عبد اللہ بھا ئی{پردیپ چنداہیر}سے ایک ملاقات

عبد اللہ بھا ئی{پردیپ چنداہیر}سے ایک ملاقات

 * * * * اسلام قبول کر نے کی پاداش میں’حِرا‘کو زندہ جلا دیا گیا* * * *

احمد اواہ  :    السلام علیکم و رحمۃ اللہ بر کاتہ،
عبد اللہ     :      وعلیکم السلام  و رحمۃ اللہ بر کاتہ،
  سوال   :عبداللہ بھا ئی آپ کے علم میں ہو گا کہ ہما رے یہا ں پھلت سے ایک میگز ین ارمغان کے نا م سے نکلتی ہے اس میں کچھ عرصے سے دستر خوان ِاسلام پر آنے والے نئے خوش قسمت لوگوں کے انٹر ویو کا سلسلہ چل رہا ہے، اس کے لئے میں آپ سے کچھ باتیں کر نا چاہتا ہوں ۔
  جواب  :  احمد بھائی ( آنسوئوں کو پوچھتے ہوئے کہا )  مجھ جیسے ظالم اور کمینے آدمی کی باتیں اس مبارک میگزین میں دے کر کیوں اسے گندہ کر تے ہیں ۔
  سوال   : نہیں عبداللہ بھائی ! ابی (میرے ابا جان حضرت مولانا محمد کلیم صاحب صدیقی مدظلہ) کہہ رہے تھے، آپ کی زندگی اللہ کی قدرت کی ایک عجیب نشانی ہے، ان کی خواہش ہے کہ آپ کا انٹرویو ضرور شائع کیا جائے۔
 جواب  : آپ کے ابی اللہ تعالیٰ ان کو لمبی عمر دے، میں اپنے کو ان کا غلام مانتا ہوں، ان کا حکم ہیں تو میں سر جھکا تا ہوں، آپ جو سوال کریں میں جواب دینے کو تیار ہوں۔
  سوال    : پہلے آپ اپنا تعارف کرایئے؟
 جواب  : اگر میں یہ کہوں کہ جب سے دنیا قائم ہوئی ہے آج تک میں دنیا کا سب سےظالم  ترین، بد ترین اور خوش قسمت ترین انسان ہوں بلکہ درندہ ہوں، تو یہ میرا با لکل سچا تعارف ہو گا۔
  سوال  : یہ تو آپ کا جذباتی تعارف ہے آپ اپنے گھر اور خاندان کے بارے میں بتایئے ؟
 جواب  : میں ضلع مظفر نگر کی بڑھانہ تحصیل کے ایک مسلم راج پوت اکثریت کے ایک گائوں کے اہیر ( گڈریہ )کے گھر اب سے بیالیس یا تینتالیس سال قبل پیدا ہوا میرا گھرانہ بہت مذہبی ہندو اور جرائم پیشہ تھا والد اور چاچا ایک گرو کے سر کردہ لوگوں میں تھے،لوٹ مار، ظلم خاندانی طور پر گھٹی میں پڑا تھا، ۱۹۸۷؁  ء میں میرٹھ کے فسادات کے موقع پر اپنے باپ کے ساتھ رشتے داروں کی مدد کے لئے میرٹھ رہا ہم دونوں نے کم از کم پچیس مسلمانوں کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا، اس کے بعد مسلم نفرت کے جذبہ سے متاثر ہو کر بجرنگ دل میں شامل ہوا، بابری مسجد کی شہادت کے سلسلہ میں  ۱۹۹۰؁ ء میں شاملی میں کتنے ہی مسلمانوں کو قتل کیا، ۱۹۹۲  ؁ ء میں بڑھانہ میں بہت سے مسلمانوں کو شہید کیا، بڑھانہ میں ایک بہت مشہور نام کا بدمعاش ، مگر سچا مسلمان تھا، جس سے پورے علاقے کہ غیر مسلم تھراتے تھے، میں نے اپنے ساتھی کے ساتھ اس کو گولی ماری، اس مسلم دشمنی میں مجھ درندے نے ایک ایسی ظالمانہ حرکت بھی کی،،،(دیر تک روتے ہوئے ) کہ شاید ایسی بر بریت اور ظالمانہ حرکت آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر کسی نے نہ دیکھی ہوگی اور نہ سنی ہوگی اور نہ خیال کیا ہوگا۔۔۔۔  ( پھر دیر تک روتے رہے)
سوال  :آپ  اپنے قبول اسلام کے بارے میں سنائیے ؟
 جواب  : قرآن شریف کے ۳۰ ؍ویں پارے میں ایک سورۃ بروج ہے نا،اس     میں آگ کی کھائی والوں کے بارے میں اللہ نے کہا ہے کہ وہ برباد ہوئے اور ہلاک کئے گئے یہ سورت شاید میرے بارے میں اتری ہے بس اتنا ہے کہ وہ آگ والے ہوئے، یہ کہا گیا، کیا آیت ہے عربی میںسنایئے ؟ یعنی ہلاک کر دئے گئے اور برباد ہوئے آگ کی خندق والے۔
  سوال  :  اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ  بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الَّرَحِیْمِ0 قُتِلَ اَصْحَابُ الْاُخْدُوْدِالنَّارِذَاتِ الْوُقُوْدِ اِذْ ھُمْ عَلَیْھَا قُعُوْد ط
 جواب  : اگر یہ کہیں رحم کیا گیا آگ والوں پر تو عربی میں کیا ہو گا ؟
  سوال   :  رحم اصحاب الاخدودالنارذات الوقود
 جواب  :   ہا ںاگر میرے بارے میں یہ آیت اترتی تو یہ ہوتا کہ رحم اصحاب الاخدود النارذات الوقود
  سوال   :  آپ ا پنا واقعہ بتا ئیے ؟
 جواب  :  ہاں میرے بھائی بتا رہا ہوں، مگر کس منھ سے بتا ئو ں اور کس دل سے بتائو ںمیرا پتھر دل بھی اس واقعہ کو سنانے کی ہمت نہیں رکھتا۔
  سوال   :  پھر بھی بتائیے، شاید ایسا واقعہ تو اور زیادہ لوگوں کے لئے عبرت کا ذریعہ ہو،
 جواب  : ہاں بھئی واقعی میرے قبول اسلام کا واقعہ ہر ما یوس کے لئے امید د دلانے والا ہے کہ وہ کرپا وان اور دیالو ( ارحم الرا حمین ) خدا جب میرے ساتھ ایسا کرم کر سکتا ہے تو کسی کو مایوس ہونے کی کہا ں گنجائش ہے،تو سنو احمد بھائی،میرے ایک بڑے بھائی ہے اتنے ظلم اور جرائم کے باوجود ہم دونوں بھائیوں میں حد درجہ محبت ہے میرے بھائی کی دو لڑکیاں اور دو لڑکے تھے اور میرے کو کوئی اولاد نہیں ہے، ان کی بڑی لڑکی کا نام ہیر ا تھاوہ عجیب دیوانی لڑکی تھی بہت ہی بھائوک (جذباتی) جس سے ملتی بس دیوانوں کی طرح اور جس سے نفرت کرتی پا گلوں کی طرح کبھی کبھی ہمیں یہ خیال ہوتا کہ شاید اس پر اوپری اثر ہے،کئی سیانوں وغیرہ کو بھی دکھایا، مگر اس کا حال جوں کا توں رہا اس نے آ ٹھو یں کلاس تک اس کول میں پڑھا، بڑی ہوگئی اس کو گھر کے کام کاج میں لگا دیا،مگر اس کو آگے پڑھنے کا بہت شوق تھااور اس نے گھر والوں کی مرضی کے بغیر ہائی اس کول کا فارم بھر دیا آٹھ دن تک کھیتوں میں مز دوری کی تاکہ فیس بھرے اور کتا بیں بھی لے، جب کتابیں اس کی خود سمجھ میں نہیں آئی تو وہ برابر میں ایک بامن ( برہمن ) کے گھر اس کی لڑکی سے پڑھنے جا نے لگی، برہمن کا ایک لڑکا بدمعاش اور ڈاکو تھا، نہ جانے کس طرح میری بھتیجی ہیرا کو اس نے بہکایااور اس کو لے کر رات کو فرار ہوگیاوہ اس کو لے کر بڑوت کے پاس ایک جنگل میں جہاں اس کا گروہ رہتا تھاپہنچا،وہ اس کے ساتھ چلی تو گئی مگر وہاں جاکر اسے اپنے ماں باپ کی عزت جانے اور ان کی بدنامی اور اپنی غلطی کا احساس ہوا وہ چپکے چپکے روتی تھی۔
                اس گینگ میں ایک ادریس پور کا مسلمان لڑکا بھی رہتا تھا ایک روز اس نے روتے ہوئے دیکھ لیا اس نے رونے کی وجہ معلوم کی اس نے بتایا کہ میں کم عمری اور کم سمجھی میں اس کے ساتھ آتو گئی، مگر مجھے اپنی عزت خطرے میں لگ رہی ہے اور میرے ماں باپ کی پریشانی مجھے بہت یاد آرہی ہے، اس کو ہیرا پر ترس آگیا اور اس نے بتایا کہ میں مسلمان ہوں اور مسلمان اپنے عہد کے سچے کو کہتے ہیں، میں تجھے اپنی بہن بناتا ہوں، میں تیری عزت کی حفاظت کروں گا اور تجھے اس جنگل سے نکال کر صحیح سلامت تیرے گھر پہنچانے کی کوشش کروں گا اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ لڑکی تو بہت بہادر اوراپنے ارادے کی پکی معلوم ہوتی ہے ہمیں اپنے گروہ میں ایک دو لڑکیوں کو ضرور شامل کرنا چاہیے اکثر ہمیں اس کی ضرورت ہوتی ہے، اب جنگل میں اس کو ساتھ رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو لڑکوں کے کپڑے پہنائو، اس کی بات سب ساتھیوں کی سمجھ میں آگئی، ہیرا کو کپڑے پہناکر لڑکا بنایا گیا اور وہ ساتھ لے کر پھرتے تھے، اس نے دیکھا دس بارہ لوگوں میں اس مسلمان کا حال سب سے الگ تھا، وہ بات کا پکا تھا، اچھی رائے دیتا تھا جب مال بٹتا تھا تو اس میں کچھ غریبوں کا حصّہ رکھتا تھا ہیرا کو الگ کمرے میں سلاتا تھا اور رات کو بار بار اٹھ کر دیکھتا تھا کہ کوئی ساتھی ادھر تو نہیں آیا، جب کچھ روز ہیرا کو ان کے ساتھ ہوگئے اور ان کو اطمینان ہوگیا کہ وہ ان کے گینگ کی ممبر بن گئی ہے تو اس سے چو کسی کم کردی گئی۔
