ماسٹر محمد عامر{بلبیرسنگھ }سے ایک چشم کشاملاقات

ماسٹر محمد عامر{بلبیرسنگھ }سے ایک چشم کشاملاقات


..........جیسے ہی اوما بھارتی نے نعرہ لگایا، ایک دھکا اور دو، بابری مسجد توڑ دو، بس میری مرادوں کے پورا ہونے کا وقت آگیا اور میں نے بیچ والے گنبد پر کدال چلائی اور...............


 ماسٹرمحمد عامر  :   السلام علیکم وحمتہ اللہ
 احمد اواہ         :   وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ‘

  سوال  :  ماسٹر صاحب ایک عرصے سے ابی کا حکم تھا کہ میں ارمغان کے لئے آپ سے انٹرویو لوں اچھا ہوا آپ خود ہی تشریف لے آئے آپ سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔
 جواب  :  احمد بھائی آپ نے میرے دل کی بات کہی، جب سے ارمغان میں نو مسلموں کے انٹرویو کا یہ سلسلہ چل رہا ہے، میری خواہش تھی کہ میرے قبول اسلام کا حال اس میں چھپے،اس لئے نہیں کہ میرا نام ارمغان میں آئے، بلکہ اس لئے کہ دعوت کا کام کرنے والوں کا حوصلہ بڑھے اور دنیا کے سامنے کریم وہادی رب کی کرم فرمائی کی ایک مثال سامنے آئے اور دعوت کا کام کرنے والوں کو یہ معلوم ہوکہ جب ایسے کمینے انسان اور اپنے مبارک گھر کو ڈھانے والے کو اللہ تعالیٰ ہدایت سے نواز سکتے ہیں تو عام شریف اور بھولے بھالے  لوگوں کے لئے ہدایت کے کیسے مواقع ہیں۔

  سوال  : آپ اپنا خاندانی تعارف کرائیں ؟
  جواب  :  میرا تعلق صوبہ ہریانہ کے پانی پت ضلع کے ایک گائوں سے ہے میری پیدائش ۶ دسمبر ۱۹۷۰؁ء کو ایک راجپوت گھرانے میں ہوئی، میرے والد صاحب ایک اچھے کسان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک  پرائمری اس کول میں ہیڈ ماسٹر تھے، وہ بہت اچھے انسان تھے اور انسانیت دوستی ان کا مذہب تھا، کسی پر بھی کسی طرح کے ظلم سے انہیں سخت چڑ تھی  ۱۹۴۷؁ء کے فسادات انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے وہ بہت کرب کے ساتھ ان کا ذکر کرتے اور مسلمانوں کے قتل عام کو ملک پر بڑا داغ سمجھتے تھے بچے کھچے مسلمانوں کو بسانے میں وہ بہت مدد کرتے تھے، اپنے اس کول میں مسلمان بچوں کی تعلیم کا وہ خاص خیال رکھتے تھے، میراپیدائشی نام بلبیر سنگھ تھا اپنے گائوں کے اس کول سے میں نے ہائی اس کول کرکے انٹرمیڈیٹ میں پانی پت میں داخلہ لیا، پانی پت شاید بمبئی کے بعد شیوسینا کا سب سے مضبوط گڑھ ہے، خاص طور پر جو ان طبقہ اور اس کول کے لوگ شیوسینا میں بہت لگے ہوئے ہیں، وہاں میری دوستی کچھ شیوسینکوں سے ہوگئی اور میں نے بھی پانی پت شاکھا میں نام لکھا لیا، پانی پت کے اتہاس (تاریخ) کے حوالے سے وہاں نوجوانوں میں،  مسلمانوں خاص طور پر بابر اور دوسرے مسلمان بادشاہوں کے خلاف بڑی نفرت گھولی جاتی تھی، میرے والد صاحب کو جب میرے بارے میں معلوم ہوا کہ میں شیو سینا میں شامل ہوگیا ہوں تو انہوں نے مجھے بہت سمجھایا، انہوں نے مجھے اتہاس کے حوالے سے سمجھانے کی کوشش کی، انہوں نے بابر خاص طور پر اورنگ زیب کی حکومت کے انصاف اور غیر مسلموں کے ساتھ ان کے عمدہ سلوک کے قصے سنائے اور مجھے بتانے کی کوشش کی کہ انگریزوں نے غلط تاریخ ہمیں لڑانے کے لئے اور دیش کو کمزور کرنے کے لئے گھڑ کر تیار کی ہے، انہوں نے ۱۹۴۷؁ء کے ظلم اور قتل غارت گری کے قصوں کے حوالے سے مجھے شیوسینا سے باز رکھنے کی کوشش کی، مگر میری سمجھ میں کچھ نہ آیا۔
  سوال  : آپ نے پھلت کے قیام کے دوران بابری مسجد کی شہادت میں اپنی شرکت کا قصہ سنایاتھا، ذرا اب دوبارہ تفصیل سے سنایئے؟
 جواب  :  وہ قصہ اس طرح ہے کہ  ۱۹۹۰؁ء میں ایڈوانی جی کی رتھ یا ترا میںمجھے پانی پت کے پروگرام کی خاصی بڑی ذمہ داری سونپی گئی رتھ یاترا میں ان ذمہ داروں نے ہمارے روئیں روئیں میں مسلم نفرت کی آگ بھر دی میں نے شیواجی کی سوگندھ کھا ئی کہ کوئی کچھ بھی کرے میں خود ا کیلے جاکر رام مندر پر سے اس ظالمانہ ڈھانچہ کو مسمار کروں گا، اس یاترا میں میری کارکردگی کی وجہ سے مجھے شیو سینا کے یوتھ ونگ کا صدر بنا دیا گیا، میں اپنی نوجوان ٹیم کو لے کر ۳۰ ؍اکتوبر کو ایودھیا گیا، راستہ میں ہمیں پولس نے فیض آباد میں روک دیا،میں اور کچھ ساتھی کسی طرح بچ بچا کر پھر بھی ایودھیا پہنچے، مگر پہنچنے میں دیر ہو گئی اور اس سے پہلے گولی چل چکی تھی اور بہت کوشش کے با وجود میں بابری مسجد کے پاس نہ پہنچ سکا میری نفرت کی آگ اس سے اور بھڑکی میں اپنے ساتھیوں سے بار بار کہتا تھا اس جیون سے مر جانا بہتر ہے رام کے دیش میں عرب لٹیروں کی وجہ سے رام کے بھگتوں پر رام جنم بھومی پر گولی چلا دی جائے، یہ کیسا انیائے اور ظلم ہے، مجھے بہت غصہ تھا، کبھی خیال ہوتا تھا کہ خود کشی کر لوں کبھی دل میں آتا تھا کہ لکھنؤ جا کر ملائم سنگھ کے اپنے ہاتھ سے گولی مار دو ں، ملک میں فسادات چلتے رہے اور میں اس دن کی وجہ سے بے چین تھا کہ مجھے موقعہ ملے اور میں بابری مسجد کو اپنے ہاتھو ںمسمار کروں۔
                ایک ایک دن کر کے وہ منحوس دن قریب آیا جسے میں اس وقت کاخوشی کا دن سمجھتا تھا میں اپنے کچھ جذباتی ساتھیوں کے ساتھ ایک دسمبر ۱۹۹۲؁ ء کو پہلے ایودھیا پہنچا میرے ساتھ سونی پت کے پاس ایک جاٹوں کے گاؤں کا ایک نوجوان یوگیندر پال بھی تھا جو میرا سب سے قریبی دوست تھا، اسکے والد ایک بڑے زمیندار تھے اور وہ بھی بڑے انسان دوست آدمی تھے، انہوں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو ایودھیا جانے سے بہت روکا اس کے تاؤ بھی بہت بگڑے مگر وہ نہیں رکا۔
                ہم لوگ چھ دسمبر سے پہلے کی رات میں بابری مسجد کے بالکل قریب پہنچ گئے اور ہم نے بابری مسجد کے سامنے کچھ مسلمانوں کے گھروں کی چھتوں پر رات گزاری، مجھے با ر بار خیال ہوتا تھا کہ کہیں ۳۰؍اکتوبر کی طرح آج بھی ہم اس شبھ کام سے محروم نہ رہ جائیں، کئی با ر خیال آیا کہ لیڈر نہ جانے کیا کریں، ہمیں خود جاکر کارسیوا شروع کرنی چاہیئے، مگر ہمارے سنچالک نے ہمیں روکا اور ڈسیپلن بنائے رکھنے کو کہا، اوما بھارتی نے بھاشن دیا اور کارسیوکوں میں آگ بھر دی میں بھاشن سنتے سنتے مکان کی چھت سے اتر کر کدال لے کر بابری مسجد کی چھت پر چڑھ گیا، یوگیندر بھی میرے ساتھ تھا، جیسے ہی اوما بھارتی نے نعرہ لگایا، ایک دھکا اور دو، بابری مسجد توڑ دو، بس میری مرادوں کے پورا ہونے کا وقت آگیا اور میں نے بیچ والے گنبد پر کدال چلائی اور بھگوان رام کی جے کے زور زور سے نعرے لگائے، دیکھتے دیکھتے مسجد مسمار ہوگئی، مسجد کے گرنے سے پہلے ہم لوگ نیچے اتر آئے، ہم لوگ بڑے خوش تھے رام للا کے لگائے جانے کے بعد اس کے سامنے ماتھا ٹیک کر ہم لوگ خوشی سے گھر آئے اور بابری مسجد کی دو دو اینٹیں اپنے ساتھ لائے، جو میں نے خوشی خوشی پانی پت کے ساتھیوں کو دکھائیں، وہ لوگ میری پیٹھ ٹھونکتے تھے، شیو سینا کے دفتر میں وہ اینٹیں رکھ دی گئیں اور ایک جلسہ کیا گیا اور سب لوگوں نے بھاشن میں فخر سے میرا ذکر کیا کہ ہمیں گرو   (فخر)ہے کہ پانی پت کے نوجوان شیوسینک نے سب سے پہلے رام بھکتی میں کدال چلائی، میں نے گھر بھی خوشی سے جاکر بتایا میرے پتا جی بہت ناراض ہوئے اور انھوں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور مجھ سے صاف کہہ دیا کہ’’ اب اس گھر میں تو اور میں دونوں نہیں رہ سکتے، اگر تو رہے گا تو میں گھر چھوڑ کر چلاجائوں گا نہیں تو تو ہمارے گھر سے چلاجا، مالک کے گھر کے ڈھانے والے کی میں صورت دیکھنا نہیں چاہتا، میری موت تک تو مجھے کبھی صورت نہ دکھانا ‘‘مجھے اس کا اندازہ نہیں تھا، میں نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی اور پانی پت میں جو سماّن (عزت)  مجھے اس کارنامہ پر ملا وہ بتانے کی کوشش کی انھوں نے کہا کہ یہ دیش ایسے ظالموں کی وجہ سے برباد ہوجائے گا اور غصہ میں گھر سے جانے لگے، میں نے موقع کو بھانپا اور کہا آپ گھر سے نہ جائیے میں خود اس گھر میں رہنا نہیں چاہتا جہاں رام مندر بھگت کو ظالم سمجھا جاتا ہو اور میں گھر چھوڑ کر آگیا اور پانی پت میں رہنے لگا ۔

