۰۹ءمیں میانمار کی اقلیت کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے منعقد کی گئی تھی وہ ناکام ہوئی تھی اس طرح ایشیائی ملکوں کے کھاتے میں ایک اور ناکام کانفرنس کا اضافہ ہو گیا جو میانمار کی اقلیت کی پریشانیوں میں تخفیف و کمی اور صوبائی حل پیش کرنے کے لئے منعقد کی گئی تھی ، اس ناکامی کی حد تک معاملہ نہیں رہا بلکہ اب معاملہ بہت آگے بڑھ گیا ہے کہ چین میانمار کی اٹھارٹی کو سیاسی و دینی تعاون پیش کر رہا ہے جس کی وجہ سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی روز بروز بڑھ رہی ہے ، چین نے ۲۲ / فروری ۲۰۱۲ءکو ایک دستاویز پر دستخط کیا ہے جو میانمار میں موجود بودھ مذہب والوں کی تقویت اور ان کے اثرورسوخ کو بڑھانے کے لئے لینع قوانع بکین اور میانمار کے شویدا جوں کے معبد کے درمیان دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے لئے تیار کی گئی ہے ، اور چین نے اسکول قائم کرنے اور طبی امداد دینے کے لئے فنڈ فراہم کیا ہے ،جب کہ مسلم ممالک اس مظلوم اقلیت کا کسی طرح کا تعاون کرنے سے قاصر ہیں ، تعاون اسلامی تنظیم کے ممبران ممالک اس اقدام کو نافذ کرنے کے لئے ذرائع و وسائل ڈھونڈ رہے ہیں جو مئی ۲۰۱۱ءمیں سامنے آیاتھا جس اقدام کامقصد یہ تھا ک روہینجیا کے دوسرے ملکوں میں رہائش پذیر لوگوں کو متحد کیا جائے ، اور اساقلیت کے جائز مطالبات کا ایک منظم ڈھانچہ مرتب کیا جائے اور بین الاقوامی تنظیموں جیسے اسلامی کنوینشن تنظیم ، امریکن تنظیم اور یوروپی انجمن کومسلمانوں کو جائز حقوق دلانے کے لئے آمادہ کیا جائے لیکن میانمار حکومت کی ملک میں اصلاحات کی کوششیں نا کام و فیل ہو گئیں جب کہ اس نے بہت سے سیاسی قیدیوں کو رہا کیا اور وہاں کی بعض جماعتوں جیسے کاربن شان ، تشین اور کوکانج سے امن و سلامتی کے معاہدے پر دستخط بھی کئے ، اور دوسری طرف مسلسل اپنے ان شہریوں کا صفایا اور خاتمہ کیا جن کا صرف اور صرف یہ قصور ہے کہ وہ مسلمان ہیں ، کونسا قانون ان کو یہ سزا دینے کا جواز فراہم کر تاہے کیا ان حالات میں سیاسی اصلاحات ممکن ہیں؟۔

کوئی دیوانہ کہتا ہے . . . ڈاکٹر کمار وشواس


( نوٹ : قارئین حضرات جانتے ہی ہونگے کہ ڈاکٹر کمار وشواس ہندی کے شاعر ہیں'  لہذا درج ذیل نظم میں کچھ الفاظ آپ کو ہندی کے بھی ملیں گیں )

کوئی دیوانہ کہتا ہے  کوئی پاگل سمجھتا ہے
مگر دھرتی کی بے چینی  کو بس بادل سمجھتا ہے
میں تجھ سے دور کیسا ہوں  تو مجھ سے دور کیسی ہے
یہ میرا دل سمجھتا ہے  یا تیرا دل سمجھتا ہے

محبت ایک احساسوں کی پاون سی کہانی ہے
کبھی  کبیرا   دیوانہ تھا   کبھی میرا دیوانی ہے
یہاں سب لوگ کہتے ہیں  میرے آنکھوں میں پانی ہے
جو تو سمجھے تو موتی ہے   جو نہ سمجھے تو پانی ہے

بہت بکھرا    بہت ٹوٹا    تھپیرے سہہ نہیں پایا
ہواؤں کے اشاروں پر مگر میں بہہ نہیں پایا
ادھورا     ان   سنا   ہی رہ گیا  یوں پیار کا قصہ
کبھی تم سن نہیں پائی   کبھی میں کہہ نہیں پایا

سمندر پیر   کا    اندر   ہے   لیکن رو نہیں سکتا
یہ آنسو  پیار کا موتی ہے  اس کو کھو نہیں سکتا
میری چاہت کو  اپنا تو  بنا لینا مگر سن لے
جو میرا ہو نہیں سکتا   وہ تیرا  ہو نہیں سکتا

بھنور کوئی کُمُدنی پر   مچھل جائے تو ہنگامہ
ہمارے دل میں کوئی خواب   پل جائے تو ہنگامہ
ابھی تک ڈوب   کر سنتے تھے سب قصہ محبت کا
میں قصے کو حقیقت میں  بدل بیٹھا تو ہنگامہ

میں جب  بھی تیز چلتا ہوں   نظارے چھوٹ جاتے ہیں
کوئی  جب روپ گھڑتا ہوں  تو   سانچے  ٹوٹ جاتے ہیں
میں روتا ہوں تو  لوگ آ کر تھپتھپاتے ہیں
میں ہنستا   ہوں تو  مجھ   سے لوگ  اکثر روٹھ جاتے ہیں