                اب اس نے ایک روز ہیرا کو ایک بہانے سے بڑوت بھیجا اور ہیرا سے کہا کہ تو وہاں تانگہ میں بیٹھ کر ہمارے گھر ادریس پورچلی جانااور وہاں جاکر میرے چھوٹے بھائی سے سارا حال سنانا اور کہنا کہ تیرے بھائی نے بلایا ہے اور اس کو بتادینا کہ وہ یہاں آکر یہ کہے کہ وہ لڑکی بڑوت والوں نے شک میں پکڑ کر پولیس والوں کو دے دی ہے  ہیرا نے ایساہی کیا،اس کا بھائی جنگل میں گیا اور اپنے بھائی سے جاکر کہا اس لڑکی کو بڑوت والوں نے پکڑکر پولیس کو شک میں دے دیا ہے،اس نے اپنے بھائی سے کہا کہ ہیراکو تھانے بھیج دواوروہ جاکر تھانہ میں کہے کہ ایک گروہ مجھے گائوںسے اٹھالایا کسی طرح میں چھوٹ کر آگئی ہوں مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے، ہیرانے ایساہی کیا،بڑوت تھانے والوں نے بڑھانہ تھانہ سے رابطہ کیا، وہاں پر اس لڑکی کہ اغوا کر نے کی رپوٹ پہلے ہی لکھی ہوئی تھی لیڈیز پولیس لے کربڑھانہ تھانہ کے لوگ بڑوت آئے اور تھانہ سے اس ہیرا کو لے گئے ہیرا کو لے کر ہمارے گائوں آئے ہم نے اسے گھر رکھ تو لیا مگر ایسی بد چلن لڑکی کو گھر میںکس طرح رکھیں، ہیرا نے بتایا کہ مجھے تو گروہ اٹھاکر لے گیا، مگر میں نے اپنی عزت کی حفاظت کی ہے کسی کو یقین نہ آیا، ایک پڑھے لکھے رشتہ دار بھی آگئے انھوں نے کہا کہ ڈاکٹری کرالو، ہم دونوں بھائی ڈاکٹری کے لئے بڑھانہ اسپتال اس کو لے کر گئے اور خیال یہ تھا کہ اگر اس کی عزت سلامت ہے تو واپس لائیںگے، ورنہ مارکر بڑھانہ کی ندی میں ڈال آئیں گے، اللہ کا کرم ہو ا کہ ڈاکٹرنے رپوٹ دی کہ اس کی عزت محفوظ ہے،خوشی خوشی اس کو لے کر گھر آئے مگر وہ اب مسلمانوں کا بہت ذکر کرتی تھی اور بار بار ایک مسلمان لڑکے کی شرافت کی وجہ سے اپنے بچ جانے کا ذکر کرتی تھی، وہ مسلمانوں کے گھر جانے لگی وہاں ایک لڑکی نے اس کو دوزخ کا کھٹکا اور جنت کی کنجی کتاب دے دی،مسلمانوں کی کتاب میں نے گھر میں رکھی دیکھی تو میں نے اس کو بہت مارا اور خبر دار کیا کہ اگر اس طرح کی کتاب میں نے گھر میں دیکھی تو تجھے کاٹ کے ڈال دوں گا، مگر اس کے دل میں اسلام گھر کر گیا تھااور اسلام نے اس کے دل کی اندھیری کوٹھری کو اپنے پرکاش (نور) سے پرکاشت (منور) کردیا تھا،اس نے مدرسہ میں ایک مسلمان لڑکی کے ساتھ جا کر ایک مولانا صاحب کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا اور چپکے چپکے نماز سیکھنے لگی اور وہ سمے سمے پر( وقتاً فوقتاً ) نماز پڑھنے لگی مسلمان ہو نے کے بعد وہ شرک کے اندھیرے گھرانے میں گھٹن محسوس کر نے لگی،وہ بالکل اداس اداس سی ر ہتی،ہر وقت ہنسنے والی لڑکی وہ ایسی ہی ہوگئی جیسے اس کا سب کچھ بدل گیا ہو، نہ جانے کس کس طرح اس نے پروگرام بنا یا اور وہ پھر گھر سے چلی گئی، ایک مولانا  صاحب اس کو اپنی بیوی کے ساتھ پھلت چھوڑ آئے، پھلت کچھ روز احمد بھائی آپ کے یہاں رہی، شاید آپ کو یاد ہوگا۔
  سوال   :  ہاں ہاں حرا باجی !ارے وہ حرا باجی کہاں ہے ! ہمارے گھر والے تو ان کی طرف سے بہت فکر مند ہیں،وہ بڑی نیک انسان تھیں حیرت ہے کہ آپ حراباجی کے چچاہیں۔
 جواب  :  ہاں احمد بھائی ! اس کا نام آپ کے ابی نے حرا رکھا تھا اور اس نیک بخت بچی کا ظالم اور قاتل چچا میں ہی ہوں۔۔۔ (روتے ہوئے )
  سوال  : پہلے تو یہ سنائیے کہ حرا باجی کہاں ہیں ؟
 جواب  :  بتارہا ہوں،میرے بھائی بتا رہا ہوں اپنے ظلم اور درندگی کی داستان، جیسا کہ آپ کے علم میں ہوگا کہ مولانا صاحب نے اس کو احتیاط کے طور پر دہلی اپنی بہن کے یہاں بھیج دیا وہ وہاں رہی،وہاں اس کو بہت ہی مناسب ماحول ملا وہ مولانا صاحب کی بہن کے یہاں رہی،وہ ان کو رانی پھوپی کہتی تھی آپ کی امی نے بھی اس کو بہت پیار دیا اور رانی پھوپی نے اس کی بہت تربیت کی، شاید ایک ڈیڑھ سال وہ دہلی رہی،پھلت اور دہلی کے قیام نے اس کو ایسا مسلمان بنا دیا کہ اب اگر قرآ ن حکیم نازل ہوتا تو احمد بھائی شاید نام لے کر اس ایمان والی شہید بچی کا ضرور ذکر ہوتا،اسے اپنے گھر والوں سے بہت محبت تھی خصوصاً اپنی ماں سے بہت محبت تھی، اس کی ماں بہت بیمار رہتی تھیں، ایک رات اس نے خواب میں دیکھاکہ میری ماں مر گئی ہے آنکھ کھلی تو اس کو ماں کی بہت یاد آئی اگر ایمان کے بغیر اس کی ماں مر گئی تو کیا ہوگا یہ سوچ کر وہ رو نے لگی اور اس کی چیخیں لگ گئی، گھر کے سبھی لوگ اٹھ گئے اس کو سمجھایا تسلی دی، وقتی طور پر وہ چپ ہوگئی مگر باربار اس کو خواب کو یاد کر کے رونا آتا تھا اور آپ کے ابی کو ابی جی کہتی تھی، بار بار وہ اپنی ماں کو یاد کرتی اورگھر جانے کی اجازت مانگتی مگر آپ کے ابی اس کو سمجھاتے کہ تمہارے گھر والے تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے اور مار دیں گے  اور اس سے زیادہ یہ کہ تمہیں پھر ہندو بنا لیںگے، ایمان کے خطرے سے وہ رک جاتی مگر پھر اس کو گھر یاد آتا تو گھر جانے کی ضد کرتی، بہت مجبور ہو کر مولانا نے اس کو اجازت دی مگر سمجھایا کہ تم صرف اپنے گھر والوںکو اسلام کی دعوت دینے کی نیت سے گھر جائو اور واقعی اگر تمہیں اپنے گھر والوں سے محبت ہے تو محبت کا سب سے ضروری حق یہ ہے کہ تم ان کو اسلام کی دعوت دو اور ان کو دوزخ کی آگ سے بچانے کی فکر کرو ،ہیرا نے کہا کہ وہ تو اسلام کے نام سے بھی چِڑھتے ہیں وہ ہر گز اسلام نہیں قبول کر سکتے،اس نے گھر میں بتا یا تھا کہ مولانا صاحب نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ ان کے سینے کو اسلام کے لئے کھول دینگے تو پھر وہ کفر اور شرک سے بھی اسی طرح چِڑھنے لگیں گے جس طرح اسلام سے  چڑھتے ہیں،مولانا صاحب نے اس سے کہا کہ تم بھی تو اسلام سے اسی طرح چڑھتی تھی جس طرح اب شرک سے نفرت کرتی ہو،اللہ سے دعا کرو اور مجھ سے عہد کرو کہ میں گھر اپنی ماں اور گھر والوں کو دوزخ سے بچانے کی فکر میں جارہی ہوں،اگر تم اس نیت سے جائوگی تو اول تو اللہ تمہاری حفاظت کریں گے اور اگر تم کو تکلیف بھی ہوئی تو وہ تکلیف ہوگی جو ہمارے نبی ﷺ کی اصل سنت ہے اور اگر تمہارے گھر والوں نے تمہیںمار بھی دیا توتم شہید ہو گی اور شہادت جنت کا مختصر ترین راستہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ تمہاری شہادت خود ان کے لئے ہدایت کا ذریعہ ہو گی، اگر تم گھر والوں کو دوزخ سے بچانے کے لئے اپنی جان بھی دے دوگی وہ ہدایت پا جائیں گے تو تمہارے لئے سستا سودا ہوگا۔     