 سوال  :  اپنے قبول اسلام کے بارے میں بتائیں ؟
 جواب  :  پیارے بھائی احمد !میرے اللہ کیسے کریم ہیں کہ ظلم اور شرک کے اندھیرے سے مجھے، نہ چاہتے ہوئے، اسلام کے نور اور ہدایت سے مالا مال کیا، مجھ جیسے ظالم کو جس نے اس کا مقدس گھر شہید کیا ہدایت سے نوازا، ہوا یہ کہ میرے دوست یوگیندر نے بابری مسجد کی اینٹیں لاکر رکھیں اور مائک سے اعلان کیا کہ رام مندر پر بنے ظالمانہ ڈھانچہ کی اینٹیں سوبھاگیہ(خوش قسمتی ) سے ہماری تقدیر میں آگئی ہیںسب ہندو بھائی آکر ان پر (موت دان ) پیشاب کریں، پھر کیا تھا،بھیڑلگ گئی، ہر کو ئی آتا تھا اور ان اینٹو ں پر حقارت سے پیشاب کرتا تھا مسجد کے مالک کو اپنی شان بھی دکھانی تھی چار پانچ روز کے بعد یو گیندر کا دماغ خراب ہوگیا، پاگل ہوکر وہ ننگا رہنے لگا، سارے کپڑے اتاراتھا، وہ عزت والے زمیندار چودھری کا اکلوتا بیٹا تھا، اس پاگل پن میں وہ بار بار اپنی ماں کے کپڑے اتار کر اس سے منھ کالا کر نے کو کہتا، بار بار اس گندے جذبہ سے اس کو لپٹ جاتا اس کے والد بہت پریشان ہوئے بہت سے سیانے اور مولانا لوگوں کو دکھایا، بار بار مالک سے معافی مانگتے، دان کرتے، مگر اس کی حالت اور بگڑتی تھی، ایک روز وہ باہر گئے تو اس نے اپنی ماں کے ساتھ گندی حرکت کرنی چاہی، اس نے  شور مچایا دیا، محلہ والے آئے، تو جان بچی، اس کو زنجیر میں میں باند ھ دیا گیا، یو گیندر کے والد عزت والے آدمی تھے، انھوں نے اس کو گولی مارنے کا اراد ہ کرلیاکسی نے بتایا کہ یہاں سونی پت میں عیدگاہ میں ایک مدرسہ ہے وہاں بڑے مولانا صاحب آتے ہیں، آپ ایک دفعہ ان سے اور مل لیں، اگر وہاں کوئی حل نہ ہو تو پھر جو چاہے کرنا، وہ سونی پت گئے تو معلوم ہوا کہ مولانا صاحب تو یہاں پہلی تاریخ کو آتے ہیں اور پرسوں پہلی جنوری کو آکر ۲؍تاریخ کی صبح میں جاچکے ہیں، چودھری صاحب بہت مایوس ہوئے اور کسی جھاڑ پھونک کرنے والے کو معلوم کیا، معلوم ہواکہ مدرسہ کے ذمہ دار قاری صاحب یہ کام کر دیتے ہیں، مگر وہ بھی مولانا صاحب کے ساتھ سفر پر نکل گئے ہیں، عیدگاہ میں ایک دوکاندار نے انہیں مولانا کا دہلی کا پتہ بتایا کہ پرسوں بدھ میں حضرت مولانا نے (بوانے، دہلی )میں ان کے یہاں آنے کا وعدہ کیا ہے، وہ لڑکے کو زنجیر میں باندھ کر بوانہ کے امام صاحب کے پاس لے گئے، وہ آپ کے والد صاحب کے مرید تھے اور بہت زمانے سے ان سے بوانہ کے لئے تاریخ لیناچاہتے تھے مولانا صاحب ہر بار ان سے معذرت کررہے تھے، اس بار انھوں نے ادھر کے سفر میں دو روز کے بعد ظہر کی نماز پڑھنے کا وعدہ کر لیا تھا،بوانہ کے امام صاحب نے بتایا کہ حالات کے خراب ہونے کی وجہ سے ۶؍دسمبر  ۱۹۹۲؁ء سے پہلے ہریانہ کے بہت سے امام اور مدرسین یہاں سے یوپی اپنے گھروں کو چلے گئے تھے اور ان میں سے بعض ایک مہینہ تک نہیں آئے اس لئے مولانا صاحب نے پہلی تاریخ کواس موضوع پر تقریر کی اور بڑا زور دے کریہ بات کہی کہ مسلمان نے ان غیر مسلم بھائیوں کو اگر دعوت دی ہوتی اور اسلام، اللہ اور مساجد کا تعارف کرایا ہوتا تو ایسے واقعات پیش نہ آتے، انھوں نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کے بیک واسطہ ہم مسلمان ذمہ دار ہیں اور اگر اب بھی ہمیں ہوش آجائے اور ہم دعوت کا حق ادا کرنے لگیں تو یہ مسجد گرانے والے، مسجدیں بنانے اور کرنے والے بن سکتے ہیں، ایسے موقع پر ہمارے آقااللّھم اھد قومی فانھم لا یعلمون (اے اللہ، میری قوم کو ہدایت دے، اس لئے کہ یہ لوگ جانتے  نہیں )فرمایا کرتے تھے۔
       یو گیندر کے والد چودھری رگھوبیر سنگھ جب بوانہ کے کے امام (جن کا نام شاید مولانا بشیر احمد تھا )کے پاس پہنچے، تو ان پر اس وقت اپنے شیخ کی تقریر کا بڑااثرتھا، انھوں نے چودھری صاحب سے کہا کہ میں جھاڑ پھونک کا کام کرتا تھا مگر اب ہمارے حضرت نے ہمیں اس کام سے روک دیا، کیوںکہ اس پیشہ میں جھوٹ اور عورتوں سے اختلاط (میل ملاپ )بہت ہوتا ہے اور اس لڑکے پر کوئی اثر یا جادو وغیرہ نہیں بلکہ مالک کا عذاب ہے، آپ کے لئے ایک موقع ہے، ہمارے بڑے حضرت صاحب پر سوں بدھ کے روز دوپہر کو یہاں آرہے ہیں، آپ ان کے سامنے بات رکھیں، آپ کا بیٹا ہمیں امید ہے کہ ٹھیک ہو جائے گا، مگر آپ کو ایک کام کرنا پڑے گا، وہ یہ کہ اگر آپ کا بیٹا ٹھیک ہو جائے تو مسلمان ہونا پڑے گا، چودھری صاحب نے کہا کہ میرا بیٹا ٹھیک ہو جائے تو میں سب کام کرنے کو تیار ہوں۔
                تیسرے روز بدھ تھا چودھری رگھو بیر صاحب یو گیندر کو لے کر صبح  ۸؍بجے بوانہ پہنچ گئے، دوپہر کو ظہر سے پہلے مولانا صاحب آئے، یو گیندر زنجیر میں بندھا ننگ دھڑنگ کھڑا تھا، چودھری صاحب روتے ہوئے مولانا کے قدموں میں گر گئے اور بولے کہ مولانا صاحب میں نے اس کمینہ کو بہت روکا، مگر یہ پانی پت کے ایک اوت کے چکر میں آگیا مولانا صاحب مجھے شما کرا دیجئے میرے گھر کو بچا لیجئے مولانا صاحب نے سختی سے انہیں سر اٹھانے کے لئے کہا اور پورا واقعہ سنا۔
                انہوں نے چودھری صاحب سے کہا کہسارے سنسار کو چلانے والے سرو شکتی مان (قادر مطلق )خدا کا گھر ڈھا کر انہوں نے ایسا بڑا پاپ( ظلم ) کیا ہے کہ اگر وہ مالک سارے سنسار کوختم کردے تو ٹھیک ہے، یہ تو بہت کم ہے کہ اس اکیلے پر پڑی ہے، ہم بھی اس مالک کے بندے ہیں اورایک طرح سے اس بڑے گھنگھور پاپ (بڑے گناہ ) میں ہم بھی قصوروار ہیں کہہم نے مسجد کو شہید کرنے والوں کو سمجھانے کاحق ادا نہیں کیا، اب ہمارے بس میں کچھ بھی نہیں ہے بس یہ ہے کہ آپ بھی اس مالک کے سامنے گڑگڑ ائیں اور شمامانگیں اور ہم بھی معافی مانگیں، مولانا صاحب نے کہا، جب تک ہم مسجد میں پروگرام سے فارغ ہوں آپ اپنے دھیان کو مالک کی طر ف لگا کر سچے دل سے معافی مانگیں اور پرارتھنا (دعا) کریں کہ مالک میری مشکل کو آپ کے علاوہ کوئی نہیں ہٹا سکتا، چودھری صاحب پھر مولانا صاحب کے قدموں میں گر گئے اوربولے جی میں اس لائق ہوتا یہ دن کیوں دیکھتا، آپ مالک کے قریب ہیں، آپ ہی کچھ کریں مولانا صاحب نے ان سے کہا کہ آپ میرے پاس علاج کے لئے آئے ہیں، اب جو علاج میں بتا رہا ہوں وہ آپ کوکرنا چاہنے، وہ راضی ہوگئے  مولا نا صاحب مسجد میں گئے، نما ز پڑھی  تھوڑی دیر تقریر کی اور دعا کی، مولانا صاحب نے سبھی لوگوںسے چودھری صاحب کے لئے دعا کو کہا، پروگرام کے بعد مسجد میں ناشتہ ہوا، ناشتہ سے فار غ ہو کر مسجد سے باہرنکلے تومالک کا کرم کہ یوگیندر نے اپنے باپ کی پگڑی  اتارا کر اپنے  ننگے جسم پر لپیٹ لی تھی اورٹھیک ٹھاک اپنے والد صاحب سے بات کررہا تھا، سب لوگ بہت خوش ہوئے ، بوانہ کے امام صاحب تو بہت خوش  ہوئے، انھوں نے چودھری صاحب کو وعدہ یاد دلایا اور اس کو ڈرایا  بھی کہ جس مالک نے اس کو اچھا کیاہے اگر تم وعدہ کے مطابق مسلمان نہیں ہوتے  ہوتو پھر یہ دوبارہ اس سے زیادہ پاگل ہوسکتا ہے، وہ تیار ہوگئے اور امام صاحب سے بولے، مولانا صاحب میری سات پشتیں آپ کے احسان کا بدلہ نہیں دے سکتیں، آپ کاغلام ہوں، جہاں چاہیں آپ مجھے بیچ سکتے ہیں، حضرت مولانا کو جب یہ معلوم ہوا کہ امام صاحب نے اس سے ٹھیک ہونے کا ایسا وعدہ کرلیا تھا، تو انھوں نے امام صاحب کو سمجھا یاکہ اس طرح کرنااحتیاط کے خلاف ہے۔
                چودھری صاحب کو مسجد میں لے جانے لگے، تو یو گیندر نے پوچھا پتا جی کہاں جارہے ہو انھوں نے کہا مسلمان بننے، تو یوگیندر نے کہا، مجھے آپ سے پہلے مسلمان بننا ہے اور مجھے تو بابری مسجد دوبارہ ضرور بنوانی ہے، خوشی خوشی ان دونوں کو وضو کرایا اور کلمہ پڑھوایا گیا، والد صاحب کا محمد عثمان اور بیٹے کا محمد عمر نام رکھا گیا، خوشی خوشی وہ دونوں اپنے گائوں پہنچے وہاں پر ایک چھوٹی سی مسجد ہے، اس کے امام صاحب سے جاکر ملے، امام صاحب نے مسلمانوں کو بتادیا، بات پورے علاقہ میں پھیل گئی، ہندئووں تک بات پہنچی، تو قوت دار لوگوں کی میٹنگ ہوئی اور طئے کیا کہ ان دونوں کو رات میں قتل کروایا جائے، ورنہ نہ جانے کتنے لوگوں کا دھرم خراب کریں گے، اس میٹنگ میں ایک مرتد بھی شریک تھا اس نے امام صاحب کو بتادیا، اللہ نے خیر کی ان دونوں کو راتوں رات گائوں سے نکالا گیا، پھلت گئے اور بعد میں جماعت میں ۴۰ دن کے لئے چلے گئے، یوگیندر نے پھر امیر صاحب کے مشورہ سے تین چلے لگائے، بعد میں ان کی والدہ بھی مسلمان ہوگئیں، محمد عمر کی شادی دہلی میں ایک اچھے مسلمان گھرانے میں ہوگئی اور وہ سب لوگ خوشی خوشی دہلی میں رہ رہے ہیں گائوں کا مکان اور زمین وغیرہ بیچ کر دہلی میں ایک کارخانہ لگالیا ہے۔