میں اس کا ہوں     وہ اس احساس سے انکار کرتا ہے
بھری محفل  میں بھی   رسوا   '   مجھے   ہر  بار کرتا ہے
یقیں ہیں ساری دنیا  کو   خفا ہے ہم سے وہ لیکن
مجھے معلوم ہے   پھر بھی   مجھ   ہی سے پیار کرتا ہے

کوئی  خاموش ہے  اتنا   بہانے بھول آیا ہوں
کسی کی اک ترنم میں   ترانے بھول آیا ہوں
میری  اب راہ مت تکنا کبھی اے آسماں والو
میں اک چڑیا  کی آنکھوں میں   اڑانیں بھول آیا ہوں

یہ دل برباد کرکے اس میں کیوں آباد   رہتے ہو
کوئی کل کہہ رہا تھا تم    الہ آباد   رہتے ہو
یہ   کیسی   شہرتیں مجھ کو عطا   کر دیں میرے مولا
میں سب کچھ بھول جاتا ہوں  مگر تم یاد رہتے ہو

پناہوں میں جو آیا ہو  تو اس پر وار کیا کرنا
جو دل ہارا ہوا ہو  اس پہ   پھر    ا دیھکار   کیا کرنا
محبت   کا مزہ تو  ڈوبنے کی کشمکش میں ہے
جو ہو معلوم   گہرائی تو  دریا پار کیا کرنا

نظر میں شوخیاں  لب پر   محبت کا ترانہ ہے
میری امید کی ذد میں   ابھی سارا زمانہ ہے
کئی جیتے ہیں  دل کے دیش  پر معلوم ہے مجھ کو
سکندر ہوں  مجھے ایک  روز کھالی ہاتھ  جانا ہے

جب  آتا ہے  جیون  میں خیالاتوں کا  ہنگامہ
یہ  جذباتوں   ملاقاتوں  '  حسیں  راتوں  کا ہنگامہ
جوانی کی قیامت   دور میں یہ سوچتے ہیں سب
یہ ہنگاموں کی راتیں ہیں   یا ہے راتوں کا ہنگامہ

بتا ؤں   کیا مجھے  ایسے' سہاروں نے ستا یا ہے
ندی تو کچھ نہیں بولی'   کناروں نے ستا یا ہے
سدا ہی   شُول     میری   راہ سے' خود ہٹ گئے لیکن
مجھے تو ہر گھڑی ' ہر پل ' نظاروں نے ستایا ہے

تمہارے پاس ہوں لیکن '  جو دوری ہے سمجھتا ہوں
تمہارے بن میری ہستی ' ادھوری ہے سمجھتا ہوں
تمہیں میں بھول جاؤں گا ' یہ ممکن ہے نہیں لیکن
تم ہی کو بھولنا سب سے ' ضروری ہے سمجھتا  ہوں

کبھی کوئی جو کھل کر  ہنس لیا ' دو پل تو ہنگامہ
کوئی خوابوں  میں آ کر  بس لیا ' دو پل تو ہنگامہ
میں اس سے دور  تھا تو   شور تھا سازش ہے ' سازش ہے
اسے بانہوں میں کھل کر کس لیا   دو   پل تو ہنگامہ

ہمیں دل میں بسا کر اپنے گھر جائیں تو اچھا ہے
ہماری بات سن لیں  اور  ٹھر جائیں تو اچھا ہے
یہ ساری شام  جب  نظروں  ہی نظروں میں  بِتا دی ہے
تو کچھ پل اور آنکھوں میں ' گزر  جائیں تو اچھا ہے

ہمارے شعر سن کر بھی ' جو خاموش اتنا ہے
خدا  جانے  غُرورِ حسن میں' مدہوش کتنا ہے
کسی پیالے نے پوچھا ہے ' صراحی سے سبب مے کا
جو خود بے ہوش ہو ، وہ کیا    بتائے ہوش کتنا ہے

سدا   تو دھوپ کے ہاتھوں  میں ہی  پرچم  نہیں ہوتا
خوشی کے گھر میں بھی بولو' کبھی کیا غم نہیں ہوتا
فقط  ایک آدمی کے واسطے '  جگ چھوڑنے والو
فقط ایک آدمی سے یہ زمانہ   کم نہیں ہوتا

ہر   اک دریا کے ہونٹوں پر'  سمندر کا ترانہ ہے
یہاں ہر فرد کے  آ گے'  سدا   کوئی بہانہ ہے
وہی   باتیں   پرانی ہے '   وہی قصہ  پرانا  ہے
تمہارے  اور میرے  بیچ  میں پھر سے زمانہ ہے

کہیں   پر   جگ   لئے  تم بن '   کہیں  پر سو  لئے تم بن
بھری محفل  میں بھی اکثر '  اکیلے  ہو لئے تم  بن
یہ   پچھلے  کچھ سالوں  کی ' کمائی  ساتھ ہے اپنے
کبھی تو ہنس   لئے   تم   بن'  کبھی  پھر   رو   لئے  تم بن

-
-
-
-

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.