مولانا صاحب بتاتے ہیں کہ انہوں نے اس کو دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ سے ہدایت کی دعا کرنیاور دعوت کی نیت سے اپنے گھر جانے کا عہد کرنے کو کہا،وہ دہلی سے پھلت اور پھر گھر آگئی،ہم لو گ اس کو دیکھ کرآگ بگولہ ہو گئے، میں نے اس کو جوتوں اور لاتوں سے مارا اس نے یہ تو نہیں بتایا کہ میں کہاں رہی؟ البتہ یہ بتادیاکہ میں مسلمان ہوگئی ہوں اور اب مجھے اسلام سے کوئی ہٹانہیں سکتا، ہم اس پر سختی کرتے تو وہ رو رو کر الٹا ہمیں مسلمان ہونے کو کہتی، اس کی ماں بہت بیمار تھی، دو مہینہ کے بعد وہ مرگئی تو وہ اس کو دفن کے لئے مسلمانوں کو دینے کو کہتی رہی کہ میری ماں نے میرے سامنے کلمہ پڑھا ہے ،وہ مسلمان مری ہے، اس کو جلانا بڑا ظلم ہے مگر ہم لوگ کس طرح اس کو دفن کرتے، اس کو جلا دیا،روز ہمارے گھر میں ایک فساد ہوتا،کبھی وہ بھایئوں کو مسلمان ہونے کے لئے کہتی کبھی وہ باپ کو، ہم لوگوں نے اس کو میرٹھ اس کی نانیہال میں پہنچادیا، اس کے ماموں اس کی مسلمانی سے عاجز آگئے اورانہوں نے مجھے اور میرے بھائی کو بلایا کہ اس ادھرم (لامذہب) کو ہمارے یہاں سے لے جائو،ہم لوگ روز روز کے جھگڑوں سے عاجز آگئے ہیں۔
                میں نے بجرنگ دل کے ذمہ داروں سے مشورہ کیا سب نے اسے مار ڈالنے کا مشورہ دیا میں اسے گائوں لے آیا، ایک دن جاکر ندی کے کنارے پانچ فٹ گہرا گڑھا کھودا، میں اور بڑے بھائی دونوں اس کو گائوں لے جانے کے بہانے لے کر چلے کہ تیری بوا کے یہاں جا رہے ہیں، اس کو شاید سپنے (خواب )میں معلوم ہوگیا تھا وہ نہائی اور نئے کپڑے پہنے اور ہم سے کہا کہ چچا آخری نماز تو پڑھنے دو، جلدی سے نماز پڑھی اور خوشی خوشی دلہن سی بن کر ہمارے ساتھ چل دی،آبادی سے دور راستہ سے الگ جانے کے باوجود اس نے ہم سے بالکل نہیں پوچھا کہ بواکا گھر ادھر کہاں؟ندی کے بالکل پاس جاکر اس نے ہنس کراپنے باپ سے پوچھا آپ مجھے بوا کے گھرلے جارہے ہیں یاپیا کے گھر (دیر تک روتے ہوئے۔۔۔)
  سوال  :   پانی منگا کر پلاتے ہوئے، ہاں بات پوری کردیجئے ؟
 جواب  :  کس دل سے پوری کروں ؟ہاں بھائی پوری تو کرنی ہی ہے میرے تھیلے میں پانچ لیٹر پٹرول تھا،ہیرا کا حقیقی باپ اور میں ظالم چچا دونوں کے ساتھ وہ سچی مومنہ عاشقہ اور شہیدہ ہم اس کو لے کر گڑھے کے پاس  پہنچے جو ایک روز پہلے پروگرام کے تحت کھودا تھا،اس درندہ چچا نے یہ کہہ کر اس پھول سی بچی کو اس گڑھے میں دھکا دیدیاکہ تو ہمیں نرک کی آگ سے کیا بچائے گی ،لے خود مزا چکھ نرک کا،گڑھے میں دھکا دیکر میں نے اس کے اوپر وہ سارا پٹرول ڈال دیا اور ماچس جلائی،میرے بڑے بھائی بس روتے ہوئے اس کو کھڑے دیکھتے رہے،جلی ہوئی ماچس کی تیلی اس پر لگی کہ آگ اس کے نئے کپڑوں میں بھڑک گئی، وہ گڑھے میں کھڑی ہوئی اور جلتی آگ میں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور چیخی ’’میرے اللہ ! آپ مجھے دیکھ رہے ہے نا، میرے اللہ آپ مجھے دیکھ رہے ہیں نا، میرے اللہ آپ مجھ سے محبت کر تے ہے نا، اپنی حرا سے بہت پیار کرتے ہیں نا، ہاں میرے اللہ آپ غار ِ حرا سے بھی محبت کرتے ہیں اور گڑھے میں جلتی حرا سے بھی محبت کر تے ہے نا، آپ کی محبت کے بعد مجھے کسی کی ضرورت نہیں ‘‘  اس کے بعد اس نے زور زور سے کہنا شروع کیا : ’’ پتاجی اسلام ضرور قبول کر لینا،‘  چاچا مسلمان ضرور ہو جا نا، چاچا مسلمان ضرور ہو جا نا ‘‘  ( ہچکیوں سے روتے ہوئے ) 
                اس پر مجھے غصہ آگیا اور میں بھائی صاحب کا ہا تھ پکڑ کر چلا آیا، بھائی صاحب مجھ سے کہتے رہے کہ ایک بار اور سمجھاکر دیکھ لیتے مگر مجھے ان پر غصہ آیا، بعد میں واپس آتے ہوئے ہم نے گڑھے کے اندر سے زور زور سے لاالہ الا اللہ کی آواز یں آتی سنیںاور ہم اپنے فریضہ کو ادا کرنا سمجھ کر چلے تو آئے مگر اس شہید محبت کا یہ اخیرجملہ مجھ درندہ اور سفاک کے پتھر دل کو ٹکڑے کر گیا ،میرے بھائی گھر آکر بیمار پڑ گئے ان کے دل میںصدمہ سا بیٹھ گیا اور یہ بیماری ان کے لئے جان لیوا ثابت ہوئی،مرنے کے دو دن پہلے انہوں نے مجھے بلایا اور کہا کہ ہم نے زندگی میں جو کیا وہ کیا، مگر اب میری موت حرا کے دھرم پر جائے بغیر نہیں ہوسکتی، تم کسی مولانا صاحب کو بلا لائو، میں بھی بھائی صاحب کے حال کی وجہ سے ٹوٹ گیا تھا، ہمارے یہاں مسجد کے امام صاحب مل گئے، ان کو لے کر آیا، انہوں نے ان سے کلمہ پڑھانے کو کہا، کلمہ پڑھا، اپنا اسلامی نام عبدالر حمن رکھا اور مجھ سے کہا کہ مجھے مسلمانوںکے طریقے پر مٹی دینا، میرے لئے یہ بہت مشکل بات تھی مگر میں نے  بھائی کی انتم اِچّھا ( آخری خواہش )  پوری کر نے کے لئے یہ کیا کہان کے علاج کے بہانے دہلی لے گیا، وہاں پر اسپتال میں داخل کیا، وہیں ان کی موت ہوئی، وہ بہت اطمینان سے مرے، پھر ہمدرد کے ایک ڈاکٹر سے میں نے یہ حال سنایا تو انہوں نے وہاں سنگم و ہار کے کچھ مسلمانوں کو بلا کر ان کے دفن وغیرہ کا انتظام کیا۔
  سوال  :  عجیب واقعہ ہے ؟ آپ نے اپنے اسلام قبول کر نے کا حال نہیں بتایا ؟
 جواب  :  وہی بتا رہا ہوں، اسلام سے میری دشمنی کچھ تو کم ہوگئی تھی مگر بھائی کے مسلمان ہو کر مرنے کا بھی مجھے دکھ تھا، بھائی صاحب کے مسلمان مرنے سے مجھے یہ یقین آگیا کہ میری بھابھی بھی ضرور مسلمان ہوگئی ہوگی، مجھے ایسا لگا کہ کسی مسلمان نے ہمارے گھر پر جادو کر دیا ہے اور وہ دلوں کو باندھ رہا ہے، ایک ایک کر کے سب اپنے دھرم کو چھوڑ رہے ہیں، تو میں نے بہت سے سیانوں سے بات کی، میں ایک تانترک کی تلاش میں شاملی سے اون جارہا تھا، بس میں سوار ہو ا تو بس کسی مسلمان کی تھی، ڈرایئور بھی مسلمان تھا، اس نے ٹیپ میں قوالی چلا رکھی تھی،بڑھیا نام کی قوالی تھی اس نے ہمارے نبی ﷺ کے، ایک بڑھیا کی خدمت اور بڑھیا کے ان کو سمجھانیاور پھر بڑھیا کے مسلمان ہو نے کا قصہ تھا، اسپیکر میرے سر پر تھا،بس جھنجھانہ رکی، اس قوالی نے میر ی سوچ کوبدل دیا، مجھے خیال ہوا کہ جس نبی کا یہ قصہ ہے وہ جھوٹا نہیں ہوسکتا، میں اون کے بجائے جھنجھانہ اتر گیا اور خیال ہواکی مجھے اسلام کے بارے میں پڑھنا چاہئے، اس کے بعد شاملی بس میں بیٹھ گیا، اس میں بھی ٹیپ بج رہا تھا،پاکستان کے مولانا قاری حنیف صاحب کی تقریر تھی مرنے اور مر نے کے بعد کے حالات پر ان کی تقریر تھی، مجھے شاملی اتر نا تھا مگر وہ تقریر پوری نہیں ہوئی تھی، شاملی اڈے پر پہنچ کر ڈرائیور نے ٹیپ بند کر دیا، مجھے تقریر سننے کی بے چینی تھی بس مظفرنگر جانی تھی، میں نے تقریر سننے کے لئے مظفر نگر کا ٹکٹ لیا ، بگھرا پہنچ کر وہ تقریر ختم ہوگئی، اس تقریر نے اسلام سے میرے فاصلہ کو بہت کم کر دیا، میں بڑھانہ روڈ پر اترااور گھر جانے کے لئے بڑھانہ کی بس میں سوار