  سوال  :  ماسٹر صاحب آپ سے میں نے، آپ کے اسلام قبول کرنے کے بارے میں سوال کیا تھا آپ نے یوگیندر اور ان کے خاندان کی داستان سنائی، واقعی یہ خود عجیب و غریب کہانی ہے، مگر مجھے تو آپ کے قبول اسلام کے بارے میں معلوم کرنا ہے ؟
 جواب  : پیارے بھائی اصل میں میرے قبول اسلام کو اس کہانی سے الگ کرنا ممکن نہیں، اس لئے میں نے اس کا پہلا حصہ سنایا، اب آگے دوسرا حصہ سن لیجیے، ۹؍مارچ ۱۹۹۳؁ء کو اچانک میرے والد کا ہارٹ فیل ہوکر انتقال ہوگیا، ان پر بابری مسجد کی شہادت اور اس میں میر ی شر کت کابڑا غم تھا، وہ میری ممی سے کہتے تھے کہ مالک نے ہمیں مسلمانوں میں پیدا کیوں نہیں کیا، اگر مسلمان گھرانے میں پیدا ہوتے، کم از کم ظلم سہنے والوں میں ہمارا نام آتا، ظلم کرنے والی قوم میں ہمیں کیوں پیدا کردیا، انھوں نے گھر والوں کو وصیت کی تھی کہ میری ارتھی پر بلبیر نہ آنے پائے، میری ارتھی کو یا تو مٹی میں دبانا، یا پانی میں بہادینا، ظالم قوم کے رواج کے مطابق آگ مت لگانا بلکہ ہندئووں کے شمشان میں بھی نہ لے جانا، گھر والوں نے ان کی اِچھّا(خواہش ) کے مطابق عمل کیا اور آٹھ دن بعد مجھے ان کے انتقال کی خبر ہوئی، میرا دل بہت ٹوٹا، ان کے انتقال کے بعد بابری مسجد کا گرانا مجھے ظلم لگنے لگا اور مجھے اس پر فخر کے بجائے افسوس ہونے لگا اور میرا دل بجھ سا گیا، میں گھر کو جاتا تو میری ممی میرے والد کے غم کو یاد کرکے رونے لگتیں اور کہتیں کہ ایسے دیوتا باپ کو تونے ستاکر ماردیا تو کیسا نیچ انسان ہے میں نے گھر جانا بند کردیا، جون میں محمد عمر جما عت سے واپس آیا تو پانی پت میرے پاس آیا اور اپنی پوری کہانی بتائی دو مہینہ سے میرا دل ہر وقت خوف زدہ سا رہتا تھا کہ کوئی آسمانی آفت مجھ پر نہ آجائے، والد کا دکھ اور بابری مسجد کی شہادت دونوں کی وجہ سے ہر وقت دل سہما سہما سا رہتا تھا، محمد عمر کی کہا نی سن کرمیں اور بھی پریشان سا ہوا، عمر بھائی نے مجھ پر زور دیا کہ ۲۳؍جون کو سونی پت میں مولانا صاحب آنے والے ہیں، آپ ان سے ضرور ملیں اور اچھا ہے کچھ دن ان کے ساتھ رہیں، میں نے پروگرام بنایا، مجھے پہنچنے میں دیر ہوگئی، عمر بھائی پہلے پہنچ گئے تھے اور مولانا صاحب سے میرے بارے میں پورا حال بتادیا تھا، میں گیا تو مولانا صاحب بڑی محبت سے ملے،اور مجھ سے  کہا کہ آپ کی تحریک پر اس گناہ کو کرنے والے یوگیندر کے ساتھ مالک یہ معاملہ کر سکتے ہیں تو آپ کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آسکتا ہے اور اگر اس دنیا میں وہ مالک سزانہ بھی دے تو مرنے کے بعدہمیشہ کے جیون میں جو سزاملے گی آپ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔
                 ایک گھنٹہ ساتھ رہنے کے بعد میں نے فیصلہ کرلیا کہ اگر مجھے آسمانی آفت سے بچنا ہے تو مسلمان ہوجانا چاہئے،مولانا صاحب دو روز کے سفر پر جارہے تھے، میںنے دو روزساتھ رہنے کی خواہش کا اظہار کیا، تو انھوں نے خوشی سے قبول کیا،ایک روز ہریانہ پھر دہلی اور خورجہ کا  سفر تھا، دو روز کے بعد  پھلت پہنچے دوروز کے بعدمیں دل سے اسلام کے لئے آمادہ ہوچکا تھا، میں نے عمر بھائی سے اپنا خیال ظاہر کیا تو انھوں نے خوشی خوشی مولانا صاحب سے بتایا اور الحمد للہ میں نے ۲۵ ؍جون ۱۹۹۳ ؁ء ظہر کے بعد اسلام قبول کیا مولانا صاحب نے میرا نام محمد عامر رکھا اسلام کے مطالعہ اور نماز وغیرہ یاد کرنے کے لئے مجھے پھلت رہنے کا مشورہ دیا، میں نے اپنی بیوی اور چھوٹے بچوں کی مجبوری کاذکر کیا تو میرے لئے مکان کا نظم کردیا گیا، میں چند ماہ پھلت آکر رہا اور اپنی بیوی پر کام کرتا رہا، تین مہینے کے بعد وہ بھی مسلمان ہو گئی۔ الحمدللہ

