روزی میں برکت ۔ ۔ ۔ ۔ ذرا غور کریں ۔ ۔ ۔



ایک شخص نہا یت غصے کے عالم میں جا رہا تھا کہ را ستے میں ایک بزرگ سے ملاقات ہو گئی،

  بزرگ نے ماجرا دریا فت کیا۔ تو وہ شخص کہنے لگاکہ میں قرض کے انبار تلے دبا ہوں، تنخواہ سے گزارہ نہیں ہوتا۔ آج اپنے مالک کے ساتھ دوٹوک بات کر نے جا رہا ہوں۔ کہ یا تو میری تنخواہ بڑھا دو یا پھر میں کا م چھوڑ دیتا ہوں۔

 بزرگ مسکرائے اور اس سے کہا کہ اگر میرے مشورے پر عمل کرو تو تمہاری مشکل حل ہو جائیگی۔

  اس شخص نے وعدہ کیا۔ 
 بزرگ نے کہا کہ اپنے مالک کو کہو کہ میری تنخواہ کم کر دے۔ اور پھر ایک مہینے بعد آکر اسی جگہ مجھ سے ملو۔ 

 اس شخص نے بزرگ کی بات پر عمل کیا۔ اور ایک مہینے بعد اسی جگہ بزرگ سے ملا۔ اور ان کا شکر یہ ادا کیا۔ کہ میرے حالات بہتر ہو نا شرو ع ہو چکے ہیں لیکن یہ بتائیں کہ تنخواہ کم کرانے میں کیا مصلحت پو شیدہ تھی ؟ 

 بزرگ نے مسکرا کر بتایا کہ تم جتنی تنخواہ لیتے تھے اتنی ڈیوٹی نہیں کرتے تھے اس لیے تیری تنخواہ میں حرام کا عنصر شامل ہوتا تھا اور اسلئے تیری روزی میں برکت نہیں ہو تی تھی......


تم کو بھی بلا لوں گا ۔ ۔ ۔



ایک آدمی سوات گیا تو جاتے ہی اپنی بیگم کو ایس ایم ایس بھیجا  . . . . . . . مگر غلط نمبر پر بھیج دیا۔

جس عورت کو وہ ایس ایم ایس ملا ۔ ۔ ۔ اس کا شوہر دو دن پہلے فوت ہوگیا تھا۔ 

ایس ایم ایس پڑھتے ہی عورت بیہوش ہوگئ۔

لکھا تھا کہ ۔ ۔ ۔ 

۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
میں خیریت سے پہنچ گیا-

 نیٹ ورک بھی موجود ہے۔ 

جگہ چھوٹی ہے مگر شاندار ہے۔

 ٹھنڈی ہوائیں جنت کا مزا دیتی ہیں،-

دھول مٹی بالکل بھی نہیں ہے-

میں نے جو سفید لباس پہنا تھا وہ ویسے کا ویسا ہی ہے ۔  ۔ ۔ ۔ 

اور 
 ۔
۔
۔
۔
۔
۔

دو چار دن تک تم کو بھی بلا لوں گا۔




 

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.