ہوا، میرے قریب ایک مولانا صاحب بیٹھ گئے، ان سے میں نے کہا کہ میں اسلام کے بارے میں کچھ پڑھنا چاہتا ہوں یا معلو مات کر نا چاہتا ہوں، آپ میری اس سلسلہ میں مدد کریں، انہوں نے کہا آپ  پھلت چلے جائیںاور مولانا کلیم صاحب سے ملے، ان سے مناسب آدمی ہمارے علاقے میںآپ کو نہیں ملے گا، میں نے پھلت کا پتہ معلوم کیا اور گھر جانے کے بجائے پھلت پہنچا، مولانا صاحب وہاں نہیں تھے، اگلے روز صبح کو آنے والے تھے،رات کو ایک ماسٹر  صاحب نے مجھے مولانا صاحب کی کتاب ’’ آپ کی امانت، آپ کی سیوا میں ‘‘ دی، یہ کتاب اس کی زبان اور دل کو چھونے والی باتوں نے، مجھے شکار کر لیا، مولانا صاحب صبح سویرے کے بجائے اگلے روز شام کر پھلت آئے،میں نے مغرب کے بعد ان سے مسلمان ہونے کی خواہش کا اظہار کیا اور بتایا کہ میں معلومات کرنے آیا تھا، مگر آپ کی امانت نے مجھے شکار کر لیا، مولانا صاحب بہت خوش ہوئے، ۱۳ جنوری  ۲۰۰۰؁  ء کو مجھے کلمہ پڑھایا، میرا نام عبداللہ رکھا، رات کو میں وہیںرکا، میں نے مولانا صاحب سے ایک گھنٹہ کا وقت مانگا اور اپنے ظلم و بر بر یت کے ننگے ناچ کی کہانی سنائی، مولانا صاحب میری بھتیجی حرا کی کہانی سن کر دیر تک روتے رہے اور بتایا کہ حرا ہمارے یہاں ہی رہی اور میری بہن کے پاس دہلی رہی، مولانا صاحب نے مجھے تسلی دی کہ اسلام پچھلے سارے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے، مگر میرے دل کو اس کا اطمینان نہ ہوا اس درجہ سفا کی بر بریت کو کس طرح معاف کیا جاسکتا ہے۔
                 مولانا صاحب مجھ سے کہتے تھے، اسلام سے سارے پچھلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، اپنے دل کے اطمینان کے لئے آپ نے اتنے مسلمانوں کو قتل کیا، اب آپ کچھ مسلمانوںکی جان بچانے کی کوشش کریں، قرآن نے کہا ہے کہ نیکیاں گناہوں کو زا ئل کر دیتی ہیں، اِنَّ الْحَسَنَاتَ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَاتْ میں اپنی دل کی تسلی کے لئے اور اپنے ظلم کی قسمت جگانے کے لئے کوشش کر تا ہوں کہ کسی حادثہ میں کسی بیماری میں، کوئی مسلمان مرنے جا رہا ہو تو میں اس کو بچانے کی کوشش کروں، یہ بھی مجھے معلوم ہے کہ مرنے والے کو میں بچانے والا کون ہوں، مگر کوشش کرنے والا بھی، کر نے والے کی طرح ہوتا ہے، اس لئے کوشش کرتا ہوں۔
                گجرات میں دنگے ہوئے، تو میں نے موقع غنیمت جانا، میرے اللہ کا کرم ہے کہ اس نے مجھے خوب موقع دیا، میں نے وہاں پر ہندو بن کر بہت سے مسلمانوں کو محفوظ جگہ پر پہنچایا، یا پہلے سے خطرے سے ہوشیار کیا، پہلے جا کر ہندوئوں کے مشورہ میں شامل ہوااور دس گیارہ بھیڑ کے حملوں کی میں نے مسلمانوں کو اطلاع دے کر اپنے گائوں سے، حملے سے پہلے ہی بھگادیا، ایک کام تو میرے اللہ نے مجھ سے ایسا کرایا جس سے مجھے ضرور بڑی تسلی ہوتی ہے، آپ نے سنا ہوگا کہ بھائو نگر میں ایک مدرسہ میں چار سو بچوں کو مدرسہ کے اند ر جلانے کا پروگرام تھا، میں نے وہاں تھانہ انچارج شرما کو اطلاع دی اور ان کو تیار کیا، بھیڑ کے آنے کے دس منٹ پہلے پیچھے کی دیوار میں نے اپنے ہاتھ سے توڑی اور اللہ نے چار سو معصوموں کی جان بچانے کا مجھے ذریعہ بنایا، میں تین مہینہ تک گجرات جاکر پڑ گیا پھر بھی میرے ظلم اتنے زیادہ ہیں کہ یہ سب کچھ اس کے برابر نہیں ہو سکتا، بس ایک بار مولانا صاحب نے مجھے تسلی دی کہ اللہ کی رحمت کے لئے کیا مشکل ہے کہ موت کا وقت اور بہانہ تو اس نے خود طئے کیا ہے، جس اللہ نے آپ کو ہدایت سے نواز دیا وہ اللہ آپ کو معاف کر نے پر کیوں قادر نہیں، اس سے دل مطمئن ہوا، مولانا صاحب نے مجھے اسلام سیکھنے کے لئے جماعت میں جانے کا مشورہ دیا، میں نے دو ماہ کا وقت مانگا، گائوں سے مکانات اور زمینیں سستے داموں میں فروخت کیں اور دہلی جاکر مکان لیا، بیوی اور دو بھتیجوں اور حراکی بہن کو تیار کیا اور پھلت لے جاکر کلمہ پڑھوایا، اس میں مجھے دو ماہ کے بجائے ایک سال لگا، پھر جماعت میں وقت لگا،میرا دل ہر وقت اس غم میں ڈوبا رہتا ہے کہ اتنے مسلمانوں اور پھول سی بچی کا اس سفا کی سے قتل کر نے والا کس طرح معافی کا مستحق ہے، مولانا صاحب نے مجھے قرآن شریف پڑھنے کو کہا اور خاص طور پر بروج سورت کو بار بار پڑھنے کو کہا، اب وہ مجھے زیادہ یاد ہے اور اس کا ترجمہ بھی، ۱۴۰۰ سو سال پہلے کیسی سچی بات میرے اللہ نے کہی تھی، مجھے ایسا لگتا ہے کہ غیب کے جاننے والے خدانے ہمارا ہی نقشہ کھینچا ہے،
                قُتِلَ اَصْحَابُ الْاُخْدُوْدِ النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ، اِذْھُمْ عَلَیْھَا قُعُوْد، وَّھُمْ عَلیٰ مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُھُوْدط وَمَا نَقَمُوْامِنْھُمْ اِلَّا ٓ اَنْ یُّؤْمِنُوْابِاللّٰہِ الْعَزِیْزِالْحَمِیْدِ، اَلَّذِیْ لَہ‘ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط َواللّٰہُ عَلیٰ کُلِّ شَیْئٍ شَھِیْد (البروج :۴تا۹)
                 ترجمہ :’’خندقوں والے ہلاک کر دیے گئے، یعنی آگ کی خندقیں جن میں ایندھن جھونک رکھا تھا، جب کہ وہ ان کے کناروں پر بیٹھے ہوئے تھے اور جو سختیاں وہ اہلِ ایمان پر کر رہے تھے ان کو سامنے دیکھ رہے تھے، ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے جو غالب اور قابلِ تعریف ہے، وہی جس کی آسمانوں اور زمین میں بادشاہت ہے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔‘‘
                احمد بھائی اس سورت کو آپ پڑھیں اور حرا کی تڑپا دینے والی آخری صدائوں پر غور کریں : میرے اللہ آپ مجھے دیکھ رہیں ہے نا ! میرے اللہ آپ مجھ سے محبت کر تے ہیں نا! ہاں ! میرے اللہ آپ غار ِ حرا ء سے بھی محبت کر تے ہیں، اپنی حرا سے بھی پیار کر تے ہیں نا ! آپ کی محبت کے بعد مجھے کسی کی محبت کی ضرورت نہیں۔۔۔پتاجی اسلام ضرور قبول کر لینا، چا چا مسلمان ضرور ہو جا نا، چا چا مسلمان ضرور ہو جا نا۔( ہچکیوں سے روتے ہوئے )
  سوال  :اللہ کا شکر ہے کہ آپ نے اس کا کہنا مان لیا آپ بہت خوش قسمت ہیں اس ظلم کے اندھیرے کو رحمت اور اسلام کے نور کا ذریعہ اللہ نے آپ کے لئے بنادیا۔
 جواب  :  میں نے کہا اس کا کہنا مانا ؟ ہدایت کا فیصلہ کر نے والے اس سے محبت کر نے دالے اللہ نے اس کا کہنا مانا، مجھ جیسا درندہ کب اس کرم سے قابل تھا ؟
  سوال  : بہت بہت شکریہ عبداللہ بھائی !
 جواب  : احمد بھائی آپ دعا کریں، اللہ تعالیٰ مجھ سے کوئی ایسا کام ضرور کرا دے جس سے میرا دل مطمئن ہو جائے کہ میرے مظالم کی تلافی ہو گئی، واقعی قرآن کے اس فرمان میں مجھ جیسے لا علاج مریض کے لئے بڑا علاج ہے کہ اچھائیاں برائیوں کو زائل کر دیتی ہیں، اس لئے گجرات فسادات میں کچھ معصوم مسلمانوں کی مدد اور جان بچانے کی کوششوں سے میرے دل کو بڑی تسلی ہوتی ہے۔ (خدا حافظ)