  سوال  :  آپ کی والدہ کا کیا ہوا؟
 جواب  :  میں نے اپنی ماں سے اپنے مسلمان ہونے کے بارے میں بتایا، وہ بہت خوش ہوئیں اور بولیں کہ تیرے پتا کو اس سے شانتی ملے گی، وہ بھی اسی سال مسلمان ہوگئیں۔
  
 سوال  :  آج کل آپ کیا کررہے ہیں ؟
 جواب  : آج کل میں ایک جونیرہا ئی ا سکول چلارہا ہوں، جس میں اسلامی تعلیم کے ساتھ انگریزی میڈیم میں تعلیم کا نظم ہے۔

  سوال  :  ابی بتا رہے تھے کہ ہریانہ پنجاب وغیرہ کی غیر آباد مسجدوں کو آباد کرنے کی بڑی کوششیں آپ کررہے ہیں ؟
 جواب  :  میں نے عمر بھائی سے مل کر یہ پروگر ا م بنایا کہ اللہ کے گھر کو شہید کرنے کے بعد اس بڑے گنا ہ کی تلافی کے لئے ہم ان ویران مسجدوں کو آباد کرنے اور کچھ نئی مسجدیں بنانے کا بیڑا اٹھائیں، ہم دونوں نے طئے کیا کہ کام تقسیم کر لیں، میںتوویران مسجدوں کو آباد کرائوں اور عمر بھائی نئی مسجد یں بنانے کی کوشش کریں اور  ایک دوسرے کا تعاون کریں، ہم دونوں نے زندگی میں سو سو مسجدیں بنانے اور واگزارکرانے کا پروگرام بنایا ہے، الحمدللہ ۶؍دسمبر  ۲۰۰۴؁ء تک ۱۳؍ویران اور مقبوضہ مسجدیں ہریانہ، پنجاب اور دہلی اور میرٹھ کینٹ میں واگزار کراکے یہ پاپی آباد کراچکاہے(جولائی ۲۰۰۹؁ء تک ۶۷؍مسجدیں واگزار اور ۳۷؍نئی مسجد یںبنا چکے ہیں )عمر بھائی مجھ سے آگے نکل گئے وہ اب تک بیس مسجدیں نئی بنواچکے ہیں اور اکیسویں کی بنیاد رکھی ہے ہم   لوگوں نے یہ بھی طے کیا ہے کہ بابری مسجد کی شہادت کی ہر برسی پر ۶؍دسمبر کو ایک ویران مسجد میں نماز شروع کرانی ہے اور عمر بھائی کو نئی مسجد کی بنیا دضرور رکھنی ہے، الحمدللہ کوئی سال ناغہ نہیں ہوا، البتہ سو کا نشانہ ابھی بہت دور ہے، اس سال امید ہے تعداد بہت بڑھ جائے گی، آٹھ مسجدوں کی بات چل رہی ہے، امید ہے وہ آئندہ چندماہ میں ضرور آباد ہوجائیں گی، عمر  بھائی تو مجھ سے بہت آگے پہلے ہی ہیںاور اصل میںہمارا کام بھی ان ہی کے حصہ میں ہے، مجھے اندھیرے سے  نکالنے کا ذریعہ وہی بنے۔

 سوال  : آپ کے خاندان والوں کا کیا خیال ہے؟
 جواب  :میری والدہ کے علاوہ صرف ایک بڑے بھائی ہیں ہماری بھا بھی کا چار سال پہلے انتقال ہو گیا ان کی شادی مجھ سے بعد میں ہوئی تھی، ان کے چار چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، ایک بچہ معذور سا ہے ہماری بھابھی بڑی بھلی عورت تھیں، بھائی صاحب کے ساتھ مثالی بیوی بن کر رہیں ان کے انتقال کے بعد بھائی بالکل ٹوٹ سے گئے تھے، میری بیوی نے بھابھی کے مرنے کے بعد ان بچوں کی بڑی خدمت کی، میرے بڑے بھائی خود بہت شریف آدمی ہیں، وہ میری بیوی کی اس خدمت سے بہت متاثر ہوئے، میںنے ان کو اسلام کی دعوت دی مگرمیری وجہ سے میرے والد کے صدمہ کی وجہ سے وہ مجھے کوئی اچھا آدمی نہیں سمجھتے تھے، میں نے اپنی بیوی سے مشورہ کیا میرے بچے بڑے ہیں اور بھائی مشکل سے جی رہے ہیں، اگر میں تمھیں طلاق دیدوں اور عدت کے بعد بھائی تیار ہوجائیں کہ وہ مسلمان ہوکر تم سے شادی کرلیںتو دونوںکے لئے نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے، وہ پہلے تو بہت برامانی مگر جب میں نے اس کو دل سے سمجھانے کی کوشش کی تو وہ راضی ہوگئی، میں نے  بھائی کوسمجھا  یا ان بچوں کی زندگی کے لئے اگر آپ مسلمان ہوجائیں اور میری بیوی سے شادی کرلیں تو اس میں کیا حرج ہے اور کوئی عورت ایسی ملنا مشکل ہے جو ماں کی طرح ان بچوں کی پرورش کرسکے، وہ بھی شروع میںتو بہت برامانے کہ لوگ کیا کہیں گے میں نے کہا عقل سے جو بات صحیح ہے اس کے ماننے میں کیاحرج ہے، باہم مشورہ ہوگیا، میںنے اپنی بیوی کو طلاق دی اورعدت گزار کر بھائی کو کلمہ پڑھوایا اور ان سے اس کا نکاح کرایا، الحمد للہ وہ بہت خوشی خوشی زندگی گزاررہے ہیں، میرے اور ان کے بچے ان کے ساتھ رہتے ہیں۔
  
 سوال  :  آپ اکیلے رہتے ہیں ؟
 جواب  :  حضرت مولانا کے مشورہ سے میں نے ایک نو مسلم عورت جو کافی معمر ہیں شادی کرلی ہے الحمدللہ خوشی خوشی ہم دونو ں بھی رہ رہے ہیں۔

 سوال  :  قار ئین ارمغان کے لئے کچھ پیغام آپ دینا چاہیں گے ؟
 جواب  :  میری ہر مسلمان سے درخواست ہے کہ اپنے مقصد زندگی کو  پہچانیں اور اسلام کو انسانیت کی امانت سمجھ کر اس کو پہنچا نے کی فکرکریں، محض اسلام دشمنی کی وجہ سے ان سے بدلہ کا جذبہ نہ رکھیں احمد بھائی میں یہ بات بالکل اپنے ذاتی تجربہ سے کہہ رہا ہوں کہ بابری مسجد کی شہادت میں شریک ہر ایک شیوسینک بجرنگ دلی اور ہر ہندو کو اگر یہ معلوم ہوتا کہ اسلام کیا ہے ؟ مسلمان کسے کہتے ہیں؟قرآن کیاہے اور مسجد کیا چیزہے تو ان میں سے ہر ایک مسجد بنانے کی تو سوچ سکتا ہے، مسجد گرانے کا تو سوال ہی نہیں ہو سکتا، میں یقین سے کہہ سکتاہوں کہ بال ٹھاکرے جی، ونئے کٹیار، اومابھارتی اور اشوک سنگھل جیسے سر کردہ لوگوں کو بھی اگر اسلام کی حقیقت معلوم ہوجائے اور یہ معلوم ہوجا ئے کہ اسلام ہمارا بھی مذہب ہے، ہمارے لئے بھی ضروری ہے، تو ان میں سے ہر ایک اپنے خرچ سے بابری مسجد دوبارہ تعمیر کرنے کو سعادت سمجھے گا، احمد بھائی چلئے کچھ لوگ تو ایسے ہیں جو مسلمان کی دشمنی کے لئے مشہور ہیں مگر ایک ارب ہندئووں میں ایسے لوگ ایک لاکھ بھی نہیں ہوں گے، ایک لاکھ بھی سچی بات یہ ہے کہ میں شاید زیادہ بتارہا ہوں، ننانوے کروڑ۹۹ لاکھ تو میرے والد کی طرح ہیں، جو انسانیت دوست بلکہ اسلامی اصولوں کو دل سے پسندکرتے ہیں، احمد بھائی میرے والد (روتے ہوئے )کیا فطرتاََ مسلمان نہیں تھے مگر مسلمانوں کے دعوت نہ دینے کی وجہ سے وہ کفر پر مرگئے میرے ساتھ اور میرے والدکے ساتھ مسلمانوں کا کتنا بڑا ظلم ہے، یہ بات سچی ہے کہ بابری مسجدکو شہید کرنے والے مجھ سے زیادہ ظالم کون ہوسکتا ہے ؟مگر مجھ سے بہت زیادہ ظالم تو وہ مسلمان ہیں، جن کی دعوت سے غفلت کی وجہ سے میرے ایسے پیارے باپ دوزخ میں چلے گئے، مولانا صاحب سچ کہتے ہیں، ہم شہید کرنے والے بھی، نہ جاننے اور مسلمانوں کے نہ پہنچانے کی وجہ سے ہوئے، ہم نے انجانے میں ایسا ظلم کیا اور مسلمان جان بوجھ کران کو دوزخ میں جانے کا  ذریعہ بن رہے ہیں، مجھے جب اپنے والد کے کفر پر مر نے کا رات میںبھی خیال آتا ہے تو میری نیند اڑ جاتی ہے، ہفتوں ہفتوںنیند نہیں آتی نیند کی گولیاں کھانی پڑتی ہیں، کاش مسلمانوں کو اس دردکااحساس ہو۔
  
