دیکھ لے ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے تھیلے میں آج کیا بھر رہا ہے؟؟؟؟


ایک دن کی بات ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے تین وزیروں کو بلایا اور ہر ایک کو یہ کہتے ہوئے ایک ایک تھیلا پکڑایا کہ باغوں میں جاؤ اور میرے لئے عمدہ سے عمدہ پھل تھیلے میں بھر کے لاؤ، ساتھ ساتھ یہ بھی تاکید کی کہ اس کام میں نہ کسی دوسرے سے تعاون لینے کی اجازت ہے اور نہ کسی دوسرے کے سپرد یہ کام کیا جاسکتاہے ـ


 تینوں وزیروں کو بادشاه کی یہ فرمائش بڑی عجیب لگی، خیر ہر ایک نے تھیلا لیا اور باغوں کی طرف نکل گیا،. . .
 
  پہلے وزیر نے بادشاہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر بڑی محنت کی اور بڑی تگ و دو کے بعد اپنے تھیلے کو عمدہ سے عمدہ پھلوں سے بھر لیا ـ

 دوسرے وزیر نے یہ سوچتے ہوئے کہ بادشاہ کے ہاں نہ تو کھانے پینے کی چیزوں کا قحط پڑا ہوا ہے اور نہ بادشاہ کو ان پھلوں کی ضرورت ہے، اللہ نے بہت دے رکھا ہے انکو، صرف تھیلا بھرنے پر دھیان دیا اور ہر قسم کے پھلوں اچھے برے، پکے پلائے اور گلے سڑے پھلوں سے تھیلا بھر لیا ـ

 تیسرے وزیر نے یہ سوچتے ہوئے کہ بادشاہ کو پھلوں سے مطلب نہیں ہے، وہ تو انکے پاس بکثرت ہیں، وہ تو صرف تھیلے کو بھرا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں، تھیلے کو پتوں اور گھاس سے بھر لیا ـ

اگلے دن بادشاہ نے تینوں کو حاضر کرنے کا حکم دیا، جب وہ تینوں آگئے تو بادشاہ نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ انکو  انکے تھیلوں سمیت دور دراز کے قید خانہ میں تین مہینے کیلئے ڈال دو جہاں کوئ آتا جاتا نہ ہو، اور کھانے کو انکو کچھ نہ دیا جائے.

چنانچہ حکم پر عمل کیا گیا اور تینوں دور دراز کے قید خانہ میں ڈال دئے گئے ـ ۔ ۔ ۔ ۔ 


 ان میں سے پہلے وزیر نے بڑے آرام سے اپنے تھیلے سے عمدہ سے عمدہ پھل کھاتے ہوئے بغیر کسی مشقت کے تین مہینے گذار دئے۔
 دوسرے وزیر کو بڑی تنگی ہوئ،مگر کچھ فاقوں اور کچھ قلیل خوری کے ساتھ بالآخر اس نے بھی بڑی مشقت کے بعد تین مہینے گذار لئے۔

اور  . . .

 تیسرا وزیر چند دنوں میں ہی دوران قید بھوک سے مر گیا

اے  انسان !!!  تو بھی اسی طرح دنیا کے باغ میں ہے اور تجھے بھی بادشاہوں کے بادشاہ نے تھیلا بھرنے کا حکم دیا ہے، یہاں تجھے پوری آزادی ہے کہ ۔ ۔ ۔
 اپنے تھیلے (اعمال نامہ)کو چاہو تو عمدہ پھلوں (اعمال صالحہ) سے بھرو ۔ ۔ ۔ ۔

 اور چاہو تو گلے سڑے پھلوں یا گھاس پھونس (اعمال طالحہ) سے بھرو،  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 یہ یاد رکھ کہ بادشاہوں کے بادشاه کی جانب سے تجھے ایسے قید خانہ(قبر) میں قید کئے جانے کا حکم ضرور آنے والا ہے جہاں کسی آدمی کا گذر نہ ہوگا اور سپاہیوں (فرشتوں) کو کھانا دینے کی بھی ممانعت ہوگی، ایسے میں تیرا تھیلا ہی تیرے کام آئے گا  ۔ ۔ ۔ ۔ 


پس تو دیکھ لے کہ اپنے تھیلے میں آج کیا بھر رہا ہے؟؟؟؟  




بشکریہ : محترم جناب سعید صاحب

روزی میں برکت ۔ ۔ ۔ ۔ ذرا غور کریں ۔ ۔ ۔



ایک شخص نہا یت غصے کے عالم میں جا رہا تھا کہ را ستے میں ایک بزرگ سے ملاقات ہو گئی،

  بزرگ نے ماجرا دریا فت کیا۔ تو وہ شخص کہنے لگاکہ میں قرض کے انبار تلے دبا ہوں، تنخواہ سے گزارہ نہیں ہوتا۔ آج اپنے مالک کے ساتھ دوٹوک بات کر نے جا رہا ہوں۔ کہ یا تو میری تنخواہ بڑھا دو یا پھر میں کا م چھوڑ دیتا ہوں۔

 بزرگ مسکرائے اور اس سے کہا کہ اگر میرے مشورے پر عمل کرو تو تمہاری مشکل حل ہو جائیگی۔

  اس شخص نے وعدہ کیا۔ 
 بزرگ نے کہا کہ اپنے مالک کو کہو کہ میری تنخواہ کم کر دے۔ اور پھر ایک مہینے بعد آکر اسی جگہ مجھ سے ملو۔ 

 اس شخص نے بزرگ کی بات پر عمل کیا۔ اور ایک مہینے بعد اسی جگہ بزرگ سے ملا۔ اور ان کا شکر یہ ادا کیا۔ کہ میرے حالات بہتر ہو نا شرو ع ہو چکے ہیں لیکن یہ بتائیں کہ تنخواہ کم کرانے میں کیا مصلحت پو شیدہ تھی ؟ 

 بزرگ نے مسکرا کر بتایا کہ تم جتنی تنخواہ لیتے تھے اتنی ڈیوٹی نہیں کرتے تھے اس لیے تیری تنخواہ میں حرام کا عنصر شامل ہوتا تھا اور اسلئے تیری روزی میں برکت نہیں ہو تی تھی......


<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.