 مستفادازما ہ نا مہ ارمغان، فر وری ۲۰۰۵ء


ونڈوز کی تاریخ ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ اس طرح ہوئی ابتداء ہماری ۔ ۔ ۔ ۔

ہماری روزمرہ کی زندگی میں کمپیوٹر کا عمل دخل اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ہر کام کو کمپیوٹرازڈ کیا جارہا ہے، ہم کمپیوٹر استعمال تو کرتے ہیں لیکن اس چیز سے نابلد رہتے ہیں کہ آخر یہ ونڈوز شروع کہاں سے ہوئی اور یہ چیز شروع میں دکھنے میں کیسی تھی. تو چند تصاویر پیش خدمت ہیں امید ہے معاون ہوں‌گی.

یہ ونڈوزکا پہلا ورژن ہے، یہ 1985میں لانچ ہوا اور اس کا نام ونڈوز 1.0رکھا گیا.اس ورژن میں سبھی اپلیکیشن فکس ہیں.

اردونامہ پر موجود تصویری عکس : Picture on Urdu Nama : Urdu Forum : Urdu


یہ ونڈوز کا دوسرا ورژن ہے، یہ 1987میں‌لانچ ہوا اور اس کا نام ونڈوز2.0رکھا گیا.اس میں کچھ پروگرام فکس جبکہ کنٹرول پینل متعارف کرایا گیا.
اردونامہ پر موجود تصویری عکس : Picture on Urdu Nama : Urdu Forum : Urdu


یہ ونڈوز کا تیسرا ورژن ہے، یہ 1988میں‌لانچ ہوا اور اس کا نام 2.1رکھا گیا. اس میں بھی کچھ اپلیکیشن فکس جبکہ کنٹرول پینل کیساتھ کیساتھ پینٹ کو بھی متعارف کرایا گیا ہے.
اردونامہ پر موجود تصویری عکس : Picture on Urdu Nama : Urdu Forum : Urdu


یہ ونڈوز کا چوتھا ورژن ہے، یہ 1990میں‌لانچ ہوا اور اس کا نام 3.0رکھا گیا.اس میں پروگرام مینجر، فائل مینجر جبکہ ایم ایس ڈوس کی فائلز کو پروگرام مینجر میں‌تبدیل کردیا گیا.
اردونامہ پر موجود تصویری عکس : Picture on Urdu Nama : Urdu Forum : Urdu


یہ ونڈوز کا پانچواں ورژن ہے، یہ 1992میں‌لانچ ہوا اور اس کا نام 3.1رکھا گیا. یہ ونڈوز3.0کا اپگریڈڈ ورژن ہے اس میں 32بٹ ایکسس متعارف کرائی گئی جبکہ پرسنلائزڈ آپشن اور گیمز بھی پہلی مرتبہ متعارف کرائی گئی.
اردونامہ پر موجود تصویری عکس : Picture on Urdu Nama : Urdu Forum : Urdu


یہ ونڈوز کا چھٹا ورژن ہے، یہ 1995میں لانچ ہوااور اس کا نام ونڈوز95رکھا گیا.یہ پہلی جدید ونڈوز کہلائی جاتی ہے، اس میں جی یوآئی کے ذریعے کام کو آسانی سے کیاجانے کا کنسیپٹ دیا گیا،
اردونامہ پر موجود تصویری عکس : Picture on Urdu Nama : Urdu Forum : Urdu


یہ ونڈوز کا ساتواں ورژن ہے، یہ 1998 میں‌لانچ ہوااور اس کا نام ونڈوز98رکھا گیا. یہ ونڈوز انتہائی مشہور ونڈوز میں شمار کی جاتی ہے، اگر آج بھی دیکھا جائے تو یہ ونڈوز کسی کسی کمپیوٹر میں انسٹال دکھائی دیتی ہے.
اردونامہ پر موجود تصویری عکس : Picture on Urdu Nama : Urdu Forum : Urdu


یہ ونڈوز کا آٹھواں ورژن ہے، یہ 2000میں‌لانچ ہوا اور اس کا نام ونڈوز meملینیئم ایڈیشن رکھا گیا. اس میں ونڈوز98کے اپگریڈڈ فیچر رکھے گئے ہیں.
اردونامہ پر موجود تصویری عکس : Picture on Urdu Nama : Urdu Forum : Urdu


یہ ونڈوز کا نواں ورژن ہے، یہ بھی 2000میں‌لانچ ہوا اور اس کا نام ونڈوز2000رکھا گیا.یہ ونڈوز ونڈوز می کا اپگریڈڈ ورژن ہے. یہ بھی بہت عمدہ ونڈوز شمار کی جاتی ہے.
اردونامہ پر موجود تصویری عکس : Picture on Urdu Nama : Urdu Forum : Urdu