 سوال  :  ہت بہت شکریہ، ماشاء اللہ آپ کی زندگی اللہ کی صفت ہادی اور اسلام کی حقانیت کی کھلی نشانی ہے ۔
  جواب  :  بلاشبہ احمد بھائی، اس لئے میری خواہش تھی کہ ارمغان میں یہ چھپے، اللہ تعالی اس کی اشاعت کو مسلمانوں کے لئے ان کی آنکھیں کھولنے کا ذریعہ بنائے۔آمین
                                                                                     اچھا اللہ حافظ         
                                                    مستفادازما ہ نا مہ ارمغان، جو ن ۲۰۰۵ء

جمیلہ بہن {پشپا }سے ایک ملاقات

جمیلہ بہن {پشپا }سے ایک ملاقات


                میں نے شہناز بہن کی دلی تمنا اور کوشش سے نو مسلم جمیلہ صاحبہ کو غریب خانہ پر آنے کی دعوت دی، اہلیہ مولانا ذوالفقار کی بہن افسانہ صاحبہ کے ہمراہ جمیلہ صاحبہ تشریف لائیں، سلام و دعا ء کے بعد چائے پانی کے دوران ہی شہناز بہن کاپی پین لے کر بیٹھ گئیں،تب میں نے کہا کہ ارمغان اور اللہ کی پکار جیسے شمارہ میں جو بھائی بہن اپنی اصل کی طرف یعنی ایمان کے اندر آتے ہیں تو لوگوں کی ترغیب کے لئے ان کے انٹرویوچھاپے جاتے ہیں اور اس کے بے حد اچھے نتائج سامنے آ رہے ہیں اور یہ بے حد مقبول ہیں، شہناز بہن بولیں کہ ہندوستان میں ہی نہیں، سعودی عرب، برطانیہ، افریقہ میں بھی یہ انٹرویو بے حد مقبول ہیں اور نفع دے رہے ہیں اور لوگ اپنے خرچ سے ان کی کاپیاں کر اکر تقسیم کراتے ہیں، تب جمیلہ بہن تیا ر ہو گئیں ورنہ یہ نظر یہ رکھتی تھیں کہ میں جو کچھ ہوں خدا کے لئے ہوں اور خدا سے اجر کی طالب ہوں، دنیا کی شہرت بھی عزیز نہیں حسب معمول ہمارا پہلا سوال تھا :
  
 سوال  :  آپ کا پہلا نام کیا تھا ؟
 جواب  :جمیلہ بہن ! میرا پہلا نام پشپا تھا،

 سوال  : آپ کے والد کا نام ؟
 جواب  :میرے والد کا نام شیورام بھگت تھا  والدہ کا نام سومی بائی تھا،

 سوال  : آپ کا تعلق کس خاندان سے اور کس جگہ سے تھا ؟
 جواب  :میرا تعلق پنجاب راجپور ہ ضلع پٹیالہ کے بھگت خاندان سے تھا، ہم لوگ تین بہنیں تھیں

 سوال  : آپ نے اسلام کیوں قبول کیا اور اپنے پر انے مذہب کو کیسے چھوڑا ؟
 جواب  : سیدھا سچا جواب تو یہ کہ میرے اللہ کو مجھ سے پیار تھا اور میرے رب نے پھر کرم کیا کہ ایمان کی دولت سے نوازا اور کفر کو مجھ سے دور کیا اور بظاہر ’’مسلم عورت کی ستر پوشی ‘‘ میرے اسلام لانے کا سبب بنی ( آگے بولیں ) میری بہن !میری ایک لمبی داستان ہے شہناز بہن افسانہ بہن اور میں تینوں بر جستہ بولے۔

 سوال  :  ہا ںہا ں، وہی تو آپ سب بتایئے اور بلا جھجھک بتایئے ؟
 جواب  : (تب انہوںنے اپنی حیات کو پرت در پرت کھولنا شروع کیا )ہمارا گھرانہ غریب تھا،میری والدہ کی بہن کی شادی ایک بڑے گھرانے میں ہوئی،جب میری شادی ہوئی اس وقت میری عمر ۲۰؍سال تھی میری خالہ نے سوچا کہ میری بھانجی بھی بڑے گھرانے میں آ جائے، اس لئے انہوںنے اپنے دیور کے بیٹے سے جو کہ سی بی آئی آفیسر تھے میری شادی کرا دی،میری والدہ امیر غریب کے خوف کی وجہ سے شادی پر آمادہ نہ تھیں،ایک طرح سے زبردستی یہ شادی کرائی گئی شادی کے بعد معلوم ہوا کہ جن سے میرا بندھن بندھا ہے وہ بے حد لاپرواہ اور شرابی ہیں، سسرال میں میرا حال تو نوکر سے بھی بدتر تھا اور میں کٹھ پتلی کی طرح سسرال مائکہ میں گھمائی جاتی رہی ۱۹۸۰؁ء میں میری شادی ہوئی اور ۱۹۸۳؁ء میں میرا بیٹا پیدا ہوا اس وقت میں بے حدستم رسیدہ حالت میں اسپتال میں تھی،میری ماں نے بھی میری پرواہ چھوڑ دی بیچاری کیا کرتی حالات ہی ایسے تھے میں نے لوگو ںکے جھاڑو برتن تک کئے اور ایسے حالات میں دو بیٹے اور ایک بیٹی کی خدا نے مجھے ماں بنا دیا، اللہ نے مجھے دماغ بہت تیز دیا،میں نے ۱۹۸۰؁ء میں سلائی کڑھائی کے کارخانہ میں ۲۵۰؍روپیئے ماہانہ تنخواہ پر کام شروع کیا، وہیں سے میرا اسلام سے تعلق جڑا، وہ کارخانہ کسی ہندو کا تھا لیکن اس میں نوکر مسلمان تھے اور مسلمان بریلوی تھے میں ساڑی پہن کر کارخانہ جاتی اور میرا بلاؤز بغیر آستین کا ہو تا تھا، مسلم نوکر لڑکے بولے بہن جی آپ ہمارا ایمان خراب کرتی ہیں، میں بولی ایمان کیا ؟ وہ بولے ہم لوگ مسلمان ہیں اور ہمارے یہا ں مسلم عورت سترپوش یعنی ڈھکی چھپی رہتی ہے اور اس لئے مردوں کا ایمان بھی سلامت رہتا ہے اور عورتوں کا بھی۔
                میں نے کہا کہ ایمان کیا ہے ؟ بولے کہ ایک کلمہ ہے جو پڑھا لیا جاتا ہے، میں بولی کہ وہ تو مسلمان عورتیں ہیں اپنے دھرم کی وجہ سے کرتی ہیں، مسلم ورکر بہت دردمندی سے بولے کہ بہن جی آپ چاہے جو بھی ہوں ہمارا دل چاہتا ہے کہ آپ بھی ہماری ماں بہنوں کی طرح کپڑے پہنو میرے دل میں ان کے ایمان کی اور ستر پوشی کی بات گھر کر گئی اور میں سوچنے لگی کہ کیسا اچھا ایمان ہے ان کا اور ان کے یہاں کس قدر عورت کی عزت کی جاتی ہے میرا دل بیقرار ہو اٹھا ان ورکر کے ایمان کے اندر آنے کے لئے،اگلے دن میں نے کہا کہ بھائی میں تمہارے ایمان میں آنا چاہتی ہوں مجھے کیا کرنا ہوگا ؟ ایک کلمہ ہے وہ پڑھنا ہوگا،میں نے کہا جلدی مجھے پڑھاؤ بولے کہ ہم نہیں پڑھا سکتے ہمارے بابا پڑھا ئیں گے اور وہ فلاں دن آتے ہیں اب مجھے اس فلاں دن کا بے قراری سے انتظار رہنے لگا،خدا خدا کر کے وہ دن آگیا، ایک لمبا سا چوغا اور طرح طرح کی گلے میں مالا ئیں پہنے اور ہری ٹوپی پہنے بابا کا رخانہ میں تشریف لائے اور انہوںنے رومال پکڑواکر کہلوایا ’’صلی علی کا یا محمد، یا اللہ یا محمد یا علی المدد کر مد د (جمیلہ بہن نے جب یہ کلمہ سنایا ہمیں ہنسی بھی آئی اور تعجب بھی ہوا )ہم لوگ بیچ میں بولے یہ کلمہ نہیں ہے وہ بولیں کہ ہا ں ہاں یہ اس زمانہ کا میرا ایمان تھا بھئی جیسے کہا، جو بتایا میں نے کہا اور پڑھا اور بہت زمانہ تک ہر وقت یہ ورد زباں رکھتی تھی اور پھر بتایا گیا کہ قبروں پر جانا ہے میں ان بابا کی مرید بن گئی اور میں نے ہندوستان کے بڑے بڑے مزاروں پر حاضری دی اور جیسا وہاں ہوتے دیکھتی، کرتی۔
ادھر میں ساڑی کی جگہ سوٹ پہننا شروع کیا اور خود کپڑے ڈیزائن کرنا شرو ع کیا اور میری ڈیزائن ڈریس کی بہت قیمت لگی،میں نے الگ سے مشین خریدی اور خود ڈیزائن کر کے ڈریس تیار کی اور بازار میں فروخت کی میرا کاروبار چل نکلا،  ۱۹۸۲؁ء میں اوکھلا، فیس،2میں  میں نے اپنے کارخانہ کی بنیاد ڈالی اور الگ سے مسلم ورکر رکھے،مجھے کمانے کی دھن لگ گئی اور اللہ نیبھی اس قابل بنادیا کہ میں نے نہرونگر میں ۳ ؍منزلہ ایک پورا کیمپس خریدا،ہاں ایک بات اور یاد آئی جب میں کارخانہ میں کام کرتی تھی، بابا کو خانقاہ کی ضرورت تھی مری ماں نے میرے نام ایک دوکان کر دی تھی وہی ان کی کل جائیداد تھی،بابا کو خانقاہ کے لئے زمین کی ضرورت تھی سلطان پور غوث آباد میں میں نے اپنی ماں سے کہا وہ دوکان کے کاغذات دے دو اور مجھے ایک مکان خرید نا ہے،میں نے ماں سے جھوٹ بولا ورنہ ماںکبھی کاغذات نہ دیتی،میں نے کاغذات لے کر وہ دوکان اس زمانہ میں ۱۲؍ ہزار کی فروخت کر دی ۱۱؍ہزار ان بابا کو خانقاہ کے لئے دے دیئے ایک ہزار خود رکھی اس وقت سروس کر تی تھی ۲۵۰؍ روپیہ تنخواہ ۳؍ بچے اور خود اور مکان کرائے کا، ایک ہزار کرایہ جمع کیا اور دلی کورٹ پٹیالہ ہاؤس میں جا کر باقی پیسہ سے اسلام قبول کرنے کی کاروائی پوری کی بس پھر خدا کے نام پر دینے کی دھن سوار تھی میں چاہتی تھی کہ کماؤں اور خدا کے لئے لٹاؤں مجھے کمانے کی دھن لگ گئی،نہرو نگر میں خدا نے جائیداد دلوادی، وہاں جو ورکر کام کرتے تھے وہ ورکر نماز پڑھتے تھے وہ نماز پڑھنے جاتے اور باہر جا کر نماز کے بہانے پکچر دیکھنے چلے جاتے اور میں نمازیوں کو ہی کام دیتی تھی مگر ورکر چالاکی کرتے، میں نے سوچا مجھے ایسی جگہ کا رخانہ کی تلاش کرنی چاہیئے، جہاں مسجد کارخانہ سے ملی ہوئی ہو تب میں نے حاجی کالونی، غفور نگر میں زمین خریدی اور کارخانہ ادھر شفٹ کیا لیکن ادھر چو نکہ میں اکیلی کام کرتی تھی اور مسلم ایریا میں مسجد کی وجہ سے میں شفٹ ہوئی تھی تا کہ ورکر نماز ضرور پڑھیں اور دیر تک غائب بھی نہ ہوں کہ کارخانہ میںکام کا نقصان نہ ہو لیکن ادھر کے مسلمانوں نے مجھے بہت تنگ کیا کہ یہ کیسی مسلمان بنی ہے لڑکوں سے کام کراتی ہے طرح طرح کی باتیں ۔۔۔۔۔۔میرا ذہن پریشان ہو گیا حتیٰ کہ میرا کارخانہ ٹھپ ہونے لگا اور میں بچوں کے پاس نہرو نگر چلی گئی کام بالکل بند کر دیا کہ اسلام میں ورکر سے کام کروانا جائز نہیں اور میں غریبی میں چلی گئی، فاقے ہونے لگے میں نے کترن بیچنا شروع کی اور پھر کچھ سہارا شروع ہوا ادھر کچھ اور اچھی مسلمان بہنیں ملیں، انہوںنے کہا آپ کو غلط بتایا گیا ہے آپ اپنا کاروبار شروع کیجئے اور یہ افسانہ ہے اس کے شوہر مولوی ذوالفقار نے میری بڑی رہنمائی کی اس نے مجھے اپنی ماں بنالیا اور حقیقی ماں کی طرح میرا خیال رکھنے لگا میں نے حاجی کالونی میں کارخانہ شروع کیا اور نائٹی، ٹاپ اور پٹیالہ شلوار کی ڈیزائننگ کر کے مارکیٹ میں فروخت شروع کردی اور یہاں بھی میں نے عمارت بنا لی اور خود بھی ادھر ہی شفٹ ہو گئی اور تب میں نے جانا کہ جس اسلام پر میں چلتی ہوں قبرپرستی، وہ صحیح نہیں، کلمہ صحیح طرح پر یہیں پڑھا، نماز یہاں آکر سیکھی، قرآن کریم پڑھا، تبلیغی جماعت کی بہنوں سے میل جول پیدا ہوا میں نے جب نماز سیکھی اور اس کو ادا کیا تو سمجھ میں آیا کہ حدیث نبوی ﷺ ’’نماز مومن کی معراج ہے ‘‘واقعی معراج ہے، (یہ سب کہتے ہوئے وہ آبدیدہ ہو گئیں ہمیں ان کی کیفیت دیکھ کر ان پر بڑا رشک آیا ہم نے کہا کہ آپ تو بڑی ولی صفت اور اونچی ہستی ہیں) جمیلہ بہن بولیں کہ میںکچھ بھی نہیں اور پھر بڑی تڑپ سے بولیں کہ کسی طرح کاش میری وہ نماز کی کیفیت لوٹ آئے اور مجھ سے کہنے لگیں کہ کوئی عمل بتاؤکہ مجھے نماز میں پہلے کی طرح معاملہ ہو،ہم نے کہا کہ اللہ بے حد رحیم و کریم ہے اس سے گڑ گڑ ا کر جو مانگو ملتا ہے جمیلہ بہن برجستہ بولیں کہ میرے ساتھ تو ہمیشہ ہی جب جب مانگا سب کچھ ملا بندہ بڑا ناشکرا ہے، بے وفا ہے اسے مانگانا ہی نہیں آتا، مانگتا ہی نہیں ہم نے کہا ۔