یہ ونڈوز کا دسواں ورژن ہے، یہ 2001میں لانچ ہوا اور اس کا نام ونڈوز ایکس پی رکھا گیا. اس ونڈوز کو سبھی ونڈوز کا باپ کہا جاتا ہے. یہ انتہائی کامیاب ونڈوز ہے جو آج بھی بے شمار کمپیوٹرز میں استعمال کی جارہی ہے، یہ ونڈوز7تک بہترین اور جدید ترین ونڈوز شمار کی جاتی ہے.
اردونامہ پر موجود تصویری عکس : Picture on Urdu Nama : Urdu Forum : Urdu


یہ ونڈوز کا گیارواں ورژن ہے، یہ 2006میں لانچ ہوا اور اس کانام ونڈوز وسٹا رکھا گیا. اس کی اینیمیشن بہت خوبصورت ہیں جیسی ٹرانسپرینسی جیسی چیز تو جادو جیسی لگتی ہے.
اردونامہ پر موجود تصویری عکس : Picture on Urdu Nama : Urdu Forum : Urdu


یہ ونڈوز کا بارہواں ورژن ہے، یہ 2009میں لانچ ہوا اور اس کانام ونڈوز سیون رکھا گیا. یہ ونڈوز آج تک کی بہترین ونڈوز میں شمار کی جاتی ہے، اسے ونڈوز کی تاریخ کا اہم سنگ میل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا. اس میں ایڈوانسڈ فیچرز نے اسے سبھی ونڈوز سے ممتاز کردیا ہے.
اردونامہ پر موجود تصویری عکس : Picture on Urdu Nama : Urdu Forum : Urdu


یہ ونڈوز کا تیرہواں ورژن ہے، یہ ابھی تیاری کے مراحل میں‌ہے اور 2012کے آخر تک اس کی ریلیز متوقع ہے. اس کا نام ونڈوز 8رکھا گیا ہے. اس ورژن کی ریلیز 2012 کے آخر تک امید کی جاتی ہے، اس میں بہتر انٹر فیس کو متعارف کرایا جا رہا ہے اور اسی تناسب سے فیچرز کو بھی ایڈوانس کیا جارہا ہے.
اردونامہ پر موجود تصویری عکس : Picture on Urdu Nama : Urdu Forum : Urdu

کالکی اوتار ۔ ۔ ۔ ۔

کالکی اوتار
 
حال ہی میں بھارت میں شائع ہونے والی کتاب”کالکی اوتارا“ نے دنیا بھر ہلچل مچا دی ہے۔ اس کتاب میں يہ بتایا گیا ہے کہ ہندووں کی مذہبی کتابوں میں جس کا کالکی اوتار کا تذکرہ ہے ‘ وہ آخری رسول محمد صلی اﷲ علیہ وسلم بن عبداﷲ ہیں۔
اس کتاب کا مصنف اگر کوئی مسلمان ہوگا تو وہ اب تک جیل میں ہوتا اور اس کتاب پر پابندی لگ چکی ہوتی مگراس کے مصنف پنڈت وید پرکاش برہمن ہندو ہیں اور الہ آباد یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔وہ سنسکرت کے معروف محقق اور اسکالر ہیں۔ انہوں نے اپنی اس تحقیق کو ملک کے آٹھ مشہور معروف محققین پنڈتوں کے سامنے پیش کیاہے جو اپنے شعبے میں مستند گرادنے جاتے ہیں۔ ان پنڈتوں نے کتاب کے بغور مطالعے اور تحقیق کے بعد يہ تسلیم کیاہے کہ کتاب میں پیش کيے گئے حوالے جات مستند اور درست ہیں۔ انہوں نے اپنی تحقیق کا نام ”کالکی اوتار“ یعنی تمام کائنات کے رہنما رکھا ہے۔
ہندووں کی اہم مذہبی کتب میں ايک عظیم رہنما کا ذکر ہے۔ جسے ”کالکی اوتار“ کا نام دیا گیا ہے اس سے مراد حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں جو مکہ میں پیدا ہوئے۔ چنانچہ تمام ہندو جہاں کہیں بھی ہوں، ان کو کسی کالکی اوتار کا مزید انتظار نہیں کرنا ہے، بلکہ محض اسلام قبول کرنا ہے، اور آخری رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا ہے جو بہت پہلے اپنے مشن کی تکمیل کے بعد اس دنیا سے تشریف لے گئے ہیں۔ اپنے اس دعوے کی دليل میں پنڈت وید پرکاش نے ہندووں کی مقدس مذہبی کتاب”وید“ سے مندرجہ ذیل حوالے دلیل کے ساتھ پیش کےے ہیں۔
 
1۔ ”وید“ کتاب میں لکھا ہے کہ”کالکی اوتار“ بھگوان کاآخری اوتار ہوگا جو پوری دنیا کوراستہ دکھائے گا۔ان کلمات کاحوالہ دينے کے بعد پنڈت ویدپرکاش يہ کہتے ہیں کہ يہ صرف محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے معاملے میں درست ہو سکتا ہے۔
 
2۔”ہندوستان“ کی پیش گوئی کے مطابقکالکی اوتار ايک جزیرے میں پیدا ہوں گے اور يہ عرب علاقہ ہے، جیسے جزیرة العرب کہا جاتا ہے۔
 
3۔ مقدس کتاب میں لکھا ہے کہ ”کالکی اوتار“ کے والد کا نام ’‘ وشنو بھگت“ اور والدہ کا نام ” سومانب“ ہوگا۔ سنسکرت زبان میں ” وشنو“ اﷲ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور” بھگت“ کے معنی غلام اور بندے کے ہیں۔ چنانچہ عربی زبان میں ”وشنو بھگت“ کا مطلب اﷲ کا بندہ یعنی ”عبداﷲ“ ہے۔سنسکرت میں ”سومانب“ کا مطلب امن ہے جو کہ عربی زبان میں ”آمنہ“ ہوگا اور آخری رسول (صلی اﷲ علیہ وسلم) کے والد کا نام عبداﷲ اور والدہ کا نام آمنہ ہے۔
 
4۔وید کتاب میں لکھا ہے کہ کالکی اوتار زیتون اور کھجور استعمال کرے گا۔ يہ دونوں پھل حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کو مرغوب تھے۔ وہ اپنے قول میں سچا اور دیانت دار ہو گا۔ مکہ میں محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے صادق اور امین کے لقب استعمال کيے جاتے تھے۔
 
5۔ ”وید “ کے مطابقکالکی اوتار اپنی سر زمین کے معزز خاندان میں سے ہوگا اور يہ بھی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں سچ ثابت ہوتا ہے کہ آپ قریش کے معزز قبیلے میں سے تھے، جس کی مکہ میں بے حد عزت تھی۔
 
6۔ہماری کتاب کہتی ہے کہ بھگوان کالکی اوتار کو اپنے خصوصی قاصد کے ذريعے ايک غار میں پڑھائے گا۔ اس معاملے میں يہ بھی درست ہے کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم مکہ کی وہ واحد شخصیت تھے، جنہیں اﷲ تعالی نے غار حرا میں اپنے خاص فرشتے حضرت جبرائیل کے ذريعے تعلیم دی۔
 
7۔ ہمارے بنیادی عقیدے کے مطابق بھگوان کالکی اوتارکو ايک تیز ترین گھوڑا عطا فرمائے گا، جس پر سوار ہو کر وہ زمین اور سات آسمانوں کی سیر کر آئے گا۔محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کا” براق پر معراج کا سفر“ کیا يہ ثابت نہیں کرتا ہے؟
 
8۔ ہمیں یقین ہے کہ بھگوان کالکی اوتار کی بہت مدد کرے گا اور اسے بہت قوت عطا فرمائے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ جنگ بدر میں اﷲ نے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی فرشتوں سے مدد فرمائی۔
 
9۔ ہماری ساری مذہبی کتابوں کے مطابقکالکی اوتار گھڑ سواری،تیز اندازی اور تلوار زنی میں ماہر ہوگا۔
 
پنڈت وید پرکاش نے اس پر جو تبصرہ کیا ہے۔ وہ اہم اور قابل غور ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ گھوڑوں،تلواروں اور نیزوں کا زمانہ بہت پہلے گزر چکاہے۔اب ٹینک،توپ اور مزائل جیسے ہتھیار استعمال میں ہیں۔ لہذا يہ عقل مندی نہیں ہے۔ کہ ہم تلواروں،تیروں اور برچھیوں سے مسلح ”کالکی اوتار“ کا انتظار کرتے رہیں۔حقیقت يہ ہے کہ مقدس کتابوں میں ”کالکی اوتار“ کے واضح اشارے حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں ہیں جو ان تمام حربی فنون میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ ٹینک توپ اور مزائل کے اس دور میں گھڑ سوار، تیغ زن اور تیرا نداز کالکی اوتار کا انتظار نری حماقت ہے۔