 سوال  :  اپنے کوئی خاص لمحات بتایئے ؟
جواب  : رمضان المبارک کا مہینہ تھا میں روزے برابر رکھتی رہی، نماز یں بھی اد ا کرتی،لیکن نماز کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکتی، مجھے شوگر ہو گئی اور گھٹنوں نے کام کرنا بند کر دیا، جہاں میں رہتی ہوں وہاں میرے ایسے پورشن ہیں کہ بہ آسانی کرایہ دار بھی رکھتی ہوںلیلۃ القدر آ گئی سب لوگ کھڑے ہو کر نوافل میں مصروف تھے میں بھی اسی رات جاگ رہی تھی،پیروں کے درد کی وجہ سے اٹھ نہ سکتی تھی کسی مسلم بہن نے بھی مجھے اس رات کے بارے میں کچھ خاص نہ بتایا اور میرا دل پھٹا جا رہا تھا کہ کوئی آئے مجھے تسلی دے اس رات کی عظمت کے بارے میں بتائے میں ایسے میں کیسے عبادت کروں، میری مدد کرے،پھر بے بسی کی کیفیت طاری ہوئی میں بیٹھے بیٹھے سجدہ میں جا گری اور اسی طرح مالک کے سامنے آہ و فغاں کی تڑپ تڑپ کرروئی، روتے روتے زور زور سے میری چیخیں لگ گئی مجھے کچھ ہوش نہ رہا بس خدا اور میں فریادی اور بے بسی ایسی کہ عبادت اور نماز بھی کھڑے ہوکر نہ پڑ ھ سکوںاس کا احساس ہوا کہ یکا یک مجھے لگا میں کھڑی ہو سکتی ہو ں اور میں سیدھی کھڑی ہو گئی اور اس رات میں نے کھڑے ہو کر خوب نماز ادا کی اور میں چلنے پھرنے سے معذور چلنے پھرنے لگی اور کئی سال تک میں ایسی رہی کہ مجھے کوئی بیماری نہیں تھی شوگر بھی ختم ہوگئی آگے بولیں کہ بس بہن ہم بہت نکمے ہیں، پھر دنیا داری میں پھنس گئی اور پھر وہی بیماری۔
                میں نے فضائل اعمال پڑھنا شروع کی،جب میں نے یہ پڑھا کہ جس کا بیٹا حافظ قرآن ہوگا اس کو آخرت میں اس بیٹے کی ماں کو جنت میں تاج پہنایا جائے گا میں تڑپ گئی کہ اللہ اب میں کیا کروں میرے دو بیٹے ہیں ان کی شادی ہو چکی، بچے بھی ہو گئے اور کیو نکہ میں بس صلی علی کا یا محمد، المدد کر مدد اور قبروں پر جانے کو مسلمان سمجھتی تھی بس خود ہی مسلمان بنی رہی مجھے خاندانی حالت پر رہے ان کی شادی میں نے ہندو لڑکی سے کی اور بچے پھر اس نعمت سے محرومی نے دکھی کر دیا، میں زارقطار روئی کہ سب حافظوں کی ماؤں کو تاج پہنایا جائے گا، میرے لیئے کو ئی تاج نہ ہوگا میرا کوئی بیٹا حافظ نہیں ایک پڑوسن دیندار تھی میرے ہر وقت کے رونے کو دیکھ کر کہنے لگیں کہ تم میرے بیٹے کو پڑھا لو حافظ بنا لو،دوسروں نے کہا کہ کوئی غریب بچہ پڑھا لو،میں نے غریب بچہ کی تلاش شروع کر دی،ایک بچہ جس کا نام احتشام تھا اس کو پڑھانے کے لئے سہارنپور مدرسہ سوکڑی میں چھوڑا اور وہ الحمد للہ حفظ کر رہا ہے،پھر مجھے لوگوں نے کہا، ایسے تاج نہیں پہنایا جائے گا آپ بن ماں باپ کا بچہ تلاش کرو اس کو حفظ کراؤ،اب میں اور رونے لگی اور لگتا تھا کہ روتے روتے جان چلی جا ئے گی کہ ہائے محرومی مجھے تاج نہ پہنایا جائے گا،اب میں نے کسی ہندو غریب کی جھگی جھونپڑی میں تلاش شروع کر دی ایک بچہ خدا نے مجھے ملوایا، جو بن ماں باپ کا ہے عبداللہ اس کا نام رکھا اسے رائے پور سہارن پور کی طرف لے کر گئی اور اسے پڑھا رہی ہوں،ما شاء اللہ اس کا ۱۲؍واں پارہ ہے رائے پور میں پڑ رہا ہے دونوں بچوں کے لئے کپڑا خرچ وغیرہ لے جاتی ہوں میرا پوتا میرے پاس رہتا ہے، ۱۳؍سال کا ہے، اسے حوض والی مسجد میں بھیجا ہوا ہے امن نام ہے دعا کر ووہ بھی حافظ ہو جائے،آمین،یہ سب سنتے ہوئے ہم سناٹے میں گنگ بیٹھے ہوئے تھے کہ یا اللہ فضائل اعمال کی حدیث پڑھی اور کس طرح عمل پیرا ہوئی ؟ اور ہمارا کیا حال ہے کہ ہم پیدائشی مسلمان حفظ تو حفظ ناظرہ پڑھنا بھی کِسر شان اور سب سے پہلے انگلش میڈیم اس کول کی دوڑ رواں رواں خوف خدا سے کھڑاہو گیا کہ ہمارے اس سلوک کی وجہ سے خدا ہمارے ساتھ کیسا معاملہ فرما ئے گا میں نے کہا جمیلہ بہن آپ قابل مبارک باد ہیں دعاء کریں اللہ ہمیں بھی آپ کی طرح بنا دے،آمین ثم آمین
                ہم حالانکہ کافی وقت لے چکے تھے مگر دل چاہتا تھا کہ اپنی روداد سنائی جائیں اور ہم سنتے جائیں ہم نے کہا اور کچھ خاص بتایئے بولیں فضائل اعمال میں پڑھا کہ سود خور کے ساتھ یہ معاملہ ہو گا کہ اس کے پیٹ میں سانپ بچھو ہوں گے۔
ہمارے یہاں ہفتہ میں اجتماع ہوتا ہے اور میں پنجاب وغیرہ بھی جاتی ہوں وہاں ہندو بہنیں میرا وعظ سنتی ہیں جالندھر میں میں نے جب یہ سود والی حدیث سنائی تو سب نے یقین کر کے وہاں سود لینا دینا چھوڑ دیا ہندوہو کر اور وہ بے چین رہتی ہیں کہ اپنے دھرم کی اور بات بتاؤتب میں نے کہا آپ پروگرام بنائیں انشاء اللہ ہم لوگ بھی چلیں گے، دعوت کے اوپر بات کریں گے بولیں کہ جی لوگ پیاسے ہیں مجھے تو کچھ زیادہ معلومات نہیں بس فضائل اعمال اور قرآن ہندی ترجمہ سے پڑھا ہے آپ لوگ اگر آگے آئیں تو لوگ پیاسے کھڑے ہیں ذراسے اشارے کی دیر ہے دامن اسلام میں آ جائیں گے،(تب اور اپنے اوپر شرمندگی ہوئی اور اپنے ساتھ تمام مسلم لوگوں سے شکوہ ہوا کہ واقعی ہم اپنے ہی دائرہ میں رہتے ہیں کھانا پینا اور اپنے کو بچوں کو کھلانا پلانا اور انجینئر، ڈاکٹر وغیرہ وغیرہ کی آرزورکھنا یہ ہی مقصد حیات سمجھے ہو ئے ہیں اللہ سے ہم نے توبہ کی اور کچھ کرنے کا عزم کیا) آگے سلسلہ کلام کو جاری رکھنے کے لئے ہم نے پوچھا کہ :

  سوال  :  شہناز بہن بتا رہی تھیں کہ آپ شوہر سے ۲۵؍سال بعد ملی ہیں اور آپ کے شوہر بھی مسلمان ہو گئے ہیں اور آپ کا دوبارہ نکاح ہوا ہے یہ سب کیا قصہ ہے ؟
 جواب  :جمیلہ بہن بولیں کہ میرے شوہر نے ۲۵؍سال سے میرا اور میرے بچوں کا کو ئی خرچ نہیں اٹھایا اب وہ پچھلے دنوں ریٹائر ہوئے اور انہوںنے فنڈ کے پیسے سے ایک فلیٹ خریدا اور حالات کچھ ایسے بنے کہ وہ فلیٹ انہیں گروی رکھنا پڑا، ناچار میرے نہرو نگر والے فلیٹ میں جہاں میرے دونو ںلڑکے اپنی فیملی کے ساتھ رہتے ہیں ان کو وہاں آنا پڑا میں برابر سب رشتہ داروں سے ملتی ہوں، جب کچھ دن باپ کو بیٹے اور بہوکے پاس رہتے ہو گئے تو بڑی بہو نے انہیں باہر کر دیا اب یہ دوسرے بیٹے کے گھر میں گئے، دیکھتی کیا ہوں ایک دن میری بڑی بہوان کو کھانا دیتی ہے ایسے جیسے کسی کتے کو ڈالتے ہیں میں نے کہا تم اس طرح کرتی ہو، اس طرح تو کسی کتے کو بھی نہ دیتے ہوں،خیر میں حسب معمول خرچ دینے کے لئے رائے پور حافظ بچے کے پاس گئی وہاں ایک دہلی جامعہ ملیہ کا بچہ سروس چھوڑ کر گیا ہے اب حفظ کرتا ہے رائے پور میں رہتا ہے خدا نے اسے دین پر لگا دیا ہے وہ بولا اماں جی ! مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے، اس نے میری سب کہانی کا حال اس نو مسلم بچے نے بتا دیا ہوگا، بولا آپ کے شوہر ہندوہیں، آپ پر فرض ہے کہ آپ اپنے شوہر کو دین کی دعوت دیں مجھے ان کے سلوک کی وجہ سے ان کے ساتھ کوئی تعلق محسوس نہ ہوتا تھا، میں نے کہا کہ بیٹے وہ تو بہت بڑے شرابی ہیں شراب کے بغیر رہ ہی نہیں سکتے، وہ بچہ بولا کہ اماں !اگرآپ کو شراب کا گلاس بھر کر بھی دین کی دعوت دینی پڑے، آپ دین کی دعوت دیں یہ دعوت دینا اتنا ضروری ہے مجھے امید ہے انشاء اللہ وہ ضرور ایمان لے آئیں گے، آپ ایسے جذبہ والی ہیں، آپ یہ کام ہر حال میں کریں، اب میں گھر آ گئی میںنے فون اٹھایا ادھر سے فون انھوںنے اٹھایا مگر میں کچھ ہمت نہ کر سکی عجیب شرم محسوس ہو ئی مگر دل میں اللہ سے گڑ گڑاؤں، اے اللہ ایمان کی دعوت دے دوں ایسی ہمت عطا کر، میری بہن ہندو ہے مگر سب کلمہ درود جانتی وہ بھی بہنوئی کی ایسی درگت سے دکھی تھی، وہ روز کہتی کہ تو مسلمان بن جا تیری زندگی بن جائے گی دیکھ میری بہن کی مسلمان بننے سے کیسی زندگی بنی ہوئی ہوئی ہے روز روز کہتی رہی ایک دن دیکھتی کیا ہوں کہ زبردستی میرے شوہر کو میرے گھر لے آئی ہے، میں ناراض ہوئی کہ تو اس ہندو شرابی کو کیوں لے کر آئی ہے ؟وہ بولی یہ مسلمان بننے کو تیار ہے غفار منزل کی مسجد میں صبح ۱۰ ؍بجے کسی مولانا کا بیان ہوا، ان کو وہاں لے کر گئے اور وہاںپر مولانا نے ان کا نکاح پڑھایا کلمہ پڑھا یا، انہیں کا بیان تھا، وہ کلمہ پڑھا کر جانے لگے میںروٹھی روٹھی تھی، میرے بیٹے ذوالفقار نے ان سے کہا میری جمیلہ ماں کو سمجھا یئے پردہ کئے بیٹھی ہیں، پردہ چھوڑیں اور ناراضگی بھی ختم کریں، مولانا نے مجھے سمجھایا میری  سمجھ میں بات آ گئی، مگر ۲۵سال سے الگ رہتی ہوں عجیب سا حجاب آتا ہے، ویسے جتنا کچھ ہو رہا ہے خدمت کر رہی ہوں، آج ۲۲؍ دن ہو گئے شراب کو ہاتھ تک نہیں لگا یا ہے۔