 بشکریہ : http://www.ownislam.com

پہلا ای میل ۔ ۔ ۔

بیوی نے اپنے شوہر کو پہلی بار ای میل کی ۔جلدی میں وی ڈیش لگانا بھول گئی ۔ای میل بھیجنے سے پہلے اسے یاد آیا تو جلدی میں جہاں جہاں کر سر جاتا وہ ڈیش لگا دیتی ۔جو ای میل بھیجی گئی وہ کچھ یوں تھی۔
السلام علیکم!
عرض ہے کہ میں نہایت خوشگوار زندگی گذار رہی ہوں آپ کی۔
بہت یاد آتی ہے انور کی ۔
شادی ہے ہماری بکری کی۔
ٹانگ ٹوٹ گئی ہے پھو پھو کی۔
دعا قبول کریں چوری کی واردات ہوئی ہے ہمارے گھر ۔
میرا دیور پکڑا گیا ہے محلہ کی ایک لڑکی کے ساتھ۔
نانی لاہور آئی تھیں بغیر بتائے۔
بھائی بھی کراچی چلے گئے انڈے دے کر۔
ہماری مرغی کڑک ہو گئی ہے سلمیان میاں سے مل کر۔
پتا چلا ہے انٹی زبیدہ ٹھیک ہو گئی ہیں غلطی سے۔
ایک لڑکا دیکھا میں نے آپ کی ممانی کیلئے۔
نیا گھا گھرا سلوا لیا ہے دادا ابو کیلئے۔
پشاوی چپل لائی ہوں چھوٹی نند کیلئے۔
کچھ بھی نہ لا سکی کبوتروں کیلئے۔
ایک الگ پنجرہ بنوایا ہے اپنی ساس کا۔
روز سر دباتی ہوں دودھ والے کا۔
بل ادا کر دیا ہے آپ کا۔
انتظار کرتی ہوں شہباز کا۔
رشتہ طئے ہو گیا ہے بلی کے بچے کا۔
حادثہ میں انتقال ہو گیا خالو کا۔
بیٹا بری سو سائیٹی میں پڑ گیا ہے ۔
آپ کی چہیتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بشکریہ : جناب احمد قاسمی صاحب ۔ ۔ ۔ الغزالی فورم

وظیفہ (عمل) دوران امتحان


السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ 

محترم قارئین حضرات

شاید کل سے بارہویں اور اگلے ماہ سے دسویں کے امتحانات شروع ہو رہے ہیں ۔ اور اس کے بعد امتحانات کا ایک موسم شروع ہو جائے گا -
 بہت عرصے پہلے مجھے  امتحان سے متعلق ایک نسخہ - وظیفہ (عمل) ملا تھا   (جو خود میں نے بھی آزمایا  ہے )۔۔۔ ایک عرصے کے بعد دوبارہ یہ میرے  جمع کئے ہوئے پرانے  پیپرس میں ملا تو سوچا کہ کیوں نہ اسے دوسروں کے ساتھ نیٹ پر بھی شیئر کرتا چلوں - ہو سکتا ہے کوئ اور بھی اس سے نفع حاصل کر سکے  ۔ ۔ ۔ شکریہ
 - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -

  • جس  دن پرچہ ہو' اس دن صبح کی سنت اور فرض کے درمیان 7 مرتبہ اوّل و آخر درود شریف پڑھ کر یہ دُعا پڑھے:
شَھِدَ اللہ اَنّہُ لآ اِلٰہَ اِلاّھُو  لا   وَالْمَلآ ئِکَۃُ وَ اُولُوالْعِلْمِ قآئِماً بِالْقِسْط    ط     لآ اِلٰہَ اِلاّ    ھُوَالْعَزِیْزُ الْحَکِیْمَ    ہ

  • جانے سے پہلے 2 رکعت صلٰوۃُ الحاجت ادا کرے اور سلام کے بعد 3 مرتبہ یہ پڑھے :
               فَبِاَیِّ الآ ءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَان     ہ
  • ا متحان ہال میں داخل ہو کر 3 مرتبہ یہ  پڑھیں  :
رَبِّ یَسِّرْ وَلآ   تُعَسِّر وَ تَمِّمْ  بِا الْخَیَّرَ    ہ
  • ا ور 25  مرتبہ   :
یَا نَا صِرُ جَلَّ جَلا لَہُ    ہ
  • پرچہ سیدھے ہاتھ سے لے کر          بسم اللہ                پڑھ کر لکھنا شروع کریں ۔
  • پرچہ لکھتے ہوئے کچھ بھول جائے تو یہ پڑھیں :
رَبِّ الشَّرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَ یَسِّرْلِی اَمْری  ہ وَ احْلُلْ عُقْدَۃَمِّن الِّسَانِی یَفْقَھُو قَوْلِی    ہ
  • اور 3 مرتبہ یہ پڑھیں  :
کھیعص    ہ           طسم          ہ       عسق

  • پرچہ واپس کرنے سے پہلے 7 بار  ۔ ۔ ۔ ۔  اٰیَۃ الْکُرسِی   ۔ ۔ ۔ ۔  پڑھ کر پرچہ پر پھونک کر دیں  ( 7 مرتبہ نہیں  پڑھ سکے تو  1 بار بڑھ کر پھونک مار کر دیں اور 6 مرتبہ وہیں بیٹھ کر پڑھیں )
  • نتیجہ  (  RESULT  ) کے آنے تک بعدِ نمازِ عشاء 100 مرتبہ  ۔ ۔ ۔   یَا مَالِکُ یَا قُدُّسُ        کا ورد کریں  ۔
 - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -

ضروری ہدایت : امتحان کی پوری تیاری کرے  ۔  اللہ سبحانہ و تعالی کی ذات پر پورا بھروسہ رکھے  ۔  فرائض اور سنن کا اہتمام کرے   اور دعاؤں کا اہتما  م رکھے )
(اہم گذارش   : عربی عبارت کو اپنے علاقے کے حفاظ / علماء اکرام سے معلوم کرے کے یاد کریں اور اگر کوئی غلطی نظر آئے تو برائے کرم اطلاع دیں – میرے پاس عربی فونٹ نہ ہونے کی وجہ سے غلطی کا امکان ہے  - اللہ تعالی غلطیوں کی معاف کرے  ۔ آمین )
جزاک اللہ

آخر ۔ ۔ میں بھی ٹیگا گیا ۔ ۔ ۔


اللہ سبحانہ و تعالی کے فضل و کرم اور دوستوں کی مدد سے الحمداللہ  مئی 2011 میں' میں اپنا اردو بلاگ بنانے میں کامیا ب ہو گیا اور اس کے بعد سےمسلسل اردو سیارہ میں آمدو رفت ہوتی رہتی ہے۔

   2012 کے آغاز میں جب   " ٹیگ " نامی اس نئے  کھیل  کا تعارف ہوا تو حیران رہ گیا ( کہ یہ کونسی نیئ بلا ہے ) ۔۔۔ اردو سیارہ کے سبھی  اکابر احباب  سے یہی سنا کہ ایک عرصے کے بعد  یہ کھیل پھر زندہ ہوا ہے ۔  ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن میں ہم ( بچوں) نے ہر کھیل کے لئے ایک سیزن ( ایک وقت ) مقرر کئے رکھا تھا۔۔ کہ اسی وقت اور زمانے میں وہ کھیل کھیلا جاتا تھا اور اس کے بعد دوسرے کھیل کا نمبر آتا تھا۔۔۔۔  ( میرے بچپن کے دوست وا حباب  اس بات سے بخوبی واقف ہونگے ۔ ۔۔ ویسے آج کل تو بچے کھیل کود  سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور ہم جو کھیل بچپن میں کھیلا کرتے تھے اب وہ یاد ماضی بن گئے ہیں ( اب  تو نیٹ گردی اور   (۔ ۔ ۔۔ مجھے تو بتاتے ہوئے  بھی شرم محسوس ہو رہی ہے ۔۔۔ آپ سمجھ ہی گئے ہونگیں)  ۔۔ ۔   میں چھوٹے چھوٹے بچے  اپنا  بچپنا کھپا رہے ہیں )  کبھی کبھار ہی سننے ملتا ہے یا دیکھنے میں آتا ہے کہ بچہ فلاں کھیل کھیل رہا ہے ۔۔۔ تو اپنا گذرا زمانہ یاد آتا ہے  ۔ ۔ ۔  خیر۔۔۔ ہو سکتا ہے کہ اسی طرح یہ سیزن ٹیگنگ کے کھیل کا ہو  ۔ ۔ 

پہلے تو میری سمجھ میں نہ  آیا کہ آخر یہ ہے  کیا بلا ؟؟ ۔۔ مگر بعد میں  تھوڑا بہت سمجھ پایا کہ ایک معمہ حل کرنا ہے ۔۔۔ ( ویسے معمہ حل کرنا  میر ا پسندیدہ مشغلہ ہے اور اخبار میں ایک نظر گھمانے کے بعد آخر میں اسی کام میں لگ جاتا ہوں ۔۔۔ وہ بات الگ ہے کہ  ایک بھی معمہ حل نہیں ہو پاتا ۔۔ مگر ۔۔۔ ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا۔۔۔ بس کوشش کرتے رہتا ہوں ۔۔۔۔۔ )    اب کیا تھا ۔۔ ہر ٹیگے رکن کے بلاگ پر ایک نظر درڑاتا کہ دیکھوں کہ پرچے  کس طرح حل کئے جاتے ہیں  (   کہ اگر کوئی ہمیں بھی ٹیگے تو  ہم بھی کچھ نہ کچھ  لکھ  پائیں  ۔  ۔ ہاں غالب گماں تو یہ تھا کہ شاید ہی کوئی ہم جیسے نئے رکن کو ٹیگنے کی زحمت کرے ۔ ۔ مگر  محترم جناب دردیش خراسانی صاحب نے میری سوچ غلط ثابت کی اور آخر ہم بھی ٹیگے ہی گئے ۔ ۔ ۔

شاید اب آپ سبھی بور ہو رہے ہونگیں لہذا پرچہ حل ہی کئے دیتے ہیں  ۔ ۔ ۔ 

1.           2012ء میں کیا خاص یا نیا کرنا چاہتے ہیں؟
سوچ رہا ہوں کہ نیا  جاب  ( نوکری ) ڈھونڈوں  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ اب  مہنگائی  تو عربی گھوڑے پر سوار ہوگئی ہے ۔ پتہ نہیں گھوڑا کس مقام پر تھک جائے ( کاش کہ ایسا ہو جائے  )

2.            2012ء میں کس واقعے کا انتظار ہے؟
      ایک اچھی نوکری اور رمضان مبارک کی آمد کا  ۔ ۔ ۔

3.            2011ء کی کوئی ایک کام یابی؟
        بس دوستوں کی مدد سے  اپنا یہ اردو بلاگ بنا لیا ہے  ( گماں بھی نہ تھا کہ یہ ممکن ہوگا ۔ تمام دوست و احباب کا ممنون ہوں کہ انہوں   نے اپنا قیمتی وقت خاکسار کے لئے صرف کیا )

4.            2011ء کی کوئی ایک ناکامی؟ 
عربی بول چال سیکھنا شروع کی تھی  ۔ مگر کچھ روز کے بعد یہ سلسلہ منقظع ہو گیا ۔ ساتھ ہی عزم تھا کہ سال کے آخر تک   آٹو کیا ڈ "”autocad”  اور ایکس اسٹیل " سوفٹویر سیکھ جاؤں ۔ ۔ ۔ مگر ابھی تک ابتدائی مراحل میں ہوں۔

5.             2011ء کی کوئی ایک ایسی بات جو بہت یادگار یا دل چسپ ہو؟
       حضرت پیر ذالفقار احمد نقشبندی  ( دامت برکاتہم ) کا دیدار  ۔ ۔ حضرت ہند کے دورے پر تشریف لائے تھے الحمد للہ ان کا دیدار نصیب ہوا۔ 

6.            سال کے آغاز پر کیسا محسوس کررہے ہیں؟
        کچھ خاص نہیں ۔۔۔ (بس اس دعا اور عزم کے ساتھ آغاز کیا ہے  کہ اس سال حسنات میں اضافہ ہو  اور گناہوں میں کمی۔)

7.            کوئی چیز یا کام جو 2012ء میں سیکھنا چاہتے ہوں؟
        یہی کہ 2011 میں  جو ناکامی ہوئی ہے اس کا ازالہ کیا جائے  ۔ ۔ ۔ اور بہت کچھ ۔ ۔ ۔

 - - - - -  -   - - - - -  -   - - - - -  -   - - - - -  -   - - - - -  -   - - - - -  -   - - - - -  -   - - - - -  - 

خواہش تھی کہ میں بھی کسی کو ٹیگوں  ۔ ۔ ۔ مگر چونکہ مجھے ٹیگنے کی  ٹیکنک کا علم نہیں ہے  ا س لئے معذرت  ۔ ۔ ۔۔

نئے سال کی آمد پر انڈے کا فنڈا ۔ ۔ ۔ ۔

اسکول کے زمانے میں دوستوںکی زبانی یہ سنا تھا  کہ ہاتھی کے پیر کے نیچے' تلوے کی بالکل درمیان میں اگر انڈا رکھا جائے تو اسے کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ انڈا بالکل صحیح سلامت رہتا ہے ۔ دوستوں کا کہنا تھا کہ ہاتھی کے تلوے درمیان میں خوکھلے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انڈا بچا رہتا ہے ۔۔۔ حقیقت کا تو مجھے علم نہیں کہ ابھی تک یہ تجربہ کرنے کا موقع نصیب نہ ہوا۔۔۔

میرے آفس میں  میرے بغل میں ایک انصاری صاحب  بیٹھتے ہیں – آج سے تقریبا" 2 سال قبل 31 دسمبر 2010 کو آفس سے گھر جانے سے قبل موصوف یو ں گویا ہوئے کہ " نور بھائی۔۔۔۔ آج رات ( 31 دسمبر کو رات کے 12 بجے انڈا لے کر اسے کھڑا کرنے کی کوشش کرنا ۔۔۔  ٹھیک 12 بجے انڈا ضرور کھڑا ہو جائے گا۔۔۔۔ میں نے جواب میں کہا ۔۔ انصاری صاھب۔۔۔ کیا صبح سے کوئی ملا نہیں ؟؟؟؟ مسکرتے ہوئے انصاری صا حب نے کہا ۔۔۔  بھئی مذاق نہیں کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ تجربہ کرکے دیکھ لو بعد میں بتانا۔۔۔۔۔
خیر اس روز گھر روانہ ہوا۔ چونکہ ( اللہ کے کرم سے ) نیا سال منانے کی رسم کے قائل نہیں ہیں اس لئے روز مرہ کی طرح رات کے بارہ بجے ہم  خواب غفلت میں کھو گئے – صبح جب آفس میں حاضری ہوئی تو انصاری صاحب نے فورا"  پوچھا  ۔ ۔ ۔  " کیا بھائی!!! انڈا کھڑا ہو گیا کیا ؟ ؟ ؟ ؟ ۔ ۔ ۔۔ میں نے معذرت کے ساتھ کہا کہ رات کو جلد سو گیا  اس لئے تجربہ نہ کر سکا ۔

ایک سال گزرنے کے بعد 31 دسمبر 2011 کو پھر وہی بات انصاری صاحب نے یاد سے دہرائی  اور چونکہ میں اسے مذاق ہی سمجھ رہا تھا اس لئے اس رات بھی میں نے کوئی توجہ نہ دی اور دوسرے سن وہی بہانہ ۔۔۔۔ انصاری صاحب نے کہا کہ کل رات انہوں نے کوشش کی تھی اور انڈا کھڑا کرنے میں کامیاب بھی ہو گئے ۔ ۔ ۔

وقت تیزی سے گزرتا گیا اور دسمبر 31، 2011 آ گیا۔۔۔ اب کی بار انصاری صاحب نے پھر مجھے بھولا سبق یاد دلایا ۔ اس دفعہ انہوں نے اتنا تک کہا کہ رات کو پونے بارہ بجے میں تمہیں فون کرے یاد دلاؤں گا۔۔۔ یعنی کہ اس بار تجربہ کرنا گویا میرے لئے فرض ہو گیا تھا۔۔۔ خیرگھر آنے کے بعد مجھے تو  پتہ ہی نہ چلا کہ کب بارہ بج گئے ۔  اچانک کہیں دور سے  پٹاخے کے پھوٹنے کی آواز آئی۔ شاید کوئی  نئے سال کا استقبال کر رہا تھا  ' تب مجھے یاد آیا کہ فرض ادا  کرنے وقت گذرا جا رہا ہے اور کہیں یہ پھر ایک سال کے لئے قرض نہ بن جائے  ۔ ۔ ۔۔ خیر۔۔۔ جلدی جلدی فریج سے دو عدد انڈے اٹھا لئے اور پھر تماشہ چالو۔۔۔۔۔۔

مجھے پتہ تھا کہ آپ بھی میری طرح ( ایک یا دو سال تک) یقین نہیں کریں گیں اس لئے میں نے اس کی فوٹو ہی اتار لی کہ  ۔ ۔ ۔ ثبوت حاضر ہیں ۔۔۔


(نوٹ : یاد رہے کہ یہ کوئی جادو وادو نہیں ہے بلکہ کشش ثقل کہ وجہ سے ایسا ہوتا ہے ۔۔ اس کے آگے مجھے کوئی علم نہیں ہے )  


<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.