  سوال  : آپ ان کی نماز وغیرہ کے بارے میں اور تمام ارکان اسلام کے بارے میں کیا فکر کرتی ہیں ؟
 جواب  :ماشاء اللہ پانچوں وقت مسجد جا رہے ہیں کسی نے کہا کہ پھلت میں ایک بہت بڑے حضرت جی ہیں ان سے ضرور ملوا یئے، وہ ۳؍دن کے لئے پھلت گئے مگر حضرت جی نہیں مل سکے،ہم نے کہا کہ آپ ان کو دہلی بٹلہ ہاؤس دارارقم میں بھیجئے وہاں ان کو فائدہ ہوگا اور حضرت جی سے ملاقات بھی ہو جائے گی جمیلہ بہن کہنے لگی، آپ کی بڑی مہربانی ہو گی، اگر آپ ان کی تربیت کا انتظام فرمادیں میں نے اپنے دل میں خیال کیا کہ کاش جگہ جگہ پر تربیتی سینٹر قائم ہو جائیں اور خداسے دل ہی دل میں دعاء کی رب العالمین مجھے اس قابل بنا دے کہ نو مسلم بھائی بہنوں کو آشیا نہ فراہم کر سکوں اور تربیت کے لئے درد مند، پر خلوص اسکا لرجمع کر دوں کہان لوگوں کو لگے ’’ہم اسلام میں آکر امن میں آگئے جنت میں آگئے محبت کی چھاؤں میں آ گئے، حالانکہ کافی دیر ہوچکی تھی مگر سب سے اہم سوال ان کی اولاد کے بارے میں پوچھنا باقی تھا میں نے کہا کہ :

 سوال  :  جمیلہ بہن جب آپ شروع سے علیحدہ اور اپنے بل بوتے پر اپنے بچوں کے ساتھ ہیںتو پھر آپ نے اپنے بچوں کو ہندو کیسے رہنے دیا ؟
 جواب  :وہ بولیں کہ کسی مسلمان نے مجھے کچھ بتایا نہیں سچ پوچھئے تو ادھر حاجی کالونی میں صحیح مسلمان میں خود بنی ہوں ویسے میرے دونوں لڑکے بسم اللہ، الحمد للہ سب پڑھتے ہیں بڑی بہو تو کٹر ہے لیکن چھوٹی بہو نرم دل ہے چھوٹا بیٹا میرے ساتھ کام کرتا ہے بلکہ اب فیکٹری دوکان سب کچھ وہی سنبھالتا ہے بس بہو سے ڈرتا ہے۔
                ہم نے کہا، ایسا کرتے ہیں کہ آپ کے بیٹے کی بیوی کو دعوت کھانے پر بلا تے ہیں اور ہم کچھ کوشش کر کے دیکھتے ہیں وہ بہت خوش ہو گئیں بولیں نہیں پہلے میں آپ کی دعوت کروں گی اور اپنی بہو کو بلا لوںگی، سویرے شام سے بلا لوںگی آپ اس سے مل لیجئے اور پھر اپنے گھر آنے کی دعوت بھی دے دیجئے ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے مگر نیک کام میںدیر نہیں ہونی چاہیئے کچھ دیر خاموشی طاری رہی اور سب سر جھکا ئے بیٹھے تھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ہم کسی اور دیس کی باتیں سن رہے ہیں میں نے کہا افسانہ آپ بھی بہت خوش قسمت ہیں اور قابل مبارک باد بھی کہ بیچ میں ہی جمیلہ بہن بولیں : میرا یہ منھ بولابیٹا ذوالفقار اور بہوافسانہ مثالی بہو بیٹے ہیں، میں ان کے ساتھ حج بھی کر چکی ہوں اور ان دونوں کے لئے بے حد تعریفی کلمات بولتی گئیں اور دعاؤں کا دریا بہاتی رہیں اور میں سوچ ہی رہی تھی کہ شہناز بہن کی وجہ سے جاوید اشرف صاحب کی وجہ سے اللہ کتنے اچھے اچھے مثالی لوگوں سے ہمارا تعلق جوڑ رہا ہے،جمیلہ بہن نے جس طرح سے ان بیٹے بہو کی قربانی ایثار، خلوص و محبت کا تزکرہ کیا،اگر لکھنا شروع کردوں تو انٹرویواور لمبا ہو جا ئے گا اور ڈر ہے چھپنے سے رہ جائے میں تو شہناز، افسانہ جمیلہ صاحبہ کی گرویدہ ہو گئی اور اپنے حال پر ندامت اور شرمندگی کہ اللہ دنیا میں اب بھی دور نبی ﷺ کی نقل کرنے والے لوگ موجود ہیں اور ہمارا کیا ہوگا اپنے میں مست رہتے ہیں سچ لکھ رہی ہوں میرا رونگٹا رونگٹا خوف خدا سے کانپ رہا تھا اور کانپتا ہے آپ سب لوگوں سے دعاؤں کی درخواست ہے کہ اللہ ہمیں دین کی خدمت کے لئے چن لے۔ آمین ثم آمین
اب ایک اور سوال میرے دل میں مچل رہا تھا کہ میں ایسی عبادت گزار اور خوش اخلاق ملنسار اور صدقہ خیرات کرنے والی اور تبلیغ کے لئے ہر وقت چلت پھرت کرنے والی کے اللہ سے معاملات سر گوشیاں بھی عجیب طرح کی ہوتی ہیں حالا نکہ یہ ضروری نہیں، نیکی کی شرط ہے مگر گمان ایسا قدرتی ہوتا ہے،میں نے کہا :

  سوال  :   کچھ خاص اللہ کے کرم فرمائیاںسنایئے ؟
 جواب  :  بولیں کہ میں نے ایک خواب دیکھا کہ میرا ایک کمرہ ہے جو بے حد حسین ہرے طوطیا رنگ کا ہے کہ رنگ کا حسن بیان سے باہر ہے وہاں میں اور ایک آدمی مسجد میں پڑے ہوئے ہیں بے حد حسین ناقابل بیان عورتیں، ہیرے جواہرات، زمرد، موتیوںکے تھال لیے بیٹھی ہوئی ہیں،دوسرا خواب کہ میں لاانتہا اونچائی پر کھڑی ہوں بے حد سفید لباس میں اور میرے چارو ںطرف بے حد شفاف پانی، میری آنکھ کھل گئی تعبیر تو اللہ جانتا ہے کیا ہے مگر بے حد سکون محسوس ہوتا ہے،ایک بار دیکھا کہ چٹیل میدان ہے میں اور میرا پوتا امن میرے ساتھ ہے کہ زبردست زلزلہ آتا ہے بڑا خوفناک، میں الحمد شریف پڑھنے لگتی ہوں کہ ایک دم زلزلہ الحمد پڑھنے سے رک جاتا ہے،اب کافی دیر ہو چکی تھی اور ان کو گھر جانے کی جلدی بھی تھی کیو نکہ ان کے شوہر جو کہ پہلے کیلاش اور اب جمیل احمد ہیں اکیلے تھے ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا اور آخری سوال کیا۔

 سوال  :  ارمغان پڑھنے والوں کے لئے کوئی پیغام ؟
 جواب  : بولیں میرا پیغام ہے کہ ایک دوسرے کی خیر خواہی کریں ہندوؤں سے میل جول رکھیں یہ سرحدیں دور یاں گرائیں، ہندو قوم، مسلم دھرم کے بارے میں جاننے کو بے چین، متجسس رہتی ہے قریب آئیں لوگ جوق در جوق اسلام میں کھنچے چلے آئیں گے،سلام دعاء اور آئندہ مستقل ملاقات کے وعدوں کے ساتھ وہ ہمارے گھر سے رخصت ہوئیں،اور اب میں سوچ رہی ہوں کہ جب صرف ایک جاہل ان پڑھ ورکر کے ستر پوشی کے خیال سے ایک بہن ایمان میں آ گئی اور ان کے ذریعہ حفاظ اور خاندان کا اسلام میں آنا اور تبلیغ غیر مسلموں میں اور مسلمانوں میں کرنا خانقاہیں بنوانا، مسجد وں اور مدارس میں دینا دلانا اور جانے کتنے خیر خواہی کے کارنامے ہیں اور اگر جو عالم لوگ ہیں ہمارے ہندوستان کے اور بیرونی ہندوستان کے اٹھ کھڑے ہوں اور ایک جملہ ہی خیر خواہی کا کسی ہندو بھائی بہن سے بول دیں تو بیس کروڑ تو مسلمان ہندوستان میں ہیں اور باقی دنیا میں کتنے ہوںگے،دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی کاش مسلمان اپنا منصب پہچانیں اور اگر کچھ بھی نہ کر سکیں تو اتنی تو میری التجاء ہے ضرور کریں کہ اپنے ان خونی رشتوں کے بھائی بہن کے لئے رات کو تنہائی میں  آنکھوںسے دو آنسو گرالیا کریں کہ اللہ ان کے لئے ایمان کی ہدایت مقدر فرما دے۔آمین
                                                                      السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ٗ
                                                                مستفاد از ماہ نامہ ارمغان، جولائی ۲۰۰۸ء

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.